ہم کراچی کو پلک جھپکنے میں اڑا سکتے ہیں، سنبھال نہیں سکتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں کل ایک سو ترانوے ممالک اقوام متحدہ کے ممبر ہیں۔ ان میں صرف بہتر ممالک آبادی کے لحاظ سے ہمارے پیارے شہر کراچی، جی صرف کراچی شہر، سے بڑے ہیں، باقی ماندہ ایک سو اکیس ممالک آبادی کے لحاظ سے کراچی یعنی صرف کراچی سے چھوٹے ہیں۔ اس موازنے کے لیے کراچی کی آبادی کے حوالے سرکاری اعداد و شمار استعمال کیے گئے ہیں جس کے مطابق کراچی کی آبادی صرف ایک کروڑ ساٹھ لاکھ بتائی جاتی ہے۔ بہت سے لوگوں کہتے ہیں کہ کراچی کی اصل آبادی ان سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر وہ اعداد و شمار استعمال کیے جائیں تو کراچی سے چھوٹے ممالک کی تعداد اور بھی بڑھ جائے گی۔

اپنے پیارے کراچی شہر کا موازنہ بیلجیم جیسے ملک سے کریں تو پتا چلتا ہے کہ بیلجیم کی کل آبادی ساڑھے گیارہ ملین (ایک کروڑ، دس لاکھ اور پچاس ہزار) یعنی کراچی شہر کی آبادی کا ستر فیصد ہے۔ مزید یہ کہ کراچی کی آبادی جس ریٹ سے بڑھ رہی ہے اسی طرح بڑھتی رہی تو اکتیس سال میں دو گنا یعنی کہ تین کروڑ بیس لاکھ ہو جائے گی۔ جب کہ بیلجیئم کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اگر اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو ایک سو ساٹھ برسوں میں ڈبل ہو کر دو کروڑ تیس لاکھ ہو گی۔ مطلب صاف ہے کہ آبادی بڑھانے کے علاوہ بھی کسی کام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ہم کراچی کو بجٹ کیا دیتے ہیں؟ شہروں اور شہریوں کے کے لیے بجٹ ہمارے پاس کچھ ہے کہاں۔ کہتے ہیں کہ جتنا گڑ ڈالیں گے اتنا ہی میٹھا ہو گا، لیکن گڑ تو ہمارے پاس ہوتا ہی نہیں۔ کیونکہ معاشی یا معاشرتی ترقی ہمارے ایجنڈے پر بہت نیچے ہے اس لیے ہمارے پاس دولت اپنے خرچے پورے کرنے کے لیے انتہائی ناکافی ہے اور جتنی ہے اسے بھی ہم بہت بے دردی سے استعمال بلکہ ضائع کرتے ہیں۔ اور چونکہ معاشی اور معاشرتی ترقی کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے اور غیر ترقیاتی اخراجات یعنی دشمن داری بہت زیادہ ہے تو ادھار بہت لینا پڑتا ہے۔ ہم وہ ادھار اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسی یعنی اختیار بیچ کر لیتے رہے ہیں۔ امریکہ، سعودی عرب، ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف پیسے دیتے ہیں تو شرطیں اور احکامات بھی جاری کرتے ہیں۔ یہاں تک ہمارا وزیراعظم ایک کانفرنس میں شمولیت تک کا فیصلہ خود نہیں کر سکتا۔

ڈالر اور ریال کی ضرورت اور خواہش جوں جوں بڑھتی گئی، پھر قیمت بھی خارجہ اور داخلہ پالیسی سے کہیں آگے بڑھ کر ہمارے بچوں تک پہنچ گئی۔ پچھلے چالیس برسوں میں تو اپنے نوجوانوں کو دوسروں کی جنگوں کا ایندھن بنانا پڑا تاکہ ڈالروں اور ریالوں کی سپلائی نہ رک جائے۔ کیونکہ وہی، یعنی بچے، تو ایک فصل تھی جو بے دریغ اگ رہی تھی۔ ان ڈالروں اور ادھار کے تیل کے بدلے نیم جمہوری حکومتوں کے دو اڑھائی سالہ دور اور مارشل لاؤں کے دس سالہ دور تو گزرتے رہے لیکن قرضے بے دریغ بڑھتے رہے۔

نتیجہ یہ کہ دشمن داری اور قرض داری دو سب سے بڑے خرچے نظر آتے ہیں ہمارے بجٹ کی شیٹ پر۔ کراچی کے لیے تو بچتا ہی کچھ نہیں۔ صرف پیسوں ہی کی کمی نہیں، سوچ اور پلاننگ کا فقدان اس سے بھی بڑھ کر ہے۔

کبھی آپ نے کسی حکومتی محکمے یا نمائندے کو یہ حساب لگاتے سنا کہ کراچی میں ہر روز کتنے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ پانچ سال بعد وہ کون سے سکولوں میں جائیں گے۔ ہر روز کتنے بچے جوان ہو کر لیبر فورس میں اضافہ کرتے ہیں ان کے لیے روگار کہاں ہیں۔ اتنے بڑے شہر کو چلانے کے لیے لوکل گورنمنٹ تک موجود نہیں ہے اور کیا توقع کی جائے۔

کبھی کراچی کے ماضی، حال یا مستقبل کے بارے میں کوئی سنجیدہ بیان سنا جو صرف کراچی کی بھلائی کے لیے ہو اور اس میں مخالفین کے لیے کوئی طعنہ موجود نہ ہو۔ کراچی کے مسائل حل کرنے کی تو کوئی سنجیدہ اور پائیدار کوشش نہیں ہوئی لیکن انہیں بگاڑنے کے لیے بہت کچھ کیا گیا۔ یہ کہانی اب ایک کھلا راز ہے کہ کراچی ایک رہائشی علاقے کی بجائے جنگ کا میدان کیوں بنا رہا۔ بڑے بڑے ڈان اور اسلحے کو کھلی چھٹی کیوں تھی اور کون کون سی حکومت کو اس سے طاقت مل رہا تھی۔

کراچی کے موجودہ مسائل پر توجہ تھی نہ اس کے لیے کوئی وسائل تھے تو متوقع مسائل کی کس کو خبر ہونا تھی۔ دنیا چیخ رہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی بہت خطرناک رفتار سے بڑھ رہی ہے اور پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں اس کے بدترین اثرات ظاہر ہونے کا امکان ہے۔ لیکن اس متوقع آفت سے ہمیں کیا غرض، سوچنے سمجھنے کی طاقت ہے نہ مادی وسائل۔

شہر سے گھریلو یا بارش کے پانی کو نکالنے کے لیے جو فزیکل انفراسٹرکچر موجود ہے اسے ورکنگ حالت میں بحال رکھنے کے لیے حکومت کوئی انتظام نہیں کرتی۔ لوگوں کی اتنی تربیت ہی نہیں کی کہ وہ اسے بلاوجہ یا بوجوہ برباد نہ کریں۔ اس لیے وہ انفراسٹرکچر تو برباد ہو چکا تھا۔ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کے شہر کے لیے ایک سرکاری ایمرجنسی ریسکیو سروس تک کا وجود نہیں۔ ایسی صورت میں شہر پر آفت آئی ہے اور اس نے تباہی مچا دی ہے تو پھر حیرانی کس بات کی۔

اس وقت تو بیان بازی سے بڑھ کر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ آفات سے نمٹنے کے لیے تیاری اور بندوبست بہت پہلے سے کرنا ہوتا ہے اور اسے کرتے رہنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے وسائل اور توجہ درکار ہوتی ہے۔ ادھر ہمارا دھیان ابھی نہیں۔ ابھی ہمارے پاس جو کچھ ہے اس سے کراچی جیسے بڑے شہر کو پلک جھپکنے میں اڑایا تو جا سکتا ہے، سنبھالا نہیں جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 247 posts and counting.See all posts by salim-malik