کیا گستاخانہ خاکے تہذیبوں کے تصادم کی اسٹریٹجی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مغربی دنیا کے معروف مفکر، دانشور اور با اثر ترین محقق سیموئل ہنٹنگٹن نے اپنی مشہور کتاب کا نام ”تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی ازسرنو تشکیل“ (The Clash of Civilizations and The Remaking of World Order) رکھنا طے کیا جو اپنی جگہ بظاہر تہذیبی تصادم لگنے کا جملہ نظر آتا ہے لیکن اس جملے کے اندر سوچی سمجھی حیلہ سازی کے تحت ”تہذیبو فوبیا“ مچانے کی جو مخفی اکساہٹ پرو دی گئی ہے اس کا براہ راست نشانہ اسلاموفوبیا کے نام نہاد خطرے کے پیش نظر اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا مذہب لیا جانا مقصود ہی نہیں رہا ہوگا کیونکہ ایک تو اس نام نہاد خطرے کی گھنٹی بھی اسلام کے گلے میں باندھنے کا بندوبست گردش پذیر کر لیا گیا ہوا تھا تو دوسرا یہ بھی کہ، اسلام کے علاوہ دنیا کے دیگر کسی مذہب کو مکمل ضابطہ حیات ہونے کا شرف حاصل نہ ہونے کی بنا پر، عالمی نظام حکومت چلانے کی تاریخ ہی میسر نہیں۔ اس بات کی تصدیق ہنٹنگٹن نے از خود اپنی کتاب کے جملے میں عالمی نظام کی ازسرنو تشکیل کی گرہ لگا کر کردی اس لیے کہ اسلام اور اس کے عالمی نظام کی تاریخ سے ہنٹنگٹن جیسے تاریخ دان بخوبی آگاہ ہیں۔

کتاب بے شک پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے، فقط اس کا نام بولنے یا دوہرا دینے سے ہی بخوبی پتہ چل جاتا ہے کہ موصوف کا مجوزہ عالمی نظام اب ریاستوں یا قوموں کے مابین ٹکراؤ کے نتیجے میں طے نہیں ہوگا بلکہ اس کا ممکنہ قیام اب تہذیبوں کے ٹکراؤ کے نتیجے پر استوار ہو گا۔ اصل سوال یہ اٹھتا ہے کہ آیا ٹکراؤ کو تہذیبیں جنم دیتی ہیں یا ریاستیں اور ان کی قومیں آپس میں ٹکراتی ہیں جبکہ ان کے اندر بیک وقت ایک سے زیادہ تہذیبیں اپنی اپنی حد فاصل (distinction) لیے باہم جڑی اور ملی ہوتی ہیں؟

اپنی اپنی کمترین اور ادنیٰ ترین سطح پر دنیائے انسانیت کا ہر فرد کسی نہ کسی تہذیب سے وابستہ ہونے اور رہنے کا بنیادی حق رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر فرد اپنی جگہ اپنی تہذیب کا ترجمان، خوگر اور نمائندہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں تہذیبوں کا ٹکراؤ ریاستوں اور ان کی قوموں کی دسترس سے نکل کر براہ راست دنیائے انسانیت کے ہر فرد کی دسترس میں چلا جائے گا جس کے بل بوتے پر ریاستیں اور ان کی قومیں نہیں بلکہ ہر فرد اپنی تہذیب جمانے اور منوانے کا فیصلہ کن حل خود طے کرنے پر آ جائے گا یا اس کے مقابل کسی دوسری تہذیب کو خطرہ جان کر اس کے مرکز حرمت اور شواہد عقیدت کی توہین و تنقیص کا مرتکب ہونا ٹھان لے گا، جو تہذیبی ٹکراؤ کے مروجہ جملے کی شہ (urge) پر تہذیبوں کا انسانی فساد بن کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا ٹھن اٹھے گا تو لا محالہ دنیا اسے ”تہذیبو فوبیا“ کا خطرہ جان کر اس کی سرکوبی کے لیے ایسے نئے ورلڈ آرڈر کی طلب گار ہو اٹھے گی جس میں مذہب بے اثر اور مذہبی آزادی کا حق سلب ہونا قابل قبول ٹھہرے گا۔

اسلاموفوبیا کے نام نہاد حوالے سے تہذیبو فوبیا کی توجیہہ بھی اسلام سے جوڑی جائے گی جس کے سٹریٹیجک ڈیزائنر ہونے کا سہرا اسی ہنری کسنجر کے سر بندھتا ہے جس نے پہلے پہل ایشیا کی ابھرتی لیڈرشپ بھٹو کو عبرت کا نمونہ بنانے کے لیے تحریک نظام مصطفیٰ کے کلمۂ حق کی حیلہ سازی برت کر افغان جہاد سے مذہبی فساد مچانے کی سٹریٹجی نکالی تھی۔ اس کے تانے بانے بن لادن سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر اسلاموفوبیا سے جا ملائے اور اب اسلام کو عبرت کا نمونہ بنانے کے لئے تہذیبو فوبیا کے انسانی فساد مچانے کی سٹریٹجی کے لئے تانے بانے ہنٹنگٹن میں جا ڈھونڈے اور ان کی مذکورہ کتاب کے سرورق پر تحریراً گلوبل آرڈر کی سٹریٹجی بھی ان حرفوں کے ساتھ کندہ کر دی کہ:

One of the most important books to have emerged since the end of the cold war

یعنی کتاب کی تعریف کے اندر سرد جنگ کے خاتمے کے لیے برتی گئی وہ سٹریٹیجی بھی یاد کرا دی گئی جسے ہنری کسنجر نے ایشیا کی ابھرتی سپریمیسی کو عبرت کا نمونہ بنانے کے لئے افغان جہاد پلان کر رکھی تھی تاکہ سوویت یونین سے اپنے یو۔ ٹو طیارے کی جاسوسی اڑان کی ہوا نکالنے کا حساب چکایا جاسکے جو پاکستان پر فوجی قیادت کے دور میں بڈا بیر سے اڑا تھا۔

تہذیبوں کے ٹکراؤ کا جملہ رائج ہونے کے بعد پیغمبر اسلام ﷺ کی شان کے خلاف گستاخانہ کارٹون اور خاکے فرانس، جرمنی وغیرہ میں شائع ہونے لگ پڑے ہیں تو اس جرم و فساد زدگی کی مرتکب وہ ریاستیں یا قومیں ہرگز نہیں یا اسی طرح نیوزیلینڈ، سویڈن، ناروے وغیرہ میں انہدام مساجد و بے ادبی قرآن کے سانحے برپا کیے جاتے ہیں تو ان میں متعلقہ ریاستوں یا قوموں کا کوئی دوش نہیں بلکہ یہ تو ایسے افراد یا ان کے گروہوں پر مشتمل شہریوں کا کیا دہرا ہوتا ہے جن کی نظروں سے ہنٹنگٹن صاحب کی کتاب تہذیبوں کا تصادم والا جملہ گزرا ہوتا ہے اور جس کا ابتدائیہ کھلتا ہی یوں ہے کہ

The great religions are the foundations on which the great civilizations rest
یا یہ کہ
Throughout history civilizations have provided the broadest identifications for people

حالانکہ جب تہذیبوں کے ٹکراؤ کا جملہ موجود نہیں تھا تو جرمنی یورپ کے اندر اپنی ہم تہذیب ریاستوں فرانس اور برطانیہ پر چڑھ دوڑا تھا۔ تینوں قومیں غیر مسلم تھیں تو اس دوران نورالنساء عنایت خان نازیوں کے خلاف میڈیلین کے فرضی نام سے برطانیہ کے لئے جاسوسی کی خدمات پر مامور تھیں۔ نور کو نازیوں نے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتارا تو وہ فرانسیسی زبان میں آزادی آزادی کہہ کر چلا رہی تھیں۔ اب بھی ان کا نام لندن کی یادگاری تختیوں میں شامل ہے۔

آخر میں تمام ایشیائی مسلم ریاستوں کے لیے پیغام ہے کہ وہ تہذیبو فوبیا کے خطرے کا ادراک کرتے ہوئے کوئی باہمی تحالف (confederacy) اپنا لیں اور ایشیا کو ویسٹرن بالادستی سے بچانے کے لیے سی پیک کا حصہ بن جائیں جیسے بھارت اور اسرائیل امریکہ کے ورلڈ آرڈر کا حصہ ہیں۔ سویڈن، نیوزی لینڈ یا فرانس جیسے ملک چاہیں تو ہنٹنگٹن کے خلاف ہرجانے کے دعوے دائر کر سکتے ہیں۔ وہ نہ بھی کریں تو وہاں کی عدالتوں سے مسلمان شہری رجوع کر سکتے ہیں اور گستاخان پیغمبر یا توہین قرآن کے مرتکبین پر ہرجانے کے دعوے دائر ہو سکتے ہیں کیونکہ مذہبی آزادی کا حق وہاں متاثر ہوتا ہے جہاں ان کی مذہبی حرمت و تقدس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے پٹرول پمپ پر آ کر سگریٹ سلگانا آزادی اظہار کا حق نہیں بنتا۔

محمد فاروق
مصنف: ”انسانی تہذیب اور خلافت کا نظام“ ،
”پاک۔ بھارت ونڈت میں ہند جڑت کی بولی“ ،
اور ”سیاسی نظری مغالطوں میں ہندو مسلم ایکا“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •