بیرونی دفاع کے ساتھ ساتھ اندرونی دفاع کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ہر سال 6 ستمبر کو بطور یوم دفاع ایک قومی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ایک عظیم تاریخ کا حامل ہے جب 1965 میں رات کی تاریکی میں بھارت نے لاہورسمت پاکستان پر حملہ کر دیا اور اس کے جواب میں افواج پاکستان نے بھر پور دفاعی کار کردگی دکھائی جس کے بعد بھارت کو منہ کی کھانی پڑی۔ یہ عظیم دن ہمیں 6 ستمبر 1965 کو افواج پاکستان کی دفاعی کار کردگی اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ اس دن ہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے، اور اس عظیم دفاعی دن کی یاد میں پاکستان بھر میں میں 6 ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارت کے اس حملے کی پسپائی کا تذکرہ کیا جاتا ہے جس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس دفاعی دن سے پاکستانی قوم نے پوری دنیا میں ثابت کیا کہ پاکستانی قوم بہت بہادر اور نہ ڈر ہے اور مشکل پڑنے پر اپنے عزیز وطن کی خاطر جان دینے سے بھی کبھی گزر نہیں کرتے۔

وقت کے ساتھ ساتھ جوش و جذبہ میں دن بدن اضافہ ہوتا نظر آتا ہے۔ کرونا وائرس جیسی عالمی وبا کو بھی پاکستانی قوم نے بہت ہمت و حوصلہ کے ساتھ شکست دی۔ اور اس مشکل وقت کے باوجود بھی اس سال 6 ستمبر 2020 میں کسی بھی قسم کے جوش و جذبے میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی بلکہ میں نے تو ذاتی طور پر اس سال زیادہ جوش وجذبہ دیکھا۔ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ بحثیت ایک قوم ہمیں بیرونی خطروں کے ساتھ ساتھ اندورنی خطروں سے بھی بہادری سے لڑنا ہوگا اور اگر ہم غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ بیرونی خطروں سے زیادہ خطرہ ہمیں اندرونی خطروں سے ہے۔

اندرونی خطروں سے کیا مراد ہے؟ ہمیں اندرونی خطروں کو کھلے دماغ سے سمجھنا ہوگا کہ کون سے ایسے اندرونی خطرات ہو سکتے ہے جن سے نپٹنا بہت ضروری ہے۔ سب سے بڑا اندرونی خطرہ جو اس وقت پاکستان کو درپیش ہے وہ ہے مذہبی انتہاپسندی اور فرقہ واریت، قومیت، ذات پات اور صوبائیت جیسے سنگین مسئلے درپیش ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح ؒپاکستان کو مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت، قومیت اور صوبائیت سے پاک ایک ریاست بنانا چاہتے تھے۔ 11 اگست 1947 کو پاکستان کے پہلے دارالحکومت شہر کراچی میں قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے دستور ساز اسمبلی کے اجلاس سے ایک تاریخی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ

”کوئی طاقت دوسری قوم کو اپنا غلام نہیں بناسکتی بالخصوص اس قوم کو جو چالیس کروڑ انسانوں پر مشتمل ہو، اگر یہ کمزوری نہ ہوتی، کوئی اس کو زیر نہیں کر سکتا تھا اور اگر ایسا ہو بھی جاتا تو کوئی آپ پر طویل عرصہ تک حکمرانی نہیں کر سکتا تھا۔ لہٰذا ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے“ قائد اعظم محمد علی جناح نے مزید فرمایا۔ ”آپ آزاد ہیں آپ آزاد رہیں، آپ لوگ اس ملک پاکستان میں اپنی اپنی عبادگاہوں، مسجدوں یا مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ کا مذہب کیا ہے، آ پ کی ذات کیا ہے، قوم کیا ہے۔ اس کا حکومت کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں“ (میں نے یہ پیراگراف 11 اگست 1947 کی تقریر سے لیا ہے )

اس اہم ترین تقریر سے قائداعظم محمد علی جناح ؒنے واضح طور پر نئی مملکت اور اس کے دستور کے بنیادی خدوخال کی وضاحت کر دی اور ان ہی بنیادں پر نیا دستور بننا تھامگر افسوس کے ساتھ آج کا پاکستان قائد کے پاکستان سے مختلف ہے۔ کچھ مذہبی عناصر اس ملک پاکستان کے لوگوں مذہبی، ذاتی اور صوبائیت کو بنیاد بنا کر پاکستانی عوام کو ایک دوسرے کے خلاف آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ ہمیں مذہب، ذات، صوبائبت سے بالا تر ہو کر بحثیت ایک قوم بن کر ان عناصر سے لڑنا ہوگا اور ان کو ناکام بنانا ہوگا۔

اب یہی وقت ہے جب ہم سب کو مل کر پاکستان کو اندونی خطروں سے سختی سے نمٹنا ہوگا ورنہ یہ عناصر پاکستان کو اندرونی طور پر بہت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ہمیں بحیثیت ایک قوم ایک دوسرے کو اس کامذہب، ذات، قوم اور صوبائیت کو بالائے طاق رکھ کر گلے لگانا ہوگا اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اس عظیم ملک پاکستان اور جو ایک عظیم خواب ہے اس کو پورا کرنے کے لیے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا ہوگا۔ جیسے پاکستانی قوم نے پوری دنیا کو ایک عظیم سبق دیا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔

پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اورجانثاری کے جرات مندانہ جذبے نے مل کر نا ممکن کو ممکن بنا کر دکھایا۔ اسی طرح ہمیں ملک پاکستان کے اندرونی خطروں سے لڑنا ہوگا اور مجھے یقین ہے ہم ان عناصر کے خلاف ایک قوم بن کر شکست دے سکتے ہیں کیوں کہ اس قوم کی یہ خوبی ہے کہ جب بھی اس ملک پاکستان میں کوئی بھی کسی بھی قسم کی مشکل گھڑی آئی تو اس قوم نے ملک اس مشکل کو شکست دی۔ چاہیے وہ 1965 کی جنگ ہو یا سیلاب ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا کرونا وائرس جیسے عالمی وبائی بیماری کیوں نہ ہو مشکل وقت آنے پر اس قوم نے ہمیشہ وفا کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •