یکساں تعلیمی نصاب: مزید تعلیمی زوال کا نسخہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یکساں قومی نصاب کے متعلق کچھ دن سے میڈیا پر بحث جاری ہے اور ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے ایک آرٹیکل پر، جو ڈان اخبار میں چھپا، بڑی لے دے ہو رہی ہے۔ حالانکہ وہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ یکساں قومی نصاب کے ہرگز خلاف نہیں کیوں کہ ہمارے ملک میں طبقاتی فرق ہی مختلف نصاب سکول اور طریقہ تدریس کی وجہ ہے۔

میں عرصہ اٹھارہ سال سے کیمبرج انٹرنیشنل سکول سسٹم میں پڑھا رہی ہوں اور ملک میں چلنے والے بڑے سکول سسٹم میں پڑھانے کا تجربہ رکھتی ہوں اس لئے میں دونوں طریقہ ہائے تعلیم کو دیکھ کر یہ کہنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتی کہ ہمارا میٹرک اور ایف ایس سی کے نظام کو کسی طور معیاری نہیں کہا جاسکتا۔ نصاب اور طریقہ تدریس وتعلیم میں دنیا کے کسی نظام تعلیم کا مقابلہ اور موازنہ تو دور کی بات ہے، میں یہ مضمون پڑھنے والوں سے گزارش کروں گی کہ اسے پڑھ کر ٹھنڈے دل سے سوچیں اور سب مل کر کسی مناسب حل کی طرف چلیں تو کوئی صحیح راستہ متعین ہو گا، ورنہ اگر ہم سب ایک دوسرے پر اعتراضات اٹھاتے رہے تو مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔

یہ دور اور آنے والا دور ہم سب جانتے ہیں کہ تیز رفتار ترقی کا ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنی نئی نسل کی تعلیم وتربیت پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی ورنہ صورت حال تکلیف دہ ہو گی۔

نصاب کے بارے میں بات کریں تو ہر خاص و عام اس بات سے واقف ہے کہ ہمارے یہاں مختلف نصاب پڑھائے جا رہے ہیں مدارس اور سرکاری سکولوں کے ساتھ ساتھ تیسرا بڑا حلقہ ہے، مقامی پرائیویٹ سیکٹر۔ حکومت اگرچہ بڑے شہروں کی سطح پر اقدامات کرتی ہے کہ سکولوں کا معیار بہتر کرے مگر چھوٹے شہروں قصبوں اور دیہاتوں میں صورت حال انتہائی خستہ ہے۔ اب آئیں بڑے سکول سسٹمز کی طرف جن کی فیسیں بلاشبہ بہت زیادہ ہیں مگر حقیقت ہے کہ صحیح تعلیم بھی یہی ادارے دے رہے ہیں لیکن کیوں کہ پرائیویٹ ہیں اس لیے فیس وصول کرنا اپنا جائز حق سمجھتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں بہترین اساتذہ مقرر کیے جاتے ہیں وسائل عمدہ ہیں پھر ان اداروں میں طلبا کی گرومنگ پر بہت توجہ دی جاتی ہے، جبکہ سرکاری سکولوں میں طلباء کو اس طرح تربیت نہیں دی جاتی کہ وہ اعتماد سے سر اٹھا کر استاد سے سوال کر سکیں انہیں ایک متعین نصاب اور طریقہ کار دے دیا جاتا ہے، اسے رٹا لگا کر یاد کریں اور بس ہو گئی تعلیم۔

او لیول اور اے لیول میں طلبا کی شخصیت کو نکھارنے پر بہت زور دیا جاتا ہے اس کے لیے انہیں مختلف سرگرمیاں کروائی جاتی ہیں پروجیکٹس کروائے جاتے ہیں اور ان میں ہر طالب علم کی شرکت ضروری ہوتی ہے۔ اس لئے یہ طلبا نہایت پراعتماد ہوتے ہیں اس کے مقابلے میں اگر ہم بورڈ میں پوزیشن لینے والے طلبا کو دیکھیں تو وہ اس اعتماد کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔

تیسرا نظام مقامی پرائیویٹ سیکٹر ہے جس نے اپنی جڑیں اس طرح پھیلائی ہیں کہ پورے معاشرے کو بری طرح جکڑ لیا ہے۔ یہ مافیا نہایت منظم طریقے سے کام کرتا ہے جس میں بورڈ میں نمبر لگوانا سب سے اہم اور یہ بات یہ لوگ بڑے فخر سے اپنے سکولوں میں کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے طلبا کے اتنے نمبر لگوائے ہیں اور بڑے دکھ سے کہنا چاہوں گی کہ ممتحن جو سرکاری سکول ٹیچر ہوتے ہیں جس قیمت پر نمبر لگاتے ہیں، سن کر ہر استاد کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

ان سکولوں نے پڑھائی کے نام پر سکولوں کے اوقات بہت بڑھا رکھے ہیں۔ کتابوں اور کاپیوں کے انبار طلبا پر لاد دیے ہیں، جن میں سے کئی کتابیں تو پورا سال کھول کر بھی نہیں دیکھی جاتیں۔ ایک نوٹ بک جو بازار میں پچاس روپے کی ہے سکول مونوگرام کے ساتھ دو سو کی ہو جاتی ہے۔ ان کو روکنے کی جرات کسی میں نہیں کیوں کہ ان کے اصل مالکان ملکی انتظامی سیٹوں پر بیٹھے ہیں۔ ان میں سے اکثر سکول چھوٹی چھوٹی عمارتوں میں کھولے گئے ہیں، جہاں کھیل کے میدان تو کیا صاف پانی اور ہوا بھی میسر نہیں۔ جس سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت خراب ہو رہی ہے۔

میرے کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ یا طلبا محنت نہیں کرتے۔ اساتذہ کیا کریں جب ایک ایک کلاس روم میں اسی یا نوے بچے موجود ہوں اور کلاس میں صرف دو چار پنکھے ہوں، تو ہمارے جیسے گرم ملک میں صورت حال یقیناً تکلیف دہ ہوتی ہے۔ پرائیویٹ سکول سسٹمز نے تو اساتذہ کا جو حشر کر رکھا ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔

بڑے سکولوں مثلاً ایچی سن، بیکن ہاوس، دی سٹی سکول اور اس طرح کے اور ادارے حکومت کی اجازت سے ملک میں چل رہے ہیں، جہاں طلبا کی بڑی تعداد موجود ہے اور یہاں معیاری تعلیم بھی دی جاتی ہے مگر یہاں سے طلبا جب اے لیول کرکے نکلتے ہیں تو انہیں پہلا دھچکا equivalence کی شکل میں لگتا ہے، جس میں ان کے دس فیصد نمبر کاٹ لیے جاتے ہیں دوسرا دھچکا مختلف یونیورسٹیوں کے داخلہ ٹیسٹ جو ایف ایس سی کے مطابق بنائے جاتے ہیں، جن میں سب سے بڑا امتحان MDCAT ہے اے لیول کے امتحانات جون کے آخر میں ختم ہوتے ہیں۔ یہ امتحان اب تک اگست کے آخری ہفتے میں ہوتے رہے ہیں اور نصاب سارا ایف ایس سی کا ہوتا ہے۔ ان طلبا کو تیاری کے لیے بمشکل ڈیڑھ ماہ ملتا ہے، جس میں انہیں اپنے ٹریک سے مکمل اترنا پڑتا ہے۔

امتحانات کا طریقہ کار بورڈز کا تو نرالا ہے ہی ان امتحانات کی تیاری بھی طرفہ تماشا ہے۔ میری بیٹی جو میڈیکل کی طالبہ ہے، جب تیاری کر رہی تھی تو ایک دن کہنے لگی اماں یہ کیسا سوال ہے بلب کس نے کس سن میں ایجاد کیا؟ کیوں کہ لیول میں اس طرح کے سوالات نہیں ہوتے۔

کیا فرق پڑتا ہے بلب کس نے کب ایجاد کیا۔ بلب تو ایجاد ہو چکا۔ لیول کے طالب علم جب الیکٹریسٹی یا بلب کے بارے میں پڑھتے ہیں تو کلاس میں اس کا سسٹم پڑھایا جائے گا اور استاد کلاس کی تعداد کے مطابق کچھ گروپ بنوا کر انہیں پروجیکٹ دے دے گا، جس میں وہ عملی طور پر اس سسٹم کو کر کے کلاس میں پیش کریں گے، خواہ وہ تاریں جوڑیں بیٹریاں استعمال کریں اور بلب کے سسٹم میں مزید بہتری لانے کے اقدامات کریں۔ جبکہ میٹرک ایف ایس سی کے پریکٹیکل کی تیار کاپیاں دکانوں پر بکتی ہیں۔ دوسری چیز مشقی سوالات ہیں کتاب کے آخر میں مشقی سوالات دیے جاتے ہیں اور ان کے جواب رٹوا دیے جاتے ہیں۔ لیول میں سوال طالب علم کے ذہن میں اٹھایا جاتا ہے۔ کمرائے جماعت میں استاد جب پڑھاتا ہے تو اسے اپنا لیکچر ایسے تیار کرنا ہے جس سے طلبا کے ذہن میں سوال پیدا ہوں اور وہ ان کے جوابات تلاش کریں۔

او اور اے لیول میں امتحانات کا طریقہ کار بہت جامع ہے یہ طلبا کی ذہانت کا امتحان ہے۔ جبکہ میٹرک ایف ایس سی یادداشت کا۔ انسانی دماغ ایک وقت میں کتنی چیزیں یاد رکھ سکتاہے۔ اے لیول میں تو اردو کی کتاب بھی کمرہ امتحان میں لے جانے کی اجازت ہوتی ہے تاکہ طلبا حوالہ دیکھ سکیں، جبکہ ہمارے یہاں طلبا رٹے لگا کر چیزوں کو یادداشت کا حصہ بناتے ہیں۔ ان کی ذہانت کو چیک نہیں کیا جاتا۔ جب سے مقامی پرائیویٹ سیکٹر آیا ہے، میرٹ کا جنازہ نکل گیا ہے۔ یہاں طلبا 1100 میں سے 1099 نمبر لیتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے۔ لیول میں امتحانات میں Threshold نکالی جاتی ہے۔ کیوں کہ ہر طالب علم کا ذہنی معیار ایک سا نہیں ہوتا۔

ہماری نمبروں کی دوڑ دیکھیں تو لگتا ہے ہر کوئی آئن سٹائن ہے۔ اگر ہم اتنے ذہین ہیں تو ہمیں تو مریخ سے بھی آگے ہونا چاہیے۔ جبکہ سائنسی میدان میں ہماری حالت سب کے سامنے ہے۔

میرے یہ سب لکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ لیول کرنے والے سب بہت ذہین اور میٹرک والے نہیں ہیں، مگر ہمارے سسٹم میں ان سب کی ذہانت ضائع ہو رہی ہے۔ کیوں کہ یہاں طلبا کی کردار سازی پر توجہ نہیں دی جاتی۔ کردار سازی صرف نماز روزے کا نام نہیں اس کے لیے انسان کی پوری شخصیت کو۔ سنوارنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طالب علم آگے یونیورسٹیوں میں جا کر کوئی بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اے لیول کے طالب علم کو پڑھانا آسان کام نہیں وہ بڑے اعتماد سے استاد سے سوال کرتا ہے اور اس کا جامع جواب چاہتا ہے۔ اے لیول کے طالب علم کو پڑھانے کے لیے استاد کو خود پڑھنا پڑتا ہے۔ اگر ہم ایف ایس سی کے طالب علم کو اس طرح تیار کریں تو یقین کریں یونیورسٹیوں میں کوئی نام نہاد استاد مقرر نہ ہو سکے گا۔ اقربا پروری کا خاتمہ ہو گا اور میرٹ پر استاد مقرر کیے جائیں گے۔

حکومت اگر سنجیدگی سے کام لے کر اپنے نصاب کو جدید اور بین الاقوامی معیار پر ترتیب دے تو کوئی مشکل نہیں۔ ہمارے ملک میں بڑے سکول سسٹمز کے ساتھ جڑے ہزاروں اساتذہ موجود ہیں جو کیمبرج یا برٹش کاونسل سے تربیت یافتہ ہیں حکومت ان کی خدمات حاصل کر کے انہیں سکولوں میں مقرر کر سکتی ہے بطور پرنسپل ہیڈ ماسٹر ہیڈ مسٹریس اور کوآرڈینیٹر یہ لوگ اپنے اپنے سکول کے اساتذہ کو خود تربیت دے لیں گے۔ ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور وہ کروڑوں روپیہ جو ہم ہر سال کیمبرج کو دیتے ہیں اپنے ملک میں رہ سکتا ہے مگر اس کے لیے ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا ہم معیار تعلیم بلند کر کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا 2020 اور اس سے آگے کے زمانے میں بھی غاروں میں زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں

سب سے اہم بات یکساں تعلیمی نصاب پڑھایا کیسے جائے گا۔ پبلک سیکٹر میں کون سے طلبا پڑھنے آتے ہیں۔ عام مزدور بھی اپنے بچے کو کسی چھوٹے موٹے پرائیویٹ سسکول میں بھیجتا ہے اور بڑے سکول جو لیول کروا رہے ہیں، وہ آپ کا نصاب کیسے پڑھا سکتے ہیں۔ مقامی پرائیویٹ سکول بھی چھٹی جماعت تک آکسفورڈ پریس کی چھپی کتابیں پڑھاتے ہیں۔ اس کے بعد پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی۔ وہ کیا کہہ کر والدین کو مطمئن کریں گے کہ آپ اپنے بچے ہمارے سکولوں میں بھیجیں۔ یہاں تو ایسی کھچڑی پکی ہے جس سے ایک ایک دانا علیحدہ کرنا ہو گا۔ ایک وقت تھا جب سرکاری سکولوں میں افسروں کے بچے بھی پڑھتے تھے اور معیار تعلیم بھی بلند تھا اب تو حالات کا کوئی رخ نظر ہی نہیں آتا۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کو دیکھیں تو اب لیول کے بارے میں بھی یہی خیال ہے کہ یہ نظام آنے والے زمانے کا ساتھ نہیں دے سکے گا۔ اس لئے وہ ممالک اب IGCSE پر جا رہے ہیں۔ مگر ہم ابھی تک یہ فیصلہ ہی نہیں کر پا رہے کہ ہم کون سا نظام چلانا ہے اور کون سا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نبیلہ عصمت کی دیگر تحریریں