’اینٹی وٹامنز‘ اینٹی بائیوٹک کے خلاف انتہائی مزاحم جراثیم کا مقابلہ کر سکتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(ٹیسا کومونڈورس کے سائنس ڈائریکٹ میگزین کے لئے 26 اگست 2020 کو لکھے گئے مضمون کی تلخیص)

اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے کے لئے بیکٹیریا کی پریشان کن قابلیت عالمی صحت کے لیے ایک تیزی سے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ اس قابلیت کی بنیاد بہت قدیم ہے۔ آج ایم آر ایس اے اور سوزاک جیسی بیماریوں سے دنیا بھر میں سالانہ 700000 افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔ اب یہ انتہائی مزاحم جراثیم دوسرے جانوروں جیسے ڈولفن میں بھی بیماریاں پھیلا رہے ہیں۔

سائنس دانوں کے خیال میں انھوں نے متعدی بیماریوں کے علاج کے لئے بہت کم یاب اینٹی وٹامنز کی صورت میں ایک منفرد متبادل تلاش کر لیا ہے۔ روایتی اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریا کی اپنی جینیاتی ہدایات کے زیر اثر ضروری پروٹین بنانے اور اپنی حفاظتی جھلیاں بنانے کی اہلیت کو نشانہ بناتے ہیں۔ تاہم جراثیم کی ایک دوسرے اور اپنے ماحول سے مفید جینیاتی مادہ حاصل کرنے کی منفرد اہلیت کی بدولت ہمیں ان کے انتہائی مزاحمتی ہتھکنڈوں سے ایک قدم آگے رہنے کے لئے کچھ سوا کرنے کی ضرورت ہے۔

لہذا مائکرو بائیولوجسٹ فیبین وان پیپینہیم (Fabian von Pappenheim) اور ان کے ساتھیوں نے بیکٹیریا کی وٹامن حاصل کرنے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں خلل ڈال کر نئے اینٹی بائیوٹک ایجاد کرنے کی عالمی دوڑ میں حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں یہ خیال بیکٹیریا کے اپنے رقیب بیکٹیریا کو مارنے کے لئے کے استعمال کیے جانے والے حربوں کو سمجھنے سے آیا۔

وٹامنز ہر جاندار کے لیے اپنے خلیات کے اجزا بنانے اور خلیوں کا نظام چلانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اینٹی وٹامن ان وٹامن کے تقریباً مماثل ہونے کی وجہ سے حیاتیاتی نظام کو یہ باور کرا کراسکتے ہیں کہ وہ اصلی وٹامن ہیں۔ چونکہ وہ حقیقت میں وٹامن سے تھوڑے مختلف ہوتے ہیں اس لیے یہ ناقص متبادل کی صورت بیکٹیریا کے ضروری کاموں میں تباہ کن مداخلت کا باعث بن سکتے ہیں۔

”اینٹی وٹامن جو وٹامن سے محض ایک اضافی ایٹم کی صورت بھی مختلف ہو، اتنا ہی تباہ کن ہو سکتا ہے جیسے گاڑی کے پیچیدہ گیئر سسٹم میں ریت کے دانے“، جرمنی کی گٹیجین یونیورسٹی سے مشہور انزیمولوجسٹ کائی ٹیٹٹمن نے وضاحت کی۔ ابھی تک صرف تین قدرتی طور پر پائے جانے والے اینٹی وٹامنز کی وضاحت کی گئی ہے۔

محققین نے ای کولائی جراثیم اور انسانی خامروں پر پروٹین کرسٹالوگرافی کی ٹیکنیک استعمال کرکے جانچا کہB 1 اینٹی وٹامن کیسے کام کرتا ہے۔ انہیں معلوم ہوا کہ کہ اس اینٹی وٹامن میں میتھائل گروپ (CH 3 ) کی جگہ میتھوکسی گروپ (O۔ CH 3 ) ہوتا ہے، جو بڑا ہونے کی وجہ سے میٹابولک رد عمل میں خلل ڈالتا ہے جس میں B 1 عام طور پر حصہ لیتا ہے۔ یہ پروٹین گلوٹومیٹ نامی ایک امینو ایسڈ کو ایک دوسرے سے چپکنے پر مجبور کر کے انہیں رد عمل میں حصہ لینے سے روکتا ہے۔

خوش قسمتی سے ایسا عمل انسانی پروٹین کے ساتھ وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے کیمسٹ برٹ ڈی گروٹ نے کہا، ”انسانی پروٹین یا تو اینٹی وٹامن کے ساتھ پابند نہیں ہوتے یا پھر بیکٹیریا کے پروٹین کی طرح اینٹی وٹامن سے متاثر نہیں ہوتے“ ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اینٹی وٹامن کو بیکٹیریا میں ان وٹامنز کے اہم کاموں میں گڑبڑ کرنے کے لئے ممکنہ طور انسانی نظام کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ٹیم نے اپنے مقالے میں اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ”قدرت نے ایسے انزائم سسٹم تیار کیے ہیں جو ساختی طور پر ملتے جلتے مرکبات کے مابین موثر طریقے سے تفریق کر سکتے ہیں، چاہے وہ صرف ایک اضافی ایٹم میں ہی مختلف ہوں۔“

ابھی یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ کیا بیکٹیریا عام اینٹی بائیوٹک کی طرح اینٹی وٹامن کے خلاف بھی مزاحمت پیدا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ تاہم یہ اینٹی وٹامن ایسے جراثیم کے خلاف لڑائی میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جن پر بہت سی اینٹی بائیوٹک ادویات اثر نہیں کرتیں۔

اصل مضمون پڑھنے کے لئے ذیل کا لنک کھولیے:

https://www.sciencealert.com/antivitamins-show-promise-in-tackling-our-growing-superbug-problem

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •