اوچ شریف: میونسپلیٹی سے ٹاؤن کمیٹی کا سفر معکوس؟


12 اگست 2020 ء کو سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہونے والے ایک سرکاری نوٹیفیکیشن نے اہل اوچ کو حیران و پریشان کر کے رکھ دیا۔ 10 اگست کو سیکرٹری پنجاب لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی طرف سے جاری کیے گئے اس نوٹیفیکیشن میں میونسپل کمیٹی اوچ شریف کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ 1979 ء کے بعد یہ دوسری بار ہوا کہ اوچ نے میونسپلیٹی سے ٹاؤن بننے کی ”ترقی معکوس“ کا سفر اختیار کیا۔

قبل ازیں پنجاب ویلیج، پنچایت اینڈ نیبرہڈ کونسلز ایکٹ مجریہ 2019 ء کے تحت اوچ شریف شہر کو دس نیبرہڈ کونسلز میں تقسیم کیا گیا تھا جبکہ اس کی شہری آبادی 78 ہزار 9 سو 30 نفوس پر مشتمل ظاہر کی گئی تھی۔ تاہم نوٹیفیکیشن کے مطابق میونسپل کمیٹی اوچ شریف کی حد بندی کے حوالے سے لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے 5 نومبر 2019 ء کو جاری کردہ حکم نامے اور 22 جولائی 2020 ء کی تصحیح کے بعد پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ 2019 ء کے سیکشن 9 اور 15 کی روشنی میں میونسپل کمیٹی کی حد بندی کے اندراجات کو درست کیا گیا ہے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ حد بندی کی تصحیح کے بعد نوٹیفیکیشن میں اوچ شریف کی شہری آبادی 78 ہزار 9 سو 30 نفوس سے کم کر کے 51 ہزار 9 سو 35 ظاہر کی گئی اور اسے ٹائپنگ کی غلطی قرار دے کر درست کیا گیا۔

کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کی کسوٹی صحت مند با اختیار بلدیاتی ادارے ہوا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے قیام پاکستان کے 73 برسوں میں سب سے زیادہ تجربات بلدیاتی اداروں پر ہی کیے گئے۔ یہ ادارے طویل دورانیے کے لئے معطل بھی رہے جبکہ بحالی کے زمانے میں بے جا سیاسی مداخلت نے انہیں کامیابی سے چلنے نہیں دیا۔ بلدیاتی سسٹم میں استحکام نہ آنے کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں شہری و دیہی سطح پر پینے کے صاف پانی سے لے کر صحت و صفائی اور کھیل کے میدانوں کی سہولیات کا فقدان دیکھنے کو ملتا ہے۔

دوسرے شہروں سے قطع نظر اگر اوچ شریف کی حد تک بات کی جائے تو برصغیر میں اپنی تاریخی و تہذیبی حیثیت اور روحانی عوامل کے حوالے سے مسلمہ پہچان کے حامل اس شہر کی بلدیاتی تاریخ ہمیشہ سے ہی نشیب و فراز کا شکار رہی ہے۔ آمرانہ جمہوریت اور جمہوری آمروں کے حکومتی ادوار میں بلدیاتی نظاموں کے نام پر جو تجربات ہوئے اس سے اوچ بالواسطہ یا بلاواسطہ متاثر ہوا۔

اوچ شریف کو 1958 ء میں فوجی حکمران صدر محمد ایوب خان کے نافذکردہ بنیادی جمہوریتوں کے نظام میں پہلی بار میونسپل کمیٹی کا درجہ دے کر محمد اعظم خان کو اس کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا تھا۔ محمد اعظم خان 1959 ء تک اس عہدے پر فائز رہے بعدازاں چوہدری محمد طفیل 1962 ء تک ایڈمنسٹریٹر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ 1963 ء کو مخدوم سید حامد محمد شمس الدین گیلانیؒ نے میونسپل کمیٹی اوچ شریف کے پہلے منتخب چیئرمین کا منصب سنبھالا، وہ اس عہدے پر 1966 ء تک برقرار رہے، 1966 ء سے 1969 ء تک مخدوم سید غلام اکبر بخاری اس ادارے کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ ہنگامی صورت حال کے پیش نظر دس سال میں بلدیاتی انتخابات منعقد نہ ہو سکے اور ایڈمنسٹریٹرز کے زیر انتظام ہی میونسپل کمیٹی اوچ شریف کا نظم و نسق چلایا جاتا رہا۔

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر صدرجنرل محمد ضیاء الحق کے نافذکردہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ 1979 ء کے تحت اوچ شریف کو میونسپل کمیٹی سے تنزلی کرتے ہوئے ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دے دیا۔ مذکورہ بلدیاتی نظام کے تحت ہونے والے انتخابات میں 17 جنوری 1980 ء کو مخدوم سید غلام اصغر بخاری نے بلدیہ اوچ شریف کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا، وہ اس عہدے پر 5 ستمبر 1983 ء تک فائز رہے۔ بعدازاں مخدوم سید حامد محمد شمس الدین گیلانی 14 نومبر 1983 ء سے 26 اپریل 1986 ء کو اپنی وفات تک چیئرمین کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ 26 اپریل 1986 ء سے 9 جولائی 1986 ء تک شیخ فیاض احمد جاوید قائم مقام چیئرمین جبکہ 9 جولائی 1986 ء سے نومبر 1987 ء تک مخدوم سید ظفر حسن گیلانی چیئرمین کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔

نومبر 1987 ء کو عبدالحمید درانی کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا، 20 جنوری 1988 ء کو مخدوم سید ظفر حسن گیلانی ٹاؤن کمیٹی اوچ شریف کے دوبارہ چیئرمین منتخب ہوئے۔ 31 جنوری 1992 ء سے 16 اگست 1993 ء تک مخدوم سید غلام اصغر بخاری چیئرمین کے منصب پر فائز رہے۔ 18 اگست 1993 ء سے 31 اکتوبر 1996 ء تک غازی امان اللہ خان، 7 جنوری 1997 ء سے 28 فروری 1997 ء تک سردار در محمد خان، یکم مئی 1997 ء سے 31 اکتوبر 1997 ء تک دوبارہ غازی امان اللہ خان اور 3 جنوری 1998 ء سے 31 اکتوبر 1998 ء تک چوہدری اشرف علی نعیم ٹاؤن کمیٹی اوچ شریف کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اس دوران بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد شیخ فیاض احمد جاوید نے 17 دسمبر 1998 ء کو چیئرمین کا منصب سنبھالا، وہ اس عہدے پر 15 اکتوبر 1999 ء تک فائز رہے، اسی دن سے 6 جون 2000 ء تک شعیب طارق وڑائچ جبکہ 4 جولائی 2000 ء سے 14 اگست 2001 ء تک میاں جمیل احمد ایڈمنسٹریٹر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔

2001 ء میں صدر جنرل پرویز مشرف کے نافذکردہ مقامی حکومتوں کے نظام میں اوچ شریف کو تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن احمد پور شرقیہ کے تحت سی او یونٹ کا درجہ دے دیا گیا جبکہ چیئرمین کے عہدے کو ختم کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں کے سربراہان کے لئے ”ناظم“ کی اصطلاح وضع کی گئی، اس نئے بلدیاتی نظام کے تحت ہونے والے انتخابات میں کامیابی کے بعد مخدوم سید ظفر حسن گیلانی نے 15 اگست 2001 ء کو یونین کونسل اوچ شریف سٹی کے ناظم کے طور پر اپنا عہدہ سنبھالا، وہ 14 اگست 2009 ء تک مسلسل دو بار اس عہدے پر فائز رہے، اس کے بعد 2016 ء تک ان بلدیاتی اداروں کو مسلسل ایڈمنسٹریٹرز کے زیر انتظام چلایا جاتا رہا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ 2013 ء کے تحت اوچ شریف کی میونسپلیٹی حیثیت بحال کر دی گئی اور اس کو 13 وارڈز میں تقسیم کر دیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر دسمبر 2015 ء کو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا جس کے نتیجے میں دو جنوری 2017 ء کومخدوم سید سبطین حیدر بخاری نے میونسپل کمیٹی اوچ شریف کے چیئرمین جبکہ شیخ سعید احمدنے وائس چیئرمین کا منصب سنبھالا۔ 25 جولائی 2018 ء کو عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کو مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کا موقع ملا اور چند ماہ بعد ہی پنجاب اسمبلی سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ 2019 ء کی منظوری کے بعد 4 مئی 2019 ء کو صوبائی حکومت نے گزٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو تحلیل کر کے اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ وقار حسین کو میونسپل کمیٹی اوچ شریف کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ 24 جون 2019 ء کو ان کے تبادلے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر نعیم صادق چیمہ میونسپل کمیٹی اوچ شریف کے ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔

4 نومبر 2019 ء کو پنجاب ویلیج، پنچایت اینڈ نیبرہڈ کونسلز ایکٹ مجریہ 2019 ء کے تحت صوبہ بھر میں نیا بلدیاتی نظام نافذ کر کے تحصیل دار احمد پور شرقیہ فہیم اشرف کو میونسپل کمیٹی اوچ شریف کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا گیا تاہم 10 اگست 2020 ء کو میونسپل کمیٹی اوچ شریف کی ٹاؤن کمیٹی کے درجہ پر تنزلی کے نوٹیفیکیشن کے بعد انہوں نے فوری ایڈمنسٹریٹرشپ کا چارج چھوڑ دیا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ٹاؤن کمیٹی بننے کے بعد سابقہ میونسپلیٹی ادارے کے بنک اکاؤنٹس منجمد ہو چکے ہیں۔ تمام انتظامی امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ تنخواہوں، اخبارات، یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی اور ترقیاتی منصوبوں کے اہم بلز تعطل کا شکار ہیں۔ اس سے بڑھ کر ستم ظریفی اور کیا ہو گی کہ عوام کو بلدیاتی سہولیات فراہم کرنے والا یہ کلیدی ادارہ بغیر کسی ایڈمنسٹریٹر کے چل رہا ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق سجادہ نشین درگاہ قادریہ غوثیہ عالیہ و صوبائی پارلیمانی سیکرٹری مخدوم سید افتخار حسن گیلانی اور ایم این اے مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی نے میونسپل کمیٹی اوچ شریف کی تنزلی پر نوٹس لیتے ہوئے اعلی حکومتی حکام اور سیاسی قیادت کے سامنے معاملہ اٹھایا اور ٹاؤن کمیٹی قائم کیے جانے کا نوٹیفیکیشن واپس لینے اور میونسپل کمیٹی کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد شنید ہے کہ جلد ہی اوچ شریف کا میونسپلیٹی درجہ بحال ہو جائے گا۔

یہ تو آئندہ چند دنوں میں ہی واضح ہو جائے گا کہ اوچ شریف میونسپلٹی حیثیت کے درجے پر بحال ہوتا ہے یا اس کی قسمت میں ٹاؤن بننا ہی لکھا ہے۔ اگر میونسپلٹی درجہ بحال ہوتا ہے تو تحصیل دار احمد پور شرقیہ میاں فہیم اشرف جبکہ ٹاؤن کمیٹی قائم رہنے کی صورت میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ تحصیل احمد پور شرقیہ رئیس اشفاق احمد بطور ایڈمنسٹریٹر اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے کیونکہ ان کے پاس پہلے ہی ٹاؤن کمیٹی چنی گوٹھ اور ٹاؤن کمیٹی مبارک پور کے ایڈمنسٹریٹر کا اجافی چارج ہے۔

یہاں یہ امر بھی مدنظر رہے کہ 31 اگست 2020 ء کو حکومت نے راجہ خرم شہزاد عمر کی بطور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے لہذا اوچ شریف کی قسمت کا فیصلہ لاہور کی بجائے اب ملتان یا بہاول پور میں جنوبی پنجاب کے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ راجہ خرم شہزاد عمر کی نوک قلم سے ہی ہو گا۔

ان سطور میں ہم یہ بات بھی واضح کرتے چلیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کے وضع کردہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ 2019 ء کے تحت پنجاب کے میونسپل اداروں، محلہ کونسلوں جبکہ دیہات میں تحصیل و دیہی کونسلوں کے قیام کے لئے انتخابات کا پہلا مرحلہ نومبر دسمبر میں منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شیڈول کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان ستمبر میں حلقہ بندیاں مکمل کرے گا جس کی روشنی میں حکمران جماعت پہلے ہی اپنے کارکنوں کو عوامی رابطہ مہم چلانے کی ہدایات جاری کر چکی ہے نئے پروگرام کے تحت صوبے میں حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کرنے کی تاریخ 21 اگست سے تبدیل کر کے 17 ستمبر کی گئی ہے جس پر اعتراضات 18 ستمبر سے 2 اکتوبر تک جمع کروائے جا سکیں گے اور ان پر فیصلے 17 اکتوبر تک کیے جائیں گے جس کے بعد حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 25 اکتوبر کو جاری کر دی جائے گی۔

تحریک انصاف کی حکومت بلدیاتی سہولتوں اور اختیارات کی گراس روٹ لیول تک فراہمی کی غرض سے مقامی حکومتوں کا جو نیا نظام متعارف کرایا ہے اس کے تحت صوبے کے بجٹ کا 33 فیصد حصہ بلدیاتی اداروں کو ملے گا جو نہایت خوش آئند امر ہے تاہم میونسپلیٹی درجہ کی بحالی، نئے بلدیاتی نظام کے ثمرات اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز کی فراہمی کے موثر اقدامات مقامی سیاست دانوں کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں۔

Facebook Comments HS