خچر۔ ایک ہائبرڈ جانور


لغت میں لفظ ہائبرڈ کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ہائبرڈ دو مختلف قسم کے جانوروں یا پودوں کے ملاپ سے پیدا ہونے والے جاندار کو کہتے ہیں۔ اس کا ماخذ ہائبریڈا نامی لفظ مانا جاتا ہے جس کا پہلا مطلب ہم نہیں بتاتے کہ منہ ناپاک ہو جائے گا، ہاں دوسرا مطلب ایک آزاد آدمی کی ایک لونڈی سے اولاد ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ دو نسلا یا دوغلا کیا جاتا ہے۔

دنیا میں کئی مختلف دوغلے جانور پیدا کیے گئے ہیں مگر سب سے زیادہ کارآمد خچر کو مانا جاتا ہے۔ موٹر گاڑیوں کی عدم موجودگی میں عام سول ورک میں تو اسے مفید سمجھا ہی جاتا ہے لیکن فوج میں بالخصوص اس کی بہت عزت کی جاتی ہے۔ جہاں سڑکیں ہوں وہاں تو جیپیں ٹرک وغیرہ چلے جاتے ہیں مگر پہاڑی علاقوں میں جہاں سڑک تک نہ ہو، ہیلی کاپٹر یا خچر ہی کام آتے ہیں۔

خچر کا نانکا، یعنی گھوڑے ویسے تو زیادہ طاقتور ہوتے ہیں مگر درمیان میں کبھی کبھار وہ اپنا دماغ استعمال کر لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے فوج میں مشکل مہمات کے لیے انہیں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ دوسری طرف اس کا دادکا ہے۔ ادھر مسئلہ زیادہ سنگین ہے کہ گدھے اکثر اپنا دماغ استعمال کر لیتے ہیں جس کے نتائج نسبتاً زیادہ خطرناک نکلتے ہیں۔ ویسے بھی وہ زیادہ اڑیل اور خر دماغ ہوتے ہیں، جس چیز پر جم جائیں اس سے نہیں ہلتے۔ جبکہ خچر نہایت صابر شاکر ہوتا ہے اور اپنا نفس مار کر بھی وہ سب کچھ کرنے کے لیے راضی ہو جاتا ہے جس کا اسے حکم دیا جائے۔ وہ کبھی اپنا دماغ استعمال نہیں کرتا ہے۔ جو کمانڈ ملتی ہے، اس پر جی جان سے عمل کرتا ہے۔ نہ اچھا سوچنے کے لیے رکتا ہے نہ برا بس کر گزرتا ہے۔ اور حکم ملے تو اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ بوجھ اٹھا لیتا ہے۔

گدھے یا گھوڑے کے مقابلے میں خچر زیادہ وزن اٹھاتا ہے۔ علاقہ جیسا بھی الٹا سیدھا یا خطرناک ہو، معرکہ کیسا ہی گھمسان کا کیوں نہ ہو، خچر نہایت ثابت قدم رہتا ہے۔ اسی وجہ سے اونچ نیچ والے علاقوں میں فوج اسے اس کے والد اور والدہ پر ترجیح دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ افغان سوویت جنگ کے دوران اس نے اپنا لوہا خوب منوایا۔ اس جنگ میں ایک طرف کے لڑاکوں کے پاس جدید بکتر بند گاڑیاں، ٹینک اور گن شپ ہیلی کاپٹر تھے اور دوسری طرف انحصار گدھوں اور خچروں پر۔ تاریخ شاہد ہے کہ آہن اور پوست کے اس معرکے میں خچر فاتح رہے۔

اس سے پہلے تاج برطانیہ کی فوج نے قبائلی علاقوں میں بھی خچر کو ہی ایک اہم ذریعہ تسلیم کیا۔ خچر کا کردار اتنا بڑا تھا کہ کرنل محمد خان نے اپنی اہم کتاب ”بجنگ آمد“ میں خاص طور پر اس کا ذکر کیا۔ قبائلی علاقوں میں جنگ کا حال بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں ”ایک شام ہمارا ایک خوش مزاج اور کہنہ مشق خچر راہی ملک عدم ہو گیا اور ہمارے سیکشن میں غم کی لہر دوڑ گئی کیونکہ بقول نائیک حیات محمد، آنجہانی کا فیلڈ کرافٹ کا علم اس قدر پختہ تھا کہ اس کا ایک قبائلی کی گولی کی زد میں آنا باور نہ آتا تھا“ ۔ بہرحال تمام خچروں کا فیلڈ کرافٹ کا علم اس قدر پختہ نہیں ہوتا۔ کئی خچروں کے سر دوسروں کا کیا دھرا پڑ جاتا ہے اور زد میں وہ آ جاتے ہیں۔

خچر میں گھوڑے اور گدھے سے بڑھ کر اضافی صفات بھی ہوتی ہیں۔ گدھے اور گھوڑے اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر عشق معشوقی وغیرہ کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔ خچر کا فلسفہ زندگی یہ ہوتا ہے کہ عشق نکمے لوگوں کا کام ہے۔ بہرحال یہ فلسفیانہ بحث ہے ہم اس میں نہیں پڑتے کیونکہ گدھے گھوڑے اسے یہ جواب دیتے ہیں کہ برخوردار عشق ناکارہ لوگوں کا کام نہیں ہے، بندہ باصلاحیت ہو تو پھر ہی عشق کا فائدہ ہے، ورنہ کار زیاں ہے، حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا اور بندہ اپنی ناکامی کا الزام دوسروں کو دے کر خفت مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1503 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar