ٹیلی ویژن ڈراما اور فلم کیسے لکھتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہانی، اسکرین پلے اور مکالمہ، ان تینوں کو ملا کر ٹی وی ڈراما یا فلم لکھی جاتی ہے۔ ہر رائٹر کی خواہش ہوتی ہے کہ اسٹوری بھی اس کی اپنی ہو، ڈائیلاگ بھی اپنے ہوں اور اسکرین پلے بھی اس کا اپنا ہو، مگر یہ تینوں کام الگ الگ اشخاص بھی کر سکتے ہیں۔ یہ تینوں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن فلم یا ڈراما لکھنے میں تینوں میں سے زیادہ اہم اسکرین پلے ہی ہوتا ہے۔ پہلے وقتوں میں بنی خاموش فلمیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ فلم، ڈائیلاگ کے بغیر بھی بن سکتی ہے۔ مکالمہ سب کچھ نہیں، جذبات (ایموشن) اہم ہیں، اس کے بیان کے لیے چاہے خاموشی زباں ہو جائے۔

کیا اسٹوری یا کہانی کے بغیر ڈراما سیریل یا فلم بن سکتی ہے؟ ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک مکمل کہانی نا بھی ہو تو فلم بنائی جا سکتی ہے۔ یا یہ کہ کئی کہانیوں کے ٹکڑے ملا کر، ہندی فلم ”گج گامنی“ کی مثال سامنے کی ہے۔ دوسری صورت، ایسی فلمیں، جن میں الگ الگ کئی کہانیاں ہوتی ہیں، جیسے ہندی فلم ”دس کہانیاں“ ۔ یہ بھی ہے کہ آپ کہانی کسی اور کی لے لیں اور اس پہ فلم یا ٹی وی ڈراما بنا لیں۔

اگر آپ سکرین کے لیے کہانی لکھ رہے ہیں تو سب سے اہم ہے اسکرین کو سمجھنا۔ عکس و آہنگ کے ذریعے آپ وہ دکھا پائیں، جو دکھانا چاہتے ہیں۔

داستان گوئی/اسٹوری ٹیلنگ کیا ہے؟ کسی واقعے کو کرداروں کے ذریعے بیان کرنا اسٹوری ٹیلنگ کہلاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنی بات دنیا تک کیسے پہنچاتے ہیں۔ بہت سے داستان گو گزرے ہیں۔ بڑے کہانی کاروں نے سیکھنے اور سمجھنے کا کام ہمیشہ جاری رکھا۔ سیکھنے کے خواہش مند کو زیادہ سے زیادہ سمجھنا، دیکھنا، اور پڑھنا ہو گا۔ لکھنے والا خود کو فلموں سے، ڈراموں سے، کتابوں سے کاٹ کے رکھے گا تو امکان ہے وہ ایک اچھا مصنف نہیں بن پائے گا۔

کیا کچھ لکھنے سے پہلے پلاننگ ضروری ہے؟ بحیثیت استاد، ہمیں اس بات کا تجربہ ہے کہ ہم نے اپنا سبق سلیبس کے مطابق اچھے سے تیار کیا ہوتا ہے، پہلے سے ورک شیٹ تیار کی ہوتی ہیں، پہلے سے سوال تیار کیے ہوتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں سبق کا مکمل تصور موجود ہوتا ہے۔ ہم اسے آسانی سے بچوں کے اذہان میں منتقل کر سکتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کوئی بھی فیلڈ ہو، پلاننگ بہت اہم ہوتی ہے۔ اسکرین پلے رائٹنگ میں بھی آپ کو پلاننگ کر کے لکھنا ہو گا۔

اسکرپٹ میں ڈائیلاگ (مکالمہ) کی اہمیت کیا ہے؟ اسکرپٹ میں ڈائیلاگ کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن ڈائیلاگ وہاں جنم لیتا ہے، جہاں دو یا دو سے زیادہ لوگ بات چیت کے ذریعے کسی تبدیلی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں، اردو میں مکالمہ لکھنا سکھایا جاتا ہے، نیز بچے انگلش میں ڈائیلاگ رائٹنگ کرتے ہیں۔ وہیں سے انھیں تربیت ملنا شروع ہوتی ہے کہ ڈائیلاگ کیسے لکھنا ہے۔ بطور استاد میں دو بچوں کو آمنے سامنے بٹھا کر کہتی ہوں، آپ ایک پیپر درمیان رکھیں اور قلم پکڑیں۔ آپ میں سے ایک ڈاکٹر اور دوسرا مریض ہے۔ آپ نے آپس میں جو بات چیت کرنی ہے، وہ لکھتے چلے جائیں۔ لکھتے لکھتے ڈاکٹر اپنا مکالمہ مکمل کرے اور مریض اپنا۔ ہم بچوں کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہر ڈائیلاگ (مکالمہ) کا ایک مقصد ہونا چاہیے۔ پھر اختتام ایسے الفاظ پر کرنا ہے کہ بات واضح ہو۔ ڈاکٹر کی نصیحت بھی سامنے آ جائے۔ درزی اور گاہک کے درمیان مکالمہ بھی انھی خطوط پر ہو۔ اسی طرح کنجڑے (سبزی فروش) اور گاہک کے درمیان مکالمہ ہو گا۔

بچے یوں مختلف کرداروں کی زبان، انداز اور لہجے سیکھتے ہیں۔ یہ مکالمے اس لیے نصاب میں شامل کیے جاتے ہیں کہ بچوں کو مکالمہ ابتدائی جماعت سے لکھنا آ جائے۔ اساتذہ ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ ڈائیلاگ (مکالمہ) طویل نہ ہو، بل کہ مختصر ہو۔ جامع ہو۔ جو بات کہنی ہو وہی کی جائے۔ اضافی جملے کاٹ کر فائنل ڈرافٹ تیار کر لیا جائے۔

اسکرپٹ کیسے لکھا جائے؟ انڈیکس کارڈ کیا ہوتے ہیں اور یہ ہماری مدد کیسے کرتے ہیں؟ پروفیشنل، انڈیکس کارڈ کو لکھنے میں سہولت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب آپ کہانی بنانے لگیں تو بجائے سیدھے پیپر پہ لکھنے کے آپ کارڈ کا استعمال کریں۔ مختلف رنگوں کے کارڈ آپ مختلف کرداروں، مختلف سچوایشن یا مختلف مقامات کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

ہم کہانی کو انڈیکس کارڈ کے ذریعے کیسے ڈویلپ کر سکتے ہیں؟ میں ایک کہانی لکھ رہی۔ مثال کے طور پر میرے پاس ایک کارڈ ہے، جس پر میں نے ایک جملے میں کہانی لکھی۔ ”ہیرو نے پینڈمک میں کرونا وائرس، جو اس کے نزدیک مین میڈ وائرس ہے، کی ویکسین کا فارمولا تیار کیا۔ اس میں اسے انسانی خون اور تمام انسانی اعضا کے نمونے درکار ہیں اور وہ یہ تمام نمونے اسی ولن کے جسم سے حاصل کرنا چاہتا ہے، جس نے یہ وائرس تیار کیا۔ وہ اپنے مشن میں کام یاب ہو جاتا ہے۔“

اس کارڈ کو میز پر سب سے اوپر رکھ لیں۔ اس کہانی کو ایک ڈراما سیریل کی چھبیس قسطوں میں پھیلانا ہے، تو میں اس کارڈ کے نیچے اس کہانی کو ٹکڑوں میں چھبیس کارڈوں پہ لکھ لوں گی۔ مثلا: پہلے کارڈ پر ہم نے ہیرو کا تعارف دیا۔ یعنی یہ پہلی قسط ہوئی۔ اس کے ماحول، فیملی بیک گراؤنڈ اور فرینڈز کے بارے میں لکھیں گے۔ دوسرے کارڈ پر، ہیرو کے بائیوٹک انجینئرنگ کے تجربات ہوں گے۔ کیوں کہ وہ ویکسین بنا رہا ہے۔ تیسرے کارڈ پر، جو کچھ پینڈمک کے دوران میں دنیا بھر میں ہو رہا ہے، یعنی تباہ کاری وغیرہ، وہ ہو گا۔ پانچویں کارڈ پہ ہیروئن کا تعارف ہو گیا۔ لو پارٹ یا رومانی عنصر کہانی میں شامل کر دیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ لکھا کہ ہیرو کا دوست مر جائے گا۔ اموات بڑھنا شروع ہو جائیں گی۔ اس طرح مختلف کارڈوں پر کہانی کے مختلف حصے بیان ہوں گے۔

چھٹے حصے میں ہم ہیرو کا ارادہ بتائیں گے کہ وہ اس ’مین میڈ‘ وائرس بنانے والے کو ڈھونڈتا ہے۔ ساتویں حصے میں ہیرو کے ویکسین پر تجربات اور ویکسین کا فیل ہونا دکھائیں گے۔ رومان بھی ہو گا۔ ہیرو کو دوبارہ تجربات سے گزرنا ہو گا۔ چوں کہ ہیروئن بھی بائیوٹک انجینئر ہے، تو وہ دونوں مل کر نئے راستے تلاش کریں گے۔

یوں تمام انڈیکس کارڈ، کہانی کے خاص نکات واضح کریں گے۔ کسی کام کو ٹکڑوں میں تقسیم کریں، تو آسانی رہتی ہے۔ انڈیکس کارڈ ہمیں یہی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

ہم مختلف رنگوں کے کارڈوں کو مختلف کرداروں کی شناخت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر ہیرو کارڈ کا رنگ نیلا رکھا گیا ہے، تو کارڈ دیکھنے سے معلوم ہو جائے گا کہ ڈرامے کے تمام مناظر میں، کتنے میں ہیرو موجود ہے۔ ایسے رنگ کی مدد سے با آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ مناظر کی تقسیم اور کہانی میں ان کے توازن کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

انڈیکس کارڈ، اسٹوری ڈویلپنگ میں بھی مدد دیتے ہیں اور اسکرین پلے میں بھی۔ پینتیس چالیس مناظر کے لیے الگ الگ انڈیکس کارڈ لکھ رکھے ہوں، پھر آرام سے ایک ایک کارڈ کے لیے ڈائیلاگ کمپوز کر لیے جائیں۔ ہدایت یہ ہے کہ انڈیکس کارڈ پر تحریر کو مختصر رکھیں۔ چھہ سات لفظوں سے زیادہ نہ لکھیں۔

اگر کوئی پروفیشنل رائٹر بننا چاہتا ہے۔ فلم، ڈراما، ناول یا افسانہ لکھنا چاہتا ہے، تو دیوار پر ایک سافٹ بورڈ (کاک بورڈ) لگا کے اپنے لیے سہولت پیدا کر سکتا ہیں۔ یہ کاک بورڈ مختلف تجارتی مراکز، دفاتر اور کلاس روم میں لگا ہوتا ہے۔ اس پر ہم کچھ بھی چپکا سکتے ہیں۔ یہ بہت مدد گار ہوتا ہے۔ انڈیکس کارڈ کے ذریعے اپنی ساری میپنگ اور پلاننگ لکھ کے، کاک بورڈ پر چسپاں کی جا سکتی ہے۔

اپنی سہولت کے مطابق عمودی یا افقی انڈیکس کارڈ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یعنی اپنے سامنے میز پر پھیلا کر یا پھر دیوار پہ لگے بورڈ پہ تھم پن کی مدد سے لگا کر۔ انھی کارڈوں پہ اگر کچھ اور شامل کرنا چاہیں، تو اسٹکی نوٹ بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ انڈکس کارڈز کو آگے پیچھے کرنا، کہانی کو درمیان یا کہیں اور سے شروع کرتے ہوئے، آگے پیچھے کے مناظر بیان کرنا، یا کوئی منظر بعد میں شامل کرنا، نکال دینا، یہ لکھنے والے کے ہاتھ میں ہے۔ جتنے کارڈ چاہیں استعمال کریں، باقی زائل کر دیں۔ یہ کارڈ مارکیٹ میں ارزاں نرخوں پہ دست یاب ہیں۔ کارڈ کی جگہ کاغذ کی رنگ برنگی پرچیاں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔

یہ سب آسانیاں، اسکرین پلے سافٹ ویئر بھی دیتے ہیں۔ اردو میں لکھنے کے لیے، اس سافٹ ویئر میں اردو یونی کوڈ کا ٹیکسٹ پیسٹ کرنے کی زحمت گوارا کرنا پڑے گی۔

اسکرپٹ کی تیاری کے کون کون سے مراحل ہوتے ہیں؟ آپ اپنا اسکرپٹ اگر کسی پروڈکشن ہاؤس، ڈائریکٹر یا پروڈیوسر کو پیش کر رہے ہیں، تو خیال رہے آپ کا اسکرپٹ پروفیشنل انداز میں تیار کیا گیا ہو۔ مثلا: یہ چند امور مدنظر رکھیے۔

1: پہلے صفحے پہ نمایاں حروف میں فلم/ڈرامے کا عنوان یا ٹائٹل لکھیں۔ اس کے نیچے مصنف کا نام، پھر ہدایت کار، پیش کار کا نام لکھنا ہو گا۔ یہ سب بولڈ رائٹنگ میں اور نمایاں فونٹ میں لکھیں۔

2: اگلے صفحے پر آپ ایک سے ڈیڑھ صفحہ میں کہانی کی سمری (خلاصہ) لکھیں گے۔

3: ’سائی ناپسس‘ تیار کریں گے۔ یعنی ایک ہی صفحے پہ چند اہم چیزیں لکھیں گے۔ اول نمبر پہ ’لاگ لائن‘ ۔ لاگ لائن فلم میکر، یا پروڈکشن ہاؤس کے لیے ہوتی ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ تیس سے پینتیس الفاظ میں لکھی جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر ایک فلم کی لاگ لائن یہ ہو سکتی ہے : ”تین اندھے اپنی بے مثال تکنیک کی وجہ سے بنک لوٹنے میں کام یاب ہو جائیں گے۔“ لاگ لائن میں چونکا دینے والا عنصر موجود ہونا چاہیے۔ اسی لاگ لائن میں کہانی کے اہم کردار کی خصوصیات بھی بتانا ہوتی ہیں۔

پھر ’ٹیگ لائن‘ لکھیے۔ ٹیگ لائن فلم یا ڈرامے کی پبلسٹی کے لیے ہوتی ہے۔ یوں تو اس کے لیے الگ سے پروفیشنل ہوتے ہیں لیکن اگر لکھنے والا اپنے اسکرپٹ کو جانتے ہوئے لکھ دے گا تو اچھی بات ہے۔ ٹیگ لائن تیکھی ہو، کیوں کہ اس کا مقصد ناظرین کو اپنی طرف مائل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد کہانی کے مرکزی کردار (ہیرو) کو ایک سطر میں بیان کریں۔ اس طرح کہانی کے ولن کو ایک سطر میں بیان کریں۔ پھر کہانی کا مرکزی خیال اور اختتام واضح انداز میں، اس ترتیب سے لکھ دیجیے۔ یہ سب فقط ایک صفحے پہ اتارنا چاہیے۔

4: دوسرے صفحے پہ کہانی کی ’ون لائن‘ دی جائے گی۔ ون لائن اسکرپٹ سے مراد ہے کہ آپ انڈیکس کارڈ پر مختصراً لکھے ایک ایک جملے سے، جتنے جتنے منظر بنانے ہیں، بناتے جائیے اور فی الحال ایک ایک منظر یا منظر میں کیا ہو گا، اس کا احوال مختصراً لکھتے جائیے۔ خیال رہے کہ ہر منظر پر ایک ترتیب سے جلی سرخی دیتے جائیے۔ جیسا کہ منظر نمبر، مقام، وقت، کردار۔ ایک یا دو چار سطروں میں لکھنا ہے کہ اس منظر میں کیا ہو گا۔

5: جب مناظر کی تقسیم ہو گئی تو ’ڈائیلاگ شیٹ‘ تیار کی جاتی ہے۔ ڈائیلاگ شیٹ تیار کرنے کے لیے بس اتنا ہی کرنا ہوتا ہے کہ ون لائن اسکرپٹ ہی کو کاپی پیسٹ کر لیں۔ ہیڈنگ وہی رہیں گی۔ بس جہاں جہاں منظر نمبر بیان کیے گئے تھے، اس تلے ڈائیلاگ لکھنا شروع کر دیے جائیں۔

فارمیٹ کے مطابق اداکاروں کے تاثرات/ حرکات و سکنات لکھی جائیں۔
ذہن نشین رہے، ہر منظر کے اختتام پر ”کٹ“ یا اس کا متبادل ”ڈزالو“ ، ”فیڈ آؤٹ“ وغیرہ، لکھنا ضروری ہے۔

6: اپنی اور ڈائریکٹر کی سہولت کے لیے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک ماہر کی طرح کام کرنے کے لیے ’کیریکٹر شیٹ‘ بھی ساتھ ساتھ تیار کرنی چاہیے۔ ایک چارٹ کی صورت میں ’کردار نگاری‘ کیجیے۔ اس میں کردار کا حلیہ، عمر، تعلیم، فکر، پیشہ، ماحول، نفسیات وغیرہ، لکھی جانی چاہیے۔ کہانی میں وقت یا کردار کی عمر اور عمر کے ساتھ کردار کا حلیہ بدلتا چلا جاتا ہے، تو وہ بھی اس چارٹ میں درج کیا جانا چاہیے۔

7: ان کے بعد ’شیڈول شیٹ‘ آتی ہے۔ شیڈول شیٹ میں لوکیشن، کردار اور بجٹ وغیرہ ہوتا ہے۔ یہ سبھی ایک پروفیشنل رائٹر کو معلوم ہونا چاہیے۔ وہ جانتا ہو کہ اس کے لکھے کا کیا بجٹ ہو گا۔ کتنے منظر ان ڈور، کتنے آؤٹ ڈور میں رکارڈ ہوں گے۔ وغیرہ۔ اگر چہ ’شیڈول شیٹ‘ ، رائٹر کو بنانے کی ضرورت نہیں، مگر پھر یہ ضروری ہے کہ رائٹر یہ تمام معلومات رکھتا ہو۔

8: اگلا نمبر ’شاٹ لسٹ‘ (Shot List) کا ہے۔ شاٹ لسٹ میں آپ کلوز شاٹ، میڈیم شاٹ اور وائڈ شاٹ لکھ سکتے ہیں۔ آپ کیمرے کی موومنٹ بھی لکھ سکتے ہیں، مگر یہ شاٹ لسٹنگ اور شیڈول شیٹ دونوں در اصل ڈائریکٹر کی جاب ہے۔

اسکرپٹ رائٹنگ میں سافٹ وئیر ہماری کیا مدد کرتے ہیں؟ گو کہ اسکرپٹ رائٹنگ کے لیے بے شمار سافٹ وئیر موجود ہیں، لیکن انٹر نیٹ سے سرچ کریں، تو ٹاپ لسٹڈ چار پانچ سافٹ ویئر نمایاں ہیں۔ یونی کوڈ میں اردو ٹائپنگ کر کے ان سافٹ ویئرز سے ہر طرح کی مدد لی جا سکتی ہے۔ مثلا: فائنل ڈرافٹ 10 ہے۔ اس کی مدد سے مناظر کو پھر سے ترتیب دے سکتے ہیں اور اپنی اسٹوری کو ڈویلپ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح سیل ٹکس سافٹ ویئر میں کریکٹرز پر زیادہ کام کر سکتے ہیں۔ یہ سافٹ ویئر گروپ رائٹنگ کی سہولت بھی دیتا ہے۔ دو لوگ مل کر آسانی سے ایک ڈراما، فلم لکھ سکتے ہیں۔

یہ ہوئے تکنیکی امور، اس کے علاوہ اس بات کا خاص دھیان رکھیے کہ آپ جس یانرا میں لکھ سکتے ہیں، اسی میں لکھیے۔ ہر شخص کامیڈی، ٹریجڈی، ایکشن، تھرلر سب کچھ نہیں لکھ سکتا۔ آپ کسی ایک یا دو میں ہی مہارت رکھتے ہیں۔ اپنا آپ پہچانیے اور اسی میں لکھیے۔

ہر یانرا کا ایک ردھم ہوتا ہے، ایک رفتار ہوتی ہے۔ اس کا بھی خیال رہے۔ جو بھی لکھیے، کوشش کر کے اپنا منفرد اسلوب بنائیے۔
مندرجہ بالا نکات ذہن میں رکھتے، ایک پروفیشنل اپروچ اپنائی جائے تو معیار و مقدار کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔

یہ آرٹیکل ’ظفر عمران اسکول آف فلم اینڈ ڈراما‘ میں دیے گئے آن لائن لیکچر کی تلخیص ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •