نمائش ضرور کیجیے مگر ڈھنگ سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"wusatullah

کراچی میں اسلحے کی خرید و فروخت کے سودوں سے متعلق چار روزہ بین الاقوامی نمائش آئیڈیاز دو ہزار سولہ کل ختم ہو گئی۔ اس نمائش میں منتظمین کے بقول تینتالیس ممالک کی دو سو اکسٹھ اور پاکستان کی ایک سو ستاون کمپنیوں کی نمایندگی ہوئی۔ نمائش میں حسبِ روایت پاکستان کی اعلیٰ سول و فوجی قیادت شریک ہوئی۔ اس موقع پر کروڑوں ڈالر مالیت کے سودے ہوئے۔ آئیڈیاز جیسی نمائش سے پاکستان کو عالمی اسلحہ منڈی میں اپنی ترقی اور کارکردگی دکھانے کا سنہری موقع ملتا ہے۔

پاکستان اسلحہ نمائش کے معاملے میں نسبتاً ایک نئی انٹری ہے۔ سب سے بڑی نمائش (ڈی ایس ای آئی) لندن میں ہر دو سال بعد منعقد ہوتی ہے۔ اس میں ایک ہزار کے لگ بھگ اسلحہ ساز کمپنیاں شریک ہوتی ہیں۔ سب سے قدیم نمائش پیرس ایئر شو ہے۔ انیس سو نو سے اب تک شمالی پیرس کے لا بورگے ایئرپورٹ پر اکیاون ایئر شوز منعقد ہو چکے ہیں۔ اس شو میں تمام سرکردہ عالمی طیارہ ساز کمپنیاں شرکت کرتی ہیں اور اربوں ڈالر کے سودے طے کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس نوعیت کی دوسری بڑی نمائش برطانیہ میں فارن بروایئر شو اور تیسری بڑی نمائش برلن ایئر شو  کے نام سے جانی جاتی ہے۔

یورپ سے باہر فوجی اور غیر فوجی طیاروں، اسلحے، ایمونیشن اور آلات کی سب سے بڑی نمائش دبئی انٹرنیشنل ایئر شو کے نام سے ہوتی ہے۔ ایسی نمائشوں کے انعقاد میں خاصی مشقت اور پلاننگ درکار ہے مگر اس کا فائدہ زرِمبادلہ، شہرت اور اپنی ٹیکنالوجی کے اشتہار کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

دنیا بھر میں بھاری ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر نگاہ رکھنے والے موقر تحقیقی ادارے اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق دو ہزار پندرہ میں پاکستان ہتھیار خریدنے والے دس چوٹی کے ممالک کی فہرست میں دسویں اور دو ہزار چودہ میں نویں نمبر پر رہا (بھارت اس عرصے میں سعودی عرب کے بعد اسلحے کا دوسرا بڑا خریدار رہا)۔

اس سال مئی میں سب سے بڑے قومی اسلحہ ساز ادارے پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (پی او ایف)کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کو آگاہ کیا کہ سال دو ہزار پندرہ سولہ کے مالی سال میں پاکستان کو اسلحے کی فروخت کے اکیاسی ملین ڈالر مالیت کے آرڈرز ملے اور پاکستانی اسلحے اور ایمونیشن کا سب سے بڑا خریدار سعودی عرب رہا۔ گزشتہ دس برس کے دوران پی او ایف نے بہتر نئی اسلحہ مصنوعات متعارف کروائیں اور وہ بھی سرکاری مالی معاونت حاصل کیے بغیر۔ اسلحے کی فروخت میں فروغ کے لیے پی او ایف نے دبئی میں ایک ڈسپلے آفس بھی قائم کیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پچھلے عشرے میں پاکستان سے چالیس سے زائد ممالک نے اسلحہ اور دفاعی آلات خریدے ہیں۔ سب سے پاپولر آئٹم جی تھری اسالٹ رائفل اور مشاق تربیتی طیارے بتائے جاتے ہیں۔

پاکستان کئی برس سے نہ صرف اسلحے کی بین الاقوامی نمائشوں میں فعال شرکت کر رہا ہے بلکہ سن دو ہزار سے اب تک آئیڈیاز کے عنوان سے ہر دوسرے برس اب تک نو بین الاقوامی نمائشیں بھی منعقد کر چکا ہے۔ یہ نمائشیں ایکسپو سینٹر کراچی میں ہوتی ہیں۔ ایسی حساس اور بڑی نمائشوں کے منتظمین منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس بات پر بھی خاصا دھیان دیتے ہوں گے کہ شہریوں کو کم از کم زحمت اٹھانا پڑے۔

پاکستان چونکہ غیر یقینی حالات سے دوچار ہے لہذا اسے اپنی شہرت کے تحفظ کی خاطر ایسی حساس نمائشوں کے لیے حفاظتی اقدامات بھی دوسرے بین الاقوامی منتظمین سے زیادہ کرنے پڑتے ہیں۔ مگر یہ نمائش جس مقام پر ہوتی ہے وہاں ہر طرف گنجان آبادی ہے۔ ایکسپو سینٹر میں سارا سال کوئی نہ کوئی نمائش ہوتی رہتی ہے لیکن جب بھی آئیڈیاز نمائش ہوتی ہے تو اس کے حفاظتی تقاضے اہلِ کراچی کے لیے مسرت سے زیادہ زحمت کا سبب بن جاتے ہیں۔ نمائش گاہ کے سامنے اور اردگرد کی شاہراہیں جہاں سے روزانہ صبح شام کراچی کا تقریباً چالیس فیصد ٹریفک گزرتا ہے  چار دن کے لیے بند ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ بغلی و ذیلی راستوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ جانے سے پورے شہر کا ٹریفک نظام اور درہم برہم  ہو جاتا ہے۔

نمائش کے اردگرد کی زیادہ تر آبادی فلیٹوں میں رہتی ہے۔ ان کے مکینوں کی کڑی چھان بین ہوتی ہے مگر شہری اس چھان بین کو امن و امان کے حالات کا تقاضا سمجھ کر برداشت کر لیتے ہیں۔ نمائشی احاطے کے ارد گرد کی رہائشی عمارات کی چھتوں پر نگراں چوکیاں قائم ہو جاتی ہیں۔ نمائش گاہ کے پہلو سے گزرنے والی یونیورسٹی روڈ  دوطرفہ ٹریفک کے اژدھام سے چار دن جام رہتی ہے۔ اس بار پوری گرین بیلٹ کٹوا دی گئی تاکہ ممکنہ دہشتگرد اسے بطور آڑ استعمال نہ کر سکیں۔

اس روڈ پر نمائش گاہ کے بالمقابل بیسیوں ریسٹورنٹس سمیت چھوٹی بڑی دکانیں چار روز  کے لیے بند کروا دی جاتی ہیں۔ اس کاروباری نقصان کا ازالہ کیا جاتا ہے کہ نہیں اس بارے میں کم از کم یہ فقیر لا علم ہے۔ گزشتہ آئیڈیاز نمائش تک یونیورسٹی روڈ کا ایک حصہ بھی کنٹینرز لگا کر بند کر دیا جاتا تھا۔ مگر اس بار یہ سہولت دی گئی کہ کنٹینرز سے نمائش گاہ کو محصور کیا گیا اور یونیورسٹی روڈ کو کھلا رکھا گیا۔ پھر بھی ٹریفک کا دباؤ اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ یہ سہولت بھی کسی کام کی نہیں رہتی۔

شہری عظیم قومی مفاد میں یہ سوچ کے صبر کر لیتے ہیں کہ چار دن کی ہی تو بات ہے۔ مگر ایک شے جو ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے وہ نمائش میں مختلف شاہراہوں سے آنے والے وی آئی پی قافلوں کے ساتھ چلنے والے پولیس اور رینجرز محافظوں کا رویہ ہے۔ عین ٹریفک جام میں بھی ان پرجوش محافظوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اپنے صاحب کی کالے شیشوں والی بلٹ پروف گاڑی کو اڑا کر بحفاظت لے جائیں۔ اس کوشش میں شہریوں کی عمر و وضع قطع کی تمیز کھو دی جاتی ہے اور ہا ہا کار، سائرن، کانوائے کی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کا مسلسل استعمال، گالم گلوچ، مار پیٹ، بندوق کی نال دکھا کے چلتی گاڑیوں میں بیٹھے افراد کو ہراساں کرنے سمیت ہر حربہ استعمال ہوتا ہے۔ شہری یہ بھی نہیں جانتے کہ اس توہین آمیز رویے کی شکایت کس سے کریں۔ شاید نمائش گاہ میں آنے والے وی آئی پیز کو بھی احساس نہیں ہوتا ہو گا کہ ان کے پروٹوکول کی قیمت شہری کس کس شکل میں ادا کرتے ہیں۔

ان تمام مسائل کا آسان حل تو یہی ہے کہ آئیڈیاز جیسی حساس نمائشیں گنجان آبادیوں کے بیچ میں منعقد کروانے کے بجائے ملیر کینٹ جیسے علاقوں یا پھر ایئربیسز میں منعقد کی جائیں جہاں نہ صرف روائتی عسکری حفاظتی سٹرکچر ہمیشہ سے موجود ہے بلکہ خالی قطعاتِ اراضی بھی ایکسپو سینٹر سے کئی گنا بڑے ہیں۔ ایکسپو سینٹر تک نمائش میں رکھنے کے لیے بھاری اسلحہ کی آمد و رفت کے لیے کئی دن پہلے کسی بھی وقت کوئی بھی شاہراہ عام ٹریفک کے لیے بند کر دی جاتی ہے۔

اگر فوج کے زیرِ استعمال علاقوں میں نمائشی سہولتیں بنا لی جائیں تو نہ صرف شہری زحمت کا مسئلہ بلکہ کسی ممکنہ دہشتگردی کا خدشہ بھی کئی گنا کم ہو سکتا ہے۔ آئیڈیاز کی نو نمائشوں کے انعقاد کے بعد منتظمین کو کم از کم یہ اندازہ تو ہو جانا چاہیے کہ ایسی اسپیشلائزڈ نمائشیں مخصوص طریقے سے مخصوص جگہوں پر ہی اچھی لگتی ہیں۔ یہ منتظمین مغربی ممالک اور دبئی میں ہونے والی نمائشوں میں بھی باقاعدگی سے شرکت کرتے ہوں گے۔ کیا وہاں کے شہری بھی ایسے ہی خام مال کی طرح متاثر ہوتے ہیں؟ آئیڈیاز نمائش سیرز کے کچھ آئیڈیاز عام شہریوں کے لیے بھی تو وقف کیجیے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *