چینی معیشت کرونا سے پہلے اور کرونا کے بعد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقتصادی اصلاحات کے بعد تیزی سے ترقی کرتی ہوئی چینی معیشت کو پہلی مرتبہ کورونا کی وبا کی وجہ سے دھچکا پہنچا ہے۔ ووہان میں کورونا کی وبا کے شروع ہونے کے بعد 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں چینی معیشت گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.8% سکڑ گئی۔ چنانچہ چینی حکومت نے نجی فرموں کے لئے مزید شعبے کھولنے اور براہ راست سرکاری مداخلت کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک زمانے میں چین میں نجی کاروبار کرنے اور دولت جمع کرنے کا تصور بھی محال تھا، لیکن اب کاروباری افراد کو چین کی اقتصادی قوت کا نا گزیر حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ آج چین میں خوشحال تاجروں یا کارکنوں کو ”بورژوا“ نہیں بلکہ چینی عوام کے لئے ”مثالیہ“ قرار دیا جاتا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کی رائے میں ایک خوشحال اور مضبوط سوشلسٹ ملک کی تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ سرکاری، اشتمالی اور نجی صنعتیں اور کاروبار پہلو بہ پہلو ترقی کریں۔ اس پالیسی کی بنیاد گزشتہ عشروں کے تجربات پر رکھی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نجی کاروبار کرنے والوں کو اس بارے میں متفکر نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے پاس جو دولت آ رہی ہے وہ ان کے لئے کسی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ ”کسی کو دوسروں سے پہلے امیر ہونا ہی ہو گا، تا کہ آخر میں ساری قوم خوشحال ہو سکے“۔ یہی وہ پالیسی ہے جس پر چین عمل پیرا ہے۔ حکام کہتے آئے ہیں کہ اس پالیسی کے نتیجے میں معاشرے میں تضادات پیدا نہیں ہوں گے کیونکہ کاروباری لوگ دوسروں کے لئے قابل تقلید مثال بنیں گے۔

نجی کاروبار کے علاوہ چین کی اقتصادی اصلاحات کا ایک پہلو سرکاری ملکیت والے اداروں میں ڈائرکٹرز کی ذمہ داری والے نظام کا نفاذ ہے۔ انہیں بہت زیادہ انتظامی اختیارات دیے گئے لیکن سرکاری دستاویزات میں درج حقوق حقیقی زندگی میں محدود ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا کسی فیکٹری ڈائرکٹر کو کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری کی رائے رد کر دینی چاہیے؟ کیا مکمل حقوق کے حصول کے لئے حکام بالا سے حجت کرنا اس کے لئے اچھا ثابت ہو گا؟ اگر وہ کسی کارکن کو برطرف کر دے تو لوگ کیا کہیں گے؟ اگر وہ نکمے کارکنوں کو سزا دے تو لوگ اس کے بارے میں کیا سوچیں گے۔ اس طرح کے سوالات بیشتر فیکٹری ڈائرکٹرز کو پریشان کرتے رہتے تھے اور یوں کام کرنے کا جوش اور عزم کم ہو جاتا تھا۔

اصلاحات کے ابتدائی دور کی بات ہے۔ چینی حکومت نے مغربی جرمنی کے ایک انجینئیر کو اپنے ایک کارخانے کا ڈائرکٹر بننے کی دعوت دی۔ یہ کارخانہ لال فیتے، ڈھیلے ڈھالے کوالٹی کنٹرول، ڈسپلن میں غفلت، بار بار ہونے والی بے مقصد میٹنگوں اور عملے کے ”کچھ نہ کرنے والے“ کام کے اندازجیسے مسائل کا شکار تھا۔ مغربی جرمنی کے انجینئیر نے وقت ضائع کیے بغیر کارخانے کو نئی شکل دی۔ کوالٹی کنٹرول کے اصول نافذ کیے ۔ نکمے کارکنوں کو سزا دی۔ نا اہل کارکنوں کو ملازمت سے نکال دیا، اور اچھے کارکنوں کو ترقی اور انعام دیا۔ یوں نقصان میں جانے والا کارخانہ منافع دینے لگا۔

چینیوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس بھی مغربی جرمنی کے انجینئر جیسے با صلاحیت لوگ موجود ہیں لیکن وہ قدیم روایات اور تعلقات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں چنانچہ ماڈرن مینجمنٹ سائنس سیکھنے پر زور دیا گیا اور ان ممالک کے حالات کا مطالعہ کیا گیا، جہاں ان سے پہلے ایسے تجربات شروع ہو چکے تھے۔ چینی ماہرین نے ہنگری اور یو گو سلاویہ جا کے ان کی اصلاحات کا مطالعہ کیا۔ ان دو یورپی سوشلسٹ معیشتوں کے مطالعے کے بعد چینی ماہرین کا کہنا تھا کہ اقتصادی اصلاحات کے لئے معاشرے کے دیگر شعبوں میں بھی اصلاحات کرنا ضروری ہے۔ دیگر شعبوں میں پائے جانے والے مسائل پر توجہ دینا بھی ضروری تھا۔ چین کے کاروباری اور صنعتی اداروں کو مالی لحاظ سے خود مختار بنانا ضروری تھا۔ اس لئے تین عشرے قبل دیوالیہ پن کا قانون منظور کیا گیا، جو مارکیٹ اکانومی کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے۔

چینی ماہرین کا کہنا تھا کہ اجرتوں میں اضافہ اور مطالبات قابو سے باہر نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ صحیح ہے کہ اصلاحات کے عمل کے دوران میں لوگوں کو فائدہ پہنچنا چاہیے لیکن اجرتوں میں بہت تیزی سے اضافہ کاروباری اور صنعتی اداروں کو نئی سمت یا جہت دینے اور لیبر مارکیٹ کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ قیمتوں اور اجرتوں میں اضافے کی وجہ سے افراط زر کے خطرے سے بھی خبردار رہنا چاہیے۔ چینی حکومت ایک عرصے تک سرکاری شعبے کے کارخانوں کی ”دایہ گیری“ کرتی رہی، خواہ ان کی کارکردگی کیسی بھی رہی ہو۔

سرکاری ملکیت والے صنعتی اداروں کو بقا کے مساوی مواقع حاصل رہے لیکن تین عشرے قبل حکومت نے اداروں سے کہہ دیا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں اور اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ کچھ لوگوں کو خدشہ تھا کہ حکومت کی انگلی پکڑ کر چلتے رہنے والے ادارے جب اپنے پیروں پر چلنے لگیں گے تو لڑکھڑا کر گر جائیں گے۔ حکومت بھی یہ نہیں چاہتی تھی کہ بہت سے ادارے بند ہو جائیں اور ان کے کارکن بے روزگارہو جائیں بلکہ حکومت کی خواہش تھی کہ جو ادارے بد نظمی کا شکار رہے ہیں، اپنی اصلاح کریں اور اپنی افادیت ثابت کریں۔

اصلاحات کے آغاز میں چین ایک سوشلسٹ اجناس کی معیشت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے بیرونی دنیا پر اپنے دروازے کھول دیے تھے۔ اقتصادی اصلاحات کی وجہ سے ملک کو خاصا فائدہ پہنچا لیکن حکومتی اقدامات کا اثر لوگوں کے نظریات اور اخلاقیات پر بھی پڑا۔ مثبت پہلو تو یہ تھا کہ داخلی منڈیاں کھل گئیں، بین الاقوامی مبادلات میں اضافہ ہوا، مسابقت بڑھی، صنعتی اور مالیاتی اداروں کو فیصلہ سازی کے اختیارات ملے۔

ان کی راہ کی بہت سی رکاوٹیں دور ہو گئیں، لوگوں کا ذہنی افق وسیع ہوا اور وہ تجزیئے اور تقابل کے ذریعے نئے نتائج اخذ کرنے لگے اور یوں ان میں چین کی اقتصادی اور صنعتی حالت کو بدلنے کا جذبہ پیدا ہوا، ان کے علم اور صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔ ماضی میں لوگوں کی صلاحیتوں سے قطع نظر ان میں آمدنی مساوی تقسیم کی جاتی تھی لیکن اب زیادہ صلاحیتوں کا مالک زیادہ آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔ بہر حال منفی اثر یہ سامنے آیا کہ پیسے کی اہمیت بڑھ گئی۔ منافع کمانا اولین ترجیح بن گیا جس کا نتیجہ خود پسندی، اجتماعی مفادات کو نظر انداز کرنا یہان تک کہ بد عنوانی کی شکل میں سامنے آیا۔ یہ چین کے مشترکہ آدرش اور اخلاقی معیارات سے میل نہیں کھاتا۔

چینی حکومت نے 2013ء میں اصلاحات کے عمل میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا تھا، مگر اس فیصلے پر عمل در امد کی رفتار سست رہی جس سے بعض غیر ملکی کمپنیوں میں فرسٹریشن پیدا ہوئی۔ کچھ مقامی نجی کمپنیوں کو بھی شکایت ہے کہ سرکاری ملکیت والے اداروں کے مقابلے میں ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ بیجنگ سائنسی ترقی کے لئے درمیانی اور طویل مدت کے قومی منصوبے بنانے جا رہا ہے اور ریاستی سرمایہ ان شعبوں میں لگایا جائے گا جو معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی اور دفاع کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔

ان اقتصادی اصلاحات کو آپ ابتدائی نوعیت کے سوشلزم کی ابتدائی قسم کی سرمایہ داری میں تبدیلی بھی کہہ سکتے ہیں۔ بات صرف چین کی نہیں، نیو لبرل ازم کی وجہ سے دنیا بھر میں نجکاری کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ ”تعلیم، صحت، آرٹس، سائنس سب کچھ کمرشلائز ہو گیا ہے۔ یوں جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے، وہ سماجی امن، سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لئے ساز گار نہیں ہے۔“ اقتصادی اصلاحات کی اہمیت اپنی جگہ مگر سوشلسٹ اخلاقیات کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ’قبضہ گیر انفرادیت پسندی‘ کے مقابلے میں ایثار، باہمی تعاون اور سماجی انصاف کی آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •