ایک غیر ضروری شخص کے لئے کلیشے کالم
ان سے ملئے، یہ اوچ شریف کے نواحی موضع مخدوم پور کی بستی جانگلہ کے رہائشی چاچا حضور بخش بلوچ ہیں۔ کہولت ان کے جسم میں کئی برس سے مقیم ہے لیکن قوت ارادی کی لاٹھی ٹیکتے یہ زندگی گھسیٹ رہے ہیں۔ انہیں یقین ہے ایک روز موت نے آنا ہے اور مجھے لے جانا ہے لیکن زمین پر یہ اپنی زندگی کا بوجھ کسی اور پر ڈالنے کے حق میں نہیں۔ سفید ریش، چہرے پر پھیلا جھریوں کا جال۔ ان جھریوں میں عمر بھر کی مفلوک الحالی کا ڈیرہ ہے۔ رخساروں کی ابھری ہوئی ہڈیاں غربت میں بسر ہوتے شب و روز کی گواہ ہیں۔
چاچا حضور بخش کی عمر رواں کی بے اعتبار سانسوں کے تسلسل کو 88 برس سے زائد کا عرصہ بیت گیا، کہولت کی آٹھ دہائیوں کے باوجود جوانوں کی سی چستی و تازگی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اپنے جوان بیٹوں کے روکنے کے باوجود کاروبار زیست کے زیادہ تر امور اپنے بوڑھے ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں۔ کھجور کے درختوں پر چڑھ کر کھجوریں اتارنا اور ان کو چھابڑے میں رکھ کر بازار میں بیچنا ان کا ذریعہ معاش ہے۔ ان سے ملاقات کی سبیل کچھ یوں پیدا ہوئی کہ آج ہم مفتی تنویر احمد مدنی صاحب کے ہمراہ جہاں بینی کے امور پر تبادلہ خیال کر رہے تھے کہ سڑک سے ان کو چھابہ سر پر رکھ کر بازار سے واپس جاتے دیکھا، شاید گھر جا رہے ہوں گے۔ ہم نے ہانکا لگایا تو وہ پلٹ آئے۔
پریچے اور جان پہچان کے رسمی تقاضے کھجور لینے کے دوران ہی پورے ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے میں چھابڑہ سر پر رکھ کر آم بیچتا تھا لیکن کورونا کی ”ہوا“ کے دوران موضع مخدوم پور کے مقامی زمیندار مرید احمد خان جانگلہ نے مجھے کچھ رقم دی کہ تم بوڑھے ہو، یہ بیماری بوڑھوں کو زیادہ لگتی ہے، تم گھر میں بیٹھو، لہذا چار پانچ ماہ گھر میں رہا، اب چند دنوں سے بازار میں آیا ہوں۔
چاچا حضور بخش ان نایاب اور چند لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ہیڈ پنجند کے تعمیراتی عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور شمس محل اوچ شریف کی تعمیر میں بطور مزدور حصہ لیا، چاچا حضور بخش کے مطابق اس دور میں شمس محل کے گردونواح، موجودہ جہانیاں روڈ، سرکلر روڈ، عید گاہ روڈ وغیرہ پر کھجور کے درختوں کا جنگل (نخلستان) تھا، انہوں نے کہا کہ ہمارے زمانے میں درگاہ حضرت سید جلال الدین حیدر سرخپوش بخاری رحمت اللہ علیہ کے ساتھ ہی ایک کنواں تھا، بیلوں کی مدد سے راہٹ چلا کر کنویں سے پانی نکالا جاتا اور ہم وہاں نہاتے۔
چاچا حضور بخش نے ڈیرہ نواب صاحب تا ہیڈ پنجند براستہ اوچ شریف بچھائی جانے والی ریلوے لائن کی پٹری اور اس راستے پر چلنے والی مال گاڑی، انگریز انجینئرز اور افسروں کے خصوصی کیبن اپنی آنکھوں سے چلتے دیکھے۔ انہوں نے اپنی بوڑھی آنکھوں سے پاکستان بنتے اور پھر ٹوٹتے دیکھا، ”کراڑوں“ کے اوچ شریف سے نکلنے اور ہندوستان سے ہجرت کر کے اوچ شریف آنے والے مہاجرین کی لٹی پٹی داستانوں کے دل خراش مناظر چاچا حضور بخش کی آنکھوں میں محفوظ ہیں۔
گفتگو کی دوران اچانک ہماری نظر چاچا حضور بخش کے کھردرے اور سخت ہاتھوں پر جا پڑی۔ ان ہاتھوں نے اتنی روٹی نہیں کمائی تھی جتنی گانٹھیں کما لی تھیں۔ کھردرے ہاتھوں پر محنت کی روٹی رقم تھی۔ لکیروں کی لکڑیاں ہاتھ کے تندور میں سلگ رہی تھیں۔
چاچا حضور بخش جیسے لوگ ہمارے بے حس اور بانجھ بنجر معاشرے میں غیر ضروری سمجھے جاتے ہیں، ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ایسے لوگ زندگی کے کس کڑے، کٹھن اور صبر آزما امتحان سے گزرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمارے معاشرے کا حقیقی حسن ہیں۔ ہمارا مان ہیں۔ ان کی قدر کیجئے۔ ضرورت نہ بھی ہو تو چیز خرید لیجیے۔
چاچا حضور بخش اوچ شریف کے گزرے آٹھ دہائیوں کی زندہ تاریخ ہیں۔ ان کی قربت میں بیٹھ کر اور ان سے باتیں کر کے ہمیں جو لطف ملا وہ بیان سے باہر ہے۔ سرائیکی وسیب کے عظیم مزاحمتی شاعر سئیں عزیز شاہد نے شاید چاچا حضور بخش جیسے مہاندرے لوگوں کے لئے ہی یہ کہا ہو۔ ۔ ۔
جیونڑ تاں ریت ہے رشتیں دی
ہک رمز اے اندری اندریں دی
جیونڑ تاں سک ہے صحرا دی
جیونڑ تاں سرت سمندریں دی
جیونڑ تاں من دی مندری وچ
مندری ہوئی چاندنڑی چندریں دی
جیونڑ! فطرانہ فطرت دا
نئیں گال مسیتیں مندریں دی




