خدا ہماری مدد کو آ گیا اور اکھنور بچ گیا: بھارتی جنرل جوگندر سنگھ


درسی تاریخ یہ ہی بتاتی ہے کہ 6 ستمبر 1965 کی صبح لاہور کے لوگ باہر نکلے تو ان کے مشاہدے میں یہ آیا کہ مکار دشمن نے رات کی تاریکی میں لاہو ر پہ حملہ کر دیا ہے۔ اس دوران صدر مملکت ایوب خان کا مختصر خطاب بھی ریڈیو پہ نشر ہو چکا تھا۔ لیکن یہ بات کس حد تک درست ہے کہ یہ حملہ بھارت کی جانب سے جنگی پہل تھی اس کا درسی کتب کی حد تک اس کا جواب کہیں موجود نہیں ہے۔ اس کی زیادہ تر تفصیلات بھی انہی ذرائع سے ملتی ہیں جن کے دباؤ سے مطالعہ پاکستان کو اس جامع تطہیر سے گزارا گیا ہے کہ آج کوئی دوسرا نقطہ نظر ہی نظر نہیں آتا۔

کیا 1965 کی جنگ بھارت کی جارحیت تھی؟ کیا اسباب تھے کہ بھارت کو انٹرنیشنل بارڈر کراس کرکے پاکستان پہ حملہ کر دیا؟ ان سوالات کی کھوج میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل موسیٰ کی کتاب My Version اس وقت کے سیکریٹری انفارمیشن الطاف گوہر کی کتاب پاکستان کا پہلا فوجی حکمران، اس وقت کے ڈی جی ملٹری آپریشن جنرل گل حسن کی کتاب Memoirs of Lt. Gen. Gul Hassan اور سید سجاد حیدر کی کتاب The Flight of Falcon نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔

سید سجاد حیدر پاکستان ایئر فورس کے ان مایہ ناز فائٹر ہوابازوں میں سے ایک ہیں جن کی بدولت 1965 کی جنگ میں پی۔ ائے۔ ایف نے بھارت پہ اپنی برتری کی دھاک بیٹھا دی تھی۔ یہ سرفراز رفیقی، شمیم احمد، مسعود خان، ملک سہیل، محمود چونڑا، محمد اقبال، ارشد چودھری اور وقار عظیم کے ساتھیوں میں سے تھے۔ یہ کتاب 2010 میں چھپی۔ جس میں انہوں نے 1965 اور 1971 کی جنگوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں تجزیہ کے ساتھ ساتھ ایئر فورس میں ان کے ذاتی جذبات، مقاصد، اس دور کی ہم عصر رقابتوں، سازشوں کے ساتھ ساتھ پاکستان ایئر فورس کا بطور ادارہ ایک شاندار تجزیہ کیا ہے۔

1965 کی جنگ کے اسباب میں 1999 میں جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے آپریشن کارگل کی طرز پہ کیا جانے والا آپریشن جبرالٹر اور آپریشن گرینڈ سلام نہایت اہم ہیں۔ اس آپریشن کی تفصیلات نصاب سے اسی طرح غائب ہیں جیسے کارگل کی۔ یہ آپریشن کیوں ہوا؟ اس کی کارروائی کی تفصیلات اور اس کے نتائج کیا نکلے؟ اگر یہ کامیاب آپریشن تھا تو یوم دفاع کی تقریبات سے اس کا ذکر غائب کیوں ہوتا ہے؟ اگر یہ ناکام آپریشن تھا تو اس کے ذمہ داران کا تعین کرنا خاصا دلچسپ ہے۔

سید سجاد حیدر کے مطابق رن کچھ میں پاک بھارت جھڑپوں کے فوراً بعد اپریل۔ مئی 1965 ء میں پاکستان آرمی نے مقبوضہ وادیٔ کشمیر اور سرینگر پر قبضہ کرنے کے لیے گوریلا جنگ کی منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا۔ فیصلہ کن اجلاس بری فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل موسیٰ کی صدارت میں ہوا جس میں بری فوج کے تمام اہم افسران اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو بھی موجود تھے۔ اس سے قبل صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان کو اعتماد میں لے لیا گیا تھا۔ کشمیر کمیٹی نے عزیز احمد کی صدارت میں آپریشن جبرالٹر کی منظوری کا اشارہ دے دیا۔ سرکاری سطح پر بین الاقوامی سرحدوں کے احترام اور عدم مداخلت کے موقف کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور وزارت خارجہ کی ہدایت پر ”آہستہ چلو اور دشمن کو مشتعل نہ کرو“ کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔

یہ ایک متضاد، ناقص اور احمقانہ پالیسی تھی کیونکہ مقبوضہ وادی میں آٹھ ہزار مجاہدین کے داخل ہونے اور گوریلا جنگ کی کارروائیوں کے بعد دشمن بھلا کیسے مشتعل نہ ہوتا۔ کیونکہ جنرل موسیٰ نے اپنی کتاب ”میرا موقف“ (My Version) میں اصرار کیا ہے کہ انھوں نے صدر ایوب کو خبردار کر دیا تھا کہ یہ خفیہ کارروائیاں بھارت کے ساتھ جنگ میں تبدیل ہوجائیں گی لیکن عملی طور پر فوجی قیادت ضرورت سے زیادہ پراعتمادی کا مظاہرہ کررہی تھی اور یقین رکھتی تھی کہ بھارت کی فوج میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ پاکستان کا مقابلہ کرسکے۔

اس لیے جب صدر ایوب نے کشمیر میں آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا تو جنرل موسیٰ نے کوئی اختلاف یا احتجاج نہ کیا، اور پاکستان آرمی کے بیش قیمت کمانڈوز، آزاد کشمیر رجمنٹ کے فوجی دستوں اور آزاد کشمیر کے نوجوان رضا کاروں کو مختصر تربیت کے بعد جنگ میں جھونک دیا تاکہ کشمیر میں طویل عرصے تک گوریلا جنگ اور باغیانہ کارروائیوں کو جاری رکھا جاسکے۔

اصل میں 1962 کی تبت جنگ میں شکست کے بعد کمیونیسٹ چین کا اثر بڑھنا شروع ہوا تو امریکہ نے بھارت کی عسکری قوت پہ انویسٹمنٹ شروع کر دی تھی۔ اس وقت کی پاکستانی قیادت نے یہ محسوس کیا کہ اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو کچھ وقت کے بعد طاقت کا توازن بھارت کے حق میں چلا جائے گا۔ جس کے بعد کشمیر پہ استصواب رائے کے لیے بھارت کو قائل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس لیے اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور سیکریٹری خارجہ عزیز احمد نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے گوریلا جنگ کا منصوبہ بنایا۔

اس منصوبے کا نام آپریشن جبرالٹر رکھا۔ الطاف گوہر نے لکھا کہ رن آف کچھ پر جنگ بندی سے قبل ایوب کشمیر میں گوریلا جنگ کے منصوبے کا جائزہ لینے آئے۔ اکھنور پر قبضہ کر کے دشمن کی گردن دبوچنے کی بابت آپریشن کے کمانڈر جنرل اختر حسین ملک سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ مالی وسائل زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے منصوبے میں شامل نہیں کیا گیا۔ مطلوبہ اخراجات کی منظوری صدر ایوب خان نے دی تو اس قبضے کے لیے آپریشن کو گرینڈ سلام کا نام دیا گیا۔

اس منصوبے کو مجموعی طور پہ آپریشن جبرالٹر اور گرینڈ سلام کا نام دیا گیا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ بغیر مکمل تیاری کے آپریشن شروع کر دیا جائے۔ اگرگوریلاجنگ کی کارروائیاں شروع کرنے سے پہلے کشمیر کے اندر حریت پسندوں کا مضبوط نیٹ ورک قائم کیا جاتا اور بھارت کے آمرانہ قبضے کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے سربکف مجاہدین کو گوریلا جنگ کی مکمل تربیت دی جاتی تو شاید تاریخ مختلف طریقے سے لکھی جاتی۔ صدر ایوب کو یقین تھا کہ کشمیر میں مجوزہ کارروائیوں کی وجہ سے بھارت بین الاقوامی سرحد کے پار پاکستان پر حملہ نہیں کرے گا۔

کم از کم وزیر خارجہ بھٹو نے امریکی ایما پر ان کو یہی یقین دہانی کروا رکھی تھی۔ یہ بات صدر ایوب خان نے آرمی چیف جنرل موسیٰ سے بھی پوچھی جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب میں کیا کہ میں نے بھارت کے سرحد پار نہ کرنے کہ وجہ یہ بیان کی کہ انڈیا رن آف کچھ میں ملنے والی شکست کو ہماری سکردو کی چوکیوں پہ قبضہ کرکے برابر کر چکا تھا اس لیے بھارت سرحد پار نہیں کرے گا۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنی چاہیے کہ بعد ازاں رن آف کچھ کا علاقہ تو بھارت کو واپس مل گیا لیکن اس کے ردعمل میں قبضے میں لیا گیا سکردو کا علاقہ ابھی تک بھارت کے پاس ہے۔

اس وقت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز جنرل گل حسن نے اپنی رپورٹ میں آپریشن جبرالٹر کو ایک ناقص اور ناقابل عمل منصوبہ قرار دیا تھا۔ لیکن اس رپورٹ کو صدر اور آرمی چیف نے یکسر نظر انداز کر دیا۔ سید سجاد حیدر کے مطابق اس آپریشن کے دوران جنرل ایوب خان نے ایک دفعہ جنرل موسیٰ کو مکمل طور پر نظر انداز بھی کر دیا تھا کیونکہ ان کو اپنے کمانڈر ان چیف کی فوجی قابلیت سے زیادہ اس کی وفاداری اور اطاعت کا یقین تھا۔ جنرل موسیٰ نے رن کچھ اور چین بھارت واقعات کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے صدر کے فیصلے کی حمایت کر چکے تھے۔

لیکن یہ اپنے آپ کو دھوکا دینے والی بات تھی کیونکہ جنرل موسیٰ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس باغیانہ کارروائی میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے نہ تو وہ مضبوط یقین کا مالک تھا نہ ہی اس کے پاس اتنی بڑی تربیت یافتہ اور تیار فوج تھی۔ دوسری طرف جہاں تک صدر پاکستان کا تعلق تھا انہوں نے بغیر سوچے سمجھے یا دیکھے، جی ایچ کیو کی سفارشات کے برعکس اندھیرے میں چھلانگ لگا دی۔ اس کو امید تھی کہ کشمیر میں مطلوبہ کامیابی حاصل ہونے کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور وہ اس کو ایک عظیم جنگی کامیابی کے طور پر پیش کرسکے گا۔ اس سارے عمل کی وجہ یہ تھی کہ صدر مملکت اپنی فوجی قیادت کی بجائے وزارت خارجہ کے تخمینوں پہ زیادہ یقین رکھتے تھے۔

میجر جنرل اختر حسین ملک کی سربراہی میں مقبوضہ وادی میں آپریشن گرینڈ سلام پر بھی عمل جاری تھا۔ اس کا مقصد اکھنور پر قبضہ کرکے وادی کشمیر کے ساتھ بھارت کا زمینی رابطہ منقطع کرنا تھا۔ کیونکہ اکھنور پہ قبضے کی صورت میں بھارت کشمیر کو لے کر زبردست دباؤ میں آ جاتا اور وہ پاکستان پر حملے کا خطرہ مول نہ لے سکتا۔ جنرل اختر حسین ملک نے اپنی برق رفتاری سے بھارت کو سرپرائز دیا اور ابتدا میں کامیابیاں ملنا شروع ہو گئیں۔

31 اگست 1965 ء کو وہ اکھنور پر قبضہ کرنے کے قریب تھا۔ یہ ایک بڑی تاریخی فتح ہوتی جو مجاہدین کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے کافی ہوتی۔ لیکن متزلزل اور کمزور دل فیلڈ مارشل نے کوئی وجہ بتائے بغیرکمان فوری طور پر جنرل اختر کی جگہ جنرل آغا محمد یحییٰ خان کو دے دی۔ جس نے اپنے دستوں کو اکھنور پر قبضہ کرنے سے روک دیا۔ اس طرح پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی غداری ایوب، موسیٰ اور یحییٰ کے نام لکھی گئی۔ اس دن ہم المناک طور پر کشمیر کی جنگ ہار گئے۔

Lt. Gen. Akhtar Hussain Malik

آپریشن جبرالٹر اور آپریشن گرینڈ سلام کی ناکامی اس لیے بھی زیادہ اہمیت اختیار کرجاتی ہے کہ ہمارا دشمن انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز میں ردعمل دے رہا تھا جس میں ان کی غفلت نمایاں تھی۔ ایسی صورت حال میں بھی مطلوبہ اہداف حاصل نہ کرپانا فوجی تایخ میں شرمندگی کو اور بڑھا دیتی ہے۔ جنرل جوگندر سنگھ اپنی کتاب ”پس پردہ“ (Behind the Scene) میں لکھتے ہیں کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل چودھری کی ہدایات پر جو یکم اگست 1965 ء کو جاری کی گئیں، کہیں بھی عمل نہیں کیا گیا۔ نہ دراندازی کے راستے بند کیے گیے، نہ حاجی پیر درے پر جارحانہ حملہ کیا گیا، چھمب جوڑیاں کی طرف فوجی دستے روانہ نہیں کیے گیے۔ ان آپریشنز کو آپریشن فولاد اور بکشی کے نام دیے گیے۔ بالآخر 26 اگست کو ان کا آغاز کیا گیا۔ اسی طرح لاہور اور سیالکوٹ کے محاذوں پر جارحانہ پیش قدمی کے لیے آپریشن ایبلیز (Ablaze) کی منصوبہ بندی کی گئی۔

الطاف گوہر کے مطابق آپریشن جبرالٹر کی ذمہ داری کے لیے پانچ دستے بنائے گئے تھے جو مسلم فاتحین کے ناموں کے ساتھ منسوب تھے۔ جن کے نام طارق، قاسم، خالد، صلاح الدین ایوبی، اور غزنوی رکھے گئے۔ اس آپریشن کی مدد کے لیے آپریشن ”نصرت“ کے نام سے بھی شروع کیا گیا۔ طارق، قاسم، خالد اور صلاح الدین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ غزنوی نے کامیاب کارروائی کی۔ طارق نے ہمالیہ کے سلسلے میں 17000 فٹ کی بلندی تک مارچ کیا اس کے کمانڈر اور 21 جوان شہید ہو گئے۔ اسے واپس بلا لیا گیا۔ ”قاسم“ نے بانڈی پورہ میں کے شمال میں اپنا مرکز قائم کر لیا اور کئی پل تباہ کر دیے۔ لیکن اگست کے تیسرے ہفتے میں نامساعد حالات میں اس کے لیے مقابلہ کرنا ممکن نہ رہا۔ جب بھارت نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا تو اسے 4 ستمبر کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ یہی صورت حال خالد اور صلاح الدین کے ساتھ بھی پیش آئی۔

ایوب خان اور جنرل موسیٰ نے مقبوضہ وادی میں پھنسے ہوئے ہزاروں فوجیوں اور مجاہدین کو کسی احساس ندامت کے بغیر بھلا دیا اور ان کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ ان بہادر جانبازوں نے بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر، اسلحہ ڈپوؤں، پلوں کے علاوہ قابض بھارتی فوجیوں کو بموں سے اڑایا اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا لیکن انجام کیا ہوا؟ جی ایچ کیو نے ان کو سامان اور خوراک کی سپلائی جاری رکھنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہ کی اور ان کو شدید نامساعد حالات میں اپنی مدد آپ کے لیے چھوڑ دیا گیا۔

سید سجاد حیدر کے مطابق پاکستان ائر فورس کے باہمت ہوا بازوں نے اپنے کمانڈر ان چیف کی بھرپور مدد کے ساتھ کچھ ناممکن کارنامے انجام دیے۔ خصوصاً کمانڈر زاہد بٹ نے اپنے ٹرانسپورٹ طیاروں کے ذریعے دشمن کے علاقے میں کافی اندر جا کر نہایت خراب موسم اور پہاڑوں کا مقابلہ کرتے ہوئے سامان کے بیگ درست جگہوں پر گرائے۔ کچھ ایسی پر خطر مہمات میں کمانڈر ائر فورس نور خان نے خود بھی حصہ لیا۔ اور ایسی روشن مثالیں قائم کیں کہ پوری ائر فورس کے اندر جوش و جذبہ بھر گیا۔

آپریشن جبرالٹر نے ایک بات تو طے کر دی کہ فوجی اور سول قیادت کی ناپختہ اور ناقص منصوبہ بندی نے نہ صرف قوم کے بیٹوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا بلکہ اپنے سستے ایڈونچر کی آڑ میں ملک کے ایک حصے پہ قبضہ بھی کروا لیا۔ اتنا ہونے کے باجود قومی مورخ کا یہ مطالبہ کرنا کہ شریک جرم افراد کو قومی ہیروز کا دجہ دیا جائے یہ پاکستانی قوم کے ساتھ ایک ظالمانہ مذاق تھا۔ اس کی ناکامی یقینی تھی کیونکہ یہ ایک کم تر پیشہ ورانہ تجربے کے حامل صدر اور اس کے مسکین کمانڈر ان چیف کی کمزور قائدانہ صلاحیتوں کا مظہر تھا۔

ان دونوں کا فوجی آپریشن کا تصور گہری حکمت عملی سے خالی تھا۔ جنرل ایوب کے بارے میں گلبرٹ لیتھ ویٹ نے لکھا، ”میں اس کو کسی بھی لحاظ سے اعلیٰ دانشور طبقے میں شمار نہیں کرتا۔ ہمارے ریکارڈ کے مطابق وہ لیفٹنٹ کرنل کے طور پر ایک ناکام کمانڈنگ افسر تھا۔ اس کا فوجی علم محدود ہے۔ اس نے پاکستانی فوج کا کمانڈر ان چیف بننے کے بعد اپنی نا تجربہ کاری کو چھپانے کے لیے لیفٹنٹ جنرل سر راس میکے کو اپنا ذاتی مشیر بنایا۔ وہ اس پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا۔“ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نا اہلی کے باوجود ایوب خان کو ایک انتہائی پیشہ ور فوج کا کمانڈر کیوں بنایا گیا؟

بدقسمتی سے آپریشن جبرالٹر مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہوگیا اور آپریشن گرینڈ سلام کو بریک لگادی گئی۔ میجر جنرل یحیٰی خان جس نے جنگ کے نازک موڑ پر 7 ڈویژن کی کمان سنبھالی، اکھنور پر قبضہ کرنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ سید سجاد حیدر نے لمبی چوڑی بحث کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اعلیٰ فوجی اور سیاسی قیادت کی سطح پر سازش کی گئی اور میجر جنرل اختر ملک کو اکھنور پر قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے کمان تبدیل کی گئی اور یوں کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کا ایک نادر موقع دانستہ طور پر ضائع کیا گیا۔

میجر جنرل اختر ملک اور بریگیڈئیر امجد چودھری کے بیانات اس سازش کی کڑیاں آپس میں ملاتے ہیں۔ سازش کے اہم عناصر میں ایوب خان، جنرل موسیٰ، میجر جنرل یحیٰی خان، لفٹنٹ جنرل رانا بختیار، بریگیڈیئر عظمت حیات اور بریگیڈیئر ظفر کے نام قابل ذکر ہیں۔ مصنف کے خیال میں ایوب خان نے جو کچھ کہا وہ اس کے ناقابل رشک فوجی ریکارڈ سے مطابقت رکھتا تھا۔ وہ بطور کمانڈر عزم و ہمت سے عاری تھا۔ میدان جنگ سے خوفزدہ تھا، کمزور قوت فیصلہ کا مالک تھا۔

اسی لیے آپریشن جبرالٹر اور 1965 ء کی جنگ کے دوران وہ دارالحکومت کی بجائے سیدو شریف میں وائی سوات کی مہمان نوازی کے مزے لوٹتا رہا۔ دوسرے جنگ عظیم میں کوہیما (برما) کی مشہور جنگ میں ان کی بزدلی اور کم حوصلگی کی وجہ سے اسے Iآسام رجمنٹ کی کمان سے الگ کر دیا گیا۔ لفٹنٹ کرنل محترم نے بھی اپنے ایک خط میں ایوب خان کے بطور جونیئر کمانڈر کمزور رویے کی تصدیق کی ہے۔ جنرل ریس آف ڈیگر ڈویژن اور پاکستان کے پہلے کمانڈر ان چیف جنرل میسروی دونوں نے ایوب خان کو پروموشن کے لیے نا اہل قرار دیا تھا۔

بھارتی فوج شاید ہماری فوج سے بہتر حالت میں نہیں تھی، لیکن اس کو جنرل چودھری کی صورت میں ایک قابل اور پیشہ ور چیف آف آرمی سٹاف میسر تھا۔ 29 اگست کو بھارتی فوج نے پاکستانی فوجیوں کے ساتھ دست بدست لڑائی کے بعد درہ حاجی پیر پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے آپریشن فولاد کا آغاز کیا اور کارگل اور کشن گنگا کے ساتھ ساتھ کئی اہم مقامات پر قبضہ کر لیا۔ ان کارروائیوں سے آپریشن جبرالٹر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔

کشمیر کے اندر آمدو رفت کے تمام راستے بند ہوگیے اور مجاہد فورس کے بچ نکلنے کے مواقع ختم ہوگیے۔ ان ہزاروں مجاہدین کو فوجیوں نے گرفتار کر لیا یا ہلاک کر دیا۔ اس طرح آپریشن گرینڈ سلام کا واحد مقصد اکھنور پر قبضہ کرنا تھا۔ اکھنور جو کہ کشمیر کی گردن اور سب سے اہم ہدف تھا اکھنور کی فتح سے بھارت کو کشمیر سے ملانے والے تمام راستے بند ہو جاتے اور پوری وادی محصور ہوجاتی۔ اور جس وقت یہ پکے ہوئے پھل کی طرح ہماری جھولی میں گرنے والا تھا، آرمی کی قیادت نے کمان کو تبدیلی کرکے یہ سنہری موقع ہاتھ سے گنوا دیا۔ صدر ایوب اور جنرل موسیٰ کی طرف سے جنگ کے اس نازک مرحلے پر کمان کی تبدیل پر بھارتی جنرل جوگندر سنگھ نے اپنی کتاب میں یوں تبصرہ کیا۔ ”خدا ہماری مدد کو آ گیا اور اکھنور بچ گیا۔“

Facebook Comments HS