صحافت، سیاست اور کراچی کا پانی
کورونا کی وبا ختم ہوئی تو کراچی پانی میں ڈوب گیا۔ دونوں مرتبہ سیاستدانوں نے جوشیلے بیانات اور الزام تراشیوں کے انبار لگا دیئے۔ ٹی وی چینلز پر خوب مجالس سجیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی ممالک کی نسبت پاکستان نے جلد اس وبا پر قابو پایا ہے۔ ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتیں اور جو ادارے اس سلسلہ میں کام کر رہے تھے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔ کورونا کا مقابلہ وائرولوجی کے ماہرین نے یا طبی عملہ نے کرنا تھا۔ کئی ترقی یافتہ ممالک میں ان ممالک کے قانون ساز اداروں کی کمیٹیوں میں ڈاکٹروں اور اس میدان کے دیگر ماہرین کو بلایا گیا تاکہ ان سے مشورہ کیا جا سکے۔ لیکن ہماری قومی اسمبلی کی صحت کی کمیٹی میں تاجروں کے نمائندوں کو تو بلایا گیا لیکن اس میدان کے ماہرین سے مشورہ لینے کا تکلف نہیں کیا گیا۔ اور اکثر ٹی وی چینلز کو دیکھ کر لگتا تھا کہ کورونا سے بچائو کا یہی طریقہ ہے کہ سارا دن مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے آپس میں لڑتے رہیں۔
یہ نہ تو اس قسم کے وائرس کی پہلی وبا ہے اور نہ آخری ہو گی۔ اس وبا سے قبل 2003 میں سارس کی وبا چھبیس ممالک کو اور 2012 میں مرس کی وبا 27 ممالک کو متاثر کر چکی ہے۔ اس لئے مناسب ہوگا کہ اس کے ختم ہونے کے بعد جائزہ لیا جائے کہ ہم سے کیا کیا غلطیاں ہوئی ہیں؟ آئندہ ایسی صورت حال پیدا ہو تو ہم کس طرح اس سے نمٹ سکتے ہیں؟ ٹسٹ کرنے کی صلاحیت کو کس طرح جلد بڑھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں اگر ویکسین بنانی پڑی تو کس طرح بنائی جائے گی؟ جب یہ وبا شروع ہوئی تو سب نے طبی سہولیات کے فقدان کا ماتم کیا۔ لیکن یہ نتیجہ تھا اس غلطی کا کہ ہم نے کبھی اپنی آمدنی کے لحاظ سے بھی طبی سہولیات پر مناسب بجٹ خرچ نہیں کیا۔ لیکن سیاستدانوں صحافیوں اور عوام میں سے کتنے تھے جو اس کے خلاف آواز بلند کرتے رہے تھے۔ جب وبا پھیلنی شروع ہو گئی تب یہ آواز بلند کرنا بے کار تھا۔
اب کراچی کے سیلاب کی مثال لے لیں۔ کیا یہ اچانک اور غیر متوقع آفت ہے؟ کراچی میں اس سال اگست کے مہینے میں ریکارڈ 587 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ اور ایک دن میں زیادہ بارش کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا جب بارہ گھنٹے میں231 ملی میٹر بارش نے تباہی مچا دی۔ کہتے ہیں کہ یہ نوے سال کے دوران ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ بارش ہے۔
اگر ہم 1995 سے لے کر 2015 تک کے ریکارڈ کا جائزہ لیں تو اس دوران کسی پورے سال میں کراچی میں اتنی بارش نہیں ہوئی جتنی اس سال صرف اگست کے مہینے میں ہوئی ہے۔ اور ان دو دہائیوں میں ایک ہی روز میں ہونے والی زیادہ سے زیادہ بارش صرف 124 میلی میٹر تھی۔ اور جو اس سال کے ریکارڈ سے تقریبا آدھی تھی۔ اس لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے اور دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں بھی یہ صورت حال پیدا ہوتی تو سیلاب اور تباہی کا سامنا کرنا پڑتا۔
جب ہمارے سیاستدان اس سیلاب پر تبصرے کر رہے ہوتے ہیں یا ہمارا میڈیا اس حوالے سے سنسنی خیز خبریں نشر کر رہا ہوتا ہے تو اکثر اس پہلو کا ذکر نہیں کرتا اور اس طرح عوام اس آگاہی سے محروم رہ جاتےہیں جو کہ اس تباہی کا سامنا کرنے کے لئے ضروری ہے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ وہ مسئلہ ہے جس کے بارے میں خود پاکستان کے محققین نے بار بار یہ پیشگوئی کی تھی کہ یہ مسئلہ بڑھتا ہی جائے گا۔ اور یہ مسئلہ ہم خود پیدا کر رہے ہیں۔ اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس تباہی کی شدت کے پیچھے ہماری حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی اور قومی مزاج کا بھی بہت دخل ہے۔ بہت سے محققین اس بات کے پیشگوئی کر چکے تھے کہ ہم یہ مسئلہ خود پیدا کر رہے ہیں اور یہ وقت کے ساتھ بڑھتا جائے گا۔
کراچی کے پانی کا نکاس تین دریائوں یعنی ملیر حب اور لیاری کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ پانی ایک ندی اور براہ راست سمندر میں بھی جاتا ہے۔ بہت سے آبی راستے ان تین دریائوں میں پانی ڈالتے ہیں اور دریا ئوں سے یہ پانی سمندر میں داخل ہوتا ہے۔ اس وقت میرے سامنے دو پاکستانی ریسرچ پیپر ہیں۔ اور ان کے حوالے درج کر دیئے جائیں گے۔ ان میں ایک چھ سال اور ایک سال پہلے یہ تجزیہ کیا گیا ہے کہ اکثر مقامات پر کراچی کے آبی راستے تنگ ہوتے جا رہے ہیں اور بعض مقامات پر یہ آبی راستے بند بھی ہو چکے ہیں۔
ان آبی راستوں کے بند ہونے کی ایک اہم وجوہات یہ ہیں کہ یا تو ان میں فصلیں اگا کر یا عمارتیں تعمیر کر کے ان کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ ان آبی راستوں میں مقامی حکومت کی اجازت سے بھی تعمیرات کی گئی ہیں اور بغیر اجازت کے ناجائز تجاوزات کے طور پر بھی بہت سے گھر بنائے گئے ہیں۔ اگر کسی شہر میں آبی راستوں کو بند کیا جائے خواہ یہ راستے کسی لینڈ مافیا کی عمارت سے بند ہوں یا غریب کی جھونپڑی سے تو سیلاب تو آئے گا۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا جائے تو ملک بھر کے میڈیا میں شور مچ جاتا ہے کہ غریب کے سر سے چھت چھین لی گئی اور جب سیلاب آجائے تو یہی میڈیا یہ شور مچانے لگ جاتا ہے کہ غریبوں کی جمع پونجی بہہ گئی۔ حکومت کیا کر رہی ہے۔ حالانکہ یہی غلطی اس المیے کو جنم دیتی ہے۔
کراچی میں دو کروڑ لوگ بستے ہیں۔ اگر آئندہ اس قسم کی تباہیوں کو روکنا ہے تو غریب کی جھونپڑی ہو یا کئی منزلہ پلازا ، ناجائز تجاوزات کو سختی سے ختم کرنا ہو گا۔ اور شہر کی مقامی حکومتوں کی نگرانی کرنی ہو گی کہ وہ کسی آبی راستے میں کسی قسم کی تعمیر کی اجازت نہ دیں۔ اگر آبی راستے کھلے ہوتے تو یہ سیلاب تو شاید آتا لیکن اتنا زیادہ نقصان نہ ہوتا جتنا اب ہو رہا ہے۔
کچھ عرصہ بلاول بھٹو صاحب نے ایک جملہ کہا تھا کہ "جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے۔” ایک سے زاید مرتبہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اس جملے کی طنزیہ نقل اتار کر دکھائی۔ اور جب انہوں نے قومی اسمبلی میں یہ نقل اتاری تو تحریک انصاف کے ممبران نے وفادارانہ ہنسی کے ساتھ اس کا خیر مقدم کیا۔ بلاول صاحب کے بیان میں اس مسئلہ کا کوئی تجزیہ نہیں تھا اور انہیں یہ تجزیہ بیان کرنا چاہیے تھا۔ لیکن جوابی طنزو مزاح میں بھی اس مسئلہ کا نہ کوئی تجزیہ بیان کیا گیا تھا اور نہ ہی کوئی حل تجویز کیا گیا تھا۔ اسی روح سے سرشار ہو کر کراچی کے رخصت ہونے والے میئر نے ہوا میں اپنے خط اچھال کر دکھائے۔
جب یہ معزز ممبران قومی اسمبلی میں تشریف فرما ہوں تو کالج کے نوخیز لڑکوں کی طرح طنز و مزاح کرنا کافی نہیں ہوتا۔ کوئی ٹھوس پروگرام پیش کرنا چاہیے۔ اور میئر صاحب کو یہ جواب دینا چاہیے کہ انہوں نے اپنے دور میں آبی راستوں کو بحال کیوں نہیں کیا؟ کراچی کے عوام کو چاہیے کہ آئندہ انتخابات میں ان لوگوں کو ووٹ دیں جو اتنے بڑے شہر کے مسائل کو سائنسی طریقوں پر حل کرنے کی ذہنی صلاحیتیں رکھتے ہوں۔
(Zafar, S., Zaidi, A. Impact of urbanization on basin hydrology: a case study of the Malir Basin, Karachi, Pakistan. Reg Environ Change 19, 1815–1827 – 2019)
(Land use Changes and their Impacts on Natural Drainage System of Malir River Basin. July 2015.Journal of Space Technology V(1) : 77-8)


