عمران خان اور شہباز شریف کا دورۂ کراچی اور سوشل میڈیا پر بحث: ’سیاسی رہنماؤں کے وعدے بس وعدے ہی ہوتے ہیں‘
رواں برس مون سون میں ہونے والی بارشوں نے یوں تو پاکستان کے کئی علاقوں میں تباہی مچائی ہے لیکن ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے حالات انتہائی سنگین ہیں۔ کچی بستیوں سے لے کر پوش علاقوں تک کے مکین بےبسی کی تصویر بنے اہنے اپنے حلقے کے منتخب نمائندوں سے لے کر صوبے اور ملک کی قیادت کو ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔
اس موقع پر دورہ کراچی کو لے کر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے کارکنان و سوشل میڈیا پر موجود مداحوں کے درمیان خاصی بحث ہوتی بھی نظر آ رہی ہے۔
ایک طرف کچھ صارفین صوبہِ سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور بھٹو خاندان کی عدم موجودگی کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں تو دوسری جانب کئی افراد یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ کراچی سے انتخابات جیتنے والے وزیرِ اعظم عمران خان خود کہاں ہیں؟
اگرچہ وزیرِ اعظم کراچی کی صورتحال کی نگرانی کر رہے تھے کی اور اس بارے میں وقتاً فوقتاً ٹویٹس کرتے نظر آئے۔۔۔
https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/1299611655131852800
27 اگست کو کی گئی ٹویٹ میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کراچی کے لوگوں کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور وہ امدادی کارروائیوں کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں اور صورتحال سے باقاعدہ طور پر باخبر رہنے کے لیے قدرتی آفات سے نمٹنے کے این ڈی ایم اے کے چیئرمین اور گورنر سندھ سے مستقل رابطے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’اس وقت ڈیفینس، کلفٹن کے حالات کسی کچی آبادی سے بہتر نہیں‘
’حکومتی اہلکار کراچی میں گھومتے رہے مگر انھیں چلو بھر پانی نہیں ملا‘
کراچی میں طوفانی بارش سے تباہی، مختلف حادثات میں کم از کم 23 افراد ہلاک
اس دوران پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے بھی ایسے اعلانات کیے گئے کہ وزیراعظم عمران خان صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور سیلاب سے مستقل بچاؤ کے لیے جلد ایک منصوبے کا اعلان کریں گے۔
لیکن اس کے باوجود ان کی عدم موجودگی کو محسوس کیا گیا اور کئی صارفین کہتے نظر آئے کہ ’وزیراعظم عمران خان مشکل وقت میں سندھ نہ آ کر بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ لوگ تو مشکل سے نکل جائیں گے مگر یہ ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ کون ان کے ساتھ کھڑا تھا۔‘
https://twitter.com/KhawajaMuzaffar/status/1298494917191372802
کئی صارفین تو اس موقع پر صدر عارف علوی کی گذشتہ سال بارشوں کے دوران کشتی میں شہریوں کو ریسکیو کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کرتے پوچھتے نظر آئے کہ کراچی کی عوام ڈاکٹر عارف علوی کو تلاش کر رہے ہیں اگر کسی صاحب کو ملیں تو برائے مہربانی کراچی پہنچا دیا جائے۔‘
فہد بٹ نامی صارف کا کہنا تھا ’دو سال پہلے جب کراچی میں دو فٹ بارش ہوئی تھی، تب عارف علوی اپنی پراڈو پہ کشتی ڈال کے لائے تھے۔ اب پی ٹی آئی کے کراچی میں 14 ایم این ایز ہیں۔ شہر بارش سے تباہ ہو رہا ہے اور عارف علوی صدر ہیں لیکن ان میں سے کوئی شکل دکھانے بھی نہیں آتا۔‘
https://twitter.com/charooxyz/status/1299419815065649158
صدر کا تو پتا نہیں لیکن وزیرِ اعظم کے منتظر افراد کو خوشخبری سنا دیں کہ بلآخر عمران خان جمعرات کے روز کراچی پہنچ رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کی قیادت کو ڈھونڈنے والوں کو یہ بھی بتا دیں کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف بھی بدھ کے روز کراچی پہنچیں گے۔
اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کریں گے اور پارٹی عہدیداروں اور کارکنان سے کراچی اور سندھ میں سیلاب کی صورتحال اور امدادی کاررائیوں پر بریفنگ لیں گے۔
https://twitter.com/nasirjamall/status/1300462549004156929
سندھ حکومت، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی عدم موجودگی اور مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے دورہ کراچی کو لے سوشل میڈیا پر خاصی بحث چل رہی ہے اور گذشتہ رات شہباز گل کی ٹویٹ کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر کے دورہ کراچی کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا ’جیسے ہی وزیراعظم کا کراچی جانے کا پروگرام فائنل ہوا شہباز شریف صاحب نے فورا ایک دن پہلے کا ٹکٹ کٹوا لیا۔ اب وہاں جا کر ڈرامہ بازی کریں گے۔‘
انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’وزیراعظم جو اقدامات کرنے جا رہے ہیں شہباز شریف ان کا ایک دن پہلے اعلان کریں گے۔ یہ فلم کچھ پرانی نہیں ہو گئی؟ اور اگر نیب نے بلا لیا تو فورا کمر درد شروع۔‘
https://twitter.com/SHABAZGIL/status/1300450430967779329
کئی صارفین یہ بھی کہتے نظر آئے کہ کراچی میں بارشوں کے وقت صوبائی حکومت، پی پی پی اور مسلم لیگ پہلے تو سرے سے غائب تھے لیکن اب جیسے ہی فوج اور لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کراچی کو صاف کر لیا ہے تو ناصرف صوبائی حکومت اور پی پی پی بارش میں باہر نکل آئیں ہیں بلکہ دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں حتیٰ کے وزیرِ اعظم کو بھی کراچی کی یاد آ گئی ہے۔
نورین حیدر نامی صارف پوچھتی نظر آئیں کہ بلاول بھٹو زرداری کراچی سے تو غائب ہوئے ہی تھے مگر اب ٹوئٹر سے بھی غائب ہو گئے۔‘
https://twitter.com/Qmrs1/status/1300516579000684545
خیر وزیرِ اعظم کے دورہ کراچی کو لے کر صحافی حامد میر کی ایک پول بھی گردش میں ہے جس میں انھوں نے پوچھا ہے کہ وزیرِ اعظم کو دورہ کراچی کے موقعے پر پہلا کام کیا کرنا چاہیے؟
اس پر کئی منچلے کہتے نظر آئے کہ وائپر سے سمندر کی لہریں واپس سمندر میں دھکیلیں تاکہ پانی باہر شہر میں نہ گھس جائے۔
https://twitter.com/kul2471/status/1300455394935033856
حامد میر کے پول پر تبصرہ کرتے ہوئے کلثوم نامی صارف کہتی ہیں ’ایک ہفتے بعد کراچی آکر ہیلی کاپٹر میں گھوم کر واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ ان کے وعدے صرف وعدے ہی ہوتے ہیں۔‘


