سلیقہ مند عورت ارب پتی بنا دیتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیارے بچو۔ آج ہم داستان امیر حمزہ سے ایک حکایت پڑھتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ عورت اگر سلیقہ مند ہو تو نہایت غریب گھر بھی اس کی دانش سے ارب پتی بن جاتا ہے۔

بہت ہی پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک ایران پر شہنشاہ قباد کی حکومت تھی۔ حرم سرا میں ہونے والے ایک حادثے کے بعد اس کا عورت ذات پر سے اعتبار اٹھ گیا تھا۔ کوئی عورت اس کے سامنے آتی تو قرار واقعی سزا پاتی۔ بس ایک ہی کنیز اس کو بھاتی کہ اسم بامسمیٰ تھی اور دل آرام کہلاتی۔

ایک دن بادشاہ شکار کرنے نکلا۔ لب دریا اس کے غلاموں نے شاہی خیمہ نصب کیا اور بادشاہ ادھر سیر دریا اور جنگل دیکھنے کو فروکش ہوا۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک پیر مرد لکڑیوں کا بوجھ سر پر رکھے ہوئے جنگل کی طرف سے آتا ہے۔ نہایت ضعیف و ناتواں ہے اور قدم قدم پر لڑکھڑاتا ہے۔

بادشاہ کو اس کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا۔ غلام بھیج کر اس کا نام پتہ کروایا تو علم ہوا کہ وہ بھی قباد کہلاتا ہے۔ بادشاہ حیران ہوا اور اس نے حکیم بزرجمہر کو حکم دیا کہ دیکھو تو ہمارے اور اس کے طالع میں کیا فرق واقع ہوا ہے کہ باوجود ایک راس ہونے کے ہم تو ہفت اقلیم کے بادشاہ ہیں اور یہ گدا ہے۔

بزرجمہر نے حساب کھینچا اور عرض کی کہ حضور کا اور اس کا ایک ہی ستارہ ہے کہ ہنگام تولد حضور کے ماہ و خورشید برج حمل میں باہم تھے اور اس کے تولد کے وقت برج حوت میں فراہم تھے۔

دل آرام کا برج حوت تھا۔ یہ سن کر تڑپ اٹھی۔ کہنے لگی کہ میں ستاروں کی قائل نہیں، اس کی عورت بے سلیقہ ہے، بے تمیز بڑی ہے اور یہ بچارا کندۂ ناتراش سیدھا سادہ آدمی ہے نہیں تو یہ اس نوبت کو نہ پہنچتا۔

بادشاہ کو بہت غصہ چڑھا کہ اس کندہ ناتراش کو ہماری لیاقت کی قدر ہی نہیں، ہماری قسمت کا باعث گویا ہماری بے وفا حرم کو ٹھہرا رہی ہے جسے ہم مانند انارکلی دیوار میں چنوا چکے ہیں اور یہ نابکار بکتی ہے کہ وہ ہمارے عروج کا باعث ہے۔

اسی وقت اس نے حکم دیا کہ دل آرام کا شاہی لباس اتروا کر اسے لکڑہارے کے حوالے کیا جائے۔ بزرجمہر یہ حکم سن کر کھنکارا تو بادشاہ نے توقف کیا اور فرمایا کہ اسے لکڑہارے کے حوالے کرنے سے پہلے بوریا ضرور پہنا دینا ورنہ بے حیائی ہو جائے گی۔

حکم سلطانی کی تعمیل ہوئی اور دل آرام ہزاروں آدمیوں میں آناً فاناً ذلیل و خوار ہوئی۔ اس نے لکڑہارے کو کہا کہ مجھ کو اپنے گھر لے چل، خدا نے تجھ پر رحم فرمایا کہ مجھ سی عورت کو تجھے دلوایا۔

لکڑہارے نے یہ سنا تو ایک بھرپور نظر دل آرام پر ڈالی اور اس کی باچھیں کھل گئیں۔ فوراً دل میں طرح طرح کے منصوبے باندھتا ہوا اپنی کٹیا کی طرف لے چلا۔ جب گھر کے قریب پہنچا تو ایک جوتا اڑتا ہوا اس کی چندیا سے ٹکرایا اور اس کی جورو دوسرا ہاتھ میں پکڑے اس پر لپکی کہ بڈھے تونے آج نیا شگوفہ کھلایا، تجھ کو کیا بڑ بھس لگا ہے کہ مجھ پر اس عمر میں سوت لایا، اور اس زور سے ایک دو ہتڑ مارا کہ لکڑہارا زمین پر گر پڑا اور لوٹن کبوتر کی طرح لوٹنے لگا۔

دل آرام کہ واقعی دانشمند تھی فوراً بولی باجی طیش کیوں کھاتی ہیں، یہ آپ کا شوہر اور میرے لیے باپ سمان۔ کچھ وسوسہ دل میں نہ لائیے۔ آپ کی سلیقہ مندی اور خوش گفتاری کی شہرت سن کر آپ کے درشن کو آئی ہوں کہ آپ کی خدمت کروں اور چار گن سیکھوں کہ اپنے سسرال میں جا کر آپ کی طرح راج کروں اور اپنے میاں کو لوٹن کبوتر بنانے کی مہارت پاؤں۔

بڑھیا یہ سن کر خوش ہوئی۔ اسے گلے لگایا نادم ہو کر فرمایا کہ بی بی تم میری جان و مال کی مالک ہو، گھر بار تمہارا ہے، جس طرح جی چاہے میری خدمت کرو۔ یہ کپڑوں کا ڈھیر پڑا ہے، اسی کو دھونے سے شروع کر دو۔

دل آرام نے دیکھا کہ لکڑہارے کے بارہ تیرہ بچے ہیں۔ بوڑھا روز جنگل سے لکڑیاں لاتا اور بیچ کر بدلے میں بازار سے روٹیاں مول لاتا جو سب چھین جھپٹ کر کھاتے اور پیٹ کسی کا نہ بھرتا۔

ایک دن تو دل آرام یہ دیکھ کر خاموش رہی مگر اگلے دن کہنے لگی کہ باباجان آج تم لکڑیاں بیچ کر گیہوں مول لانا روٹیاں بازار کی کسی طرح گھر نہ لانا۔ لکڑہارے نے یہی کیا۔ دل آرام نے پڑوسن کے گھر جا کر گیہوں کا آٹا پیسا اور سب کو گھر میں روٹیاں پکا کر تین دن تک پیٹ بھر کر کھلائیں۔

دو دن کے جو پیسے بچے ان کی اون منگوا کر ڈوریاں بٹ کر بوڑھے کے حوالے کیں کہ انہیں بازار لے جاؤ اور پیسے لا کر میرے ہاتھ پر دھرو۔ پیسے وہ صندوقچی میں ڈالتی اور چند دن میں اتنے پیسے جمع ہو گئے کہ اس نے بوڑھے کو ایک خچر مول لے دیا۔ یوں لکڑہارا زیادہ لکڑیاں لانے لگا اور دو برس میں اتنی بچت ہو گئی کہ دل آرام نے اسے چار پانچ خچر اور کئی غلام مول لے دیے۔ ان کے علاوہ کئی گھر اور بھٹیار خانے بھی اس نے خرید دیے۔

گرمی کا موسم آیا تو دل آرام نے کہا کہ لکڑیاں کاٹ کر گھر مت لایا کرو۔ وہیں جنگل میں ہی کسی غار میں جمع کر رکھو۔ جاڑے میں خوب مہنگی بکیں گی۔ اس پیر مرد نے ایسا ہی کیا۔

کرنا خدا کا یوں ہوا کہ جاڑے کا موسم آیا تو بادشاہ جنگل میں دوبارہ شکار کھیلنے نکلا۔ یکلخت ایسی سخت برف باری ہوئی کہ سب کچھ جم گیا۔ جنگل گیلا ہوا تو لکڑیاں بھی جلنے سے انکاری ہوئیں۔ تمام لشکر بشمول بادشاہ سردی کے مارے ٹھٹھر کر قریب مرگ ہوا۔ غلام دوڑے کہ کہیں سے خشک لکڑی تلاش کریں۔ کرنا خدا کا یوں ہوا کہ انہیں وہ غار مل گیا جہاں لکڑہارے نے لکڑیاں جمع کر رکھی تھیں۔

بادشاہ نے فوراً ان لکڑیوں کو قومی تحویل میں لے لیا وہیں آگ جلا کر فروکش ہوا۔ تین دن برف باری ہوتی رہی اور آگ جلتی رہی۔ پھر برف باری رکی تو بادشاہ نے اپنے محل کا رخ کیا۔

ادھر لکڑہارا خوشی خوشی غار کی طرف گیا کہ اب لکڑیاں نکال کر لاتا ہوں اور خوب پیسہ کماتا ہوں۔ ادھر پہنچا تو لکڑی بھئی نہ کوئلہ بس راکھ پڑی تھی۔ اس کا دل بیٹھ گیا۔ وہ خود بھی بیٹھ گیا اور دھاڑیں مار مار کر رونے اور پیر پٹکنے لگا۔

اب اس منعم حقیقی کی قدرت کو ملاحظہ کریں کہ اس غار میں سونے کی کان تھی۔ آگ سے گرمی پہنچی تو سونا پگھل کر ایک جگہ جمع ہو گیا۔ لکڑہارے نے سوچا کہ چلو لکڑی نہ سہی بچا کھچا کوئلہ ہی بیچ دوں گا، کچھ نہ کچھ تو ملے گا۔ اس نے کوئلہ خچروں پر لدوانا شروع کیا تو عجیب طرح کے پتھروں کی سلیں بھی دکھائی دیں۔ وہ چند سلیں بھی لے آیا کہ دل آرام ان پر مسالا پیسے گی تو خوش ہو گی۔

گھر پہنچ کر اس نے سلیں دل آرام کے سامنے ڈالیں کہ دیکھو کسی ظالم نے لکڑی جلا دی، سب راکھ ہو گیا، یہ سلیں دیکھ لو کہ مجھے جھوٹا نہ جانو اور ان پر مسالا پیسو۔

دل آرام نے دانت پیسے اور ایک سل کو صاف کرتے ہوئے اس پر چھری چلائی تو نیچے سے کندن نکلا۔ اسی دم سجدہ شکر بجا لائی۔ لکڑہارے کو کہنے لگی کہ اسی دم پلٹو اور جتنی سلیں ہیں خچروں پر لادو اور جب تک وہ گھر نہ آ جائیں دم لینے تک کو گھڑی بھر بھی نہ رکو۔

اس نے اس کے بعد ایک خچر پر چند سلیں لدوائیں اور لکڑہارے کو کہا کہ بصرہ میں فیصل زرگر کے پاس لے جاؤ اور میرا سلام کہو۔ جس طرح تم میرے باپ ہو ویسے ہی وہ میرا کزن ہے۔ اسے کہنا کہ دل آرام نے یہ سلیں بھیجی ہیں ان کے بدلے دل آرام کے رقعے کے مطابق سکے دو۔

لکڑہارا تو بصرے کی جانب چلا اور باقی سلوں کو دل آرام نے صحن میں گڑھا کھود کر دبوا دیا۔ پھر ایک غلام کو سہیل صراف کی جانب مدائن بھیجا اور رقعہ لکھا کہ کئی برس سے میں عتاب سلطانی میں آئی ہوں، اگر خدا چاہتا ہے تو پھر بہت جلد سرفراز ہوتی ہوں اور بادشاہ کی بارگاہ میں ممتاز ہوتی ہوں۔ لازم ہے کہ فی الفور میرے پاس پہنچو اور معماروں، مزدوروں اور نجاروں کو ساتھ لاؤ کہ بموجب نقشہ شاہی محل کے ایک عمارت تمہاری معرفت بنوانی ہے۔

محل بن گیا۔ دل آرام نے اپنی اور بادشاہ کی تصویریں مکان کی دیواروں پر کھنچوائیں۔ پھر اسباب شاہی کو منگوا کر مکان کو سجایا۔ خوش لباس خدام، برقنداز، تلنگے، فراش، خدمت گار، چوبدار، بہشتی اور نادر روزگار چوکیدار ملازم رکھے۔

پھر لکڑہارے قباد کو اس نے حمام میں نہلوایا۔ قباد اتنا زیادہ غریب تھا کہ زندگی میں پہلی مرتبہ نہایا تھا، بہت ڈرا کہ کہیں حمامی مجھے جلا ہی نہ ڈالے۔ حمامی نے اسے تسلی دلاسا دے کر خوشبودار مسالوں سے نہلایا اور دل آرام کا دیا ہوا قیمتی لباس پہنایا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1314 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar