عارف فاروقی نے سب کھو دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


زندگی پھولوں کی سیج نہیں یہ ہم سب سن چکے ہیں مگر ہماری خدا سے ہمیشہ یہ دعا رہی کہ اللہ ہمیں ہر مصیبت سے بچائے اور وہ عطا کرے جس میں دینی اور دنیاوی سکون ہے۔۔۔ آج دل بہت اداس اور گھٹن محسوس ہو رہی ہے۔ 22 مئی جمعہ المبارک کو طیارہ حادثے نے یہ سوچنے پر مجبور کیا انسان کی چاہ اور اللہ کی چاہ میں فرق کیا ہے۔۔۔ بہت سی جانیں گئیں کئی خاندان اجڑ گے۔ ہم نے اپنے بہت پیارے محسن انصار نقوی صاحب کو کھو دیا۔

بات نکلی تو انصار صاحب کی شخصیت پر بات کرتی چلوں۔ ایسا شخص میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ اتنا پرسکون، خوش اخلاق، تمیز دار اور عاجز۔۔۔ جب کبھی ملاقات ہوتی سلام کا جواب پیار سے دیتے اور دیکھ کر ضرور پوچھتے، ہاں بھئی سعدیہ کدھر ہوتی ہو، نظر نہیں آتیں اور میں مسکرا کر کہتی سر فیلڈ کے کام بس اور کچھ نہیں۔۔۔ اس حادثے سے دو دن پہلے بھی ملاقات ہوئی جاتے جاتے سلام دعا۔۔۔ جمعہ کے روز بھی عجیب بے سکونی تھی اور دو بجے اس حادثے نے سب ختم کر دیا۔

ہر خاندان کا دکھ اور پیاروں کی تلاش موت سے کم نہیں۔ لیکن آج میں ایک ایسے انسان کا تذکرہ ضرور کروں گی جس نے اپنا پورا ہنستا بستا گھر اس حادثہ میں لٹا دیا۔۔۔ ہائے کیا ارمان ہوں گے عید تھی، اپنوں سے ملنے کی خواہش اور کٹھن سفر۔۔۔ عارف فاروقی کے اپنے پیارے سب اس دنیا سے چلے گے۔۔۔ تین بچے بیوی اس حادثے کا شکار ہوئے۔۔۔ عارف اپنے بیوی بچوں کی روز تصاویر لگاتا ہے پیارے الفاظ لکھتا ہے، بچوں کو پیار سے پکارتا ہے۔مگر اس طوفان کے اندر کیا دکھ چھپے ہوئے ہیں، یہ عارف فاروق سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔

آخری ملاقات کے دن کیا باتیں ہوئی ہوں گی۔ روز بچے باپ کا انتظار کرتے ہوں گے۔ اب باپ روز کہیں نہ کہیں اپنے بچوں کو گھر میں ڈھونڈتا ہوگا کاش یہ دن کبھی نہ آتا۔۔۔ ایسے لمحات دکھ اور پچھتاوے چھوڑ جاتے۔۔۔ مگر میں اس شخص کے حوصلے کو داد دوں گی جس نے اتنا بڑا اذیت ناک وقت اس حوصلے سے گزارا کہ اس کو اللہ کی رضا سمجھا ہر فرد کے ساتھ مسکرا کر بات کی۔ کئی روز تک بچوں کو کراچی میں تلاش کرتا رہا۔ روز ایک نئی تکلیف سے گزرا۔۔۔ اور اب گھر میں اپنے پیاروں کی یادوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔۔۔

میں یہ الفاظ لکھ رہی ہوں اور میرا جسم کانپ رہا ہے۔ میری آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ مجھے بیوی ماں باپ اولاد سب کا دکھ محسوس ہورہا۔۔۔ ہنستا کھیلتا گھر کیسے خالی ہوگیا۔۔۔ عارف فاروقی بہت بہادر ہیں جو اب بھی ہر پوسٹ پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اللہ کی رضا میں راضی ہیں۔۔۔ مگر مجھے پوچھنا ہے، اس بوسیدہ معاشرے اور حکمرانوں سے کہ کب تک ہمارے پیاروں کو قتل کروا کے آپ شہید سازی کرتے رہیں گے۔ ہمیں ایسی شہادت نہیں چاہیے جو آپ کی غفلت اور ناکامی کی وجہ سے ہوئی ہو۔ خدا اس ناکارہ پی آئی اے سسٹم سے ہمیں بچائے۔۔۔ اور ایسے بوسیدہ حکمرانوں سے پناہ میں رکھے۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •