امید سحر بہار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”پوری کائنات حق تعالیٰ کے جمال کا مظہر ہے لیکن وقت سحر میں قدرت نے ایک منفرد حسن رکھا ہے۔ صبح سویرے اٹھنا اور کسی پر سکون مقام پر بیٹھ کر مخملی آکاش کے سینے پر طلوع ہوتے آفتاب کے نظارے کو دل میں عکس بند کرنا کتنا بھلا لگتا ہے!“ وہ پارک کے سب سے خوبصورت حصے میں ایک بینچ پر اکیلی چپ چاپ بیٹھی، روشنی لٹاتے رخشندہ آفتاب کے جمال سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سوچنے لگی۔ آج اس نے کافی عرصے بعد اس پارک کا رخ کیا ہے۔

مارچ کی یہ صبح کافی دلکش ہے۔ اس وقت پارک میں ہر چیز پر خاموشی چھائی ہوئی ہے لیکن جب تازہ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے اس کے رخسار کو چھو کر گزرتے ہیں تو وہ اس کے کانوں کے پاس اس خاموشی کو توڑتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں۔ موسم بہار کے حسن سے جنم لینے والی دائمی مسرت ہر سمت بکھری نظر آ رہی ہے۔ اونچے اونچے سایہ دار شجر، دیدہ زیب رنگوں کے پھولوں کی قوس قزح، گیلی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو، پرندوں کے سریلے نغمے، گھنی جھاڑیوں سے دکھائی دیتی سنہری شفاف روشنی، مخمل جیسا سبزہ، موتی جیسی شبنم۔

”بچھونوں میں پڑے میٹھی نیند کے مزے لینے والے اس راز سے سراسر ناواقف ہیں کہ قدرت نے انسان کو کشش اور تسکین کا و ہ سامان میسر کیا ہے کہ بندہ کتنا ہی خستہ و بے حال، متفکر اور غمگین کیوں نہ ہو، ان لذتوں کی موجودگی سے دم کے دم میں آسودگی محسوس کرنے لگتا ہے“ ، وہ ہر چیز کا جائزہ لیتے ہوئے سوچنے میں مگن ہے۔ اچانک اس کی نگاہ ایک گھنے شاندار پیڑ پر پڑی تو فرط مسرت سے اس کی نگاہوں میں ایک چمک جاگ اٹھی۔ وہ کچھ دیر اس سرسبز پیڑ کو تعجب اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے نہال ہوتی رہی پھر اس نے اپنا سر بینچ کی پشت سے ٹکایا اور آنکھیں موندھ لیں اور اس کے ذہن میں کچھ ماہ پہلے کا وہ منظر ابھرنے لگا جو آج سے یکسر مختلف تھا۔

اکتوبر کے دن تھے اور وہ پہلی بار پارک کے اس اکیلے حصے میں اپنا سرمئی بستہ کاندھے پر لٹکائے عقب میں رکھے اس بینچ پر آ کر بیٹھ گئی تھی جہاں سے پارک کا پورا منظر صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ اس وقت موسم خزاں عروج پر تھا اور اکثر پیڑوں پر پت جھڑ کی آگ سلگ ر ہی تھی اور پورا پارک جیسے سونے میں گل رہا تھا۔ ہرطرف مرجھائے پھول بکھرے ہوئے تھے اور بیچ میں ہوا میں ہلتا ہوا زرد، عنابی، سرخ اور گلابی پتوں کا دریا تھا۔ پارک میں کچھ سدا بہار پیڑ پت جھڑ کی اس ویرانی میں بھی اپنے سرسبز پتوں کو سینے سے لگائے بڑے غرور سے پرسکون کھڑے تھے جنہیں اس نے بہت حیرت سے دیکھا تھا۔

”خدا کا کرم کہیں یا معجزہ کہ کچھ درختوں پر بہار ہمیشہ سلامت رہتی ہے“ ، وہ سوچتے ہوئے دھیمے سے مسکرائی تھی جیسے کسی ایک یاد نے اس لمحے ذہن میں پچاس تہیں کھول دی تھیں۔ ان سدا بہار درختوں کے وسط میں یہ ایک بلند قامت پیڑ اس کی توجہ کا مرکز بنا تھا جو پت جھڑ کے ہاتھوں بکھرا بکھرا اپنے سارے اثاثے کھو کر محرومی اور غمناکی کا ایک خوفزدہ منظر پیش کر رہا تھا۔ اس کے زرد پتے بوجھل ہو کر ٹہنیوں کا ساتھ چھوڑ گئے تھے اور اس کے پھول مرجھا کر زمین بوس ہوچکے تھے۔

جن چڑیوں اور فاختاؤں نے کبھی اس کی مضبوط ٹہنیوں پر اپنے گھونسلے قائم کیے تھے، خزاں کے آغاز میں ہی ہجرت کر کے اس کی وحشت کو بڑھانے کے لیے وہ اسے تنہا چھوڑ گئیں تھیں۔ اس روتے، سسکتے، سوگ کرتے برہنہ پیڑ کا وجود کسی گھنی مایوس سیاہ شب کی مانند ویران دکھائی دیتا تھا ایسی بے انت شب جس کی سحر کب ہوگی کوئی نہیں جانتا۔ وہ اس وقت بھی ٹکٹکی باندھے بڑی دیر تک اس کے وجود کو تکتی رہی تھی اور پھر بستے سے اپنی ڈائری نکال کر اس پر کچھ رقم کرنا چاہا تھا لیکن ناکام رہی تھی۔

کبھی کبھی جذبات کا بحر بیکراں تو موجذن ہوتا ہے لیکن ا سے تحریر کرتے ہاتھ لرزتے ہیں اور بجائے الفاظ کی شکل میں آنے کے یہی جذبات آنکھوں کے رستے امڈ پڑتے ہیں۔ اس نے بڑی سعی کے بعد ایک گم گشتہ احساس کو امڈنے سے روکا تھا جو اس کی پلکوں پر شدت کرب سے جم کر رہ گیا تھا۔ اور پھر وہ اس صورت حال پر دیوانہ وار ہنسنے لگی تھی۔ ۔ ۔ ایک اداس سی ہنسی جو ایک خالی جگہ سے اٹھ کر دوسری خالی جگہ پر ختم ہو جاتی ہے اور بیچ کی خلش کو بھی پر نہیں کر پاتی۔ وہ ہنسی پھر سے اس کے کانوں میں گونجی اوراس نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔

آج اس کے سامنے ایک نیا پرمسرت منظر عیاں ہے۔ موسم کروٹ لے چکا ہے ؛ پت چھڑ کے غم پگھل چکے ہیں اور اتھاہ سفیدی میں ڈوبے برف کے سرد دن بھی گزر چکے ہیں۔ وہ غمگین پیڑ آج عہد بہار میں بھر پور آب و تاب سے اپنی مضبوط جڑیں زمین میں گاڑے، اپنے گھنے پتوں اور بے شمار پھولوں سے لدی ڈالوں کو پھیلائے ایک فاتح کی مانند مکمل اور ثابت کھڑا ہے۔ سب سدا بہار پیڑوں سے زیادہ بلند، زیادہ گھنا، زیادہ سرسبز۔ اس کی ساری رونقیں اور مسرتیں بحال ہوچکی ہیں جیسے ایک کڑے انتظار کے بعد کسی سائل نے توکل بہ خدا اپنی کھوئی ہوئی مراد پا لی ہو۔

اس کے وجود کی معطر فضا، اس کی شاخوں پر بکھرے مختلف رنگ، اور اس کے پھولوں کا جوبن قابل دید ہے۔ کوئل، بلبل اور کئی دوسرے پرندوں کا ہجوم اس کے سبزے کی طرف مائل ہو رہا ہے اور ان پرندوں میں سے کچھ اس کی ڈالیوں پر بیٹھ کر سریلے گیت گا رہے ہیں اور اس کے حسن میں چار چاند لگا رہے ہیں۔ اس کی مضبوط پھیلی ہوئی شاخوں میں اتنی جان اور وسعت ہے کہ لوگ اس کے سایے سے مستفید ہو پائیں۔ وہ اسی بینچ پر بیٹھی آج اس پیڑ کو داد بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ اس پیڑ کی روداد نے اس کی منتشر سوچ کو ایک مرکز پر جمع کر دیا اور یہ کیفیت اسے آج پھر سے لکھنے پر اکسانے لگی۔ اس نے اپنے بستے سے ڈائری نکالی اور اس کے خالی پنوں کو اپنے جذبات سے بھرنے لگی:

”اگر سوچیں تو قدرت نے اس پر کشش اور تسکین کے سامان میں اک گہرا سبق رکھا ہے۔ جیسے آج اس پیڑ کی مثال میرے سامنے ہے، انسان کا سفر حیات بھی تو اتنا ہی عجیب اور دلچسپ ہے۔ کبھی کبھی جب زندگی کو پت جھڑ کے دشوار گزار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے تو لمحہ لمحہ اس کی ساری رعنائیاں ختم ہوتی معلوم ہوتی ہیں اور دکھ اور غم کی ویرانیوں میں زندگی کا سفر طویل سے طویل تر دکھائی دینے لگتا ہے۔ غم ایک بھٹی کی مانند انسان کو لحظہ بہ لحظہ جھلسا کر اس کی ساری رونق ختم کر دیتا ہے۔

زندگی کے حساب میں اگر کوئی عرصۂ رائیگاں اپنی ذات پر بوجھ بن جائے یا کسی غم کا عذاب باقی رہ جائے تو وقت پل پل حیات کو اک کرب مسلسل میں بدل دیتا ہے اور انسان میں گردش حالات سے نمٹنے کا حوصلہ بھی مفقود ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ جب زندگی کی الجھی گرہ کو سلجھانے میں ناکام رہتے ہیں، جب خود پر لادے غموں کے بوجھ کو سہارتے رہنے سے عاری ہو جاتے ہیں تو اپنی زندگی کو بے معنی اور لا حاصل جان کر خود کو نا امیدی کے دلدل میں غرق کر ڈالتے ہیں۔

مایوسی کے عالم میں زندگی کے دلکش نغمے اور قہقہے ٹوٹ کر بکھرنے لگتے ہیں اور ہر پل اس کے پہلو سے ابھرتی دل سوز چیخیں اور آہیں سنائی دینے لگتی ہیں۔ لیکن قدرت کا اصول تغیر ہے اور اس کا بنیادی محرک وقت ہے جو کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ حالات چاہے کتنے بھی کٹھن ہوں، غموں کے بادل جتنے بھی سیاہ کیوں نہ ہوں، اعتقاد اگر قائم ہے تو خوشیوں کی صبح کا سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔ نہ دکھ سدا رہتا ہے اور نہ سکھ۔ یہ خوبصورت پیڑ جو اس خزاں دیدہ موسم میں اپنی سوکھی ہوئی شاخوں اور اجڑے ہوئے حال کے ساتھ اپنی ساری رعنائیاں کھو کر کبھی دل برداشتہ دکھائی دے رہا تھا، آج بہار کی تمام مسرتیں خود میں سموئے میری نگاہوں کے سامنے بہت پر سکون اور مکمل ہے۔

شاید ان پت جھڑ کے ایام میں اس پیڑ نے غم اور مایوسی کے اندھیروں سے لڑنے کے لیے امید کی شمع جلائے رکھی تھی جس کی روشنی نے اس کو باطنی لحاظ سے مضبوطی فراہم کی اور اس نے تغیر کے مراحل کو طے کرتے ہوئے آخر پھر سے اپنی کھوئی ہوئی رونقیں پالیں۔ اسی طرح انسان پر لازم ہے کہ اس کی زندگی میں کتنی ہی پریشانیاں، دکھ، برے حالات کیوں نہ آئیں وہ موسم حزیں میں بہار کا خواب دیکھتا رہے، تپتے صحرا میں ابر رحمت کی امید قائم رکھے، گھنی سیاہ رات میں سحر کی آرزو کرتا رہے۔

بے شک سب آن بدلتے موسموں کا مالک و مختار اللہ ہے اور صرف اسی کی ذات اعتقاد کے قابل ہے جو زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ غموں سے نکالنے کا راستہ بھی وہی مہیا کرتا ہے جس کی قدرت میں دنیا جہان کی مسرتوں کے کواڑوں کی کنجیاں محفوظ ہیں۔ لیکن اعتقاد کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اللہ سے بے جا اور نامعقول آرزوئیں باندھ لی جائیں، انسان تو یہی چاہتا ہے کہ نہ اسے کبھی خزاں کی صحبت برداشت کرنی پڑے اور نہ سرما کی شدتوں سے دو چار ہونا پڑے اور بس بہار ہمیشہ زندگی میں سلامت رہے۔

لیکن ہر کسی کی قسمت سدا بہار درختوں جیسی شاداب ہو یہ ضروری نہیں۔ کچھ لوگوں کو قدرت ہر بار نئی نعمتوں سے نوازنے کے لیے پت جھڑ سے گزارتی ہے تاکہ پرانے دکھوں کا بوجھ حیات کے لبادے سے زائل ہو جائے اور بہار سرد صعوبتوں سے جنگ میں کامرانی کے بعد دل پر مسرتوں بھری فتح کا سنہری جھنڈا گاڑ دے اور آگے بڑھ جائے۔ جب بہار کی دلکش سحر زدہ راہیں زندگی کی فضاوں کو خوشیوں سے لبریز کرتی ہیں تو سرمایہ راحت حاصل ہوجاتا ہے۔

اسی لیے موسم شب غم کو اعتقاد اور توکل سے گزارنا چاہیے کہ خوشیوں کی سحر بہار کا لوٹنا تو ایک دن طے ہے۔ ”ڈائری بند کرتے ہوئے اس کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ، دل میں وسعت اور روح میں طمانیت پھیل چکی تھی۔ اس نے اپنی یادوں کا بستہ اٹھایا، اس پیڑ پر اک الوداعی نظر ڈالی اور اک نئی جہت کی جستجو میں وہاں سے اٹھنے کا ارادہ کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •