گلگت بلتستان کا مختصر سیاسی ارتقا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ ”گلگت بلتستان کا مختصر سیاسی ارتقاء 2020۔ 1970“ پر آج ایک سر سری نگاہ ڈالی۔ رپورٹ انتہائی مفصل اور جامع انداز میں مرتب کی گئی جسے ایک ہی نشست میں پڑھ کر ختم کرنا اور پھر حوالے سے خامہ فرسائی ممکن نہیں۔ چنانچہ فیصلہ کیا کہ کیوں نہ پڑھنے لکھنے کے اس سلسلے کو بیک وقت جاری رکھا جائے۔ تاکہ قارئین کو رپورٹ سے متعلق بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں جو بوقت ضرورت کام بھی آ سکے۔

رپورٹ کے اوراق پلٹنے پر معلوم ہوا کہ اس کی تیاری میں اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی حاجی فدا محمد ناشاد صاحب کی کاوشیں بھی شامل ہیں۔

ناشاد صاحب کی سیاست سے قطع نظر ذاتی طور پر وہ میری پسندیدہ شخصیات میں سے ہیں۔ ان کی گلگت بلتستان کی سیاست کے علاوہ سماجی و ادبی خدمات کو بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی تحریر و تقریر خاص طور پر شاعری یقیناً قابل تعریف ہے۔

ان کی شاعری کی مثال کے طور ایک قطعہ پیش خدمت ہے جو انہوں نے اس رپورٹ میں شامل اپنے پیغام کے ابتدائیہ کے طور پر تحریر کیا ہے۔

مری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
میں اپنی تسبیح روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ

اپنے پیغام میں اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی حاجی فدا محمد ناشاد صاحب لکھتے ہیں :

”بلتستان میں 1840 تک مقامی راجاؤں کی حکومت تھی۔ 1840 میں جموں و کشمیر کے ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ نے حملہ کر کے اس علاقے کو اپنے زیر نگیں کر لیا۔ 1846 میں گلگت کو بھی مہاراجہ نے انگریزوں سے معاہدہ امرتسر کی رو سے خرید لیا اور یوں پورا گلگت بلتستان راجہ جموں و کشمیر کے زیر تسلط آ گیا۔

1947 میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ ہی علاقے کے لوگوں نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے جدوجہد آزادی کو کامیاب بنایا اور پاکستان کے ساتھ شمولیت کا اعلان کیا۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ بغیر کسی بیرونی امداد کے اپنے علاقے کو آزادی دلا کر ہم پاکستان میں شامل ہو رہے ہیں۔ لہذا ہمیں پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح مکمل شہری اور آئینی حقوق حاصل ہوں گے مگر یہ خواہش اب تک تشنہ تکمیل ہے۔ ”

اس پیراگراف کے بعد انہوں نے نومبر 1947 کو سردار عالم کی آمد کی کہانی سے لے کر 2020 تک پاکستان مسلم لیگ نواز حکومت تک گلگت بلتستان کے سیاسی نشیب و فراز کا مختصراً احاطہ کیا ہے۔

انہوں نے مختلف ادوار میں علاقے کی تعمیر و ترقی کے لئے ہونے والی پیش رفت کا بھی بغور جائزہ لیا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ پانچ سالوں میں گلگت بلتستان میں ہونے والی ترقی کی ان کے بقول ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

تاہم علاقے کی آئینی حیثیت کے تعین کے سلسلے میں ہونے والی پیشرفت کو مسئلہ زیرالتوا قرار دے کر لکھتے ہیں ”مایوس تو نہیں ہیں امید سحر سے ہم“ ۔

ناشاد صاحب کے اس پیغام سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کی سیاسی و انتظامی تاریخ کے تذکرے میں کچھ چیزوں کی وضاحت سے دانستہ یا نادانستہ طور پر گریزاں رہے ہیں۔ جو کہ ان جیسی تاریخ شناس اور معاملہ فہم شخصیت سے ہرگز امید نہیں تھی۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ گلگت بلتستان کو مقامی لوگوں نے علم بغاوت بلند کر کے آزاد کرا کر پاکستان کے ساتھ شمولیت کا اعلان کیا۔

مگر نہ شمولیت کا اعلان کرنے والے ان لوگوں کا کوئی حوالہ دیا ہے نہ ہی شمولیت کی کوئی دستاویزی ثبوت کا تذکرہ۔ دوسری بات اگر گلگت بلتستان کے لوگوں نے پاکستان کے ساتھ شمولیت کا اعلان کیا ہی تھا تو پھر ناشاد صاحب کی آئینی حیثیت سے متعلق خواہش ابھی تک تشنہ تکمیل کیوں ہے؟

علاوہ ازیں کسی تحریر میں جہاں آزادی پاکستان، ہندوستان، گلگت بلتستان، مہاراجہ، ڈوگرہ، جموں کشمیر، تسلط، قبضہ وغیرہ جیسے الفاظ کا استعمال ہو وہاں گلگت بلتستان کی متنازع حیثیت سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کا تذکرہ لازم و ملزوم ہیں۔

چنانچہ ناشاد صاحب کو دل پر ہاتھ رکھ گلگت بلتستان کی اصلی حیثیت پر سے پردہ اٹھا کر نوجوان نسل کو یہ امید دلانی چاہیے تھی کہ گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور اس فیصلے کا اختیار صرف اور صرف یہاں کے باسیوں کو ہی حاصل ہے۔
۔جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •