میں ایک معروف شاعر ہوں۔ کیوں اور کیسے؟
میں ایک معروف شاعر ہوں۔ خوش نصیب ہوں کہ میرے اتنے چاہنے والے ہیں۔ میری نظموں نے فیس بک پر دھوم دھام مچائی ہوئی ہے۔ فالورز میں کوئی ہزار وں لوگ ہیں۔ اور مجھے ہر روز نئی فرینڈز ریکویسٹ آتی رہتی ہیں اور میں کسی کا دل نہیں توڑنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ سب ہی میرے فینز ہیں اور میرے لیے اہم بھی۔ میں ایک ایک کو ذاتی طور پر اپنی نظمیں بھیجتا ہوں۔ سب ہی لایئک کرتے ہیں۔ تو ہوئی نا دھوم اور دھام بھی؟
میں چونکہ کچھ بولڈ لہجے میں بات کرتا ہوں اس لیے میرے چاہنے والوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انداز وہی بھلا جو دل کو لگے۔ سہاگن وہی جو پیا من بھائے۔ مجھ سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ میری مقبولیت کا راز کیا ہے اور ایک کامیاب اور ہر دلعزیز شاعر کیسے بنا جا سکتا ہے۔ میں کوشش کر کے آپ کے اس انتہائی اہم سوال کا جواب دوں گا۔
سب سے پہلے تو عنوان پر دھیان دیجیئے۔ عنوان ” کیچی” قسم کا ہونا چاہیئے تاکہ پہلی نظر ڈالنے والا پورا پڑھنے کو مچل جائے۔ آپ میری نظموں کے عنوانات پر نگاہ ڈالیئے۔۔۔ لپ اسٹک اور واکنگ اسٹک، کافی کے مگ میں سونامی، چہرے کی سلوٹیں اور محبت کی استری، رکشہ اور کے ٹو، محبوب کا محبوب میرا بھی محبوب، اپنی اپنی بے وفائی، سورج زمین پر لے آو۔ وغیرہ۔ ہیں نا جدید اور دبنگ؟
اب آتے ہیں موضوع کی جانب۔ دیکھیئے لوگ وہی سننا چاہتے ہیں جو وہ خود کہہ نہیں سکتے۔ یہ بندشوں میں جکڑے، گھٹن کے مارے لوگ خود کھل کر نہیں بول سکتے اس لیے آپ کو ان کی آواز بننا ہے۔ یہ ایک طرح کا جہاد ہے۔ اسے آپ ادبی جہاد کہہ لیں۔ جب آپ عنوان بنا لیں تو نظم لکھنا شروع کریں۔ نیا طریق کار یہی ہے۔ نہ کہ پہلے نظم بعد میں عنوان۔ میں روایات کا باغی ہوں۔ یہاں پھر میں اپنی ہی نظموں کی مثال دوں گا۔ لپ اسٹک اور واکنگ اسٹک۔ یہ نطم ایک نوجوان لڑکی اور ایک بڑے میاں پر کہی گئی ہے۔ لڑکی شوخ و چنچل ہے۔ لپ اسٹک کا رنگ گہرا ہے۔ پارک کی ایک بینچ پر اکیلی بیٹھی تھی۔ ایک صاحب لاٹھی ٹیکتے ہوئے آتے ہیں اور میٹھی مدھر باتوں کا جادو چلاتے ہیں۔ جادو چل گیا۔ بڑے میاں لڑکی کے کاندھے پر ہاتھ رکھے نکل گئے۔ اب انہیں لاٹھی کی حاجت نہیں رہی۔ لپ اسٹک والی اب واکنگ اسٹک بن جاتی ہے۔
دوسری نظم۔ کافی کے مگ میں سونامی۔ چائے کو چھوڑیئے اب کافی ان ہے اور ویسے بھی سونامی کا دور ہے۔ اور یہ تو ہوتا رہتا ہے لوگ ذرا سی بات پر ہنگامہ بپا کر تے ہیں۔ ہنگامہ ہونے دیں۔ اسی سے رونق میلا ہے اور آپ کی شہرت بھی۔ اور میری وہ نظم رکشہ اور کے۔ ٹو، یہ پہاڑ کے ٹو کی بات نہیں یہ سگریٹ کے ٹو کی بات ہو رہی ہے جو رکشہ والا پیتا ہے۔ اسی طرح اپنی اپنی بے وفائی۔۔۔ بھئی اب آگے چلیے۔ کب تک وفاداری میں بندھے رہیں گے۔ چھوٹے موٹے افیئرز چلاتے رہیے۔ زندگی کو چلنے کے لیے ایندھن ملتے رہنا چاہیئے۔ یقین جانیے، یہ بات بہت سارے لوگوں کو چونکا دے گی اور یہی آپ کا ہدف ہونا چاہیئے۔ چونکا دینا۔
اب بات کرتے ہیں انداز کی۔ جناب زمانہ بدل گیا ہے۔ نئے انداز اپنانے ہوں گے۔ وہ انقلابی باتیں وہ جوشیلے نعرے پرانے ہتھکنڈے ہیں۔ میں نہیں مانتا، تاریک راتوں میں مارے گئے، غلامو بھاگ جاو وغیرہ جیسےنعروں کا اب فیشن نہیں۔ پرانے شعرا کی طرح اشاروں کنایوں میں بھی دل کی بات کہنے کا انداز آوٹ آف ڈیٹ بات ہو چکی ہے۔ غنچہ نا شگفتہ کو دور سے مت دکھا، بیمار ہوئے جس کے لیے، تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں، شبان ہجراں چوں دراز زلف، چلمن سے لگے بیٹھے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ پاپولر ہونا چاہتے ہیں تو انہیں جانے دیں۔ سیدھی بات کیجیے۔ بغیر لگی لپٹی کے۔ دل سے جو بات نکلے گی اثر کرے گی۔ دل کھول کر لکھیے۔
اب آپ نے عنوان بھی منتخب کر لیا اور نظم بھی کہہ ڈالی۔ غزل کی طرف ابھی مت جایئے گا۔ غزل میں بندشیں بہت ہیں اور میں ذاتی طور ہر بندشوں کے سخت خلاف ہوں۔ غزل میں ردیف، قافیہ، بحر اور وزن کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ویسے تو ویٹ کانشیس ہوںا چاہیئے لیکن شاعری میں مجھے وزن سے چڑ ہے۔ آزاد نظم میرے مزاج سے مطابقت رکھی ہے۔ آزادی نعمت ہے اور جب میسر بھی ہے تو کیوں بندشوں میں جائیں؟
ہاں ایک بات کو دھیان میں رکھیں کہ کبھی کبھی تحریر میں کچھ نہ کچھ ادبیت ڈال دیجیے۔ یہ ضروری ہے اور ہونی چاہیئے۔ ورنہ تحریر سطحی قرار دے دی جائے گی۔ نقاد بہت بیٹھے ہیں آس پاس۔ اب جیسے میری نظم رکشہ اور کے ٹو ہے۔۔۔ ذرا سنیئے گا۔
"اس نے ماچس کی تیلی سے منہ میں دبایا کے ٹو سلگایا
اور کھانستے ہوئے رکشہ کو ایڑ لگائی۔
رکشہ بھی جواب میں کھانسا لیکن چل پڑا۔۔۔۔ کھڑ کھڑ کھڑ”
دیکھیئے یہاں ایڑ لگانا ادبیت ہے۔ رکشہ کوئی گھوڑا تو نہیں ہے نا؟ اسٹارٹ کرنے کے بجائے ایڑ لگانے سے نظم میں ادبیت آ گئی۔ اور یہ کھڑ کھڑ اس میں موسیقیت پیدا کر رہی ہے۔ آپ بھی ایسے تجربات کریں۔
اسی نظم کا اگلا حصہ
"کے ٹو اور رکشہ کا دھواں مل کر
مرغولے بناتے اور گھل مل جاتے
دونوں ایک ہو گئے۔ "
ہے نا کمال کی بات؟ کس خوبصورتی سے دونوں کے ایک ہونے کی بات کی؟ اسے استعارہ کہتے ہیں۔ لیکن ابھی آپ کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔
اسی طرح اپنی اپنی بےوفائی۔۔۔ نظم لمبی ہے بس آخری سطریں یہ ہیں۔ عرض کیا ہے
"وہ آج خوشبو لگا کر گئی ہے
میں جانتا ہوں کہاں گئی ہو گی
اسی کیفے میں گئی ہو گی جہاں کل میں گیا تھا
خوشبو لگا کر”
بات سمجھ میں آگئی نا؟ بھئی اب اگر شاعری کی وضاحت بھی کرنی پڑے تو بہتر ہے آپ نثر پڑھیں۔
اچھا چلیے جناب عنوان بھی ہو گیا اور آپ نے نظم بھی لکھ لی اب آپ اسے سنانے کو بے تاب ہیں۔ دیکھیئے جناب اب مشاعرے وغیرہ تو ہوتے نہیں۔ وہ دن لد گئے جب فرش پر چاندنی بچھی ہوتی تھی اور شعرا حضرات آلتی پالتی مارے یا گاؤ تکیوں سے ٹیک لگا کر بیٹھتے اور شمع محفل ایک ایک کے سامنے سرکتی جاتی۔ ہر شاعر اپنے ساتھ پانچ چھے بندے لاتا تھا جو اس کے ہر شعر پر واہ واہ کریں اور مکرر مکرر کی صدایں لگائیں۔ اب وقت بدل گیا ہے۔ یہ ڈیجیٹل کا دور ہے، ویڈوز اپ لوڈ کیجیے۔ یہ جو آپ نے فیس بک فرینڈز کا انبار لگا رکھا ہے کس دن کام آئے گا؟ ایک ایک کو ٹیگ کر کے بھیجیے۔ پانچ سو میں سے بیس نے بھی لائک کر دیا تو محنت وصول۔ بس ایک بار آپ کا نام ہو جائے پھر آپ کی ہر تحریر پر واہ واہ ہو گی۔ پھر آپ ایسا کریں کہ بس لکھتے جائیں۔ اگر کچھ نیا نہیں اتر رہا تو پرانے کو ہی دھو دھا کے کلف لگا کر استری کر دیں۔۔۔ بالکل نیا جیسا لگے گا۔ میری نظم محبت کی استری اسی موضوع پر ہے۔ اس کی آخری لائنیں
"پڑی ہیں سلوٹیں کتنی انہیں کیسے نکالوں
کوئی محبت کی استری لا کر دے مجھے
کہ پرانے کو پھر نیا کر سکوں میں۔ "
کبھی کبھار تھوڑی بہت جنس بھی ڈال دیں شاعری میں۔ نئی نسل کھینچی چلی آئے گی۔ بلکہ آپ سے مشورے بھی مانگے جائیں گے۔ اور آپ شاعر کے ساتھ ساتھ استاد بھی بن جائیں گے۔
جب آپ تھوڑے تھوڑے سے مشہور ہو جائیں تو ایک ذرا سی الجھن والی شاعری کرنے لگیں۔ یوں لگے جیسے کسی گتھی کو سلجھا رہے ہیں۔ گنجلک قسم کی تحریر کا رعب پڑتا ہے اور لوگ آپ کو خواہ مخواہ کوئی فلسفی سمجھنے لگتے ہیں۔ کسی تحریر میں سقراط، ارسطو، کو ڈال دیں۔ لوگ مرعوب نہ ہوں تو نام بدل دیں۔ (میرا نہیں، فلسفیوں کا) میری یہ نظم اپنی مثال آپ ہے۔
” وہ رات بھر ستاروں کو کھوجتا رہا اور سوچتا رہا
کیا زمیں ساکت ہے؟ کیا سورج گھومتا ہے؟
شاہ وقت سے بولا
آپ نے میرے سورج کی روشنی روک رکھی ہے
پیالہ پی چکا جب وہ
تو ہنستا ہوا سر دار چلا”
آپ خود ہی دیکھ لیجیئے کتنے فلسفیوں کو میں نے ایک جگہ جمع کردیا۔ یہ کمال سے بھی اوپر کی چیز ہے؟ جیسے کوئی کوک ٹیل۔۔۔ نشہ بڑھتا ہے اس طرح۔
اگر کہیں بھولے بھٹکے آپ کو مشاعرے یا محفل وغیرہ میں بلا لیا جائے تو وہاں ایسی چیز سنائیں جو کسی کی سمجھ میں نہ آسکے۔ موٹے موٹے ثقیل الفاظ بھی کہیں کہیں فٹ کر دیں۔ یہ فن آپ کو آنا چاہیے۔ جیسے میری یہ نظم۔
یہ ستاروں کا اژدھام
میرے دیدہ تر میں اشک کا بحر بے کراں
سوختہ تن، سوختہ جاں لے کر کہاں جاوں
منگتے کی قبا اوڑھ کر
کہیں ہجرت نہ کر جاوں۔
کسی عافیت کی سر زمیں
کوئی کوزہ گر ملے کہیں
کوئی جام لا کر دے مجھے
العطش العطش
باقی آپ سننے والوں کی دانائی پر چھوڑ دیں۔ میں شرطیہ کہتا ہوں کہ کوئی آپ کو چیلنج نہیں کرے گا اور سارے دانشور اپنے اپنے طور پر آپ کی اس جدید نظم کے معنی نکال لیں گے۔ واہ واہ الگ ہو گی۔
ایک سوال جو مجھ سے اکثر کیا جاتا ہے کہ میں کیسے اتنا اچھا لکھ لیتا ہوں۔ تو صاحبان بات سچی یہ ہے کہ مجھ پر یہ سب اترتا ہے۔ غیب سے یہ مضامین آتے ہیں۔ یوں آمد ہوتی ہے کہ میں بھی حیران رہ جاتا ہوں۔ قلم خود بخود دوڑنے لگتا ہے۔ ویسے معاف کیجیئے قلم کہ بات تو یونہی کہہ دی میں تو کمپیوٹر پر لکھتا ہوں۔ بس کی بورڈ پر انگلیاں چلتی چلی جاتیں ہیں۔ لیکن آپ دل چھوٹا مت کریں اپنی کوشش بھی جاری رکھیں۔ اگر کچھ بھی نہ بن پائے تو کسی اور زبان کی شاعری کا ترجمہ کر کے اردو کا لباس پہنا کر پیش کر دیجیئے۔ لیکن اس کے لیے آپ کو اور زبانیں آنی چاہیں۔
اور آخری بات دھیان سے سنیئے انکساری اپنایئے۔ سب کے آگے جھکے رہیے۔ دوسروں کی تعریف مبالغے کی حد تک کیجیے۔ جواب میں وہ سب آپ کے آگے بچھے چلے جائیں گے۔ آخر کو آپ کو سامعین اور قارئین درکار ہیں۔


