امید سحر بہار

”پوری کائنات حق تعالیٰ کے جمال کا مظہر ہے لیکن وقت سحر میں قدرت نے ایک منفرد حسن رکھا ہے۔ صبح سویرے اٹھنا اور کسی پر سکون مقام پر بیٹھ کر مخملی آکاش کے سینے پر طلوع ہوتے آفتاب کے نظارے کو دل میں عکس بند کرنا کتنا بھلا لگتا ہے!“ وہ پارک کے سب سے خوبصورت حصے میں ایک بینچ پر اکیلی چپ چاپ بیٹھی، روشنی لٹاتے رخشندہ آفتاب کے جمال سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سوچنے لگی۔ آج

Read more

خوابوں کو تھامے رکھنا

خواب وہ بیش قیمت اثاثہ ہوتے ہیں جو آنکھوں میں امید و بیم کی سحر بن کر زندگی کو مقصد کی کرنوں سے منور کرتے ہیں اور اپنے وجود کی خو شبو سے زندگی میں جستجو کی مہک رچاتے ہیں۔ خوابوں سے خالی دل اس بے ثمر زمین کی مانند ہے جس پر لاکھ ابر برسے اس کی بانجھ مٹی کبھی شجر حیات کو بارور نہیں کر پاتی۔ یہ تو طے ہے کہ بہت سے نوجوانوں کی آنکھوں میں خوابوں کا ایک گلستاں آباد ہوتا ہے جہاں وہ باغبان کی صورت اپنے روشن مستقبل سے جڑے خوابوں کی کونپلوں کو امید کے جذبے سے سینچتے اور محبت سے انہیں پروان چڑھاتے ہیں۔

لیکن یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ خوابوں کی تعمیر کا راستہ کبھی بھی سہل نہیں ہوتا، یہ صحرا میں اس آبلہ پا مسافت کی مانند ہے جس میں جان کو پگھلانا پڑتا ہے۔ درحقیقت یہ خواب اس سوداگر کی سی ہیں جو خوابوں کی نگری کے مسافر سے سخت مشقت اور عزم مصمم کے روپ میں اپنی قیمت وصول کرتے ہیں۔ چنانچہ ہر مسافر کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ چند رکاوٹوں اور ناکامیوں کو اپنی مستقل ہار سمجھ کر اپنے خوابوں کو آنکھوں میں ہی توڑ ڈالنا ہے یا مشکلات کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے اپنے حصے کا کام جاری رکھنا ہے۔ خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی سچی لگن جب بلند و بالا ہوتی ہے تو خدائی بھی ساتھ دیتی ہے اور تب جا کر کامیابی کے ستارے مقدر میں روشنی بکھیرتے ہیں اور خوابوں کی کشتی اپنی سنہری منزل کے کنارے جا لگتی ہے۔

Read more

اے بازگشت ماضی

ہر گزرے دن کے ساتھ وقت کیسے ریت کی طرح پھسلتا جاتا ہے اور ہم اس وقت کی انگلی تھامے بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کا فاصلہ طے کرتے چلے جاتے ہیں۔ تمہارے اس کٹھن سفر میں جب کچھ معصوم احساسات پختگی کے درجے کو چھوتے ہوئے سفر کے پر پیچ و خم برداشت کر نے سے قاصر رہتے ہیں تو تمہارے دشوار گزار راستے کے کسی ان چاہے موڑ پر بڑی بے دلی سے دم توڑ دیتے ہیں۔ پھر جب ان مردہ احساسات کی مٹی پر نئی تبدیلیاں جنم لینے لگتی ہیں تو تم ایک گزرے موسم میں بدل جاتے ہو، جسے پھر سے جینا ناممکن ہے اور نئے موسم کا انتظار بے حد مشکل۔

Read more

تیری محبت میری متاع

کہتے ہیں کہ جب انسان کا دل دنیاوی خواہشات سے نجات حاصل کر لیتا ہے تو اس کا تزکیہ ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کی یاد اور شکر کا مستقر بن جاتا ہے۔ ایک ادنیٰ انسان جب خواہشات سے رو گردانی کے لاچار دعوے کرتا ہے تو وہ وقت کے ساتھ اکثر کھوکھلے ثابت ہو جاتے ہیں۔ اس لیے یہ دعویٰ کرنا بے اصل ہوگا کہ دل میں دنیاوی حسرتیں دم توڑ چکی ہیں بہرحال اس تحریر میں جو

Read more

با ادب با مراد

بحثیت استاد میں نے سال ہا سال بہت سے بہترین، با ادب اور اثر قبول کرنے والے طالب علم دیکھے جنہوں نے میرے دل میں اپنے لیے ایک قابلِِِِِِِِِ ستائش مقام پیدا کیا۔ اِس کے ساتھ ہی کچھ ایسے طلبہ سے بھی واسطہ پڑتا رہا جو تعلیمی لحاظ سے تو ٹھیک ہیں لیکن افسوس کہ اخلاقی طور پر ادب کی صفت سے محروم ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ یہ کتنی بڑی محرومی ہے۔ کانفیڈنس کے نام پر اساتذہ سے بلند آواز میں گفتگو کرنا، بے معنی بحث کرنا، ان کی ڈانٹ پر غصے کا اظہار کرنا بعض طلباء و طالبات کے لیے معمولی سی باتیں ہیں۔

میں جانتی ہوں کہ آج کے دور کے طلبہ آزاد خیال ہیں، ان کی مشکلات اور پیچیدگیاں زیادہ ہیں۔ لیکن کسی بھی دور میں بے ادبی، بد لحاظی اور بدتمیزی طلبہ کا شیوہ نہیں ہو نا چاہیے یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے۔ ان کی معصوم شرارتوں اور نادانیوں کو بہت آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن اخلاق کے معیار پر پورا نہ اترنے والا غیر مودٔبانہ رویہ کسی بھی استاد کے لیے ہرگز قابل قبول نہیں ہوتا۔ ایسے تمام طلبہ کے لیے مخلص اساتذہ یقیناً تکلیف محسوس کرتے ہیں اور ان کی اصلاح چاہتے ہیں، یہ تحریر اسی کوشش کی ایک کڑی ہے۔

Read more

محبت اور متوازن زندگی!

میں پچھلے سات سال سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ اپنے سٹوڈنٹس کے مسائل سننا اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرنا میرا مشغلہ بن چکا ہے۔ ان ٹین ایجرز کے مسائل جان کر زندگی کو ان کی نظر سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور میرا کچھ نیا سیکھنے کا شوق بھی پورا ہوتا رہتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنی کلاس کی ایک سٹوڈنٹ کے رویے میں بہت غیر معمولی تبدیلی نوٹس کی۔ بہت ایکٹو رہنے والی اس لڑکی کو میں کچھ دنوں سے بہت اداس اور زندگی سے بے زار دیکھ رہی تھی۔

جب کچھ دنوں تک اس کا یہی رویہ رہا تو ایک دن میں نے اسے کلاس کے بعد ملنے کے لیے بلایا۔ میں نے اس کی پریشانی کی وجہ پوچھی اور اس پر اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے۔ وجہ اس نے یہ بتائی کہ وہ اپنی ایک گہری دوست کو بہت خلوص سے چاہتی تھی لیکن اس نے اس سے تعلق ختم کر لیا اور اب وہ خود کو بہت تنہا محسوس کر تی ہے۔ سننے میں بہت معمولی سی بات لگتی ہے مگر اس چھوٹی سی بات کی وجہ سے میں نے اس سترہ، اٹھارہ سال کی لڑکی کو تقریبا ڈپریشن میں مبتلا محسوس کیا۔

Read more