پروفیسر سلیمی صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پروفیسر سلیمی صاحب بڑے شاندار انسان تھے۔ وہ ہمارے انگلش کے پروفیسر تھے۔ ہماری کلاس میں تشریف لاتے اور ان کا لیکچر شروع ہوتا تو حسب معمول کلاس کے اکثر طلبا پورے انہماک اور مکمل سکون کے ساتھ سو جاتے۔ پروفیسر صاحب کے لیکچر کے دوران طلبا کا سونا ایک روٹین تھی جس میں لڑکوں کی خواہش کے علاوہ پروفیسر صاحب کی مرضی بھی شامل تھی۔ لڑکے سو رہے ہوتے تو پروفیسر صاحب کا لیکچر اپنے عروج پہ ہوتا۔ کلاس جاگ رہی ہوتی تو دونوں طرف مایوسی ہوتی۔ پروفیسر صاحب کا ردم ٹوٹ جاتا اور وہ اٹکنا شروع ہو جاتے۔

کچھ لوگوں کو نیند میں بولنے کی عادت ہوتی ہے لیکن پروفیسر سلیمی صاحب وہ انسان تھے جنہیں دوسروں کی نیند میں بولنے کی عادت تھی۔ سلیمی صاحب کی ہمیشہ یہی خواہش رہتی کہ وہ لیکچر دیں تو سامنے توجہ سے سننے والا کوئی نہ ہو یعنی، ”کچھ نہ ’سنے‘ خدا کرے کوئی“ ۔ وہ دنیا کے ہر موضوع پہ بات کر سکتے تھے سوائے اپنے مضمون کے۔ لیکن حیرت کی بات تھی کہ پروفیسر سلیمی صاحب کے مضمون میں طلبا ہمیشہ اچھے نمبر لیتے شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ طلبا کو پہلے دن سے یقین ہوتا تھا کہ اس مضمون میں جو کچھ کرنا ہے انہوں نے خود ہی کرنا ہے لہذا اس میں وہ خوب محنت کرتے اور پاس ہو جاتے۔

لیکچر کے دوران پروفیسر صاحب لڑکوں سے Eye Contact بالکل نہیں رکھتے تھے۔ آتے ساتھ ہی وہ کمرے کے ایک کونے پر اپنی نگاہیں جما دیتے اور پھر پورے لیکچر کے دوران وہ کمرے کے اسی کونے کو ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہتے۔ ہمیں ڈر تھا کہ ان کی مسلسل تیز نگاہی کے باعث کمرے کے اس حصے میں سوراخ ہی نہ ہو جائے۔ ان کا پورا لیکچر انگلش میں ہوتا تھا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کو انگلش آتی بھی تھی۔ وہ غلط انگلش اتنے اعتماد اور اس قدر روانی سے بولتے کہ سننے والے کو اپنی درست انگلش بھی بھول جاتی تھی۔ انگلش کے دس بارہ غلط سلط جملے انہوں نے کہیں بھلے وقتوں میں رٹ لیے تھے اور اب ان کی پوری درس و تدریس بلکہ ساری نوکری انہی جملوں کے طفیل چل رہی تھی۔ اور ہم خود چونکہ پروفیسر صاحب کے انتہائی قابل سٹوڈنٹ تھے اس لیے انگلش کے حوالے سے ذاتی طور پر ہماری قابلیت بھی انہی جملوں سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

پروفیسر سلیمی صاحب علامہ اقبال کے بے پناہ شیدائی تھے۔ زندگی بھر ان کی سب سے بڑی خواہش رہی کہ ان کے علاوہ ہر انسان حضرت اقبال کی تعلیمات پر عمل کرے۔ وہ خود بعض ناقابل بیان وجوہات کی بنا پر ان پر عمل نہ کر سکے۔ پروفیسر صاحب کلاس میں سوال کرنے کی انتہائی حوصلہ شکنی کرتے۔ اس باب میں ان کی منطق بڑی زبردست تھی اور وہ یہ کہ کسی باغیرت انسان کو کسی کے سامنے سوال نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبا کا سوال کرنا اقبال کے فلسفہ خودی کے خلاف ہے۔

چنانچہ ان کے اس موقف کی تائید میں لڑکے ان کے سامنے ہمیشہ اپنی غیرت اور خودی ہی بچاتے رہے اور کبھی کوئی سوال نہ کرتے۔ پروفیسر صاحب شدید ثقل سماعت کا شکار تھے اور اس کے لیے وہ آلۂ سماعت استعمال کرتے تھے۔ وہ جیسے ہی اپنا لیکچر شروع کرتے یہ آلہ اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے اور پھر پوری توجہ سے اپنا لیکچر خود سنتے۔ ادھر جیسے ہی لیکچر ختم ہوتا وہ آلۂ سماعت کانوں سے اتار لیتے۔ ایسے میں ہم لوگ کوئی ضروری بات کرتے تو ان کو بالکل سنائی نہ دیتا لیکن وہ مثبت انداز سے سر کو ہلاتے رہتے جیسے کہہ رہے ہوں، ”بولتے رہیے۔ بولتے رہیے“ ۔ چنانچہ ان کا آلۂ سماعت ہمارے لیے گویا ”تالۂ سماعت“ کا کام دیتا تھا۔

یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ پروفیسر صاحب کا رنگ کالا تھا حقیقت یہ تھی کہ بہت ہی کالا تھا۔ ان کے کالے رنگ کو کسی اور کالے رنگ سے تشبیہ دینا ناممکن تھا۔ کوے وغیرہ اور اس قبیل کے دیگر چرند پرند رنگ کے مقابلے میں پروفیسر صاحب سے بری طرح مار کھا گئے تھے۔ اس منفرد سیاہ رنگ کے علاوہ سلیمی صاحب کی خاص بات ان کی ڈریسنگ تھی۔ ان کا لباس بھی ان کے رنگ کی طرح بے مثل تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر پروفیسر صاحب اور کچھ بھی نہ کرتے تو صرف اپنی ڈریسنگ کی بنا پر تاریخ میں زندہ رہ سکتے تھے۔

چنانچہ انہوں نے اور کچھ بھی نہیں کیا۔ لباس میں وہ انتہائی شوخ رنگ استعمال کرتے۔ اس تاریخی ’کالے شاہ‘ رنگ کے اوپر جب آپ سفید چمکدار باریک کاٹن پہنتے تو ان پر ایسا بھیانک نور برستا کہ ہم فرط عقیدت میں کانپنے لگتے۔ گہرا سرخ رنگ آپ کا فیورٹ تھا۔ سردیوں میں جب آپ آتشیں سرخ رنگ کی جرسی استعمال کرتے تو جیسے شام کے وقت کسی کالے آتش فشاں پہاڑ کا منظر سامنے آ جاتا۔

پروفیسر صاحب کے لیکچر کے آخری دس منٹ لطیفوں کے لیے مختص ہوتے۔ اور لطیفے ایسے کہ کیا بات کی جائے۔ کسی اخلاق اور تہذیب وغیرہ کا ان کے ساتھ کوئی واسطہ نہ ہوتا تھا۔ فحش وغیرہ کا لفظ ان کے لیے بہت چھوٹا تھا۔ ہم دیکھتے کہ ان لطیفوں پر اچھے خاصے آوارہ مزاج لڑکوں کے بھی کان سرخ ہو جاتے اور ان کے بال کھڑے ہو جاتے۔ کیا یاد گار لطیفے تھے بس ایک چھوٹی سی قباحت ان میں یہ تھی کہ آپ انہیں کسی شریف آدمی کو نہیں سنا سکتے تھے۔

بلکہ بعض لطیفے تو ایسے تھے جنہیں آپ اپنے آپ کو بھی دوبارہ نہیں سنا سکتے تھے۔ یہ لطیفے سناتے ہوئے پروفیسر صاحب کے الفاظ، لہجہ اور باڈی لینگوئج سب ایک پیج پر ہوتے تھے وہ صورت حال کی ایسی تصویر کھینچتے کہ منظر سامنے آ جاتا۔ لیکچر کا یہ حصہ ٹھیٹھ پنجابی میں ہوتا اور اس کے دوران مجال ہے کسی کو نیند آتی ہو۔

پروفیسر صاحب نے عمر بھر اسی اعلیٰ جذبے اور تسلسل کے ساتھ لوگوں کو پڑھایا اور کئی نسلوں کو پورے خلوص اور مکمل سکون کے ساتھ ذہنی طور پر تباہ کیا۔ ان کی کمال عادت تھی کہ وہ ایک طرف تو اپنے اس علم کش انداز تدریس کو بھی ترک نہیں کرتے تھے اور دوسری طرف ہمیشہ گلہ کرتے کہ نجانے وطن عزیز میں لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ لوگ وہ کام نہیں کرتے جو ان کے ذمے لگا ہو تا ہے۔ یہ بات انہیں مسلسل پریشان رکھتی اور وہ قوم کے درد میں گھلتے رہتے۔ اب پروفیسر سلیمی صاحب جیسے لوگ کہاں ملتے ہیں۔ تعلیم کے تیور بدل گئے ہیں۔ اب نا تو ایسے پروفیسر رہے نا وہ اعلیٰ پائے کے حیا سوز لطیفے رہے اور سب سے بڑھ کر نا وہ کلاس میں پرسکون نیند کے مواقع میسر ہیں۔ ”کوئی محرومی سی محرومی ہے“ ۔ پروینؔ شاکر سے معذرت کے ساتھ عرض ہے۔

وہ ”کالج“ کی نیند تو اب خواب ہو گئی
کیا عمر تھی کہ ”کلاس میں گئے“ اور سو گئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •