نئی ٹیکنالوجی اور بزرگوں کی خفت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لگتاہے کہ جب کہ اشفاق احمد صاحب بیرون ملک تھے توآج کے سارے موجد شاید سبھی ان کے کلاس فیلو تھے کیونکہ وہ ساری عمر کہتے رہے کہ ’آسانیاں تقسیم کریں‘ ۔ اور ٹیکنالوجی آج آسانیاں بانٹ رہی ہے۔ سمارٹ فون کی آمد نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ جو کبھی لائن میں کھڑے نہیں ہوئے وہ بھی اب ’آن لائن‘ ہو گئے ہیں۔ دنیا ’تھری جی‘ اور ’فور جی‘ سے نکل کر اب ’فائیو جی‘ کی سپیڈ سے دوڑنا چاہ رہی ہے۔ کہاں تو یہ کہ 3310 ہمیں انقلابی ایجاد معلوم ہوتی تھی اور کہاں آج کے نئے سمارٹ فونز جو خلائی جہازوں سے زیادہ طاقتور ہیں اور یہ دوڑ رکنے والی نہیں۔ ہر سہ ماہی، شش ماہی اور سالانہ بنیادوں پر نت نئے ورژن سامنے آئے جا رہے ہیں۔ چینی کمپنی ’علی بابا‘ کے بانی ’جیک ما‘ کا یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ ”ہم ٹیکنالوجی کے جس فیز سے گزر رہے ہیں وہ تیسری جنگ عظیم کا باعث بن سکتی ہے“ ۔

نئی حیرتوں کی بات کریں تو Paypal اور Payoneer نے تمام بنکوں کو ایک کلک کی دوری پر لاکھڑا کیا ہے۔ فیس بک کی ’دیوار‘ کا سایہ سات سمندروں کے وجود کو کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ ’یوٹیوب‘ نہ صرف سوئی سے لے کر جہاز بنانے تک کی ویڈیوز فراہم کرتا ہے بلکہ ٹیلنٹ کو آزمانے کو میدان بھی مہیا کرتا ہے۔ ’انسٹا گرام‘ ماڈلنگ میگزین ہے جس کا ’ایڈیٹر‘ کوئی بھی بن سکتا ہے۔ ’واٹس ایپ‘ نے ٹیلی کانفرنس کی جگہ لے لی ہے۔ ’پلے اسٹورز‘ میں ہزاروں ایپس آ گئی ہیں جو آپ کے من چاہے موضوع کو تسکین فراہم کرتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ہے جو زمینداریامزارع، مل مالک یا مزدور کی تفریق نہیں کرتی، سب کو ایک سی آسانیاں بانٹتی ہے۔

سب سے بڑا انقلاب سوشل میڈیا ثابت ہوا۔ یہ ایک طرح سے ’ہائیڈ پارک‘ ہے جہاں کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ ’کچھ بھی‘ پر کون سی حدود لاگو ہونی چاہئیں لیکن ہمارا موضوع وہ نہیں ہے۔ یہ انقلاب گزشتہ چند سالوں میں آیا ہے۔ اب مظلوم انصاف کی دہائی عدالتوں کے بجائے فیس بک اور ٹویٹر پر دیتے ہیں۔ یہ نیا میڈیا کسی ایک ملک یا دو قوموں تک محدود نہیں ہے۔ یہ مذہب، قانون، قوم، رنگ، نسل، زبان کی تفریق سے آزاد پلیٹ فارم ہے۔ یہ کتھارسس اور کری ایٹوٹی کا میدان ہے۔ جس کے دل میں جو ہے، بے جھجک بول ڈالے۔

پر ہم ذرا وکھری سٹائل کے لوگ ہیں۔ ہمیں ہر نئی چیز شروع شروع میں بدعت اور صہیونی سازش لگتی ہے۔ گو بعد میں ہم انہی لاؤڈ سپیکروں سے اہل علاقہ کے سکون میں خلل ڈالتے پائے جاتے ہیں۔ کیمرہ آیا تو فوٹو حرام قرار پایا اورپھر ہم بچوں کو یہ بھی پڑھاتے پائے گئے کہ ’سب سے پہلا پن ہول (Pin Hole) کیمرہ ابن الہیثم کی ایجاد تھا۔ ہم ٹیکنالوجی کی غلطیوں کو درست نہیں کرتے بلکہ ان سے دوسروں کو بدظن کرنے کا کام لیتے ہیں۔ کچھ اہل علم ان ساری ایجادات کا ‘سرغنہ’ صدیوں پہلے دار فانی سے کوچ کرنے والے مسلم سائنسدانوں کو ٹھہرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس سے بات نہ بنے تو ‘آزمودہ ٹوٹکا’ مغرب کی فحاشی پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اور پھر کسی کی کیا مجال کہ ان کی ‘اطلاعات’ سے روگردانی کر سکے۔

’کیا زمانہ آ گیا ہے‘ بزرگ نسل کا ٹریڈ مارک جملہ ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیلی فون، موبائل، کمپیوٹر، انٹرنیٹ کسی بھی چیز پہ بحث ہو تو حتمی جملہ یہی ہو گا۔ جو کہ سند رہتا ہے اور بوقت ضرورت کام آتا ہے۔ میں نے اس صورتحال سے تنگ آ کر پروفیسر سے پوچھا کہ ’آخر یہ بزرگ چاہتے کیا ہیں؟‘ سگریٹ سلگاتے ہوئے بولا ’بس ہارنا نہیں چاہتے‘۔ ”مذاق اپنی جگہ پر آخر مسئلہ ہے کیا؟“ میں نے پوچھا۔ کہنے لگا کہ ”محرومی بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے بزرگ جن آسائشوں کو حاصل نہیں کر پائے اب ہمیں ان میں مبتلا دیکھا نہیں جاتا ان سے“ ۔

ہمارے ایک استاد تو اس بات پر بھڑک گئے کہ ’عروض ڈاٹ کام‘ نامی ویب سائٹ اب لوگوں کو عروض سکھائے گی۔ کہا کہ ”حضرت! یہ تو اچھی بات ہے کہ اب عام لوگوں تک علم پہنچ رہا ہے“۔ بولے؛ ”ویب سائٹ کی کیا گارنٹی ہے کہ صحیح علم دے گی؟“۔ عرض کیا کہ ”گارنٹی تو کسی انسان کی بھی نہیں“۔ بولے؛ ”ہم نے استادوں کی مارکھا کھا کر دہائیوں میں جو علم حاصل کیا ہے اسے اس طرح کھلے عام بیان کر دینا کہاں کا انصاف ہے“۔ کہا کہ ”علم پھیلا دینے سے بڑا انصاف کیا ہوگا؟“ ہفتوں ناراض رہے کہ تو اب استادوں کو جواب دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •