EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ہجرت پاکستان کی برکات سے محروم بھارتی مسلمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"syedمحترم اوریا صاحب نے مقابلے کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد علمیت کی جس معراج پر اپنے آپ کو فائز کیا ہے۔ اُس کے آگے دنیا کے بڑے سے بڑے تعلیمی ادارے کی، ہر فن و علم کی ڈگری ہیچ ہے۔ اسی طرح حالیہ دنوں میں، اُنہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں جس طرح تقسیم برّ صغیر کے وقت پاکستان ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں کو جہنمی قرار دے کر، اپنے آپ کو قرآن و حدیث اور علم فقہ کے، اُس مقام عالیہ پر سرفراز کرلیا ہے۔ جہاں کوئی سابق بیورو کریٹ تو کُجا، قیام پاکستان سے لے کر اب تک کسی بھی مکتب فکر کے عالم دین کا گذر بھی نہیں ہوا ہے۔ اوریا صاحب نے بذریعہ ایک کالم بھارتی مسلمانوں کو پاکستان ہجرت نہ کرنے پر قرآن و حدیث کی روشنی میں جہنم کی جو وعید سنائی ہے، اُس پر ہر بھارتی مسلمان شدید رنج و الم، قلق اور اضطراب کی کیفیت سے دوچار ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے ہجرت نہ کرکے اپنا دین و ایمان تو بگاڑا، جہنم کو بھی اپنا ٹھکانا بنایا اور ہمارے لیے بھی جہنم کی آگ کا بندوبست کرگئے۔ بھارتی مسلمانوں کو اس بات کا بھی رنج ہے کہ ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے، وہ بنگالی مسلمانوں کے خلاف جہاد میں حصّہ نہ لے سکے، نہ سقوط ڈھاکا میں اُن کا کوئی کردار ہے۔ اسی طرح شمالی افغانستان کے مسلمانوں کے خلاف جہاد میں بھی ان کا کوئی حصّہ ہے۔

بھارتی مسلمان پریشان ہیں کہ بھارت میں رہتے ہوئے کس طرح مختلف زبان بولنے والے مسلمانوں کے خلاف جہاد میں حصّہ لیں اور قتل عام کریں کیونکہ ان کو تو آج تک قومیت اور مسلک کی بنیاد پرکسی مسلمان کو قتل کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔

بھارتی مسلمان اب تک یہ سوچ کے ہی خوش ہوتے رہے کہ وہ ہندو اکثریت والے ملک میں رہتے ہوئے، اپنی علیحدہ شناخت بطور مسلمان بنائے ہوئے ہیں اور اپنی ساری توانائیاں ہندوؤں کے خلاف صرف کرنے میں مصروف ہیں لیکن اب بھارتی مسلمان ہجرت نہ کر نے پر پشیمان ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہجرت نہ کرکے، دراصل انہوں نے اپنی توانائیوں کا ضیاع کیا ہے کیونکہ انہوں نے آج تک نہ کسی مسجد، امام باگاہ، چرچ، مندر، اسکول، بازار اور کسی فوجی چھاؤنی پر خود کش حملہ کیا ہے اور نہ جتّھے بنا کر حملہ آور ہوئے ہیں۔ ا س کے علاوہ ان کو یہ موقع بھی نہیں ملا کہ پاکستان میں رہتے ہوئے، کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرتے اور اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو کھلاتے، جعلی دو ائیں بناتے اور جلد از جلد اپنے مسلمان بھائی کو سفر آخرت پر روانہ کرنے میں معاون ثابت ہوتے، اپنے مسلمان بھائی کو خود کاروبار میں دھوکا دیتے اور لُوٹتے تاکہ کسی کافر کو دھوکا دینے اور لُوٹنے کی حاجت ہی نہ رہتی۔ نجی کاموں کے سلسلے میں، ہندوؤں کو رشوت دینے کی بجائے اپنے مسلمان بھائی کو رشوت دیتے تاکہ اُس کا بھلا ہوتا۔

اس طرح یہ بات بھی بھارتی مسلمانوں کے لیے دکھ کا باعث ہے کہ جس طرح اقوام عالم میں پاکستان کے مسلمانوں نے اپنا منفرد مقام بنایا ہے۔ اُس میں بھی، اُن کا کوئی حصّہ نہیں۔ نہ ہی اُن کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہے۔ جس کو دیکھتے ہی امریکی اور یورپی ممالک کے امیگریشن حکّام، پاکستانیوں کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں اور خصوصی شفقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ غرضیکہ اب بھارتی مسلمان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہجرت نہ کرکے، ان کے آبا و اجداد نے خود کو بھی ہجرت پاکستان کی برکات سے محروم رکھا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ہمیشہ کے لیے ہجرت پاکستان کی برکات سے محروم کر گئے جس سے وہ جنت میں اعلی مقام پانے سے محروم ہو گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “ہجرت پاکستان کی برکات سے محروم بھارتی مسلمان

  • 28/11/2016 at 7:00 شام
    Permalink

    بہت خوب۔ ویسے ایک بات عرض کرونگا کہ ہندوستان میں کچھ معاملہ وہ بھی ہے جسکو مثل میں کہا جائےگا کہ "عصمتِ بی بی از بےچادری "۔ (بی بی کی پاکیزگی کا راز انکے پاس چادر کا نہ ہونا ہے، ورنہ وہ تو گھر سے نکل کیا کیا گل نہ کھلاتیں۔) ہندوستان میں ابوالحسن ندوی اور منظور نعمانی کا بس چلتا تو شیعوں کے خلاف سنیوں کو کھڑا کردیتے، اور نعمانی نے تو تحریری تکفیر تو انکی کر ہی دی۔ پنجاب میں ایک احراری شاہی امام نے احمدیوں کے خلاف با قاعدہ تلوار ہاتھ میں لیکر جنگ شروع کردی ہے۔ وہ توہ یہ کہیے کہ زبردست کا ٹھینگا سر پر۔ جن سنگھی شیعوں کی حمایت میں آگئے۔ احمدیوں کی حمایت میں قانون اور آئین سدّ راہ ہے اور پنجاب کے سکھوں اور ہریانہ کے ہندوئوں کو احمدیوں سے کوئی مخاصمت نہیں۔ چنانچہ اب ان مجاہدین کا غم و غصہ مسلمان عورتوں پر ہی اترتا ہے۔

    Reply
    • 29/11/2016 at 1:29 صبح
      Permalink

      اس حقیقت سے انکار نہیں کے مسلمانوں کی تاریخ میں، خلافت راشدہ کے دور سے ہی اختلافات، تنازعات اور مخاصمت چلی آرہی ہے۔ جس میں روز افزوں اضافہ ہی دکھنے میں آرہا ہے۔ مولانا منظور نعمانی کی جس کتاب کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔ وہ میں نے پڑھی بھی ہے اور اس وقت بھی میرے پاس موجود ہے۔ تقسیم ہند سے قبل بھی سیاسی، مذہبی اور مسلکی اختلافات موجود تھے لیکن اس میں تشدد کا عنصر نہ ہونے کے برابر تھا۔ جبکہ پاکستان میں، موجودہ دور میں بھی مختلف فرقے اور مسلک کے علما اور سیاستدان مذہبی، فروعی، مسلکی، لسانی اور قومیت پر مبنی تعصب و اختلاف کو خون خرابے اور تشدد کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں لیکن یہ صورتحال بھارت میں، اس درجے میں نہیں ہے۔ جیسے ہمارے ملک میں ہے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد مذہبی، فروعی، مسلکی، لسانی اور قومیت کی بنیاد پر اختلافات اور تنازعات میں برکت پیدا ہوئی ہے اور اس برکت کے فیوض سے بھارتی مسلمان محروم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے