کسی فوجی کو سویلین پر اور کسی سویلین کو فوجی پر کوئی فوقیت نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


زمانے کے ساتھ لفظوں کے مطلب بھی بدل جاتے ہیں۔ لفظ ”یار“ کو ہی دیکھ لیجیے۔ صدیق سے آشنا، آشنا سے دوست، اور دوست سے بے وقعت اور بے روح شناسائی کا سفر اس لفظ نے ہماری آنکھوں کے سامنے طے کیا۔ یہی حال ”قوم“ کا بھی ہے۔ کسی دور میں اس سے مراد امت لیا جاتا تھا۔ پھر یہ سرحد کی قید سے ہوتا ہوا ذات اور شغل روزگار بنتا گیا۔ ”فوقیت“ کا بھی یہی حال ہے۔ اگلے زمانوں میں اس سے مراد مرتبہ اور احترام ہوا کرتا تھا۔ اب اس سے مراد قانون سے بالا ہونا، حکمراں ہونا، یا امیری ہے۔ مگر فوقیت کے معانی اور ان میں تغیر ہمارا موضوع نہیں ہیں۔

رسول عربی ﷺ نے فرمایا تھا کہ انہیں جوامع القلم عطا کیے گئے۔ یعنی گفتگو کے ظاہری معنی کے ساتھ ساتھ کئی گہرے مطالب بھی موجود سمجھے جائیں۔ اسی بنیاد پر حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ ہم نے احادیث اور قر آن کے تہہ در تہہ مطالب سمجھے۔ ہر دور میں وہی عبارات پڑھیں مگر ہر دور میں نیا مطلب حاصل کیا۔ جب حجۃ الوداع میں آپﷺ نے فرمایا کہ کسی سرخ کو کسی کالے اور کسی کالے کو کسی سرخ پر فوقیت حاصل نہیں، تو حاضرین سمجھ گئے کہ عربی نسل خود کو حبشی نسل پر برتر نہ جانے۔

جب کہا کہ عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر فوقیت نہیں، تو آئندہ تمام نسلیں جان گئیں کہ کسی بھی قومیت یا قبیلے کی بنیاد پر کوئی بھی دوسرے سے بہتر یا بد تر نہیں۔ جب دنیا نے سول وار کے نام پر سیاہ فام کی تحریکیں دیکھیں، ہم مسلمانوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ سرکارﷺ نے چودہ سو سال پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کسی گورے کو کسی کالے اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ ہم نے شودر اور برہمن کے جھگڑے میں بھی برابری کی بنیاد اسی حدیث کو بنایا۔ اور آج وہ دن آ گیا ہے کہ ہم جان جائیں، ”کسی فوجی کو کسی سویلین پر، اور کسی سویلین کو کسی فوجی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کی بنیاد پر۔“

کراچی کا کچرا ہو کہ بھارت کے ساتھ معاملات، سی پیک کی پیکنگ ہو کہ طالبان کے مطالبات، ہمارے ملک میں ہمیشہ یہی جھگڑا رہا کہ ملک کا وفادار کون ہے اور غدار کون۔ ہمارے ہاں فوج ”بلڈی سویلین“ کے لیے بدنام رہی اور سویلین فوج کو چوکیدار کہتے رہ گئے۔ کس کو کس پر کیا فوقیت حاصل ہے، اس بحث نے ایک ہی ملک میں دو الگ دھڑے بنا دیے۔ فوج اور سویلین۔ مگر یاد رکھیے۔ کسی فوجی کو کسی سویلین پر اور کسی سویلین کو کسی فوجی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔

کرپشن وردی پہن کر کی جائے یا وردی اتار کر، لاہور میں ہو یا کراچی میں، سب برابر ذمہ دار ہیں۔ اور اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ فوج جان دیتی ہے تو بھائی جان کی بازی تو سویلین بھی لگاتے ہیں۔ اس کالم کو ہی لے لیجیے۔ ایسے جملے لکھنا بندوق کے آگے کھڑے ہونے سے کم کہاں ہے۔ اور اگر کوئی صاحب ہمیں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ مصلحت سے کام لیں اور جان کی بازی نہ لگائیں، تو بھائی صاحب، حسینؑ کو کل کیا منہ دکھائیں گے۔ سر کٹ تو سکتا ہے، باطل کے آگے جھک نہیں سکتا۔ یہی سبق دے گئے نا حسینؑ۔

لفظ ”فوج“ بھی زمانے کے بہاؤ سے بچ نہیں پایا ہے۔ کسی زمانے میں ہر وہ شخص جو ریاست کے حق کے لیے کھڑا ہو جاتا، فوج کا سپاہی کہلایا جاتا۔ پھر وردی کا رواج چلا تو وردی والے فوجی ٹھہرے اور باقی سارے سویلین۔ اب کوئی ملک کے خلاف بھی کام کرے مگر اپنی رائے میں ملک کی (یا اپنی ذات کی) خدمت کر رہا ہو اور وردی میں ہو تو وہ فوجی ہے۔ اور کوئی ملک کے لیے جان بھی دے دے، مگر وردی سے محروم ہو تو وہ سویلین ہے۔

لفظ ”سویلین“ کے ساتھ بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ کسی زمانے میں سویلین سے مراد قانون اور ادب کاپاسدار ہوا کرتا تھا۔ اس شخص کو سول (Civil) سمجھا جاتا جو شہری حقوق رکھتا، ڈسپلن جانتا، اور قانون کا امانت دار ہوتا۔ اب تو ڈسپلن کا نہ ہونا، اور کرپٹ ہونا ہی سویلین کی پہچان بنتا جا رہا ہے۔

نہ جانے کب وہ سورج طلوع ہو گا جب مذکورہ حدیث کو اس کی روح کے مطابق مان لیا جائے گا اور فوقیت کی دوڑ ختم کر دی جائے گی۔ انسان کو حقوق اور فرائض میں مساوی سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور کوئی بھی عہدہ، نسبت، یا پوشش اس کی برتری یا بدتری ثابت نہیں کرے گی۔

کسی سرخ کو کسی کالے پر، کسی کالے کو کسی سرخ پر۔ کسی گورے کو کسی حبشی پر، کسی حبشی کو کسی گورے پر۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر۔ کسی فوجی کو کسی سویلین پر، کسی سویلین کو کسی فوجی پر۔ کسی فرد کو کسی فرد پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، سوائے کردار کی بنیاد پر۔ جس کا کردار، جس کا اخلاق، جس کا ادب، جس کا فہم، جس کا تقویٰ، اور جس کا تحمل دوسروں سے بہتر ہو گا، اللہ کے ہاں، اور دنیا میں بھی، صرف وہی لائق برتری ہے، اور کوئی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •