میرے بچپن کا محرم کہاں چلا گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پلٹ کر آدھی صدی پیچھے دیکھتی ہوں تو اپنے بچپن کا کراچی اور اس کے تیج تہوار بانہیں پھیلائے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ماہِ محرم کی یاد سے وابستہ کہیں سبیلوں کے جگمگاتے ہوئے مٹی کے کورے گھڑے تو کہیں تعزیہ کی جھلملاتی پنیوں سے مزین مہمان کربلا کے روضے کی یاد میں آباد عقیدت کی ایک دنیا۔ میرے بچپن کا ابتدائی زمانہ جس محلے میں گزرا وہ ملیرکالونی میں بی ایریا کا آخری محلہ تھا جو” فاروق آباد” کہلاتا تھا۔ اس کے بعد میدان اور پھر سی ایریا شروع ہوجاتا تھا۔ اس محلے سے میرے بچپن کی بڑی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں۔ میری طویل نظم جو میرے دوسرے شعری مجموعے میں “یہ بستی میری بستی ہے” کے عنوان سے شامل ہے۔ میں نے اس نظم میں اپنے اس محلے اور ان کرداروں کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ اور اپنے ایک مضمون میں بھی جو پچھلے سال “ہم سب” میں بعنوان “دنیا کا سب سے اونچا تعزیہ جو میں نے دیکھا” شائع ہوا تھا، اس مضمون میں بھی میں نے تعزیہ دار عثمان بابا کا ذکر کیا ہے۔

ہماری ماں اس سال ہمارے درمیان نہیں رہیں اس لئے میں ضروری سمجھتی ہوں کہ اس بار میں اس محرم کا ذکر کروں جو ہمارے گھر کا روایتی محرم ہوتا تھا۔ اور محرم کی وہ باتیں جو میں نے اپنی ماں سے سنیں یا وہ ارکان جو انہیں ادا کرتے دیکھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر میں عشرہ محرم میں دس دن عورتوں کی مجلس ہوتی تھی جس میں محلے کی عورتیں شریک ہوتی تھیں۔ ان میں اکثریت اہلِ سنت خواتین کی ہوتی تھی جو ماتم نہیں کرتی تھیں اور کالے کپڑے بھی نہیں پہنتی تھیں۔ لیکن میری ماں انہیں سب سے زیادہ احترام کے ساتھ فرش پر خود بٹھاتی تھیں۔ مجھے یاد ہے ایک بار حصہ بانٹنے والی خاتون نے کچھ بچوں کو ڈانٹ دیا کہ تم مجلس میں نہیں آئے تھے تمہیں حصہ نہیں ملے گا۔ میں نے دیکھا کہ ان کے اس رویے سے میری ماں کے چہرے پر ناگواری تھی لیکن انہوں نے ان خاتون سے کچھ نہیں کہا۔ دوسرے دن ایک دوسری خاتون کو تبرک بانٹنے کی ذمہ داری دیتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ باجی پہلے ان بچوں کو اندر بلا کر تبرک دیجئے گا جنہیں کل منع کیا گیا تھا اور انہیں کل کا بھی تبرک دیجئے گا۔

ہمارے یہاں تبرک کبھی کم تو نہیں پڑا لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ گھر والوں کے لئے تبرک نہیں بچتا تھا۔ ہمیں تنبیہ تھی کہ گھر والوں کو سب سے آخر میں تبرک ملے گا۔ اور آخر میں ایک دو بار ایسا ہوا کہ بچا ہوا چورا ہمارے حصے میں آیا۔ ہم منہ بسورتے تھے تو امی ہمیں سمجھاتی تھیں کہ بیٹا تبرک کا مطلب ہی تھوڑی سی چیز ہے۔ یعنی برکت کے لئے۔ پیٹ بھرنے کے لئے تھوڑی ہے۔ مگر بعد میں آدمی بھیج کے بازار سے وہی تبرک منگاتی تھیں اور ہمیں دوبارہ پورا حصہ ملتا تھا۔ ہمارے یہاں تبرک ہمیشہ میٹھا ہوتا تھا۔ مجھے مٹھائیوں میں جلیبیاں بہت پسند تھیں۔ ایک دن مجھے لگا کہ مجمع زیادہ ہے۔ اس دن جلیبیاں ہی تھیں۔ میں نے سوچا کہیں جلیبیاں کم نہ پڑ جائیں یہ سوچ کر میں اس اسٹول کے نیچے اسٹور روم میں اپنے ہاتھ پاؤں سکیڑ کر فٹ ہو گئی جس پر مٹھائی کا ٹوکرا رکھا تھا۔ سوچتی ہوں تو اب بھی یقین نہیں آتا کہ اس ننھے سے اسٹول کے چار پایوں کے بیچ میں میںکس طرح سکڑ کر سما گئی تھی۔ اسٹول اتنا چھوٹا تھا کہ میری ذرا سی غلطی سے مٹھائی کی ٹوکری زمین پر آسکتی تھی۔ اسٹول پر ایک میز پوش پڑا ہوا تھا اور اس پر وہ ٹوکری رکھی ہوئی تھی۔ جونہی مجلس شروع ہوئی میں نے ہاتھ نکال کراندازے سے ٹوکری پر منڈھے ہوئے اخبار میں ایک چھوٹا سا سوراخ بنایا اور مجلس جوں جوں اختتام کی طرف بڑھتی جاتی تھی میرے جلیبیاں کھانے کی رفتار بڑھتی جاتی تھی۔ ساتھ ڈر بھی بہت لگ رہا تھا کہ یہ چوری ہے اب امام حسین ؑسزا دیں گے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ نہ کسی نے دیکھا اور نہ ہی میری وہ چوری پکڑی گئی۔

اس وقت میری عمر آٹھ یا نو سال رہی ہو گی۔ رات کو امی امام حسین ؑ کے واقعات بتا رہی تھیں میں نے بیچ میں پوچھا اگر کوئی تبرک چوری کرے تو امام حسینؑ معاف کردیں گے؟ امی نے مجھے چونک کر دیکھا۔۔ میں شرما گئی۔ امی نے کہا امام حسینؑ مظلوم ہیں انہوں نے تو اپنے قاتل کو بھی بد دعا نہیں دی۔ مگر خدا سب دیکھتا ہے بیٹا۔ ان کے یہ جملے میرے دل پر نقش ہوگئے۔

 میرے بچپن میں ایک پوربی نوحہ اکثر خواتین پڑھتی تھیں۔

کربل بن میں اک بی بی کا بن کے مقدر پھوٹ گیا

ناز تھا جس بھائی پہ بہن کو آج وہ رشتہ ٹوٹ گیا

میں یہ نوحہ کہیں سے سن کر آئی تھی اور پورے جوش میں پڑھ رہی تھی کہ امی نے مجھے پاس بلایا اور آہستہ سے کہا۔۔ بیٹا یہ نوحہ مت پڑھو۔۔۔ میں نے حیرت سے انہیں دیکھا!۔۔ انہوں نے کہا۔ اچھا نہیں لگتا بی بی زینبؑ کی شان میں یہ کہنا کہ “بن کے مقدر پھوٹ گیا “۔ انہوں نے تو اسلام کا مقدر بنا دیا۔

میں نے کہا پھر کیا پڑھوں؟

 امی نے کہا وہ پڑھو جس میں شان ہے ان کی، جیسے وہ نوحہ ہے کہ

 شبیر کا ماتم چاند میں ہے شبیر کا ماتم تاروں میں

ہیں دونوں جہاں غم خواروں میں

پھر بولیں جہاں کے ہم ہیں وہاں یہ نوحہ اہلِ سنت کے جلوس میں ہر سال پڑھا جاتا تھا۔

میں نے حیرت سے کہا! اہل سنت کا جلوس؟

امی نے کہا ہاں ہمارے یہاں اہل سنت اور اہل تشیع کا جلوس ایک سی شان سے نکلتا تھا۔ ہمارے قصبے میں نہ شیعہ سنی کے درمیان کبھی کوئی تلخی ہوئی نہ ہندو مسلم کے درمیان۔ سب ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔ اس بات کے کچھ عرصے بعد کہیں لڑکیوں کی مجلس تھی۔ ایک لڑکی نوحہ پڑھ رہی تھی

 غربت میں مان جائے کا ہاتھ بٹایا زینبؑ نے

جب وہ اس شعر پر پہنچی

بھولے بھالے بچوں کو بھائی پر قربان کیا

تومجھے بہت دکھ ہوا اور ایسا لگا کہ یہ بات کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ میں اس لڑکی کا بازو تھی۔ اور اس کے ساتھ مجھے نوحہ اٹھانا تھا۔ لیکن اچانک میں صف سے نکل گئی۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ تو یاد نہیں لیکن وہ مصرعہ میرے ذہن میں اٹک کر رہ گیا۔

جیسے آج کی بات ہو۔ اب سوچتی ہوں تواپنی ماں کی باریک بینی پر حیرت ہوتی ہے۔ کہ وہ بظاہر ایک عام گھریلوخاتون تھیں مگر ان کی ہر بات میں ایک الگ منطق ہوتی تھی جو بچپن سے مجھے سوچنے پر اکساتی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ میری ماں اپنے کسی ذاتی تجربے کو کسی واقعے سے جوڑ کر اس میں ایک ایسا دانشمندانہ پہلو رکھتی تھیں کہ بات ذہن میں بیٹھ جاتی تھی۔ انہوں نے کبھی خطیبانہ انداز میں نصیحت نہیں کی۔ میں بہت چھوٹی تھی تب بھی وہ مجھ سے اس طرح بات کرتی تھیں جیسے دو سہیلیاں آپس میں بات کرتی ہیں۔

ہمارے یہاں عشرے کے علاوہ ایک بڑی مجلس ہوتی تھی جس میں دور دور سے بیبیاں آتی تھیں۔ اس میں مجمع زیادہ ہوتا تھا۔ ایک بار مجمع توقع سے زیادہ ہو گیا اس وقت تبرک تو مجمع دیکھ کے امی نے اور منگا لیا مگر اخبار جس میں تبرک رکھ کر دیا جاتا تھا وہ کم پڑگیا۔ عورتوں میں سے کسی نے الماری پر ایک رجسٹر رکھا دیکھا اور آناً فاناً رجسٹر کے پنے تبرک ہوگئے۔ میری نظر پڑی تو سامنے خالی گتا فرش پر پڑا تھا۔ اس رجسٹر میں میرا ایک ناول تھا جو مکمل ہونے ہی والا تھا۔ اور کچھ افسانے جو اس زمانے میں زیب النسا اور حور کے افسانے پڑھ کر لکھنے شروع کئے تھے۔ میں نے پیٹنا اور رونا شروع کردیا۔ ساتھ کچھ بزگ خواتین جو ابھی مجلس کے فرش پر ہی تھیں ان میں سے ایک کی آواز آئی۔ اے ہے بٹیا سیدہ بس تو اس لڑکی کو ذاکرہ بنانا۔ کیسے بین کر رہی ہے۔ دوسری مجھ سے مخاطب ہوئیں، بولیں۔ اے بیٹی مولا ؑکے لئے اتنا روتیں تو کچھ ثواب ہی مل جاتا۔ کیا جھوٹی سچی کہانیوں کے لئے بیٹھی روتی ہو، توبہ کرو بیٹا توبہ! ایک نے کہا ہائے ہم نے کبھی امام علیہ السلام کے لئے اس بچی کو ایسے روتے نہ دیکھا۔ میرے لئے ان کے یہ جملے خنجر کا کام کر رہے تھے۔ امی بالکل سکتے کے عالم میں کھڑی تھیں۔ میرے قریب آئیں۔ میرے آنسو پونچھے اور بولیں بیٹا ہمیں پتہ ہے وہ تمہاری بہت قیمتی تحریریں تھیں۔ مجھے بھی بہت افسوس ہے لیکن صبر کرو۔۔ دیکھو امام حسینؑ کے تبرک میں خرچ ہوئی ہیں وہی لوٹائیں گے۔ میں تڑپ اٹھی۔۔ اب کہاں سے لوٹائیں گے امام حسینؑ؟ امی نے کہا یہ ان پہ چھوڑ دو۔ مجھے کسی طرح تسلی نہیں ہورہی تھی۔ ہائے میری کہانیاں۔۔۔ کیسے چھوڑ دوں۔۔ امی نے تھوڑی دیر مجھے رونے دیا پھر بولیں۔ د یکھو بیٹا یاد رکھو امام حسینؑ کسی کا قرض رکھتے نہیں ہیں۔ وہ تمہیں لوٹائیں گے ضرور مگر صبر کرنا پڑے گا۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ لیکن امی کے آخری دو جملوں نے جیسے میرے دل پر مرہم سا رکھ دیا۔

اس دن کے بعد میں نے نثر کا خیال ترک کردیا اور رجحان شاعری کی طرف ہو گیا۔ اس وقت میں ساتویں یا آٹھویں کلاس میں تھی۔ ایک بار محرم اور سالانہ امتحان ساتھ ساتھ تھے۔ امی نے سختی سے پابندی عائد کردی کہ امتحان کی تیاری زیادہ مقدم ہے۔ علم حاصل کرنا سب سے بڑی عبادت ہے۔ کراچی میں عموماً لوگ گھروں کی مجلس میں لائوڈ اسپیکر پر نوحوں کے ریکارڈ لگا کر چھوڑ دیا کرتے تھے۔ ہماری امی کو یہ طریقہ پسند نہیں تھا کہتی تھیں کوئی بیمار ہے یا کوئی نہیں سننا چاہتا تو یہ دل آزاری ہے۔ اگر اپنا احترام کروانا چاہتے ہو تو دوسروں کا احترام کرو۔ انہوں نے ہمیں ہر مسلک اور ہر مذہب کا احترام کرنے کی تعلیم دی۔

میں پچھلے سال کراچی گئی تو ایک عجیب تجربہ ہوا۔ میرے کچھ کپڑے درزی کے یہاں تھے، جو سل گئے تھے اٹھا لئے اور بے سلے چھوڑ دئیے کہ عید الفطرکے بعد رش کم ہوجائے تو سی دینا۔ کوئی آتا جاتا ملا تو منگا لوں گی۔ اس نے کہا باجی عیدالفطر کے بعد تو رش بہت بڑھ جائے گا، درزیوں کو دم مارنے کی فرصت نہیں ملے گی۔ چھوٹی عید ختم ہوتے ہی “کالی عید “کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ “کالی عید ” کی اصطلاح میرے لئے بالکل نئی تھی۔ میں یہ سن کر ہکا بکا رہ گئی۔ یہ کونسی عید ہے؟ درزی ہنسا۔ اب تو سب جانتے ہیں۔ حیرت ہے آپ کو پتہ نہیں۔

میں کراچی سے لوٹی تو اس بات کا ذکر اپنی امی سے کیا۔ بڑی اداس ہو گئیں۔ بولیں ہم کراچی میں تھے تب تک یہ حال نہیں تھا۔ وہ عرصہ دراز سے سویڈن میں تھیں میں نے پوچھا کہ یہ کالے کپڑوں کا مقصد کیا ہے امی آپ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا یہ تو یونیفارم ہے جب روزانہ مجلس میں جانا ضروری ہے تو صاحب حیثیت لوگ تو نفیس لباس پہنتے اور غریب کہاں سے لاتا اس لئے اس رنگ کو رائج کیا گیا ہو گا۔ کہ سب ایک جیسے نظر آئیں جس طر ح حج پر ایک ہی لباس ہوتا ہے سب کا۔ بیٹا ہمارے بچپن میں تو یہ ہوتا تھا کہ محرم آنے سے پہلے جو پرانے کپڑے ہوتے تھے انہیں سیاہ رنگ لیا جاتا تھا۔ اس طرح وہ کپڑے جو محفل میں پہننے کے لائق نہیں بھی رہتے تھے استعمال میں آجاتے تھے غمی کے ان دنوں میں۔ لیکن محرم کے لئے نیا لباس بنانا منحوس سمجھا جاتا تھا۔

میری امی جنہیں ہم بجّو کہتے تھے امام حسینؑ کی نیاز بناتی تھیں تو بہت اہتمام کرتی تھیں سب سے زیادہ پاکیزگی کا خیال رکھتی تھیں۔ مجلس کے لئے نماز قضا نہیں کرتی تھیں۔ اور جب نیاز بنا رہی ہوتی تھیں تو میں دیکھتی تھی کہ آنسو مسلسل ان کی آنکھوں سے رواں رہتے تھے۔ وہ ساتویں محرم کو حضرت قاسم کی نذر کے لئے جو قورمہ پلائو اور زردہ بناتی تھیں اس ذائقے کا کھانا میں نے کہیں اور نہیں کھایا۔ وہ جس خشوع و خضوع کے ساتھ نذر دلاتی اور گریہ کرتی تھیں شاید وہ طہارت قلب تھی جو ان کے ہاتھ کی نیاز میں خوشبو پیدا کردیتی تھی۔ وہ اس محرم ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن انہوں نے مجھے امام حسین ؑکے ذکر کے ذریعے انسان دوستی کا جو سبق بچپن میں سکھایا اور غور و فکر کی جو ترغیب دی اس کا اجر آخرت میں انہیں ضرور ملے گا۔ یقین، صبر اور استقامت ان کی عملی زندگی کا لازمی جز تھا۔ یہ نبیؐ اور ان کی آل پاک سے ان کی عقیدت کا ثبوت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ معبود حقیقی ان کی نیکیوں کے عوض انہیں کربلا والوں کے قدموں میں ضرور جگہ عطا فرمائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •