خواب وہ بیش قیمت اثاثہ ہوتے ہیں جو آنکھوں میں امید و بیم کی سحر بن کر زندگی کو مقصد کی کرنوں سے منور کرتے ہیں اور اپنے وجود کی خو شبو سے زندگی میں جستجو کی مہک رچاتے ہیں۔ خوابوں سے خالی دل اس بے ثمر زمین کی مانند ہے جس پر لاکھ ابر برسے اس کی بانجھ مٹی کبھی شجر حیات کو بارور نہیں کر پاتی۔ یہ تو طے ہے کہ بہت سے نوجوانوں کی آنکھوں میں خوابوں کا ایک گلستاں آباد ہوتا ہے جہاں وہ باغبان کی صورت اپنے روشن مستقبل سے جڑے خوابوں کی کونپلوں کو امید کے جذبے سے سینچتے اور محبت سے انہیں پروان چڑھاتے ہیں۔
لیکن یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ خوابوں کی تعمیر کا راستہ کبھی بھی سہل نہیں ہوتا، یہ صحرا میں اس آبلہ پا مسافت کی مانند ہے جس میں جان کو پگھلانا پڑتا ہے۔ درحقیقت یہ خواب اس سوداگر کی سی ہیں جو خوابوں کی نگری کے مسافر سے سخت مشقت اور عزم مصمم کے روپ میں اپنی قیمت وصول کرتے ہیں۔ چنانچہ ہر مسافر کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ چند رکاوٹوں اور ناکامیوں کو اپنی مستقل ہار سمجھ کر اپنے خوابوں کو آنکھوں میں ہی توڑ ڈالنا ہے یا مشکلات کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے اپنے حصے کا کام جاری رکھنا ہے۔ خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی سچی لگن جب بلند و بالا ہوتی ہے تو خدائی بھی ساتھ دیتی ہے اور تب جا کر کامیابی کے ستارے مقدر میں روشنی بکھیرتے ہیں اور خوابوں کی کشتی اپنی سنہری منزل کے کنارے جا لگتی ہے۔
Read more