کیا دائیں بازو والوں کا بایاں بازو نہیں ہوتا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"zeeshanپاکستان میں بجائے اس کے کہ ہم اس پر سوچ بچار کریں کہ انسانوں کے مفاد میں کیا ہے؟ انسانوں کو اپنے ہر تجربہ میں بھوک و افلاس اور تباہی و بربادی کیوں ملی ہے؟ دور جدید میں انسانیت جن مسائل کا سامنا کرر رہی ہے اس کا ہم کیا حل پیش کر سکتے ہیں؟ دنیا جن سہولیات و کامیابیوں سے مستفید ہو رہی ہے اس میں ہم کیسے مزید اضافہ کر سکتے ہیں- ہم یہ پوچھ رہے ہیں کہ کون لبرل ہے اور کون رجعت پسند؟ کون دائیں بازو میں ہے اور کون بائیں بازو میں؟ پھر کچھ لوگ صرف اپنی مرضی سے، تاریخی حقائق کی پرواہ کئے بغیر ،کسی کو اٹھا کر بائیں طرف رکھ دیتے ہیں اور کسی کو دائیں طرف رکھ دیتے ہیں- مطلب یہ کہ شناختوں پر بھی اجارہ داری قائم رکھی ہوئی ہے جیسے فتوؤں کے ذریعے سے کفر و اسلام پر۔ فلاں شخص کو بائیں بازو سے نکال دو اور اسے دائیں بازو پر تعویز بنا کر باندھ لو وغیرہ وغیرہ۔

یہ بھی درست ہے کہ آپ کی سیاسی وابستگی آپ کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ رائٹ اور لیفٹ یعنی دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی اصلاحات آج تو دنیا میں تقریبا پرانی ہو چکی ہیں مگر ہنوز ہمارے مکالمہ میں ان کی گونج زور دار ہے۔ مجھے اس کی فکر نہیں کہ آپ مجھے کس بازو پر باندھتے ہیں کیونکہ میں صرف اپنے ضمیر کو جوابدہ ہوں اور اپنے فہم کو ہی اپنا رہنما سمجھتا ہوں۔ مگر آیئے کہ تاریخی تناظر میں پہلے ایک نظر یہ تو دیکھ لیں کہ ان دائیں و بائیں بازو کی شناختوں سے دراصل کیا مراد ہے؟ اور کون تاریخی بنیادوں پر کس بازو سے اپنی سیاسی وابستگی میں حق بجانب ہے-

پرجوش انقلابی خمار کے دنوں میں اصطلاحات کے معانی بدل دیئے جاتے ہیں۔ شاید یہی معاملہ ہمارے ساتھ بھی ہے- کوئی انقلاب کے چکر میں اصطلاحات پر اجارہ \"Imageداری قائم رکھے ہوئے ہے تو کوئی \”سٹیس کو\” کو بچانے کی کوشش میں اپنے آپ کو کچھ اصطلاحات کا محافظ سمجھنے لگا ہے-

دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاحات کا جنم اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی میں یورپ خاص طور پر فرانس اور اٹلی میں ہوا۔ اس کا تعلق اپنی ابتدا میں ثقافت اور انسان

دوستی کی اقدار سے تھا۔ دائیں طرف کا انسان جسے \’\’man of right \’\’ کہا جاتا تھا سے مراد یہ تھا کہ ایک ایسا آدمی جو نسلی طور پر اعلی و برتر خاندان سے ہے اور اس کے اظہار میں وہ ایک خاص قسم کا لباس پہنتا ہے ، لباس پر امتیازی نشان ( badges) لگاتا ہے ،اور نسلی امتیاز کو سماجی نظم و ضبط میں لازم تصور کرتا ہے-

جبکہ لیفٹ کا انسان \”man of left\” سے مراد ایسا آدمی تھا جو جمہوریت پر مکمل یقین رکھتا ہے- جو لوگوں کے ساتھ اور لوگ کے باہمی تعلقات سے وجود میں آنے والی سماجی بیٹھکوں اور گروپس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے- اور جو ریاست کو شخصی آزادیوں مساوات اور انصاف کی حمایت میں آنکھیں دکھاتا ہے اور بقول ول ڈیورانٹ وہ ثقافت سے محبت کرتا ہے مگر ریاست سے شخصی آزادیوں اور مساوات کے تحفظ میں مڈبھیڑ کے لئے ہر وقت آمادہ رہتا ہے اور جو نسلی امتیازات سمیت کسی بھی قسم کے امتیازات کی پرواہ نہیں کرتا ہے-\"PUBLIC

لیفٹ اور رائٹ کی باقاعدہ تقسیم 1789 میں فرانس کی قومی اسمبلی میں دیکھنے میں آئی- اس وقت نسلی امتیازات اور فیوڈل ثقافت کے حامی طبقہ اشرافیہ کے لوگ سپیکر کی دائیں طرف بیٹھے اور سیاسی سماجی اور معاشی آزادیوں کے حامی بائیں طرف بیٹھے- جبکہ درمیان میں وہ لوگ بیٹھے جنہیں لیفٹ اور رائٹ کی جدوجہد سے کوئی سروکار نہیں تھا بلکہ وہ آج کی معروف اصطلاح میں نیوٹرل تھے- یاد رہے کہ نیوٹرل سے مراد بھی یہی ہے کہ جو ہو رہا ہے، وہی صحیح ہے اور اس پر بحث کی ضرورت ہی نہیں-

 فرانس کی اسمبلی میں لیفٹ اور نیوٹرل کی یہ تقسیم جلد ہی یورپ کی دیگر تمام پارلیمان تک بھی پہنچ گئی۔ لیفٹ اور رائٹ کے حلقے ایک مخصوص ثقافت کے علاوہ خاص سیاسی و معاشی نظریات کی نمائندگی بھی کرتے رہے۔ Max Eastman  دائیں اور بائیں بازو کی خصوصیات اس طرح  بیان کرتا ہے۔

دائیں بازو کا آدمی ایک مخصوص طرز کا لباس پہنتا تھا۔ تمغے لگاتا تھا اور اپنی خاندانی برتری یا نمایاں پن کے اظہار کے تمام ظاہری طریقوں پر عمل کرتا تھ۔ا۔ مختلف تقریبات میں نمایاں ڈھنگ سے شرکت کرتا تھا اور اپنے لئے خطابات پسند کرتا تھا- دائیں بازو کے لوگ باہم میل جول میں ایک مخصوص فاصلہ رکھتے تھے۔ دائیں بازو کا حامی انسانوں کو ان کے خاندان اور اس میں پیدا ہونے والی ممتاز شخصیات کے حوالے سے شناخت کرتا تھا ، نہ کہ بطور انسان ایک مشترک شناخت کے۔ دائیں بازو کا آدمی روایتی ذہن کا مالک تھا ، روایتی جاگیردارانہ طرز زندگی جینا پسند کرتا تھا اور تسلیم شدہ نظریات کو پسند کرتا تھا اس لئے تنقید و تجزیہ کو عموما نا پسند کرتا تھا.

بائیں بازو کا انسان سادہ لباس پہنتا تھا جس میں کسی قسم کا خاندانی یا نسلی امتیاز نہیں جھلکتا تھا- ملتے ہوئے مصافحہ کرنا، ہر ایک کو ہیلو کہنا اس کا معمول تھا- وہ

\"Starved

شہریت کی مساوات پر قائم قانون کی حکمرانی کا قائل تھا اس لئے وہ ہر قسم کے امتیازات کو بے معنی سمجھتا تھا۔ دایاں بازو قانون کو مراعات یافتہ ثقافت کے تحفظ کے لئے لازم خیال کرتا تھا جبکہ لیفٹ کا خیال تھا کہ قانون کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق اور ان کی شخصی آزادی کا تحفظ کرے- لیفٹ کا حامی تنقید، مکالمہ، تجزیہ اور آزاد خیال تعقل پسندی (Rationality) کا حامی تھا- تحریک احیائے علوم ،انقلاب فرانس ، انقلاب برطانیہ اور انقلاب امریکہ کا ہراول دستہ یہی لوگ تھے۔ یاد رہے کہ اس ساری تقسیم کی بنیاد سیاست، سماج اور معشیت پر مبنی تھی ،مذہبی نظریات کا اس تقسیم میں کوئی کردار نہ تھا-

اس بات کا کیسے تعین ہو کہ میں لیفٹ سے ہوں یا رائٹ سے ؟ اس پر j. peraire اپنے خوبصورت مضمون میں اس طرح سے بات کرتے ہیں. \’\’اپنے دل کی سنئے۔ جب آپ دیکھیں کہ ایک شخص کٹہرے میں کھڑا ہے اور ریاست اسے سزا دینا چاہتی ہے۔ جب کارروائی شروع ہوتی ہے، تو دائیں بازو کے آدمی کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ اسے لازمی سزا ملنی چاہئے جبکہ بائیں بازو کا آدمی ملزم کے ساتھ احساس ہمدردی کر رہا ہوتا ہے- وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح وہ شخص اس سزا سے بچ جائے- اس کے دل میں رحم و کرم موجزن ہوتا ہے- وہ اس معاملہ کو کم ہی دیکھ رہا ہوتا ہے کہ وہ جس شخص کے لئے جذبہ رحم رکھتا ہے وہ مجرم ہے بھی یا نہیں- وہ انصاف کے لئے آخری حد تک جاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ نا انصافی کا ذرہ برابربھی شائبہ نہ ہو۔ پس دیکھ لیجئے کہ وہ شخص جو ریاست کی طرف ہے وہ دائیں بازو کا آدمی ہے اور جو فرد کی طرف ہے وہ بائیں بازو یعنی لیفٹ کا آدمی ہے\’\’\"trump-hitler\"

اس پورے پیرا گراف کو اگر اس سیاق و سباق میں پڑھیں کہ لیفٹ کے لوگ اپنی تحریک میں فرد و سوسائٹی کو اپنا دوست اور ریاستی جبر کو اپنا مخالف سمجھتے تھے تو پیراگراف کی سمجھ زیادہ آسان ہو جاتی ہے۔ اب ذرا تاریخ کے صفحات الٹ کر دیکھئے کہ اس وقت کی لیفٹ کے یہ لوگ کون تھے؟ یہ اپنے عہد کے لبرل تھے جنھیں آج کلاسیکل لبرل کہا جاتا ہے اور راقم اپنے فہم میں اسی روایت سے ذہنی نسبت رکھتا ہے۔ اب اس طرف بھی آتے ہیں کہ آخر اس اصطلاح کا مفہوم کیسے بدلا ؟ اس بات کو سمجھنے کے لئے کلاسیکل لبرل ازم کا تصور آزادی و مساوات سمجھ لیں، پھر آگے بڑھتے ہیں۔

جدید جمہوریت کے دو آئیڈیل ہیں: آزادی (لبرٹی) اور مساوات۔ ان ہی دو آئیڈیلز کی بنیاد پر امریکہ کا اعلان آزادی لکھا گیا تھا۔ انہی دو تصورات کی بنیاد پر انقلاب فرانس کی جنگ لڑی گئی تھی- لفظ \’\’آزاد اور مساوی free and equel \’\’ اتنا ہی پرانا ہے جتنا لفظ جمہوریت۔

یورپ و امریکہ کے اس دور میں جب لبرلز ہی لیفٹ سمجھے جاتے تھے، ان دونوں اصطلاحات کے معانی میں یکسانیت پائی جاتی تھی: آزادی سے مراد یہ ہے کہ منتخب حکومت عوام کی اکثریت کے ووٹ سے قائم ہو اور مساوات سے مراد یہ ہے کہ ہر ایک کو ایک ووٹ دینے کا حق حاصل ہو۔ آزادی سے مراد یہ ہے کہ محض قانون کی حکمرانی قائم ہو تو مساوات سے مراد یہ ہے کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہوں۔ آزادی سے مراد یہ ہے کہ مواقع یا امکانات کی تسخیر میں آزادی ہو اور مساوات سے مراد بھی مواقع میں مساوات ہے۔ یوں آزادی اور مساوات میں کوئی فرق کیا ہی نہیں جاتا تھا- اس لئے سارے لیفٹ کے لوگ ایک ہی پلیٹ فارم پر تھے۔اور پھر مارکس کی تعلیمات سامنے آئیں۔

دلچسب بات یہ ہے کہ مارکس کے حامی بھی ابتدا میں خود کو لبرلز ہی قرار دیتے تھے ، جبکہ بعد میں انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہمیں آزادی نہیں مساوات چاہئے \"daesh\"اور مساوات کا اپنا تصور یہ پیش کیا کہ معاشرہ کی ساری دولت تمام لوگوں میں برابر برابر تقسیم کر دی جائے اور ریاست فرد کی معاشی زندگی پر جبر کرنے کا حق رکھتی ہے۔ اب تک فطری تعلق فرد اور سوسائٹی کا مانا جاتا تھا جب کہ ریاست کی حیثیت محض ایک سماجی اور انتظامی ادارے کی تھی مگر اب ریاست کو سماج کا نمائندہ کہا گیا۔ اس مؤقف میں شدت انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں آئی۔ یوں اب لیفٹ کا ایجنڈا بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا: ایک طرف وہی لبرل تھے جو اب خود کو لیفٹ اور رائٹ کی بجائے لبرل کہلوانا پسند کرتے تھے۔ یاد رہے کہ سیاست و معیشت میں لبرل اصطلاح سب سے پہلے ایڈم سمتھ نے 1776 میں اپنی کتاب ویلتھ آف نیشن میں استعمال کی تھی جو جلد ہی پورے یورپ میں پھیل گئی۔ پھر یہ اصطلاح یورپ میں اتنی مقبول ہوئی کہ 1782 میں کنگ جارج III نے اسے اپنی پارلیمانی خطبے میں دہرایا۔ اس کے بعد 1820 میں لبرل ازم کی اصطلاح معروف ہوئی جس میں لیفٹ کے تمام نظریات کو جمع کر دیا گیا اور بجائے خود کو بائیں بازو کا فرد کہنے کے لبرلز نے خود کو لبرل ازم سے ہی متعارف کروانا شروع کیا۔ 1850 کے لگ بھگ برطانیہ میں لبرل پارٹی وجود میں آئی اور 1868سے 1894 کے درمیان William Gladstone چار بار وزیراعظم منتخب ہوئے۔

نئے وجود میں آنے والے لیفٹ کے لوگ لبرلز سے سیاست اور معیشت کے باب میں متضاد ہو گئے۔ انہوں نے درج ذیل امور میں اپنے پیشرؤں سے انحراف کیا۔ مارکسسٹ \"mao-newsweek05-16\"لیفٹ نے اب ریاست کو فرد پر فوقیت دینی شروع کر دی کہ وہ دولت میں مساوات قائم کرنے کے لئے اپنا جبر قائم کرے- دائیں بازو کے لوگوں کی طرح انہوں نے بھی نمایاں نشان جیسے ہتھوڑا وغیرہ کا استعمال شروع کیا، خطابات جیسے کامریڈ (اور پھر کامریڈ سے مارشل اور مارشل سے Generalissimo وغیرہ)، اسی طرح سیلوٹ کلچر کا بھی آغاز ہوا- یہ سب امتیازی نشانات دراصل خود کو دوسرے لوگوں سے نمایاں و منفرد قرار دینے کے لئے تھے۔ اب قانون کا مقصد انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں کا تحفظ نہیں بلکہ انہیں دبا کر رکھنا اور فرد پر انتظامی جبر قائم رکھنا قرار پایا۔ اہل حکم کے ارادہ کو فرد کے آزاد ارادہ یعنی Free Will پر فوقیت ملی، نظام اقدار شخصی نہ رہا تھا بلکہ اب لیڈر طے کرنے لگے۔ ریاست کی یہ ذمہ داری قرار پائی کہ وہ غلط صحیح کی پہچان کرے۔ تنوع کو نا پسند کیا گیا اور اتحاد و اتفاق کے نئے معانی پیدا کئے گئے۔ عملی مثالوں کے لئے سوویت یونین سمیت 46 ممالک جہاں سوشلسٹ اقتدار قائم ہوا دیکھ سکتے ہیں۔

انقلاب فرانس کے دنوں میں لبرلز نے شخصی آزادیوں مساوات اور مسرت کی جدوجہد کو \”آزادی\” کا نام دیا تھا۔ اب مارکسٹ حضرات نے اپنی تحریک کو بھی آزادی کی جدوجہد قرار دے دیا۔ صنعتی انقلاب کے بعد یہ لبرلز ہی تھے جنہوں نے free man، free society اور Free Market کا نعرہ لگایا تھا. ان تینوں تصورات کے تحت انہوں نے غلامی کے خلاف جدوجہد کی اور امریکہ میں سب سے پہلے لبرلز کی ہی جدوجہد سے غلامی کا خاتمہ ہوا- اس عہد کا لبرل کسی ایک کلاس کی نمائندگی کا دعوی نہیں کرتا تھا بلکہ انسانوں کو ان کی دولت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا رواج پایا ہی نہیں جاتا تھا۔ مگر چونکہ وہ \”سٹیس کو\”کے مخالف تھے اور سٹیٹس کو میں زرعی عہد کی اشرافیہ کا غلبہ تھا اس لئے ان کا زیادہ جھکاؤ عام شہریوں کی طرف ہی تھا اور وہ بھی خود کو مزدوروں اور کسانوں کا نمائندہ سمجھتے تھے-

غلامی کے خاتمہ سے پہلے امریکہ انسانی حقوق کے حوالے سے دو حصوں میں تقسیم تھا- جنوبی امریکہ میں سفید خام جاگیردار اور زمیندار اکثریت میں تھے اور یہاں\"stalin1943\" کی معشیت زرعی اور تمدن جاگیردارانہ تھا. انہوں نے ہزاروں سیام فام اور ایشیائی غلام رکھے ہوئے تھے- جبکہ مغربی امریکہ میں تاجر، کاروباری افراد اور صنعتکار رہتے تھے۔ یہاں کی معشیت صنعتی اور تمدن بھی صنعتی اور شہری (Urban ) تھا- جنوبی امریکہ میں رجعت پسندوں کی اکثریت تھی تو مغربی امریکہ میں لبرلز کی اکثریت تھی۔ ذرا تاریخ کے صفحات الٹ کر دیکھئے کہ انسانی حقوق کی جدوجہد کہاں سے شروع ہوئی- دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کہ غلامی کے خاتمہ کے لئے کن علاقوں کے لبرلز آگے آگے تھے ؟ ورکنگ کلاس کی آواز کو کون اٹھا رہے تھے اور لفظ ورکنگ کلاس (مارکسسٹ معانی میں نہیں ) کون بار بار ادا کرتے تھے؟ کن لوگوں نے کہا تھا کہ غلاموں کی آزادی کے بغیر Free man، Free Society، اور Free Market کا تصور قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ جس طرح جنوب اور مغرب میں فرق تھا ویسے ہی رجعت پسندوں اور لبرلز میں مزدوروں اور غلاموں کے حقوق کی جدوجہد میں واضح فرق موجود تھا-

اس بحث کا محل نہیں کہ فاشسٹ نظریے کے علمبردار ابتدا میں کس آئیڈیالوجی سے تعلق رکھتے تھے اور یہ کہ فاشزم دراصل کس نظریہ کا انتہا پسندانہ ورژن ہے- اور یہ بھی کہ ایسے لوگوں نے اپنے ناکام انقلابوں کے بعد لبرل ازم کے معانی و مفہوم پر کیسے حملہ کیا اور اب بھی اس اصطلاح کو توڑ موڑ کر کیسے اپنے نظریات کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

تاریخ واضح ہے کہ کون تمام انسانوں کے ساتھ کھڑے رہے اور کس نے انہیں طبقات میں تقسیم کیا ہے، کون ان کی آزادی، مساوات اور انصاف کی جدوجہد میں پیش پیش رہے اور کن لوگوں نے ریاستی ظلم و جبر کی حمایت کی۔ غربت و افلاس کی مساوات قائم کی اور زندان خانوں میں انقلاب کے تحفظ کے لئے معصوم انسانوں کا خون بہایا- دور حاضر میں بھی ایسے چہرے پہچانے جا سکتے ہیں- جنگ عظیم دوم کے بعد لبرلز چار نکاتی ایجنڈے پر متفق رہے:

1- انٹرنیشنل مائیگریشن کے حق کی حمایت\"mahmoud-ahmadinejad\"

2- آزادی تجارت (Free Trade) کے حق کی حمایت

3- عدم مداخلت (non interventionism) کی پالیسی کی حمایت

4- گلوبلائزیشن میں علم و ثقافت اور سرمایہ میں اشتراک کے حق کی حمایت

اپنے عہد میں اپنے اردگرد دیکھ کر پہچان لیجئے کہ آج کون سی قوتیں ان چاروں نکات پر حملہ آور ہیں- وہ ساری قوتیں جنہوں نے ہمیشہ دائیں بازو کے ایجنڈے کا ساتھ دیا۔ جنہیں کل بھی لبرل ازم سے نفرت تھی  اور آج بھی اصطلاحات اور نعروں کو بدل کر اپنے نظریات کو بچانا چاہتے ہیں-

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 155 posts and counting.See all posts by zeeshan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *