عدم برداشت…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نام نہاد لبرل طبقے سے تعلق رکھنے والے چند دانشور وقتاً فوقتاً یہ لاگ الاپتے رہتے ہیں کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے۔ ان میں سے بعض کبھی اتنی رعایت کر دیتے ہیں کہ پاکستان ناکام ریاست بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہمارے سرحد پار دشمن بھارت کے بعض زعما بھی اکثریہی ڈفلی بجاتے رہتے ہیں۔ یقینا بہت سے شعبوں میں معاملات رجعت قہقری کا شکار ہیں۔ قیام پاکستان سے اب تک ہم قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے خوابوں کی تکمیل کی طرف نہیں بڑھ سکے۔

اکثر معاملات میں ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے کی کیفیت ہے۔ خطے میں افغانستان کے سوا تمام ممالک نے اقتصادی ترقی کی ہے حتیٰ کہ بنگلہ دیش ہم سے الگ ہونے کے بعد اقتصادی خوشحالی کی طرف گامزن ہو گیا۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ ’سب اچھا ہے‘ کا ورد کرتے نہیں تھکتے لیکن زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔ غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور امیروں کے وارے نیارے ہیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لیے بجٹ میں جو رقم مختص کی جاتی ہے وہ آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔

سب سے بڑی خرابی آبادی میں مسلسل ا ضافہ ہے اس کی وجہ سے جو بھی اقتصادی ترقی ہوئی اس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچے۔مذہبی عدم رواداری ،فرقہ واریت اور ایک دوسرے کے نکتہ نگاہ کو برداشت نہ کرنے کی روش ہمیں گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔

اس کا ایک مظہر عاشورہ کے موقع پر نفرت انگیزی کی صورت میں نظر آیا۔ وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میںعاشورہ کو پر امن طریقے سے منانے پر قوم کا شکریہ ادا کیا اور کہا ’بدقسمتی سے مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ عناصر نے اس موقع پر فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے کی کوشش کی، ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کروں گا‘۔ ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ پاکستان ایٹمی طا قت ہے اور اس کی فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری ترجیحات ہی مختلف ہیں، اسی بنا پر کچھ لوگ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست کے بجائے قومی سلامتی کی ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جملہ خرابیوں کے باوجود آوے کا آوا ہی بگڑا ہواہے۔ پاکستان میں لولی لنگڑی سہی جمہوریت کا دوردورہ ہے اور مجموعی طور پر منفی اعداد و شمار کے باوجود عام آدمی کو جو سہولیات حاصل ہیں، قیام پاکستان کے وقت ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارت نے ہمیں کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا، کئی بار ترنوالہ بنانے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ اسے منہ کی کھانا پڑی۔ بدقسمتی سے بعض امریکی دانشور اور تھنک ٹینک یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے حالانکہ میری رائے میں حالیہ واقعات بالخصوص جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے امریکہ خود ایک ناکام ریا ست کی طرف سفرکرتا نظر آتا ہے۔

ٹرمپ کے اکثر ناقدین انہیں فاشسٹ اور نفرتیں پھیلانے کے مرتکب قرار دیتے ہیں جس طرح روسی لیڈر بورس یلسن کو سوویت یونین کا شیراز ہ بکھیرنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے بلکہ اس سے پہلے ہی سوویت ری پبلکن کی ناکامی کے بوجھ تلے سوویت یونین اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تھا اور کسی فوج کو اس کو فتح کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی، اسی طرح صدر ٹرمپ نے تعصب پر مبنی نظریات کے پرچار سے امریکی قوم کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔

جس طرح امریکہ کی سیاہ فام آبادی کی اکثریت نے وہاں علم بغاوت بلند کر رکھا ہے صدر ٹرمپ سے پہلے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ امریکی صدر عدم برداشت کے رویئے کا کھلم کھلا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ناقدین اور ڈیموکریٹک مخالفین کو انتہائی تضحیک آمیز الفاظ میں یا د کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے رویئے کی وجہ سے ایک انتہائی دائیں با زو سے تعلق رکھنے والے رپورٹر کی پورٹ لینڈ میں ہلاکت کے بعد شدید مظاہرے شروع ہوئے ہیں۔

اسی طرح BLM کے نام سے سیاہ فام لوگوں سے بہتر سلوک کے لیے تحریک بھی شدت سے جاری ہے۔ اب بعض اوقات ایسے لگتا ہے کہ امریکہ میں خانہ جنگی ہو رہی ہے اور جلتی پر تیل ڈالنے کاکام صدر ٹرمپ خود کر رہے ہیں۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکہ میں گورننس کا شدید فقدان ہے۔ عوام ری پبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں کے درمیان بٹے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ تعصب کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے امید وار نامزد ہونے کے بعد انہوں نے اپنی مضحکہ خیز تقریر میں کہا کہ جو لوگ نسلی تعصب کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں وہ ٹھگ ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ٹرمپ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں شکست کھا جائیں گے، اس پر نہ صرف کروڑوں امریکی بلکہ دنیا بھر میں سنجیدہ حلقے سکھ کا چین لیں گے۔ تاہم ٹرمپ نے جس طرح امریکہ اور دنیا کو بھی تقسیم کر دیا ہے اس تباہی کو روک کر صورتحال کو نارمل کر نے میں خاصا وقت لگے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی کی زندگی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ’خود پسند‘ انسان ہیں جن سے اب ہر امریکی کو خطرہ لاحق ہے۔

میری ٹرمپ نے اپنی کتاب ’ٹو مچ اینڈ نیور اینف: ہاؤ مائی فیملی کری ایٹڈ دی ورلڈز موسٹ ڈینجرس مین‘ میں اپنے چچا کو ’ایک دھوکے باز اور بدمعاش‘ شخص قرار دیا ہے۔ میری ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ان کے چچا نے اپنا SAT امتحان دینے کے لیے ایک دوست کو رقم دی تھی۔

خواتین کے بارے میں ان کا متعصبانہ رو یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ امریکہ کی سب سے بڑی ناکامی کوویڈ 19 کی موذی وبا پر کنٹرول نہ کر پاناہے۔ ابھی تک قریباًچھ لاکھ افراد اس وبا کی لپیٹ میں آ چکے اور ایک لاکھ 87 ہزار سے زائد لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن یہ سلسلہ ابھی تھم نہیں رہا۔ امریکی صدارت کے اعلیٰ ترین ایوان سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ کورونا وائرس کا وجود ہی نہیں ہے، ماسک پہننا ضروری نہیں جیسی جاہلانہ باتیںکی گئیں اور بعد از خرابی بسیار نیم دلانہ انداز میں کہا گیا احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہئے۔

اس کے باوجود امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور اور امیر ترین ملک ہے۔ وہاں صحت اور حفاظتی و مدافعتی سہولتوں کی دستیابی ہے، ہسپتالوں میں ٹیسٹنگ کے لیے آنے والوںکی لمبی قطاریں روزمرہ کا معمول بن گئیں اور ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے جگہ ختم ہو گئی۔

دوسری طرف امریکہ کے شہر نیویارک میں مئی کے آغاز میں کورونا سے اتنے لوگ یکدم ہلاک ہوئے کہ ان کی لاشیں ٹرکوں میں بھر کر دفنانے کے لیے لائی گئیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان جیسے غریب اور بے سر و سامان ملک جہاں صحت عامہ پر صرف کی جانے والی رقم امریکہ اور اکثر مغربی ممالک کے عشر عشیر بھی نہیں۔ اس نے اپنے صحت کے محدود وسائل کابہترین استعمال کیا اور موثر منصوبہ بندی کے ذریعے وبا پر قابو پایا، آ ج معجزانہ طو ر پر کورونا وائرس آخری دموں پر ہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •