محنت شرط ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے یقین ہے اس وقت جب کہ آپ میری تحریر پڑھ رہے ہیں اس بات پر متفق ہوں گے کہ ”علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے“ اور اس علم کو حاصل فرمانے کے لیے ہمیں بچپن میں مڈل سکول لڑکپن میں ہائی سکول ذرا جوانی میں کالج اور جوانی کے عروج پر یونیورسٹی کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ گویا اس علم واسطے ہم اپنی عمر کا ایک حصہ انویسٹ کر دیتے ہیں۔ اس دوران اگر اچھے استاد ملیں تو علم بھی اچھی طرح حاصل ہوتا ہے۔

میری بچپن کی تعلیم اپنے آبائی گاؤں کی ہے۔ گورنمنٹ مڈل ہائی سکول نام کے ادارے سے میں نے کچی کلاس سے سال چہارم تک تعلیم حاصل فرمائی۔ مجھے یاد ہے دوئم کلاس کے سالانہ امتحان ہو رہے تھے اور طالب علم سکول کے احاطے میں اپنے اپنے ٹاٹ پر نیچے بیٹھ کر پرچہ دے رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہوئے میں لفظ ”فرشتے“ لکھنا بھول گیا۔ ساتھ کی قطار میں سال ہفتم کے طالب علم کی طرف میں کن انکھیوں سے دیکھا وہ بھانپ گیا، میری بہت آہستہ آواز میں پوچھنے پر اس نے کہا کہ اپنا فٹا (پیمانہ) پھینکو!

میرے پھینکنے پر لفظ ”فرشتے“ لکھ کر جناب نے میری طرف اچھال دیا۔ وہ میری تعلیمی دور کی پہلی نقل تھی۔ اس کے بعد مجھے نقل لگانے کی ضرورت ہی نہ پیش آئی۔ دراصل میں سوال ہی چھوڑ آتا تھا جو مجھے آیا نہیں کرتا تھا! تب کے دور میں مجھے اچھے استاد نہ ملے اور اس کی وجہ سے اے بی سی لکھنے سے میں نابلد تھا۔ بھلا ہو، اپنے ہی گاؤں کے طارق ڈی سی صاحب کا جو کہ چوتھی کلاس میں انگلش پڑھانے آئے اور مجھے بڑی اے بی سی کے ساتھ ساتھ چھوٹی بھی لکھنا سکھا دی۔ میں اسکول میں کافی قابل طالب علم شمار کیا جانے لگا تھا کہ والد محترم نے گاؤں سے شہر جانے کا ارادہ کیا۔

شہر کے جس اسکول میں داخلہ لیا وہ انگلش میڈیم تھا اور اس دور میں ( 2005 ) گجرات شہر کے تمام پرائیویٹ سکول انگلش میڈیم ہی ہوا کرتے تھے۔ داخلے لیے داخلہ ٹیسٹ کا رواج تھا جس کا مجھے ذرا برابر بھی احساس نہ تھا ورنہ میں تیاری کر کے ٹیسٹ دیتا۔ پھر بھی میں نے پچاس نمبروں میں سے دو نمبر حاصل کر ہی لیے۔ وہ دو نمبر مجھے نہیں پتا کہ کیسے دیے گئے کیونکہ نہ چھوٹی اور نہ ہی بڑی اے بی سی ٹیسٹ کا حصہ بنی۔ گویا میری قابلیت کا واحد سہارا مجھ سے چھین لیا گیا اور بتایا گیا کہ بیٹا اے بی سی تو ہم پہلی کلاس سے سکھا دیتے ہیں اور آپ پانچویں کلاس میں داخلہ لے رہے ہو۔

بہرحال پرائیویٹ سکولوں کی یہ مہربانی ہے کہ ٹیسٹ جیسا بھی ہو داخلہ وہ دے ہی دیتے تھے۔ آکسفورڈ کا نظام تعلیم ادھر رائج تھا۔ اسکول کے امتحان میں، انگلش مضمون میں، میں نے پچاس میں سے چار یا پانچ نمبر حاصل کر لیے۔ جو کہ میرے لیے بہت بڑی بات تھی، جب آیا تھا تب سے دوگنی ترقی کر لی تھی مگر افسوس سب ناراض ہوئے اور مجھے نالائق طالب علم شمار کیا جانے لگا جو کہ میری توہین تھی۔ اپنے گاؤں کا ہونہار لڑکا شہر میں ایسا سمجھا جائے میری طبعیت نے یہ گوارا نہ کیا۔

یہ بات اور رویہ میں اپنے دل پر لیا اور انگلش پر خصوصی توجہ دی۔ سالانہ امتحان قریب آئے تو میں خاصا محنتی بن چکا تھا۔ امتحان ہوئے اور میں پوری کلاس میں ٹاپ کیا۔ انگلش میں میرے نمبر سب سے زیادہ آئے۔ وہ دن اور آج کا دن میرا کوئی دن ایسا نہیں گیا جب مجھے احساس نہ ہوا ہو کہ محنت میں عظمت ہے۔ مگر اس محنت کو سیدھا رستہ دینے والا استاد مل جانا بہت بڑی نعمت ہے۔ میرے وہ استاد میرے والد صاحب ہیں۔ جو کہ کیمسٹری کے پروفیسر ہیں۔ اور ان کا پروفیسر ہونا مجھے یہ نعمت دلا گیا ہے کہ زندگی کے کسی بھی معاملے پر معلومات لینے کے لیے مجھے کسی اور کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی۔

Latest posts by عبداللہ محمود (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •