وبا سے اجڑا تعلیمی نظام , اور ہماری بے حسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر قوم کی کچھ ترجیحات ہوتی ہیں جن پر ملک اپنے وسائل صرف کرتے اور لائحہ عمل طے کرتے ہیں ۔مشکل سے مشکل حالات میں بھی وہ اپنی ترجیحات تبدیل نہیں کرتے یہ ترجیحات قوموں کی بہتری کو سامنے رکھ کر ترتیب دی جاتی ہیں ۔ جن قوموں کی ترجیحات کی ترتیب ہی درست نہ ہوں وہ ہمیشہ دربدر رہتی ہیں ۔ بدقسمتی سے ہمارا شمار بھی انھی قوموں میں ہوتا ہے ۔

کرونا کی وبا کیا آئی سب کچھ تہس نہس ہو گیا کاروبار تجارت سیاحت لوکل انٹرنیشنل ٹریفک شاپنگ پلازے مالز تعلیمی ادارے سب بند ہو گئے غرض یہ کہ ساری دنیا کا نظام درہم برہم ہو گیا وقت گزرا وبا کے اثرات کچھ کم ہوئے تو دنیا دھیرے دھیرے سرکنا شروع ہوئی سفر کاروبار شروع ہوئے,سیاحت میں بہتری آئی شاپنگ مال میں رش ہونا شروع ہو گیا ۔پاکستان بھی کیونکہ وبا سے متاثرہ ممالک کی لسٹ میں شامل تھا تو یہاں بھی کچھ تاخیر سے آدھے ادھورے حفاظتی اقدمات کے ساتھ سب بند کر دیا گیا کچھ عرصے بعد حالات نارمل ہونا شروع ہوئے یا دکھائے جا رہے ہیں بحرحال کاروبار چلنا شروع ہو چکے ہیں۔

کنسٹرکشن کا کام رواں دواں ہے دکانیں مالز ہوٹلز میرج ہالز کھل گئے اور اب سیاحتی مقامات پر جانے کی اجازت بھی دے دی گئی ۔ لیکن ان سب کھلنے والی چیزوں میں وہ چیز شامل نہیں جس پر قوموں کے مستقبل کا دارومدار ہوتا ہے اور وہ ہے تعلیم جسکے متعلق حکومت والدین اور خود سٹوڈنٹس کو بھی فکر نہیں آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ سیاحتی مقامات کاروباری معاملات شاپنگ مالز اور ہوٹل ریسٹورنٹ بند ہونے پر معاشرے میں جو بے سکونی اضطراب اور تناؤ تھا وہ تعلیمی مراکز بند رہنے پر ابھی تک دیکھنے میں نہیں آیا ۔ وزیراعظم کی ہر تقریر میں لاک ڈاؤن نہ کرنے اور کاروبار کھلے رکھنے کا عندیہ ہوتا لیکن تعلیمی اداروں اور انکے ملازمین کا شاید ہی کبھی زکر کیا ہو ۔

کیا ہماری ترجیحات میں تعلیم کہیں نہیں آتی ؟کیا ہوٹل میں کھانا سیاحتی مقامات پر جانا خریداری کرنا تعلیم حاصل کرنے سے زیادہ اہم ہے ؟کیا یونیورسٹیز کالجز سکولز میں آنے والے بچے کسی مال میں آنے والے لوگوں سے کم سمجھدار ہوں گے ؟کیا سیاحتی مقامات پر جانے والے لوگ اور تعلیمی مراکز میں جانے والے لوگ مختلف ہیں ؟

کیا جو لوگ ہوٹلوں میں بغیر ماسک کے کھانا کھا سکتے ہیں وہ یونیورسٹی کالج سکول میں چند گھنٹے نہیں گزار سکتے ؟کیا مالز کی انتظامیہ سکول کی انتظامیہ سے زیادہ فعال ہو سکتی ہے ؟اور کیا تعلیمی اداروں سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کا مستقبل وابستہ نہیں ؟

یہ سب سوال  ہماری ترجیحات پر سوالیہ نشان ہیں ۔ تعلیم ہماری ترجیحات میں سب سے آخر میں آتی ہے۔  وگرنہ معاشرے میں کہیں کوئی آواز اٹھتی ضرور سنائی دیتی کہ بچوں کا قیمتی سال اور وقت ضائع ہو رہا ہے۔ والدین معطمئن اور بچے مزے میں ہیں۔ سکول شروع ہونے کی کسی افواہ پر بھی وہ والدین پریشانی کا اظہار کرتے نظر آتے جو بچوں کو مالز اور سیاحتی مقامات پر بغیر جھجک کے لے جا رہے ہیں آن لائن کلاسز چل رہی ہیں لیکن ان کلاسز کی وجہ سے ٹیچرز کی آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی چوبیس گھنٹے میں تبدیل ہو چکی ہے ۔

اسی یا پھر آدھی تنخواہ میں ٹیچرز کو کسی بھی وقت آن لائن میٹنگ کے لئے بلایا جا سکتا ہے جو یقیناً انکے لئے بہت مشکل ہے لیکن کیونکہ سکول والوں نے فیسیں لینی ہے اس لئے انھوں نے بھی ٹیچرز پر اچھا خاصا بوجھ ڈالا ہوا ہے اور پھر فیسیں دینے والے بھی وہ ہیں جو ایک وقت میں پچیس تیس ہزار کا کھانا کھا لیتے ہیں ۔ پچاس ساٹھ ہزار کی شاپنگ بھی کر لیں گے ۔ جو سیاحتی مقامات کھلنے پر نادرن ایریاز بھی پہنچے ہوئے ملتے ہیں ۔

پچیس تیس یا پچاس ہزار فیس دینا انکے نزدیک پیسے ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔  یہ جانے سمجھے بغیر کہ اسی فیس سے بہت سارے لوگوں کے گھروں کا چولہا جلتا ہوگا ۔ہم فیس دینے پر تیار نہیں لیکن راشن بڑھ چڑھ کر دیتے رہے حالانکہ اگر سوچیں تو ہماری فیسیں نہ دینے پر بہت سے لوگ راشن مانگنے والوں کی لسٹ میں شامل ہوئے ہوں گے اسکی وجہ یہی ہے کہ ہماری ترجیحات میں تعلیم اسی جگہ پر ہے جہاں پیسہ لگانا ہم سب سے مشکل سمجھتے ہیں ۔

آج ملک میں ہر چیز کھل چکی ہے پبلک ٹرانسپورٹ تک چل رہی ہے ماسک لگا چہرہ ڈھونڈنے پر بھی کہیں نظر نہیں آتا ہاں لیکن کالج سکولز یونیورسٹیز کی بسز کرونا پھیلانے کا سبب بن سکتی ہیں سوچنے والی بات ہے کہ جب ہر رش والی جگہ آباد ہو چکی ہے ۔ عبادت گاہیں بھر چکی ، مذہبی رسومات زور شور سے ادا کی جا رہی ہیں ،  تو تعلیمی ادارے کھولنے میں کیا رکاوٹ ہے۔

جو ایس او پیز بھانت بھانت کے لوگوں سے بھرے مالز میں اپلائی کر کے کھولنے کی اجازت دی گئی ان ایس او پیز پر تعلیمی مراکز کیوں نہیں کھل سکتے جبکہ وہاں آنے والے سٹوڈنٹ گنے چُنے مخصوص ہو گے اور یہاں پر کسی شاپنگ ایریا یا سیاحتی مقام سے زیادہ محفوظ  إاحول مہیا کیا  جا سکتا  ہے ۔  شاید ہم ایسا کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے ۔

ہمیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ ایک تعلیمی سال ضائع ہونے پر ہم کتنا پیچھے رہ جائیں گے ۔   تعلیمی ادارے بند رہنے سے کتنے چولہے ٹھنڈے ہیں ۔ رزق حلال کمانے والے کتنے ٹیچر مقروض ہو گئے ۔ انہیں مدد کے لیے ادھر ادھر دیکھنا پڑا ۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت نے  آج تک اس مسئلے پر کوئی روڈ میپ نہیں دیا ۔  کوئی تسلی بخش اعلان نہیں کیا ۔ تعلیمی مراکز کھولنے کی تاریخ نہیں دی گئی ہر روز ایک نیا بیان دیا جاتا ہے اور اگلے دن خود ہی اس سے الٹ کچھ نیا کہہ دیا جاتا ہے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •