عمران خان نے عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کر دیا
وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
نجی ٹی وی جیونیو ز کے مطابق عاصم سلیم باجوہ نے آج وزیراعظم عمران خان کو معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ پیش کر دیا تھا جسے وزیراعظم نے قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جو ثبوت اور وضاحت پیش کی گئی ہے وہ اس سے مطمئن ہیں۔ عمران خان نے عاصم سلیم باجوہ کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے اور عہدہ برقرار رکھنے کا کہا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز عاصم سلیم باجوہ نے گزشتہ روز معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے پاس ہر چیز کا 100 فیصد دستاویزی ریکارڈ موجود ہے۔
گزشتہ روز نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ کمپنیوں میں جس کا جتنا شیئر تھا اسی حساب سے منافع ملا ہو گا۔ کچھ پرافٹ آئے لیکن زیادہ تر پیسے بینک کے قرض کی ادائیگی میں گئے ہیں، 70 میں سے 60 ملین ڈالر بینک کا قرضہ تھا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بینک کو کتنا حصہ جاتا رہا ہوگا۔
اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ نے ان سے سوال پوچھا کہ اگر آپ کی اہلیہ نے یکم جون کو پیسے بزنس سے نکال لیے تو وہ پیسے کہاں گئے، کیا وہ پاکستان آئے؟
اس سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ کون سے پیسے کہاں سے کدھر گئے، ہر چیز 100 فیصد ڈاکیومنٹڈ ہے، "میرے پاس سارا ریکارڈ موجود ہے، میں نے 4 سے 5 دن لیے ہیں، میں نے بڑی تسلی کی، میں نے امریکہ سے تمام دستاویزات منگوائیں، بھائیوں سے تفصیلات لیں اور ساری چیزوں کو سمجھا اور انہیں اپنے ٹیکس ایڈوائزر کو دکھایا۔”
واضح رہے کہ اس سے قبل لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے صحافی احمد نورانی کی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ احمد نورانی نے 27 اگست کو نامعلوم ویب سائٹ پر میرے بار ے میں خبر بریک کی، احمد نورانی کی خبر کی سختی سے تردید کرتا ہوں اور غلط قرار دیتا ہوں‘۔ اللہ کا شکر ہے میرے اور اہل خانہ کے خلاف الزامات کی کوشش بے نقاب ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ عزت اور وقار کے ساتھ ملک کی خدمت کرتا رہوں گا۔


