افسانہ: من کونج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں انتظار کی جیون بھومی سے تولد ہوا ایسا جرثومہ ہوں، مہک جس کی ممتا کسی گاوں کے قرطاس پہ معلق پگڈنڈی پہ آلتی پالتی مارے کسی گیان کو چھو لینے کی انتھک چاہ میں میرا راستہ تکتی ہے۔ گاوں جس کی نوخیز صبح کے مدہوش اور رت بیتی سے سرشار کانوں میں اب بھی کہیں کوئی جنتر اپنی محبتوں کے رس گھولتا ہے۔ اور جہاں مدھانیوں کی گھرکگوں گھرکگوں کی آوازیں کسی موذن کی صدا پہ وجد کے نقطہء عروج سے جمود اختیار کرتی ہیں۔ مہک میرا بچپن ابھی بھی وہیں کسی بیلنے پہ کڑاھا رکھے رس سے گڑ کشید کرتا ہے اور وہاں کوئی ناری ابھی بھی کہیں اپنی بے قابو ہوتی جوانی کا بھاڑ کندھوں پہ اٹھائے حسن کی تھکاوٹ سے چور جو کھیتوں میں انگڑائی لیتی ہوگی تو پنیری لگاتے دور تک پھیلے کھیتوں میں کسانوں کے جسم میں حیوانی جھرجھری آجاتی ہو گی ”۔

شہریار بول رہا تھا اور اس کے بولوں میں کوئی دیہاتی اپنی عزتوں کے بھرم رکھنے کی خاطر خوبصورت مناظر کو مخاطب کے شعور میں من چاہی صورت میں پینٹ کر تا جا رہا تھا۔

وہ آج بھی وہیں شہر سے باہر ویرانوں میں جہاں ٹریفک بہت کم کم تھی اور جہاں شام۔ شہریار کی گاڑی پہ اور درختوں پہ جو دور تک بچھی تارکول کی سڑک پہ وصل کی راحتوں کے گیت گنگناتے تھے۔ اور شاید شہریار کے بھیتر بھی اترتی چلی جاتی تھی گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگائے ایک دوسرے کو کھوجنے میں مشغول تھے۔ مگر آج شہریار کسی اور افق سے مہک کے فکر کے پانیوں پہ طلوع ہوا تھا اور وہ اسے اجنبی نظروں سے دیکھتی تھی۔ وہ اس شہریار سے واقف نہ تھی۔ سو اپنے اندر پہچان کے نا چار معیاروں کو نئے سرے سے کھوجتی تھی جو بشر کو خود فریبی میں مبتلا رکھتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔

”میں گو کہ بقا کے سوراخ سے نکل کر ست رنگا ہو گیا ہوں اور میرے وجود کے یک رنگی خدا نے کئی دائرے جنم دے لیے ہیں جن کا احاطہ کرتے میری سانس پھولنے لگی ہے مگر میں جانتا ہوں مہک مجھے بقا کے سوراخ سے واپس گزرنا ہی ہے کہ میرا اصل گاوں کے قرطاس پہ معلق پگڈنڈی پہ کسی گیان کی جستجو میں میری راہ تکتا ہے۔“

شہریار نے طویل سڑک کو تخیل کے پر اوڑھائے اسے ایک نقطے پہ مرکوز کر دیا تھا، جہاں سے تمام مسافتیں صفر ہوتی محسوس ہوتی تھیں۔ مگر مہک کہاں یہ باتیں سمجھتی تھی وہ تو بھنور میں ضم ہوئی ہوا تھی جس کی صبح مائیکل جیکسن اور ریحانہ کے گانوں پہ پاوں تھرکاتے شروع ہوتی اور سارا دن جس کی ڈری سہمی ادھ بجھی سی شہری جوانی خود کی لپک سے بھی بے نیاز مردوں کی رانوں سے رانیں ملائے خوش گپیوں میں مشغول رہتی اور شام کسی پریس کلب کے سامنے حقوق نسواں کے لیے بینرز اٹھائے نعرے لگانے میں ہلکان۔ تو وہ نہ جانتی تھی شہریار کس سمت سے طلوع ہوا ہے۔ مگر وہ یہ جانتی تھی ہجرت کے پنچھی چہچہانے لگے ہیں۔ تو وہ آنکھوں میں خوف سا لیے شہریار کو دیکھتی تھی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر روتی جاتی تھی مگر شہریار کو آج کا دن لانے میں کئی مہینوں کو بیتانہ پڑا تھا تو وہ بولتا جاتا تھا۔

آج کی صبح بھی پچھلی گزری کئی صبحوں کی طرح کسی طلوع کی نوید کے بغیر اتری تھی۔ سویر تو وہاں ہوتی ہے جہاں دل میں سکون کے بوٹے جڑیں گاڑے ہوا کے ایک جھونکے سے کھلکھلا سے جاتے ہیں اور جہاں ماضی کی پرچھائیوں میں وقت نوحہ کناں نہیں ہوتا۔ ہاں حال کرنے کے لیے ماضی کو بجھانا پڑتا ہے۔ اس لیے صبح طلوع نہیں ہوئی تھی۔ بیڈ پہ بے سدھ پڑا وہ سوچ میں تھا اور یہ سوچ کئی ماہ سے اس کے تعاقب میں تھی کہ دن کو رات کس طور کیا جائے۔

کیا ترکیب ڈھونڈی جائے کہ وقت پھر سے مصنوعی بے ساکھیاں اتار اپنے سہاروں پہ قدم اٹھانے لگے۔ دھوپ اس کی کھڑکی میں اسے اپنے شباب کا بہکاوہ دیتی تھی مگر یہ دھوپ وہ نہیں تھی جو اس شہر بے کراں سے بہت دور اس کے گاوں کی چھتوں پہ برہنہ اترتی تھی کہ اس کے وجود پہ دھول اور غبار کا کوئی لباس نہ ہوتا تھا۔ اور وہ اماں کے دیے کچولوں کو کٹورے میں لیے منڈیروں پہ اس سے بغل گیر ہوتا تھا تو اس کا خمار روح تک کو سرشار کر جاتا۔

منڈیروں پہ اس کو دیکھ ایک آدھ ققنس، ہما، کچھ کونجیں اور ڈھیر ساری رنگ برنگی چڑیاں اتر آتیں اور وہ ان کو کچولے ڈالتے رازدارانہ باتیں کرتا ان کو اپنی وفاداری کی یقین دہانی کراتا جاتا کہ وہ یوں ہی اس کی۔ شیرو کمہار کی منڈیروں سے تا عمر پیٹ بھر لوٹائی جائیں گی اور وہ ہمیشہ ان کا منتظر رہے گا تو وہ سب سلامتی کی دعائیں کرتے رخصت ہوتے تو شیرو کمہار کے گھر رزق کے تھال بھر بھر اتارے جاتے تھے۔ وہ اماں ابا کا واحد سپوت تھا۔

ابا چاک پہ مردہ برتنوں کی قسمت ترتیب دیتا تھا تو وہ خوب زور و شوق سے بجتے تھے۔ اس کے علاوہ اماں کی طرف سے دو کلا زمین تھی کہ اماں کھاتے پیتے جاٹوں کے قبیلے سے تھی اور ابا سے پسند کے عقد میں باندھی گئی تھی۔ ان زمینوں پہ جب شیرو کمہار ابا دینوں کمھار کے ساتھ سفید لباس پہنے نکلتا تو وہ پرندے اس کے تعاقب میں ہوتے۔ کھال کے پانیوں کو آغوش میں لیے شہتوت، جامن اور آم کے درختوں کو چمکارتے سراہتے اور پانیوں پہ بان کی چارپائی ڈالے اس کے پانیوں میں پاؤں لٹکائے کئی سال وقت کے گرداب میں الجھتے سلجھتے گزر گئے۔

مگر پھر اماں ابا کی ضد پہ وہ شہر آ گیا پڑھائی بھی ضروری تھی۔ مگر شہر کی زندگی کو زیست کرتے وہ اپنا اصل بھول گیا۔ نقل کو اوڑھنے کے لیے اصل کو چہرے سے ذرا سا کھرچنا ہی تو پڑا تھا پروا ہٹا کر بے پروائی کے نقش تراشنا اس قدر بھی مشکل نہ تھا کہ اصل تو پروا ہی پروا ہے۔ بشر پروا کا تبادلہ کرتا ہے تو زندگی مسکراتی ہے۔ اس نے بے پروائی کو اوڑھ لیا۔ اماں ابا کے کئی خط اسے پروا کے مدار میں نہ کھینچ سکے۔ ہاں وہ رخسار بھی تو تھی جو گنے کے کمادوں سے یک دم بر آمد ہو اس کا راستہ روک لیتی تھی اور وہ اس کی کلائی مروڑ جب اس کو اپنے سے قریب تر کر لیتا تو سانسیں الجھنے لگتی تھیں۔ ادھر ادھر دیکھ وہ بے شرمی سے اس کے گال پہ ایک گیلا بوسہ ثبت کرتی کلائی چھڑوا بھاگ جاتی تھی، تو دور تک اس کی ہنسی کی جل ترنگ بجتی رہتی۔

وہ اماں کی پکی سکھی خیراں کی جائی تھی۔ ایسا سرو قد بھرا بھرا جسم، گورے رنگ پہ یہ کٹورا آنکھیں۔ نا جانے اس کی قمیضیں چاکوں سے اٹھ کیوں جاتی تھیں اور وہ منظر جب گورا جسم جھلک دکھا تا چھپتا تھا شیرو کمھار پہ عذاب لاتا تھا۔ کوئی بھی شے اسے پروا نہ دلا سکی۔ پڑھائی کے بعد کئی سال اس نے دفتری فائلوں پہ بازو پسارے جھکے گزار دیے اور ان فائلوں پہ منظوری کی مہر لگوانے کے لیے مہک اس کا سہارا بنتی رہی جو اس کے باس کی بیٹی تھی۔ انگلینڈ سے بزنس کی ڈگری لیے اب وہ اپنے باپ کے ساتھ بزنس سنبھال رہی تھی۔

پہلی نظر کی محبت نے پھر کئی نظروں کے تبادلے کیے ۔ وہ پارکوں، ہوٹلوں اور کلبوں میں ملتے رہے اور ہنستے رہے مگر ہر بار شہریار کو کچھ زور لگا کر ہنسنا پڑتا کہ وہ کونجوں کی قطار سے بچھڑی ایک تنہا کونج تھی اور منڈیروں پہ کچولوں سے مایوس سی ہوئی اب سہل سہل سانس لیتی تھی۔ رخسار کی شادی ہو گئی ابا کو دمے کا نقص تھا اور اماں کم بینائی میں اس کا راہ تکتی تھی یہ تمام معلومات ابا کے لکھے خطوط سے اسے کچھ سال پیشتر تک ملتی رہی تھیں مگر پروا نہ رہی تھی تو ابا کے خط آنا بھی بند ہو گئے۔

وقت نے کئی سالوں کی دوڑ کو صفر سے ضرب دیتے اسے خود فریبی میں مبتلا رکھا کہ وہ آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا ہے مگر ہر بار وہ خود کو آغاز پہ کھڑا مل جاتا۔ پھر کچھ ماہ پہلے ایک عجیب واقعہ ہوا مہک شادی سے پہلے شہریار کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت بِتانا چاہتی تھی تو شہریار اکثر اسے لیے شہر سے باہر شور شرابے سے دور لے آتا جہاں وہ رات گئے تک گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگائے باتیں کرتے نہ تھکتے تھے۔ تو کچھ ماہ پہلے وہاں ایک عجیب واقعہ ہوا باتیں کرتے شہریار نے دیکھا کے آسمان سے کچھ کونجیں اتری ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سڑک پہ لوٹنے لگی ہیں۔ مہک نے کہا تھا کہ شاید خوراک نہ ملنے کی صورت میں وہ نڈھال سی گر گئی ہیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ کونجیں شہریار کے سامنے مر گئیں اور وہ ان کو سینے سے لگائے روتا تھا۔ ٹریفک گو کم تھی مگر جو بھی گزرتا شہریار کو عجیب نظروں سے گھورتا جاتا تھا۔ مگر شہریار کو اردگرد کی ہوش ہی کب تھی۔ مہک بھی پریشان سی اسے تکتی تھی مگر کچھ سمجھنے سے قاصر تھی۔ شہریار کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ خود کوئی کونج ہے اور اس کے پر اب پرواز سے انکاری ہیں دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی سڑک پہ لوٹنے لگا۔ اس دن کے بعد روز کچھ کونجیں شہریار کے تخیل کے منڈیروں پہ آکر مر جاتیں اور اس کو وہ منڈیریں یاد آتیں جہاں دھوپ برہنہ ہوئے اس سے بغل گیر ہوتی تھی۔

یہ کیفیت ایسی طاری ہوئی کہ اب شہریار کا کھانا پینا حرام ہو گیا اور وہ کئی ماہ سے بستر پہ لیٹا سوچتا رہتا کہ بھلا دن کو رات تک کس طور لے جایا جائے۔ وقت ابا کے چاک پہ پڑا اونگھ گیا تھا گزرتا نہ تھا کئی ماہ یونہی گزر گئے اور آج صبح جب دھوپ اس کی کھڑکی میں شرمندہ سی کھڑی تھی تو تب ایک معصمم ارادے نے پر پھلائے اور وہ مہک کے سامنے خود کو آشکار کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ اس کو بقا کے سوراخ سے دوبارہ گزرنا ہے۔ مہک کے موسلا دھار آنسو شہریار کے پاوں کی زنجیر نہ بن سکے۔ اور شہریار بقا کے سوراخ سے واپس گزرنے کو تیار ہوگیا، اور اسی رات وہ سامان سفر باندھے گاؤں کو روانہ ہوا۔

ساری رات وصل کی آمد نے اس کو سرشار رکھے رواں دواں رکھا وہ سورج پھوٹنے سے پہلے گاؤں پہنچنا چاہتا تھا۔ کراچی سے ڈسکہ کے چھوٹے سے گاؤں تک پہنچنے میں خاصہ وقت درکار تھا مگر وہ پو پھوٹتے گاوں میں داخل ہو گیا تھا۔ مگر وہاں پہنچ کر وہ چونک سا گیا تھا وہاں تو منڈیریں ہی نہ رہی تھیں پکی سڑکوں پہ تعمیر سنگ مرمر سے آراستہ گھروں میں دھوپ شرمندہ سی دروازوں پہ دستک دیتی تھی اور دروازہ کوئی نہ کھولتا تھا۔ اماں ابا نے بھی زمین بیچ عالی شان سا گھر تعمیر کر رکھا تھا۔

اور کھال پہ جامن، امرود اور شہتوت کے درختوں پہ اب پھل نہ آتا تھا۔ گنے کے کھیت میں اس نے کچھ کونجیں مردہ دیکھی تھیں۔ ابا نے بتایا تیرے جاتے ہی گاؤں کے باقی بالے جوان بھی بقا کے سفر پہ نکل گئے اور کوئی واپس نہ آیا۔ ہاں پیسہ بہت آیا، جس نے یہ منڈیریں ڈھا دیں۔ شہریار اب گاوں کے کمرے میں عالی شان بیڈ پہ لیٹے دن کو رات کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے مگر وقت ابا کے چاک پہ پڑا کہیں اونگھ سا گیا ہے۔ چاک پہ اب سب برتن بد قسمتی کے نقش لئے تخلیق ہوتے ہیں۔

Latest posts by زویا حسن (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زویا حسن کی دیگر تحریریں