ٹالسٹائی کی کہانی: آخری رقص
”میرے دوست، یہ تم کیا کہہ رہے ہو کہ انسان اچھے برے میں تمیز نہیں کر سکتا۔ یہ کیا دلیل ہوئی کہ ماحول ہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ اچھا کیا ہے، برا کیا۔ میں یہ تسلیم نہیں کرتا۔ در اصل انسان کی زندگی حادثات سے متعین ہوتی ہے۔ یہ صرف حسن اتفاق ہے جو انسان کی پوری زندگی کو کسی ایک خاص ڈگر پر ڈال دیتا ہے۔ اب میرا ہی قصہ لے لو۔“
حقیقت یہ ہے کہ کسی نے آئیون سے ماحول کا زندگی کی تبدیلیوں سے تعلق، یا اچھے برے کی تمیز کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔ یہ اس کی عادت تھی کہ اس کے دماغ میں جو کوئی خیال آتا وہ اس کو ہم میں سے کسی سے منسوب کر کے اس کا جواز تلاش کرتا اور اپنی زندگی کی مثالوں سے دلیل کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ اس کی گفتگو ہمیشہ دلچسپ اور مدلل ہوتی تھی۔
پرانے دوستوں کی محفل جمی ہوئی تھی اور ڈٹ کے گپ شپ لڑائی جا رہی تھی۔
”میری پوری زندگی کا تعین ماحول نے نہیں بلکہ کسی اور ہی بات نے کیا ہے“
”کس بات نے؟“
ہم میں سے کئی نے یک زبان ہو کر پوچھا۔
”اوہ یہ ایک لمبی داستان ہے۔ کسی دن تفصیل سے سننا۔ وقت نکال کر۔“
” فکر نہ کرو۔ ہمارے پاس وقت ہی وقت ہے۔ ابھی سنا ڈالو۔ پھر پتہ نہیں موقعہ ملے نہ ملے۔“
”میری زندگی میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے میری زندگی کی ڈگر کو الٹ کر رکھ دیا۔ ایک رات، بلکہ ایک صبح کے اتفا قی حادثے سے میری ساری زندگی پٹری سے اتر گئی۔“
”وہ کیسے“
دو تین لوگوں نے پھر ایک ہی آواز میں پوچھا۔
” وہ ایسے کہ میں ابھی یونیورسٹی میں تھا کہ میں محبت کے شکنجے میں گرفتار ہو گیا۔ ویسے عشق تو پہلے بھی کافی کیے تھے لیکن یہ معاملہ سنجیدہ تھا۔ اب تم لوگ میری عمر سے اندازہ لگا سکتے ہو کہ کتنی پرانی بات ہو گی۔ اب تو اس کی اپنی شادی شدہ بیٹیاں ہیں۔ حالانکہ پچاس کے پیٹے میں ہے پر اب بھی بہت خوش شکل ہے۔ لیکن اس وقت کی بات کچھ اور ہی تھی۔“
”وارنکہ اٹھارہ سال کی تھی۔ میں ایک ڈانس پارٹی میں مدعو تھا۔ جب وہ ہال میں داخل ہوئی تو بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی۔ اٹھتا ہوا قد، انداز میں نفاست، چال ڈھال میں شائستگی۔ اس کی کشش کا یہ عالم تھا کہ اچانک سب مہمانوں نظریں اس کی طرف اٹھ گئیں۔ میں پہلی ہی نطر میں اس پر لٹو ہو گیا۔ جب ڈانس شروع ہوا تو وہ فوراً رقص میں شامل ہونے کی بجائے انتظار کرتی رہی۔ میں نے دیکھا کہ اس کی نظریں مجھ پر مرتکز تھیں۔ میں خود بھی ان دنوں جوانی کے اعتماد سے بھر پور تھا۔ اور اتنا بد شکل بھی نہیں تھا۔“
”بد شکل؟“
ایک عورت نے فقرہ کسا۔
”ہم نے تمھاری جوانی کی تصویریں دیکھی ہیں۔ بڑے قاتل تھے۔“
دو اور خواتین نے تائید میں سر ہلائے۔ آئیون نے تحسین کے ڈونگروں کو نظر انداز کرتے ہوئے بات جاری رکھی۔
”بہر حال موسیقی شروع ہوئی۔ آرکسٹرا ایک بہت بڑے زمیندار کی طرف سے مہیا کیا گیا تھا جس نے اپنے مزارعوں کو باقاعدہ موسیقی کی تربیت دلوائی تھی۔ میں نے اسے رقص کے لئے کہا اور اس نے ایک دلکش مسکراہٹ کے ساتھ میری درخواست منظور کر لی۔“
”ہم ایک کے بعد دوسرا رقص کرتے رہے۔ کبھی والز، کبھی پولکا اور کبھی مازرکا۔ بہت سے فوج کے نوجوان افسروں نے، سول سروس کے اعلی عہدے داروں نے، بڑے بڑے سیاسسدانوں کے بیٹوں نے کوشش کی کہ وہ ایک آدھ ڈانس میں کاٹ لگا سکیں لیکن وہ ہر بار جیسے اوپرے دل سے دو چار چکر لگانے کے بعد پھر میرے بازؤں میں آ جاتی۔ ہمارے سانس ایک دوسرے کے سانسوں میں مدغم ہو جاتے۔ دھیمی موسیقی پر ہونے والے رقص میں وہ میرے ساتھ لپٹ جاتی۔ اس کے گال میرے گالوں کو چھوتے تو مجھے لگتا کہ جیسے جذبات کی شدت میں ایک نئی دلکش دنیا میں پہنچ گیا ہوں جو ہر قسم جسمانی حسوں سے ماورا ہے۔“
”یہ ماورا کی بھی خوب رہی۔“
ایک دوست نے ذرا شوخی سے کہا۔
” اب اتنا بھی مبالغہ مت کرو۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ تمہارے بازؤں میں بقول تمہارے اتنی خوبصورت اور جوش انگیز حسینہ ہو اور تم جسمانی حسوں سے ماورا ہو جاؤ؟“
بجائے سرسری طور پر اس چوٹ کو نظر انداز کرنے کے، آئیون کو غصہ آ گیا تھا۔
”بس یہی تو تم نئی تہذیب کے پرستاروں میں خرابی ہے۔ تمہارے لئے ہر چیز جسمانی ہے۔ تم پیار کرنا ہی نہیں جانتے۔ تمہارے لئے محبت صرف ہوس کے سوا اور کچھ نہیں۔ تم انیسویں صدی کے لوگوں کو عورت کی عزت اور توقیر کرنی نہیں آتی۔ تمہارے لئے تو وہ گوشت پوست کے علاوہ اور کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ تم جیسے لوگ سچے پیار کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔“
” چلو آئیون، دفع کرو اس کو۔ یہ ایسے ہی بے ہودگیاں کرتا ہے۔ تم اپنی بات جاری رکھو۔“
ایک اور دوست نے محفل کو بد مزگی سے بچانے کے لئے ذرا معاملہ فہمی سے کام لیا۔
” تو خیر، رات کے تین بجے کھانا لگا۔ تھکن سے میرا برا حال تھا لیکن دل ہوا کے گھوڑے پر سوار۔ کھانے کے بعد میزبان نے بزرگوں کو والز کے لئے ہال کے وسط میں آنے کی دعوت دی۔ جب نوجوانوں کے والدین جو ساری رات اپنے بچوں کو رقص کرتے دیکھنے میں، شیمپین اور واڈکا پینے اور تاش کھیلے میں مصروف تھے ڈانس کے لئے آنے سے کچھ جھجکے تو میزبان نے سٹیج پر کھڑے ہو کر پوری آواز سے کہا،“ وارنکہ، تم ہی اپنے والد کو ڈانس کے لئے آمادہ کر سکتی۔ ہمارے بس کا تو یہ کام نہیں ہے۔ ”
”وارنکہ دیوار کے قریب بنی والدین کی قطار کی طرف بڑھی۔ فوجی کرنل کی وردی میں ملبوس، زار نکولس کی طرح کی نوکدار مونچھیں چہرے پر سجائے، ایک معزز اور باوقار حلیے جثے کے شخص کا ہاتھ پکڑا اور موسیقاروں کو اشارہ کیا کہ ڈانس کی موسیقی شروع کریں۔ میں اس شخص سے بہت متاثر ہوا۔ اتنی عمر کے باوجود اس کے ڈیل ڈول میں اور اس کے ڈانس کے انداز میں ایک وقار اور شائستگی تھی۔ وہ ایک مثالی فوجی افسر لگ رہا تھا۔ لیکن جس بات نے مجھے حیران کیا وہ یہ تھی کہ اس کے بوٹ نہ صرف پرانے فیشن کے تھے بلکہ آرمی سٹور سے خریدے لگ رہے تھے اور بہت بوسیدہ حالت میں تھے۔ مجھے یوں لگا جیسے آج کی پارٹی کے لئے نئے بوٹ خریدنے کے بجائے اس نے اپنی بیٹی کو نیا سفید بلاؤز اور سکرٹ خرید دیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بیٹی کے لئے ایک ایسی شفقت تھی جس سے صاف عیاں تھا کہ وہ بیٹی پر جان چھڑکتا ہے۔“
” تھوڑی دیر مازرکا ڈانس کے چند راؤنڈ لینے کے بعد کرنل نے مجھے اشارہ کیا کہ باقی ڈانس میں وارنکہ کے ساتھ مکمل کروں۔ ہم تھوڑی دیر سستانے کے لئے بیٹھے۔ وارنکہ پروں والا پنکھا جھل رہی تھی۔ اس نے ایک پر توڑ کر مجھے دیا اور کہا یہ ہماری آج کی رات کی نشانی ہے۔ میں نے وہ پر اپنے دستانے کی آستین میں رکھ لیا۔“
”پارٹی سے نکلتے نکلتے چار بج گئے تھے۔ کرنل اور وارنکہ کو خدا حافط کہہ کر میں پیدل ہی گھر کی سمت چل پڑا۔ میں ان دنوں اپنے بھائی کے ساتھ ٹھہرا ہو ا تھا۔ اسے پارٹیوں اور دوسرے مشغلوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کی زندگی کا محور کتابیں تھیں۔ وہ غافل سویا ہوا تھا۔ میں نے سونے کا ارادہ کیا لیکن وارنکہ کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی مسرت کے ہیجان کا یہ عالم تھا کہ نیند کوسوں دور تھی۔ میں ابھی تک پارٹی کے کپڑوں میں ملبوس تھا۔ اپنی بے قراری کو دور کرنے کے لئے میں نے اوور کوٹ چڑھایا اور پھر گھر سے باہر نکل پڑا۔“
” اب اجالا ہو چکا تھا۔ میں بے قراری کے عالم میں چلتا رہا۔ کافی دور چلنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ وارنکہ پریڈ گرؤنڈ کے پاس رہتی ہے۔ کیوں نہ اس کے گھر کی جانب چلوں۔ میں ابھی تک وارنکہ کے خیال میں اتنا مسرور تھا کہ بس مجھے ایک ہی خیال آ رہا تھا۔ کہیں کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جس سے میں اس خوشی سے محروم ہو جاؤں جو مجھے خوش قسمتی سے نصیب ہوئی تھی۔ یہی سوچتا سوچتا میں پریڈ گراؤنڈ کی سمت روانہ ہو گیا۔“
”سڑکیں ابھی تک پگھلی ہوئی برف سے گیلی تھیں۔ اجالا تو ہو گیا تھا لیکن گہری دھند کی وجہ سے سورج چھپا ہو تھا۔ دور سے پریڈ گراؤنڈ نظر آ رہی تھی۔ میری نظر گراؤنڈ کے درمیان ایک بہت بڑی اور تاریک سی چیز پر پڑی۔ اور قریب ہو ا تو کانوں میں جیسے نقارے کی اور س کے ساتھ نفیری کی آواز آ رہی تھی۔ مگر اس آواز میں رات کی موسیقی کی طرح کاسریلا پن نہیں تھا۔ مجھے یہ آوازیں اچھی نہیں لگ رہی تھیں۔ ذرا اور آگے بڑھا تو دیکھا کہ گراؤنڈ کے درمیان، کالی وردی میں ملبوس دو صفیں باندھے فوج کے سپاہی کھڑے تھے۔ ان کے کندھوں پر ر ائفلیں لٹکی ہوئی تھیں اور ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑے ہوئے تھا۔ صفوں کے درمیان بالکل آخر میں وردی پہنے ایک شخص کھڑا تھا جو شاید ان کا افسر تھا۔ درمیان میں کوئی چیز لڑھکتی ہو آ رہی تھی۔ مجھے ایک آدمی کی چیخوں کی آواز سنائی دی جیسے کوئی درد سے بلبلا رہا ہو۔“
” ایک مزدور گراؤنڈ سے گزر رہا تھا لیکن یہ ہنگامہ دیکھ کر رک گیا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ اس نے کراہت سے زمین پر تھوکتے ہوئے کہا کہ ایک تاتاری کو سزا مل رہی ہے جو فوج کی نوکری سے بھاگ کر اپنے قبیلے کے پاس چلا گیا تھا لیکن اب وہ پکڑا گیا ہے۔“
”اتنی دیر میں مجھے دونوں صفوں کے درمیان ایک ایسا بھیانک اور ہولناک منظر دکھائی دیا جس کو میں آج تک نہیں بھول سکتا۔ کمر تک ننگے ایک آدمی کے سینے پر کاری زخم لگے ہوئے تھے جن سے خون کے چھینٹے اڑ رہے تھے۔ جس سپاہی کے سامنے سے وہ گزرتا سپاہی اسے ڈنڈے سے زور دارضرب لگاتا۔ جب یہ لہو لہان آدمی آگے بڑھتا تو اگلا سپاہی اسے پیٹتا۔ اگر وہ گر پڑتا تو ایک سپاہی اسے کھڑا کرتا اور دوسرا اس کی پٹائی کرتا۔
اس کے ساتھ ساتھ وردی پہنے ایک طویل قامت افسر جس کی مونچھیں زار نکولس کی مونچھوں کی طرح تھیں چل رہا تھا۔ یہ افسر وارنکہ کا با پ تھا۔ ”
”ہر چوٹ کھا کر تاتاری صرف ایک ہی صدا لگاتا۔“ بھائیو مجھ پر رحم کھاؤ۔ بھائیو مجھ پر رحم کھاؤ۔ ”لیکن یہ بھائی رحم کھانے کی بجائے نفیری اور نقارے کی دھن سے جوش میں آ کر اسے مزید شدت سے مار رہے تھے۔“
جب وہ میرے بالکل نزدیک آ گئے تو میں نے دیکھا کہ جو سپاہی میرے مقابل کھڑا تھا، آگے بڑھا، چھڑی ہوا میں بلند کی اور پوری قوت سے قیدی کی کمر پر ماری۔ تاتاری پھر چیخا ”بھائیو مجھ پر رحم کھاؤ“ جس کا جواب اسے چھڑیوں کی بوچھاڑ سے ملا۔ ”
”لیکن شاید افسر کی تسلی نہیں ہوئی تھی۔ اس نے سپاہی کو ڈانٹا۔ ’تمہیں بھی سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔ لاؤ مجھے اپنی چھڑی دو۔ میں تمہیں دکھاتا ہوں اسے کیسے استعمال کیا جاتا ہے ان نابکاروں کو سزا دینے کے لئے۔‘ یہ کہہ کر اس نے تاتاری کے جسم پر اس شدت سے چوٹیں لگائیں کہ خون کے چھینٹے میرے کپڑوں اور چہرے پر گرے۔ اب اس کی نظریں میری نظروں سے ملیں اور اس نے ایسے ظاہر کیا جیسے مجھے پہچانتا ہی نہیں۔“
” اس کی بجائے میں ندامت سے زمین میں گڑا جا رہا تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہاں دیکھوں۔ کیا یہ وہی شخص تھا جس کی آنکھوں سے اپنی بیٹی کے ساتھ والز کرتے ہوئے شفقت جھلک رہی تھی؟ جس نے بیٹی کا دل رکھنے کے لئے اپنے بوٹ خریدنے کی بجائے اس پارٹی کا ملبوس خرید کر دیا تھا؟ اور اب میں اس کو ایک درندہ صفت ظالم ملٹری افسر کے روپ میں دیکھ رہا تھا۔ یہ دو متضاد حقیقتیں ایک ہی شخص میں بیک وقت کیسے اجاگر ہو سکتی ہیں؟ میں نے نظریں جھکا دیں اور الٹے قدم گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ نفیری اور نقارے کی آوازیں میرے کانوں میں گونجتی رہیں اور دیر تک یہ آواز میرا پیچھا کرتے رہی۔“ بھائیو مجھ پر رحم کھاؤ۔ بھائیو مجھ پر رحم کھاؤ۔ ”
”میری طبیعت کراہت سے متلا رہی تھی۔ خدا جانے میں گھر کیسے پہنچا۔ سونے کی کوشش کی لیکن جیسے ہی آنکھ لگنے لگتی مجھے وہی آوازیں آنے لگتیں،“ بھائیو مجھ پر رحم کھاؤ۔ بھائیو مجھ پر رحم کھاؤ۔ ”
”حالانکہ میرا ارادہ تھا کہ یونیورسٹی کے بعد میں فوج میں کمیشن لے لوں لیکن میں نے اس دن کے بعد اس ارادے کو ترک کر دیا۔“
”اور تمھارے عشق کا کیا بنا“
اسی دوست نے پھر سوال کیا۔
”اس میں وارنکہ کا کوئی قصور نہیں تھا۔ لیکن میں اس واقعے کے بعد جب بھی اس سے ملتا مجھے پریڈ گراؤنڈ میں کرنل اور تاتاری کا خیال آ جاتا۔ میرا دل کراہت سے بھر جاتا۔ مجھے پھر وہی گھناؤنا واقعہ یاد آ جاتا۔ ہمارا پیار بھی اسی واقعے کی نذر ہو گیا۔ مگر وہ پر، اس ایک رات کی نشانی، ابھی تک میرے پاس محفوظ ہے۔ اسی دستانے کی آستین میں۔“
”تو میرے دوست یہ تم کیا کہہ رہے ہو کہ انسان اچھے برے میں تمیز نہیں کر سکتا۔ میں اچھے برے میں تمیز کر سکتا ہوں۔ مجھے خیر اور شر کا فرق معلوم ہے لیکن زندگی حادثات پر مبنی ہے۔ ایک ناگہانی سانحہ ہوتا ہے اور سب منصوبے اور ماحول کے تقاضے اور امکانات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اب میرا ہی قصہ لے لو۔“
A translation of Leo Tolstoy ‘s short story, After the Dance


