صحافتی بونے۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت چاہے دنیا کے کسی بھی ملک کی ہو ہمیشہ جن چیزوں سے خائف رہی ہے ان میں سرفہرست صحافت ہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں قانون کی پاسداری کرنے والی اور اصول و ضوابط کے ساتھ نظریاتی سیاست کرنے والی سیاسی جماعتیں ہوں یا پھر ان کی سیاسی قیادت ہو جس چیز سے خوف زدہ رہتی ہیں وہ صحافت ہی ہے حالانکہ ان کو خوفزدہ تو عوام سے ہونا چاہیے مگر ایسا نہیں ہے۔ جہاں تک ترقی پذیر پسماندہ ممالک کی صورتحال ہے تو ان ممالک کی سیاست اور طرز حکمرانی کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔

ان ممالک میں آزاد صحافت کو برداشت کرنے کا مادہ ہی نہیں ہے۔ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو ذاتی مخاصمت سمجھا جاتا ہے اور ذاتی اصلاح کی بجائے اس قلم کو ہی توڑنے کی تدبیر کی جاتی ہے جیسے پرانی فلموں میں جج صاحب کسی قاتل کی سزائے موت کے حکم پر دستخط کرنے کے بعد قلم کی نب توڑ دیتے تھے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر حکومت سے اختلاف رائے کو ملک دشمنی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

موجودہ عہد میں ناکام حکومتی پالیسیوں کو کامیاب بنانے کے لیے جن صحافتی بونوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے وہ کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ یہ بھی تو اس عہد کا المیہ ہوا کہ جن لوگوں کو حکومتی اچھے کاموں کی تعریف اور برے کاموں پر تنقید کرنی چاہیے تھی وہ آج حکومت کے ترجمان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ صحافت کا لبادہ اوڑھے پست ذہنیت اور اوسط درجے کے مراعات یافتہ ٹولے کو صحافی بنا کر قومی میڈیا پر بٹھا دیا گیا ہے جو ہمہ وقت بے معنی جگالی کرتے ہوئے نان ایشوز کو ڈسکس کرتے رہتے ہیں اور عوام پریشان ہوتی ہے کہ ان کے مسائل پر بات کب کی جائے گی۔

اس سارے عمل کا نتیجہ بھی سامنے ہے کہ حکومتی رنگ نہیں جم رہا بات نہیں بن رہی۔ مسند نشین یہ بات کیوں بھول رہے ہیں کہ اس طرح کے جھوٹ سے کچھ دن تک تو معاملات شاید چل سکتے تھے جو کہ چل گئے جبکہ پورا دور اقتدار اس طرح گزارنا ناممکن ہے۔ بالفرض یہ سمجھ لیں کہ سارا میڈیا ہی حکومتی تعریفوں پر لگ جائے تو کیا عوام کو چینی، آٹا سستا ملنا شروع ہو جائیں گے کیا بجلی کے بلوں میں اضافہ رک جائے گا اور کیا روزگار کی فراوانی ہو جائے گی۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو مسئلہ کچھ اور ہے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تنقید کو برداشت کرنا پڑے گا اور اپنی اصلاح کرنی پڑے گی۔

رہی بات صحافیوں کی تو یہاں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ جو صحافی آج صحافتی اعلیٰ و ارفع اصولوں کے علمبردار بنے ہوئے ہیں وہ کل تک کیا کر رہے تھے۔ نشاندہی کی ضرورت نہیں سب کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ حکومتیں تو آنی جانی ہوتی ہے آج کوئی تو کل کوئی اور مسند نشین ہوگا۔ پھر قصیدہ خوانی کیسی اور جی حضوری کس بات کی۔ ٹھیک کو ٹھیک کہنا اور غلط کو غلط کہنا صرف صحافتی نہیں ہمارا مذہبی فریضہ بھی تو ہے۔ مگر اس فکری قحط کے عہد میں کون سوچے اور کون سمجھے اور کیونکر ایسا کرے اور ضرورت بھی کیا ہے۔

پر آسائش اور بھرپور زندگی گزارنے والے صحافیوں کے اپنے مسائل کم ہیں جو وہ عوامی مسائل پر بھی توجہ کریں۔ جب پورا معاشرہ ہی اپنے پیٹ سے آگے کچھ نہیں دیکھ رہا تو پھر صحافی بھی تو اسی معاشرے کے افراد ہیں۔ یہ کون سا آسمان سے اترے ہیں۔ اگر کسی کا جھوٹ بک رہا ہے تو وہ بیچے گا اور اچھے داموں بیچے گا کیونکہ جب جھوٹ خریدنے والوں کو ہی فکر نہیں ہے تو پھر جھوٹ بیچنے والے کو کس بات کی فکر۔ جھوٹ کا کاروبار عروج پہ ہے میڈیا ہاؤسز کے نام پر جھوٹ کی بڑی دکانیں کھلی ہوئی ہیں اور گاہکوں کا رش پڑا ہوا ہے۔ بازار میں تیزی ہی تیزی ہے کہیں پر مندی کا شائبہ تک نہیں ہے۔

یہ سب کوئی مافوق الفطرت باتیں نہیں ہیں بلکہ ماضی قریب کی باتیں ہیں کہ وہ بھی تو لوگ تھے جو بطور صحافی سبب سچ لکھنے کے جرم کی پاداش میں پابند سلاسل ہوئے۔ ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، پاؤں میں بیڑیاں ڈالے ہوئے جب عدالتوں میں پیش ہوتے تو عوام کا جم غفیر ان کے ساتھ ہوتا۔ ان کے سر فخر سے بلند ہوتے چہروں پر اطمینان اور حکومتی انتقام کے خلاف ایک فاتحانہ سی مسکراہٹ ہوتی۔ نوکریوں سے گئے کسمپرسی میں وقت گزارا جیلیں بھگتائیں مگر اپنے آدرش اپنے اصولوں اور اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

کلمہ حق کہنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ یہ صحافت کا ایک شاندار عروج تھا۔ قابل فخر اور قابل تقلید تھے یہ لوگ۔ وقت تبدیل ہوا تو صحافت کا معیار اور معنی بھی تبدیل ہو گئے۔ اس عروج کے بعد زوال یہ ہے کہ ٹی وی سکرینز پر ہر حکومتی نا اہلی کا دفاع کرتے ہوئے منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے بھی صحافی کہلاتے ہیں۔ کیا عروج تھا اور کیا زوال ہے۔ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں پر ان بازاری لب و لہجے کے لوگوں کو نا صرف سننا پڑتا ہے بلکہ برداشت بھی کرنا پڑتا ہے۔ مگر کوئی فکر نہیں ہے اگر وہ وقت نہیں رہا تو یہ بھی نہیں رہے گا وقت کی چھلنی میں سب کچھ چھن جائے گا۔

آخری بات جو صاحب اقتدار طبقے کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ عوامی رائے پر کسی حد تک تو اثر انداز ہوسکتے ہیں اور یہ دورانیہ بھی زیادہ نہیں ہوتا۔ جو چیز عوامی رائے کو مثبت کرتی ہے وہ حکومتی کارکردگی ہوتی ہے۔ جب عوام کو ریلیف ملے گا تو پھر چاہے ذرائع ابلاغ جتنا بھی مخالف ہو عوامی رائے کو تبدیل نہیں کر سکتا اور اسی طرح ناقص کارکردگی پر جتنی ملمع کاری کی جائے جتنا جھوٹ بولا جائے جس قدر اعداد و شمار کا گورکھ دھندا پیش کیا جائے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ کیونکہ بھوک، غربت، افلاس، معاشی تنگ دستی کی تلخیاں اور سختیاں بذات خود عوامی رائے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ عوام کی سوچ کا رخ متعین کرتی ہیں، ٹھیک اور غلط میں فرق بتاتی ہیں۔ جھوٹ اور سچ کی تمیز کراتی ہیں۔ کھوٹے اور کھرے کی پہچان کراتی ہیں۔ اور اس پہچان کو کوئی صحافتی بونا ختم نہیں کر سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •