کردار کا کردار


اشرف المخلوقات کا وجود بدن اور روح کا مجموعہ ہے۔ بدنی ضروریات سے نبرد آزما ہونے کے لیے انسان دن رات ان تھک محنت میں مشغول رہتا ہے، لیکن انسان کی روح جو کہ اس کے کردار سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ کس طرح کی فطرت کی حامل ہے، اس کے لیے دین اسلام عبادات اور حقوق العباد پورے کرنے کا درس دیتا ہے۔ خشوع و خضوع سے لبریز عبادت و سجود عبد خدا میں عاجزی سی پیدا کردیتے ہیں، پھر یہ عاجزی اس بندے کے کردار سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے اور اس بندے کا وتیرہ بن جاتی ہے۔

اسلام نے کردار کے لیے جو اسوہ حسنہ ہمارے سامنے رکھا، وہ نبی آخرالزماں محمد مصطفیﷺ کی ذات اقدس ہے جو کہ ایک انسان کے لیے راہ ہدایت و فلاح ہے۔ اللہ کے اس آخری نبی صلى اللہ علیہ و سلم کی کامل حیات پوری انسانیت کے لیے عملی نمونہ ہے اور جو اس پر عمل پیرا ہوئے وہ تاریخ میں اپنے نام صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان غنی اور شیر خدا جیسے سنہرے الفاظ میں مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اور پھر جنہوں نے ان کے افکار و اعمال کی پیروی کی اور حضور صلى اللہ علیہ و سلم کو اپنی زندگی کا نمونہ بنایا وہ پھر عمر بن عبدالعزیز، محمد بن قاسم، ایوبی، زنگی اور ارطغرل جیسے ناموں سے جانے جاتے ہیں۔

دور حاضر کی ستم ظریفی یہ کی اس کے سرمایہ دارانہ نظام نے انسان سے اس کے کردار کی نشوونما کو چھین کر اسے ظاہری رکھ رکھاؤ کی طرف اس قدر مائل کر دیا کہ انسان اپنی زندگی میں کردار کے کردار کو ہی بھول گیا۔ ہوس زر نے انسان سے انسانیت چھین لی۔ ہر شعبہ ہائے زندگی میں یہی دور دوراں ہے کی جس کے پاس دام اس کے سارے کام آسان اور دام کی لذت پھر انسان کو کیسی کیسی فرعونیت پہ اتارتی ہے اس کی مثالیں مٹائے نہیں مٹتیں۔

ہمارے سیاست دان سے لے کر عام انسان تک کی زندگی مصنوعی کرداروں کی ماخذ ہے۔ مصنوعی کردار سے میری مراد اصلیت چھپا کے دو میٹھے بول بول کر اپنا مطلب نکلوا لینا پھر ان میٹھے الفاظ کی بدولت اپنے کردار کا رعب جھاڑنا کہ بہت باکردار شخصیت کا حامل ہوں۔ اس کی مثال ہمارے نام نہاد سیاست دان ہیں جو کہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے بھی گریز نہیں کرتے، جیسا کہ خود کو زبردستی صادق و امین منوانے کی دوڑ میں ہیں جبکہ ان کے کردار اور اعمال، صداقت اور امانت جیسی خصوصیات سے مبرا ہیں۔

اس سب کی وجہ سرمایہ داریت تو ہے ہی، اس کے زیر اثر بچوں کی نشوونما بھی ہے۔ قدیم دور میں مائیں اپنے بچوں کو لوریاں دے کر سلاتیں اور ان کے اٹھنے پہ شجاعت و اعلیٰ اخلاق سے لبریز داستانیں ان کی منتظر ہوتیں اور یہی سب ان بچوں کی شخصیت سے بھی عیاں ہوتا۔ مگر دور حاضر کی ریت ہی کچھ عجب ہے کہ لڑکپن تک پہنچتے ہی بچے کو مقابلے کی دوڑ میں لگا دیا جاتا ہے، یہ مقابلہ ان کی بنیادی تعلیم سے شروع ہو کر اعلیٰ تعلیم تک جاری رہتا ہے اور تعلیم بھی وہ کہ جس میں آپ کی سوچنے کی صلاحیت سے زیادہ آپ کی رٹہ لگانے کی صلاحیت کو ماپا جاتا ہے ( خیر یہ الگ بحث ہے ) ۔

اس مقابلے کا مقصد ایک دوسرے سے زیادہ نمبر لے کر کوئی اعلیٰ درجے کی نوکری کا حصول ہوتا ہے جتنے نمبر زیادہ ہوں گے آپ اتنے اعلیٰ درجے کے نوکر ہوں گے اور وہی اعلیٰ درجہ نوکری آپ کے سرمائے کے ڈھیر میں کار آمد ثابت ہو گی اور سرمائے کے ڈھیر میں کردار کی نشوونما کہیں کوسوں دور کھو جاتی ہے۔ جب اس طرح کے نظریات معاشرے میں عملی طور پر نظر آئیں تو وہ سماج اخلاقیات سے یکسر نا آشنا ہوگا اور جب پیسے اور مقابلے کی دوڑ میں مخالف حریف سے آگے نہیں نکلا جاتا تو پھر ڈپریشن اور خودکشی جیسی بیماریاں معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔

مختصراً اگر ہم بحیثیت مسلمان اپنی کرداری اور اخلاقی بقا چاہتے ہیں تو ہمیں بتائے گئے اسوہ پر غور کر کے اسے اپنانا ہوگا۔ اور جہاں تک بدنی ضروریات کے لیے رزق کا حصول ہے، تو اسلام ”الکاسب حبیب اللہ“ کا درس دیتا ہے، لیکن حصول رزق میں بھی ہماری اعلی اخلاقی کا مظاہرہ ہونا ضروری ہے کہ وہ محنت سے کمایا جائے۔

Facebook Comments HS