عمران خان کو میڈیا کے ’غنڈوں‘ سے بچاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی میڈیا سے بچاؤ کی دہائی دی ہے اور کہا ہے کہ اس وقت ملک کا میڈیا نہیں بلکہ وہ اور ان کی حکومت کے وزیر غیر محفوظ ہیں جن پر کوئی بھی الزام لگا دیا جاتا ہے۔ ’اگر ہم برطانیہ جیسے ملک میں حکومت کررہے ہوتے تو ان الزامات کی وجہ سے ہمیں کئی کئی ملین ہرجانہ مل چکا ہوتا‘۔ عمران خان کی یہ خواہش تو پوری نہیں ہوسکتی کیوں کہ ’بدنصیبی‘ سے وہ ایڑیاں رگڑ کے صرف پاکستان کے وزیر اعظم ہی بن پائے ہیں لیکن ان سے یہ استفسار تو کیا جاسکتا ہے کہ جو شخص خود اپنی عزت کی حفاظت نہیں کرسکتا، وہ قوم اور ملک کے 22 کروڑ شہریوں کی حفاظت کیسے کرسکتا ہے؟

جو وزیر اعظم اپنے منہ سے بے بسی اور لاچارگی کا اظہار کررہا ہو، حیرانی ہے کہ اس کے بیان پر رویا جائے یا ہنسا جائے۔ قانون بنانا اور اپنے زیر انتظام اداروں کے ذریعے ان قوانین کو نافذ کروانا کسی بھی حکومت اور اس کے سربراہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ تاہم جب وہ حقیقت حال سے انکار کرتے ہوئے خود اپنے ’مظلوم ‘ ہونے کی کہانی سنانے پر مجبور ہوچکا ہو تو ایسے وزیر اعظم کو یہی مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ جس ملک برطانیہ کی مثال دے کر وہ خود کو ’میڈیا کے غنڈوں‘ سے محفوظ رکھنے کی فریاد کررہے ہیں، وہاں ستر سال کی عمر کو پہنچنے والے سیاست دان حکومتی تو کیا پارٹی سیاست میں بھی متحرک نہیں رہتے۔ اگر عمران خان خود کو اس قدر غیرمحفوظ محسوس کرتے ہیں تو انہیں آرام سے گھر بیٹھنے اور سیاست سے تائب ہونے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

کسی وزیر اعظم کے بارے میں یہ کہنا نہایت نامناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔ لیکن میڈیا کے حوالے سے باتیں کرتے ہوئے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں میڈیا کو ملک کی تاریخ کی سب سے زیادہ آزادی حاصل ہے۔ اوّل تو یہ کوئی وضاحت نہیں ہے کہ ان کے دور میں میڈیا کو سابقہ ادوار سے زیادہ آزادی حاصل ہے کیوں کہ آزادی صحافت کے حوالے سے پاکستان کا کوئی بھی دور درخشاں نہیں رہا لیکن عام طور سے موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کو جس دباؤ، سنسر شپ، خوف، دھمکیوں اور استحصال کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی مثال شاید جنرل (ر) ضیا کے مارشل لا دور میں بھی نہیں ملتی۔ ضیا حکومت اگر میڈیا اور صحافیوں کے خلاف تھی تو وہ اسے چھپانے یا اس سے انکار کی کوشش بھی نہیں کرتی تھی۔ عمران خان 2020 میں وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے باوجود میڈیا کی اہمیت، اس کی خود مختاری اور صحافیوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں زمینی حقائق سے انکار کرنے میں کسی قسم کی جھجک محسوس نہیں کرتے۔

حقیقت حال مگر یہ ہے کہ ملک کے سارے بڑے میڈیا گروپس کو یکے بعد دیگرے حکومت کا غیر سرکاری ’ترجمان‘ بننے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ رہی سہی کسر مارچ میں ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ و جیو کے مالک و چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرکے پوری کردی گئی ہے۔ نیب نے ایک فرسودہ، بے بنیاد اور جعلی مقدمے میں میر صاحب کو حراست میں رکھا ہؤا ہے ۔ نہ انہیں رہا کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف ریفرنس لا کر عدالتی فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نیب کی خود مختاری کی دعوے دار تحریک انصاف کی حکومت نے اس گرفتاری کے خلاف ایک لفظ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیوں کہ جنگ و جیو سے عمران خان کی عداوت اور دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

ملک میں میڈیا کے متعدد ادارے بند ہوچکے ہیں اور بہت سے اداروں میں یا تو صحافیوں اور دیگر کارکنوں کی تعداد کم کردی گئی ہے یا انہیں کئی کئی ماہ تک تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں لیکن انصاف عام کرنے والے وزیر اعظم کو یہ ناانصافی دکھائی نہیں دیتی۔ خوف و ہراس کی موجودہ فضا میں کوئی میڈیا ایسی کوئی خبر شائع یا نشر کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا جس سے حکمرانوں کی جبیں شکن آلود ہونے کا امکان ہو۔ اس کی تازہ ترین مثال وزیر اعظم کے معاون خصوصی اطلاعات اور سی پیک اتھارٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اہل خاندان کے اثاثوں کے بارے میں سامنے آنے والی خبر کا پاکستان میں بلیک آؤٹ ہے۔ سوشل میڈیا پروپیگنڈا بریگیڈ کے ذریعے یہ رپورٹ دینے والے صحافی احمد نورانی کی کردار کشی کی گئی اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ صحافیوں کے ساتھ برتے جانے والے اس ’حسن سلوک‘ کی شہادت پاکستان بار کونسل، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے ایک مشترکہ بیان میں فراہم کردی گئی ہے۔

اس وقت پاکستان میں متعدد نامور اور برس ہا برس تک صحافت میں خدمات سرانجام دینے والے صحافیوں اور اینکرز کو بے روزگاری کا سامنا ہے۔ کوئی میڈیا ہاؤس انہیں کام دینے کے لئے تیار نہیں ہے کیوں کہ انہیں ملازم رکھنے سے حکمرانوں کے ناراض ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان میں سے کچھ یو ٹیوب چینلز کے ذریعے روزگار کمانے کی جد و جہد کرتے ہیں لیکن وہاں بھی ان کا راستہ روکنے کے لئے تازہ بہ تازہ سرکاری معلومات اور قوم پرستی کے جذبات سے معمور چینلز کی بھرمار کردی گئی ہے۔ قومی مزاج کو ارتغرل جیسے ڈرامے دکھا کر اور قوم پرستی کا سلیبس پڑھا کر ہر ایسی رائے سننے سے معذور کردیا گیا ہے جس میں دلیل، حقیقت اور توازن کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہو۔ ملک میں ہزاروں صحافی گزشتہ چند برس کے دوران بیروزگار ہوئے ہیں اور تعلیم یافتہ نوجوان صحافی ٹیکسی یا دکان چلانے جیسے کام کے ذریعے پیٹ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

عمران خان کی حکمرانی میں میڈیا کو ’ وسیع آزادی ‘ دینے ہی کا نتیجہ ہے کہ ملک کا شاید ہی کوئی ممتاز اور قابل ذکر کالم نگار ہوگا جس کی تحریر اس کے ادارے نے ’ناقابل اشاعت‘ قرار دے کر مسترد نہ کی ہو۔ اخباروں کا گلا گھونٹنے کے لئے وزارت اطلاعات کی اشتہار دینے کی طاقت کو بروئے کار لایا گیا ہے اور ٹیلی ویژن نشریات کی نگرانی کے لئے پیمرا کے ذریعے پھندا تیار کیا گیا ہے جو کسی بھی خبر یا پروگرام کو بہانہ بنا کر نشریات بھی بند کرتا ہے اور بھاری بھر کم جرمانے بھی عائدکرتا ہے۔ نیم خود مختاری کا تقاضہ کرنے والے اداروں کو معاشی دباؤ اور دیگر قانونی الجھنوں میں گرفتار کیا جاتا ہے۔ لیکن وزیر اعظم کا دعویٰ ہے کہ وہ تو آزاد میڈیا کے حامی ہیں۔ تاہم ایک صحافی کے اغوا پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ’بس چند گھنٹوں کے لئے اٹھایا گیا تھا‘۔ گویا کسی صحافی کی آزادی سلب کرنے کے لئے چند گھنٹے کافی نہیں بلکہ اس کی مدت اتنی تو ہونی چاہئے کہ خبر سرکاری بیوروکریسی کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے وزیر اعظم کے کانوں تک پہنچ جائے۔ سمجھنا چاہئے کہ مطیع اللہ جان نے کیوں عمران خان کی اس گفتگو کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے ۔

الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں صرف میڈیا ہی نہیں ہر شعبہ کے بارے میں عمران خان کی گفتگو عدم توازن کا شکار اور حقیقت حال سے برعکس ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فوج ہر معاملہ میں حکومت کے ساتھ ہے۔ اس کے بعد کشمیر اور افغانستان کا حوالہ دیا ہے جس پر فوج حکومت کی پالیسی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں معاونت کررہی ہے۔ پاکستان میں پرائمری اسکول کا بچہ بھی یہ بتا سکتا ہے کہ ملک میں کشمیر اور افغانستان کے بارے میں پالیسی کہاں بنتی ہے۔ اسی سانس میں وزیر اعظم اعتراف کرتے ہیں کہ ’کشمیر ایک متنازع علاقہ تھا لیکن بھارت نے گزشتہ سال 5 اگست کو اس پر قبضہ کر لیا‘۔ گویا وہ تسلیم کررہے ہیں کہ کشمیر کو ان کے دور حکومت میں کھو دیا گیا لیکن قوم سے خطاب یا ٹوئٹ پیغامات میں وہ خود کو کشمیریوں کا سفیر بنا کر پیش کرنے سے کم پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود ’دنیا کشمیر کے معاملہ پر پاکستان کی بات نہیں سنتی کیوں کہ بھارت کے ساتھ انہیں اپنے معاشی مفادات عزیز ہیں‘۔ تاہم ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ ’ہم شور مچاتے رہیں گے‘۔

پاکستانی عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ جو بات پوری دنیا کو دکھائی دیتی ہے، اس سے وزیر اعظم اور ان کی حکومت پاکستانی عوام کو کیوں بے خبر رکھتی رہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ معاشی حیثیت مستحکم کرنے سے حل ہوگا، شور مچانے اور مودی حکومت کو صلواتیں سنانے سے اس میں پیش رفت نہیں ہوگی۔ دو ہفتے پہلے ملک کے وزیر خارجہ ایک ٹی وی انٹرویو میں سعودی عرب کو کشمیر کے مسئلہ پر ’متنبہ‘ کررہے تھے اور اس ہفتے کے شروع میں سعودی سفیر نواف بن المالکی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد وزارت خارجہ نے جو بیان جاری کیا ہے، اس میں کشمیر کے حوالے سے ایک لفظ بھی شامل نہیں ہے۔ البتہ یہ واضح کیا گیا ہے کہ ’پاکستان، سعودی عرب پر یمن کے حوثی قبائل کے حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے‘۔ وزیر اعظم الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو کے ذریعے دنیا کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ ایک دوسرے کے دوست رہیں گے۔

انٹرویو میں وزیر اعظم نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں کرپشن کا کوئی میگا اسکینڈل سامنے نہیں آیا کیوں کہ بالائی سطح پر کرپشن کا قلع قمع ہوچکا ہے۔ یہ انٹرویو ضرور چند روز پہلے لیا گیا ہوگا لیکن عوام اسے ایک ایسے وقت میں سن اور پڑھ رہے ہیں جب وزیر اعظم کے معاون خصوصی اطلاعات اپنے اہل خاندان کے اثاثوں کی وضاحت جاری کرنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرچکے ہیں۔ کیا اس کے بعد عمران خان کو الجزیرہ کے ذریعے جاری کئے گئے بیان پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہو گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1766 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali