سوالات میں گھرا ہوا تخت لہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’اسیں باغی تخت لہور دے‘‘۔ یہ نعرہ ملتان سے ہے، گوجرانوالہ سے نہیں۔ ہمارا تخت ہماری مرضی۔ پھر گوجرانوالہ اس کا باغی کیوں ہووے؟ پچھلے دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھا گیا۔ کیا پنجاب کی حکومت کو آپ کی بجائے گوجرانوالہ سے ایک میاں بیوی چلا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا۔ نہیں۔ بالکل نہیں۔ میری ان سے ملاقات کو بھی پونے دو برس ہو چکے ہیں۔ یہ ملاقات سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں ہوئی تھی۔ پھر انہوں نے اس ملاقات کا وقت اور دورانیہ بھی بتایا۔ لیکن یہ سوال بدستور جواب طلب رہا کہ ایک صحافی کو ایسا سوال پوچھنے کی جرات کیوں ہوئی؟ اس کے علاوہ ایک ضمنی مگر اہم سوال اور بھی کہ آج کے جدید دور میں ہدایات لینے یا دینے کیلئے ملاقات کتنی ضروری رہ گئی ہے؟

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی۔ پھر مصری ہم سے مختلف کیسے ہو سکتے ہیں؟ ان کے دانشور نجیب محفوظ نے کہا تھا۔ ’میں اپنے دشمن اسرائیل سے شرط لگانے کو تیار ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ اتنا برا سلوک نہیں کر سکتے جتنا ہم خود اپنے ساتھ کر رہے ہیں ‘۔ ایسی ہی شرط ہم بھی لگا سکتے ہیں۔ جن علاقوں پر آج پاکستان مشتمل ہے۔ برصغیر میں یہ علاقے سب سے آخر میں انگریزوں کے ہاتھ آئے۔ سکھوں سے جنگ جیت کر 1849 میں انگریز ان علاقوں پر قابض ہوا۔ پھر  1947 تک ان کے اقتدار کا دورانیہ 98 برس بنتا ہے۔ انگریزوں کی 98 برس اور اپنی 73 برس کی کارکردگی پر غور کریں اور شرم سے سر جھکا لیں۔

73 برسوں کی سرتوڑ کوشش سے ابھی ہم انگریزوں کے بنائے ہوئے شاندار ادارے تباہ کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے۔  ہماری 73 برس کی قومی زندگی محض ایک لفظ ’بددیانتی ‘ میں بیان کی جا سکتی ہے۔ بدد یانتی کا یہ سلسلہ پہلے دن شروع ہو گیا تھا۔ میاں افتخار الدین 1937 میں کانگریس کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1940میں وہ پنجاب کانگریس کے صدر تھے۔ قائد اعظمؒ کی خواہش تھی کہ یہ کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں چلے آئیں۔ بالآخر وہ 1945 میں مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ ان کی کانگریس سے علیحدگی پر گاندھی اور نہرو دونوں بڑے رنجیدہ ہوئے۔ میاں افتخار الدین آزادی کے بعد پنجاب مسلم لیگ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ انہیں پاکستان آنے والے پناہ گزینوں کی آباد کاری کا وزیر مقرر کیا گیا۔ اپنے اشتراکی نظریات کے باعث ان کی جاگیردار مسلم لیگی قیادت سے ایک نہ بنتی تھی۔

میاں افتخار الدین چاہتے تھے کہ جو کاشتکار ترک وطن کر کے پاکستان آئے ہیں ان میں تمام متروکہ زرعی اراضی تقسیم کر دی جائے۔ شہری متروکہ جائیداد کے بارے میں ان کی رائے تھی کہ اسے حکومت اپنے قبضہ میں رکھے اور ضرورت مندوں کو سستے کرایے پر دیتی رہے۔ لیکن مسلم لیگی مرکزی قیادت اپنے ان کلیموں کے عوض ان کی الاٹمنٹ چاہتی تھی جنہیں انہوں نے ’’پودینے کے باغات‘‘ کے عوض حاصل کیا ہوا تھا۔ اس طرح پاک سرزمین کی عمارت کی پہلی اینٹ ہی بد دیانتی پر رکھی گئی۔

یورپ سے دیانت کی ناقابل یقین خبریں آتی ملتی رہتی ہیں کہ سڑک کنارے پڑی اخباروں میں سے راہگیر وہاں سکہ رکھ کر ایک اخبار اٹھا لیتے ہیں۔ پھر کسی نہ کسی گاہک کو سکہ کی بجائے کرنسی نوٹ رکھ کر بقیہ ریزگاری اٹھانا پڑتی۔ اُدھراتنا اعتماد، اِدھر کوئی فقیر بھی اپنے خیرات کرنے والوں پر رتی برابر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ مسعود مفتی نے بھی لکھا ہے۔ اپنے زمانہ طالب علمی میں وہ ایک مرتبہ رات گئے لندن میں گھر کی طرف پیدل جا رہے تھے۔ راستہ میں ایک دودھ والی مشین دیکھ کر رکے۔ اس میں سکہ ڈالا۔ مشین نے سکہ تو ہضم کر لیا لیکن اس سے دودھ کی بوتل برآمد نہ ہوئی۔ چند منٹ کی ناکام کوشش کے بعد وہ آگے چل پڑے۔ کافی دور تک جانے کے بعد انہیں کسی کے ہانپتے ہوئے دوڑنے کی آواز سنائی دی۔ مڑ کر دیکھا تو وہ ایک ادھیڑ عمر شخص تھا جو مشین سے بوتل نکال کر اسے دینے کیلئے دوڑا آ رہا تھا۔ اس واقعہ سے احمد شمیم کی نظم کا پہلا مصرعہ یاد آتا ہے۔ ’ ’کبھی ہم خوبصورت تھے‘‘۔ ایسا کوئی اِکا دُکا واقعہ ہمارے ہاں بھی نظر آجاتا ہے۔

خاکسار لیڈر علامہ مشرقی اپنے انگلستان میں پانچ سالہ قیام میں ایسے حیرت انگیز واقعات دیکھتے رہے کہ سڑک کنارے اخبارات پڑے ہیں۔ کوئی دکاندار موجود نہیں۔ لوگ ایمانداری سے ساتھ پڑی پلیٹ میں پیسے ڈال کر اخبار لے جاتے ہیں۔ پھر جب وہ ہندوستان آ کر پشاور ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے تو ایسی ہی اخلاقی تربیت کیلئے انہوں نے اس اسکول کی ٹک شاپ میں یہی نظام رائج کیا۔ کسی بھی بے قاعدگی پر کڑی سزا دے کر اسے کامیاب بھی بنا دیا۔ ایسے بندوبست کیلئے سزا بھی کڑی چاہئے اور منتظم کی پوری محنت اور توجہ بھی۔ اسی اسکول میں ہیڈ ماسٹر کے کمرے کے دروازے پر ایک چلمن لٹکی رہتی۔ ساتھ ہی اسٹول پر بیٹھے چپڑاسی کیلئے حکم تھا کہ پہلے ہر ملاقات کا نام پوچھ کر اندر اطلاع کرے۔ اجازت ملنے پر اسے احترام کے ساتھ اندر لائے۔ سبھی ملاقاتی اس طریق کار کر احترام کرتے۔ مگر ایک دن ایک انگریز چپڑاسی کے روکنے کے باوجود چلمن اٹھا کر اندر گھس گیا۔

علامہ مشرقی نے اسے ہاتھ کے اشارے سے کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔ گھنٹی بجا کر چپڑاسی کو بلا کر جواب طلبی کی۔ اس نے اپنی بے بسی کی کتھا سنائی تو اسے کہا۔ دفتر کے ایک کونے میں مرغا بن کر کان پکڑ لو۔ جتنی دیر یہ انگریز ملاقاتی بیٹھا رہے گا۔ تم بھی ایسے ہی رہو گے۔ اس زمانے میں انگریزوں کیلئے مقامی زبانیں بولنا سیکھنا لازمی تھا۔ اس لئے اس نے یہ مکالمہ سنا بھی اور سمجھا بھی۔ چنانچہ وہ مہذب آدمی مختصر سی بات کر کے چلا گیا۔ پھر ایسے منتظم ہماری تاریخ میں دکھائی نہ دیئے۔

بونوں کا زمانہ آگیا۔ اس قحط الرجال میں بھی نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خاں جیسے لوگ غنیمت تھے۔ اندھی رات روشنی کی اک کرن سے ہی جی اٹھتی ہے۔ جنگ اور وبا میں ایک سے سنگین حالات ہوتے ہیں۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں یہی ملک امیر محمد خاں گورنر مغربی پاکستان تھے۔ جنگ شروع ہوئی تو لوگوں نے خوف کے مارے لاہور سے بھاگنا شروع کر دیا۔ جی ٹی روڈ پر صرف ایک گاڑی کا رخ لاہور کی طرف تھا۔ یہ ملک امیر محمد خاں تھے جو جنگ کی اطلاع پر میانوالی سے لاہور پہنچ رہے تھے۔ انہوں نے اپنی بے پناہ انتظامی صلاحیتوں سے اس 17 روزہ جنگ میں آٹے اور خوردنی اشیا کا بھائو آنہ ٹکا ، چھدام دمڑی بھی نہ بڑھنے دیا۔ پچھلے چند ماہ سے پوری دنیا کرونا وبا کے نرغے میں ہے۔ ہم بھی اسی کے چنگل میں رہے ہیں۔ اس وبا میں ماسک اور سینی ٹائزر زندگی کیلئے دانہ گندم کی طرح اہم ہیں۔ لیکن وبا کے دنوں میں ماسک ، سینی ٹائزر اور آٹا کی قیمتوں پر کوئی حکومتی کنٹرول دکھائی نہ دیا۔ تاجروں نے عوام کو جی بھر کے لوٹا۔ حکومتی رٹ کہیں نظر نہ آئی۔ حکومتی رٹ بحال رکھنے والے اہلکار اپنی لوٹ مار میں مصروف رہے۔

کالم کا آغاز وزیرا علیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حکمرانی کے بارے میں صحافی کے پوچھے ہوئے ایک سوال سے ہے۔ اس سوال سے دھیان ملک امیر محمد خاں کی طرف چلا جاتا ہے۔ کیا ان سے بھی یہ سوال پوچھنا ممکن تھا کہ آپ کی حکومت میں کس کا حکم چلتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •