انسان اور اس کا معاشرہ


معاشرہ جو کہ خود انسانوں کے مجموعے سے مل کر بنا ہے بعض اوقات بہت سے انسانوں کی زندگی میں بربادی اور تباہی کا سبب بنتا ہے۔ آج کا انسان اپنی زندگی، اپنے اس دنیا میں بھیجے جانے کے مقصد کے پیچھے نہیں بلکہ اسی معاشرے کی نظر میں خود کو باوقار اور عزت دار بنانے کی جدوجہد میں گزار رہا ہے۔ جبکہ یہی معاشرہ بہت سے انسانوں کی زندگی کو تباہی و بربادی کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان اپنی خواہشات، احساسات اور جذبات سب اسی معاشرے کے تابع کر دیتا ہے جس سے اسے اتنا فائدہ نہیں پہنچتا جتنا اس کی ذات کو نقصان پہنچتا ہے۔

یہی معاشرہ نہ تو انسان کو اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے دیتا ہے اور نہ ہی کبھی اس سے راضی ہوتا ہے۔ کبھی کبھی انسان معاشرے کے لیے اپنا بہت کچھ گنوا دیتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ مقام حاصل نہیں کر پاتا جس کا وہ حقدار ہوتا ہے جبکہ معاشرہ خود لوگوں کا ایک مجموعہ ہے لیکن یہ مجموعہ اتنی زیادہ طاقت حاصل کر چکا ہے کہ اپنے جیسے دوسرے لوگوں کی زندگی میں اتنا اہم کردار ادا کرنے لگ چکا ہے کہ بعض اوقات انسان اس معاشرے کی خاطر اپنا آپ کہیں کھو دیتا ہے۔

اس کی اپنی شخصیت اس کے اپنے ہی اندر کہیں دب کر رہ جاتی ہے۔ بعض اوقات یہی معاشرہ انسان کو اتنا بے بس کر دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو حرام موت دینے میں بھی گریز نہیں کرتا۔ انسان اس معاشرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے بھول جاتا ہے کہ یہ وہی معاشرہ ہے جو اس کی خاموشی کو کمزوری اور بولنے اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کو بدتہذیبی کہتا ہے۔ بعض اوقات انسان اپنے اندر پروان چڑھنے والے بہت سے خوابوں اور خواہشات کو اسی معاشرے کی وجہ سے اپنے اندر ہی دبا لیتا ہے۔

حالانکہ اس معاشرے کو تو انسان کا تحفظ کرنا تھا۔ ویسے تو یہ معاشرہ عورت اور مرد دونوں کے لیے ہی مشکل ہے لیکن عورت کے لیے اس معاشرے میں اپنا مقام بنانا مرد سے کئی گنا زیادہ مشکل ہے۔ اگر عورت ان پڑھ ہو تو اسے جاہل کہا جاتا ہے اور اس کے بارے میں ہے سوچ رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے شانہ بشانہ نہیں چل سکتی اور اگر عورت پڑھی لکھی ہو تو اس کے بارے میں یہ سوچ رکھی جاتی ہے کہ اس کی تعلیم اسے باغی کر رہی ہے۔

اگر عورت نوکری کرے تو اسی معاشرے کے لوگ اس کے والدین کو بیٹی کی کمائی کھانے کے طعنے دیتے ہیں اور اگر وہ گھر میں رہے تو وہ مرد کی محتاج کہلاتی ہے۔ اگر وہ چپ رہے تو لوگ اس کی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اسے اس کی کمزوری سمجھتے ہیں اور اگر وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا سیکھ جائے اور آواز اٹھاتی ہے تو وہ بدتہذیب کہلاتی ہے۔ اسی معاشرے کی وجہ سے آج بیٹیوں کے والدین ان کی کامیابیوں کا ذکر اتنے فخر سے نہیں کر پاتے جتنے فخر سے وہ اپنے بیٹوں کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں۔

بعض دفعہ تو یہ معاشرہ بہت سے انسانوں کی ذہنی معذوری کا باعث بھی بنتا ہے۔ اسی معاشرے کی وجہ سے انسان اپنی زندگی میں توازن نہیں رکھ پاتا۔ وہ معاشرہ جسے انسان کی مدد اور تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا وہی اس کی مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ معاشرہ کیونکہ افراد کا مجموعہ ہے اس لیے انفرادی تبدیلی ہی معاشرے کو تبدیل کر سکتی ہے۔ جس طرح پتھر پہ پانی پڑتا رہے تو وہ بھی گھس جاتا ہے اسی طرح ہماری چھوٹی چھوٹی کوششیں معاشرے کی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں۔

Facebook Comments HS