قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ اور کشمیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قائد اعظم محمد علی جناح رحمت اللہ علیہ بستر مرگ پر پڑے ہوئے اپنی بہن فاطمہ جناح کو بلاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ وہ وفد کہاں ہے جس نے کشمیر کے سلسلے میں بات چیت کے لیے آ نا تھا۔ یہ تھی ہمارے قائد اعظم کی کشمیر اور کشمیریوں سے محبت کہ بستر مرگ پر بھی وہ شہ رگ کے لیے پریشان تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی میں کشمیر کے تین دورے کیے۔ آپ پہلی مرتبہ 1929 ء میں کشمیر آ ئے، اس سفر میں آپ کی شریک حیات آپ کے ہمراہ تھیں اور قائد اعظم کا یہ دورہ ذاتی نوعیت کا تھا، قائد اعظم کے اس دورے کا ذکر جسٹس یوسف صراف نے اپنی کتاب ”Kashmir Fight For Freedom“ میں کیا ہے۔

دوسری مرتبہ قائد اعظم 1936 ءمیں کشمیر آئے اور اس دورے کے دوران آپ نے مجاہد منزل سرینگر میں عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر خطاب فرمایا۔ اس وقت مسلم کانفرنس کے سربراہ چودھری غلام عباس اور شیخ عبداللہ تھے۔ قائد اعظم آ خری مرتبہ 1944 ءمیں کشمیر آئے۔ قائد اعظم کا یہ دورہ کشمیر نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس وقت کشمیر میں دو بڑی سیاسی جماعتیں بن چکی تھیں۔ نیشنل کانفرنس جو کہ شیخ عبداللہ کی جماعت تھی اور دوسری مسلم کانفرنس جو حقیقی معنوں میں کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ جماعت تھی۔

اس دورے میں قائد اعظم سب سے پہلے نیشنل کانفرنس کے اجلاس میں گئے جہاں شیخ عبداللہ نے آپ کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ کشمیری ہندو اور مسلمان کانگریس کی ”One Nation Theory“ پر یقین رکھتے ہیں تو اس لحاظ سے نیشنل کانفرنس ہی ایک ایسی جماعت ہے جو اس ”تھیوری“ پر عملاً کام کر رہی ہے لیکن قائد اعظم، شیخ عبداللہ سے قائل نہ ہوئے کیونکہ قائد اعظم یہ جانتے تھے کہ یہ سوچ ایک مخصوص طبقے کی ہے نہ کہ کشمیری عوام کی۔ اس اجلاس کے بعد قائد اعظم سرینگر چلے گئے جہاں پر مسلم کانفرنس کے رہنما اور کشمیر مسلم سٹوڈنٹس یونین کے نمائندے آپ کے منتظر تھے۔

اس موقع پر قائد اعظم نے فرمایا: ”ہمارا خدا ایک، ہمارا رسول ﷺ ایک اور ہمارا قرآن بھی ایک، اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایک آ واز اور ایک جماعت ہوں“ ۔ اسی دورے میں مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس جس کا انعقاد مسلم پارک جامعہ مسجد کے مقام پر ہوا میں قائد اعظم نے کشمیری مسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ کانگریس کی چالاکیوں سے ہوشیار رہیں۔ قائد اعظم نے اس دوران تقریباً دو ماہ کشمیر میں قیام کیا۔ ان تمام واقعات سے قائد اعظم کی کشمیریوں کے ساتھ نہ صرف ہمدردی کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کو مزید تقویت ملتی ہے۔ قائد اعظم اس دورے کے دوران اس قدر کشمیر کے اندرونی معاملات میں سنجیدہ ہوئے کہ ایک انگریز یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ ایم اے جناح، نہرو سے زیادہ اس دورے کے دوران کشمیر کے اندرونی معاملات میں سنجیدہ نظر آئے۔ (Kashmir Disputed Legacy page 97 )

قائد اعظم کو قیام پاکستان کے وقت اس بات کا یقین تھا کہ کشمیر مسلم اکثریت اور جغرافیائی پس منظر کے لحاظ سے پاکستان کا حصہ بنے گا مگر قیام پاکستان کے بعد ایسا مشکل دکھائی دینے لگا کیونکہ مکار ہندو کشمیر کو پاکستان سے الگ کرنے کی تمام تر کوششیں کرنے لگے۔ لاہور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا:

“We have been victim of a deep laid and well planned plot executed with utter disregard for the elementary principles of honesty, chivalry and honour” ۔

اکتوبر 1947 ءمیں قائد اعظم نے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لئے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور جواہر لعل نہرو کو لاہور مدعو کیا۔ دونوں نے دعوت نامہ قبول کیا مگر لاہور نہ آئے، بعد میں یہ ملاقات یکم نومبر 1947 ءمیں ہوئی جس میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن آیامگر نہرو نے شرکت نہ کی، اس ملاقات میں جو ساڑھے تین گھنٹوں پر مشتمل تھی، قائد اعظم محمد علی جناح نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو یہ باور کروایا کہ کشمیر پر ہندوستان کا قبضہ، پاکستان کبھی بھی قبول نہیں کرے گا۔

قائد اعظم نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل پاکستان اور ہندوستان کی باہمی کاوشوں سے نکل سکتا ہے۔ مگر 2 نومبر 1947 ء کو نہرو بجائے قائد اعظم کی تجویز پر غور کرنے کے اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے گیا اور اس کے آگلے ہی دن سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کو رائے شماری سے حل کرنے کی قرارداد منظور کی جس پر دونوں ممالک نے اتفاق کیا۔ آج مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ پچیس لاکھ نہتے کشمیری، آزاد کشمیر کے 40 لاکھ باسی، گلگت بلتستان کے 12 لاکھ عوام، 20 لاکھ بے گھر مہاجرین جموں و کشمیر اور 15 لاکھ سے زائد کشمیری تارکین وطن ہر روز ہندوستانی حکمرانوں کے ضمیر پر دستک دیتے ہیں اور انہیں جواہر لال نہرو کے علاقائی اور عالمی برادری سے کیے گئے وعدے یاد دلاتے ہیں۔ اس کے باوجود ہندوستانی حکمران، نہرو کے وعدے پر عمل نہ کر کے بے غیرتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر ریاض علی شاہ جو قائد اعظم کے ذاتی معالج تھے اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں۔ قائد اعظم نے فرمایا:

“Kashmir is the jugular vein of Pakistan and no nation or country would tolerate it ‘s jugular vein remain under the sword of enemy” .

دن منانے، سڑکوں کے نام بدلنے، سیاسی نقشے پیش کرنے والوں کو قائد اعظم کے عملی اقدام سے سبق لینا چاہیے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت قائد اعظم محمد علی جناح کی امنگوں کے عین مطابق مسئلہ کشمیر میں اپنا کردار نبھائے۔
قائد اعظم زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •