اپوزیشن کی اے پی سی اور مولانا فضل الرحمن کی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2018 کے عام انتخابات میں جس طرح مولانا فضل الرحمن کو پارلیمنٹ سے باہر کر دیا گیا، اسی طرح مولانا نے حکومت کے لئے چلنا مشکل کر دیا ہے۔ مولانا صاحب وہ سیاستدان ہیں جو بیک وقت کئی سیاسی محاذوں پر لڑنے کا ہنر جانتے ہیں، مولانا فضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ آزادی مارچ میں ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے لیکن وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ تختہ الٹنے میں کامیاب تو نہ ہو سکیں لیکن تختہ ہلانے میں ضرور کامیاب ہوئے ہیں۔ آزادی مارچ ختم کرنے کے لئے مولانا فضل الرحمن سے وعدہ کیا گیا کہ تین ماہ تک وزیراعظم چلا جائے گا۔ پارلیمنٹ میں ان ہاؤس تبدیلی لائی جائے گی، اگلے 6 ماہ تک نئے سرے سے الیکشن کرائی جائے گی۔ چوہدری برادران اور کچھ خاص شخصیات کی جانب سے مولانا اور اسٹیبلشمنٹ میں مذاکرات کے لئے پل کا کردار ادا کیا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، نہ تو وزیر اعظم گھر جا سکا نہ ہی ان ہاؤس تبدیلی لائی گئی اور نہ ہی 6 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود نئے انتخابات کا اعلان کیا گیا، مولانا فضل الرحمن نے چوہدری برادران یا اسٹیبلشمنٹ سے وعدہ خلافی کی تو شکایت کی لیکن ساتھ ساتھ دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز لیگ سے آزادی مارچ میں دونوں جماعتوں کے کارکنوں کی شرکت نہ کرانے اور ساتھ نہ دینے پر شکوے کیے اور ناراض بھی ہوتے رہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت مولانا فضل الرحمن واحد سیاستدان ہیں جس کے پاس لاکھوں کارکن جانثار ہیں جو صرف مولانا فضل الرحمن کی انگلی کے اشارے کے منتظر ہیں۔ کچھ عرصہ قبل مولانا فضل الرحمن نے حکومت مخالف تحریک چلانے کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کا اجلاس بلایا جس میں دو بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو مدعو نہی کیا گیا۔ جس کے بعد نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ شہباز شریف مولانا کو منانے اس کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے، اور پھر بڑے بھائی کی فرمائش پر کراچی پہنچ کر سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی، شہباز شریف کے ساتھ ن لیگ کے وفد میں مریم اورنگزیب، احسن اقبال، محمد زبیر، رانا مشہود اور شاہ محمود شاہ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے علاوہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، نثار کھوڑو، فرحت اللہ بابر، نوید قمر، وقار مہدی اور عاجز دھامرا شامل تھے۔

شہباز زرداری ملاقات کے بعد جب مولانا سے دوبارہ رابطہ کیا گیا تو مولانا نے شرط رکھی کہ آپ کے اوپر اعتماد نہی ہے پہلے شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری مستعفی ہوں پھر ہمارے ساتھ چل سکتے ہیں۔ جس پر احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ مولانا کی شہباز شریف سے تو اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے استعفیٰ مانگنا سمجھ میں آتا ہے مگر بلاول بھٹو زرداری کیوں مستعفی ہوں، اگر استعفیٰ دینا ہے تو پھر ہم سب استعفیٰ دے دیں، رہبر کمیٹی کا اجلاس اکرم خان درانی کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں اپوزیشن کی تمام پارٹیوں نے شرکت کی اور 20 ستمبر کو اسلام آباد بلاول ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے اور اس اے پی سی میں آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اے پی سی سے پہلے ہی مولانا فضل الرحمن نے 7 ستمبر کو پشاور میں ختم نبوت کے نام سے طاقت کا مظاہرہ کیا جسے میڈیا نے تو کور نہی کیا البتہ سوشل میڈیا پر وڈیوز دیکھنے سے لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن حکومت مخالف تحریک شروع کردی ہے۔ جس کے بعد 29 اکتوبر کو کراچی اور 29 نومبر کو لاڑکانہ میں ملین مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ساتھ میں کوئٹہ، لاہور اور اسلام آباد میں بھے بڑے جلسے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان اس بار پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے کی طرح پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ان کے ساتھ وفا نہیں کریں گی، لیکن وہ ان کو اکیلا بھی نہیں چھوڑنا چاہتے تاکہ کل وہ نہ کہ سکیں کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ اس وقت نواز شریف کے حکم پر جیسے ہی شہباز شریف اور مرہم نواز شریف سرگرم ہوئے ہیں۔ پھر سے نیب نے نواز شریف کو طلب کر لیا ہے، جبکہ آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر فرد جرم عائد کر دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کو ضمانت نہی دی جا رہی وہ ایک سال سے نیب کے کیس میں جیل میں قید ہیں، اگلے کچھ دنوں میں شاہ صاحب پر بھی فرد جرم عائد ہونے نے کا امکان ہے۔

پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کراچی کے مسائل پر آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ وزیر اعظم عمران خان کراچی کے دورے پر آئے تو صرف کراچی کے لئے 11 سو ارب کا اعلان کیا جبکہ بارشوں سے پورا سندھ متاثر تھا لیکن کوئی اعلان نہ کیا۔ جس پر بلاول بھٹو زرداری بھی خاصے ناراض ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں کو حکومت مخالف تحریک چلانے کے لئے دوبارہ سے اشارہ دے دیا گیا ہے۔

جے یو آئی نے چاروں صوبوں میں آل پارٹیز کانفرنس شروع کردی ہیں، صوبے سطح سے ضلع سطح پر اور تعلقہ سطح سے ٹاؤن کمیٹی پر اے پی سی بلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں این ایف سی ایوارڈ سے لے کر 18 ویں ترمیم اور حالیہ بارشوں سے کراچی سمیت چاروں صوبوں میں تباہی کے ساتھ سی پیک منصوبہ شروع کرنے اور حکومتی نا اہلی معاشی تباہی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر سے آزادی مارچ سے بھی بڑی سطح پر تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مولانا صاحب سمجھ رہے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ان کا حکومت مخالف تحریک میں ساتھ نہ دیا تو وہ اکیلے ہی اسلام آباد کا رخ کریں گے اور حکومت کے خاتمے کے ساتھ واپس آئیں گے۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر پیپلزپارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے حکومت کو کھلی آفر دی ہوئی ہے کہ ان کو نیب کیسز میں ریلیف دیا جائے وہ ان کے خلاف کسی بھی تحریک کا حصہ نہی بنیں گے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شرط رکھی ہوئی ہے کہ اگلی حکومت ان کی پیپلز پارٹی کو دی جائے اور بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنایا جائے۔

آصف علی زرداری سمجھتے ہیں کہ ان کے پارٹی رہنماؤں نے جان کی قربانیاں دی ہیں۔ اب انہوں نے ٹھیکا نہی لیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ٹکر کھائیں اور نقصان میں جائیں پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آخری حد تک حکومت کے ساتھ رہیں گے اور مولانا فضل الرحمن کو دھوکہ دیتے رہیں گے۔ جبکہ نواز شریف فی الحال لنڈن سے واپس نہیں آئیں گے اور شہباز شریف بھی اے پی سی کے بعد کسی بھی حکومت مخالف تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے۔ مریم نواز کا امکان ہے کہ وہ مولانا کے ساتھ کھڑی ہو جائیں اور پنجاب میں بغاوت شروع کرنے میں کردار ادا کریں، 20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کامیاب ہو نے کا فی الحال امکان البتہ اس بات کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اسٹیبلشمنٹ اگر ان ہاؤس تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے تو دونوں پارٹیاں اپوزیشن میں روح پھونک سکتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب واپسی کے تمام راستے بند کر کے آگے بڑھتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹ کر ہی واپس آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •