وقت، وزن اور سمت: کیا واقعی انسان دھوکے میں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"uzair-salar2\"چند دن پہلے میں نے لکھا تھا،\”وقت، وزن اور سمت ان تینوں کا کوئی وجود نہیں ہے، یہ سب انسان کے گھڑے ہوئے پیمانے ہیں۔\”

کچھ دوستوں سے یہ بات ہضم نہیں ہوئی، کچھ نے ہنسی مذاق میں اڑا دی تو کچھ نے وضاحت کا کہا۔
اپنی دانست کے مطابق مختصر وضاحت پیش کر رہا ہوں، طالب علم ہونے کی حیثیت سے غلطی کا احتمال بہرحال ہے۔

وقت: ہم وقت کی پہچان سیکنڈوں، منٹوں، گھنٹوں، دنوں، ہفتوں، مہینوں اور سالوں میں کرتے ہیں۔
ان سب پیمانوں کا تعلق صرف ہمارے سولر سسٹم سے ہے۔ سورج کے گرد زمین کا ایک چکر ایک سال کا پتہ دیتا ہے، جب کہ ہمارا دن زمین کی اپنے محور پر گردش کے سبب وجود میں آتا ہے اور اسی طرح ہفتہ چاند کی زمین کے گرد گردش کا مرہون منت ہے۔
ہم جانتے ہیں یہ کائنات اربوں کہکشاؤں کا مجموعہ ہے اور ہماری ملکی وے میں دو سے تین کھرب سولر سسٹمز ہیں، فرض کریں سارے سولر سسٹم موجود رہیں اور صرف ہمارا سولر سسٹم نہ ہو تو ہمارے گھڑے ہوئے وقت کے یہ سب پیمانے پلک جھپکنے میں ختم ہو جائیں گے، اب ایک اور چیز فرض کریں کہ ہم خلا میں معلق ہوں اور ہماری کوئی زمین نہ ہو اور پھر ایک اور چیز فرض کریں کہ ہماری نظر بھی انتہائی کمزور ہو کہ ہم ستاروں کو بھی نہ دیکھ پائیں۔۔۔
اب بتائیں ہم وقت کا تعین کیسے کریں گے؟
ظاہر ہے تب ہمارے پاس وقت کا کوئی فطری پیمانہ نہیں ہوگا سوائے ماضی حال اور مستقبل کے۔ اور آئن اسٹائن کے مطابق ماضی حال اور مستقبل کا وجود صرف مشاہدہ کرنے والے سے ہے ان کا اپنا کوئی وجود نہیں۔ ایک ہی وقت میں ماضی حال اور مستقبل موجود ہوتے ہیں بس ان کا مشاہدہ کرنے والا ہونا چاہیئے۔ آپ کا ماضی کسی کا مستقبل رہا ہوگا اسی طرح کسی کا حال آپ کا ماضی تھا اور آپ کا مستقبل کسی اور کے لیے ماضی ہوگا۔ ہم جب ستاروں کو دیکھتے ہیں تب ہم ان ستاروں کا کروڑوں سال پرانا ماضی دیکھ رہے ہوتے ہیں عین ممکن ہے جس وقت ہم کسی ستارے کو دیکھ رہے ہیں وہ ستارہ ہزاروں لاکھوں سال پہلے پھٹ چکا ہو، ایک اور چیز جو آئن اسٹائن سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا وہ یہ کہ وقت مشاہدہ کرنے والے کی رفتار کے ساتھ بڑھتا اور کم ہوتا ہے۔ ستر کی دہائی میں ایٹامک کلاک کے ذریعے اس تھیوری کا تجربہ اور مشاہدہ بھی کیا جا چکا ہے۔ ایٹامک کلاک سیکنڈز کے اربوں حصوں کے وقت کو ماپنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی لیے اس سے وقت میں بہت چھوٹے پیمانے میں ہونے والی تبدیلی کا مشاہدہ بھی ممکن ہے۔ اس تجربے سے ثابت ہوا تھا کہ ہم سب کے لیے وقت کی قدر مختلف ہے لیکن یہ تبدیلی ایک سیکنڈ کے اربویں حصوں میں وقوع پذیر ہوتی ہے تو ہم اس کا ادراک نہیں کر پاتے۔

آج چاہے ہم نے اپنی سہولت کے لیے گھڑی بنا بھی لی ہے جو ہمیں گھنٹوں اور منٹوں میں وقت کے گزرنے کا احساس دلاتی ہے لیکن ہمارے لیے شاید وقت ہمیشہ ایک راز ہی رہے گا کیونکہ گھڑیاں ہمیں یہ تو بتا سکتی ہیں کہ کیا وقت ہوا ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتیں کہ وقت بذات خود کیا ہے۔

اس کا مطلب یہی ہے کہ وقت صرف ہماری نظروں کے دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

وزن:

وزن کا معاملہ سمجھنا وقت سے بھی کہیں زیادہ آسان ہے۔ وزن بذات خود کچھ بھی نہیں اس کی پیمائش کا تعلق گریویٹی سے ہے۔ مثال کے طور پر اگر میں زمین پر 75 کلو کا ہوں تو ایک نیوٹرون سٹار پر 10500000000000 کلو کا ہوں گا، ایک ڈوارفٹ سٹار پر 97500000 کلو کا، سورج پر 2030 کلو کا، جیوپٹر پر 177 کلو کا، سیٹرن پر 80 کلو کا، مارز پر میرا وزن 28 کلو ہوگا، چاند پر 12 کلو، پلوٹو پر 5 کلو اور خلا میں میرا کوئی وزن نہیں ہوگا۔
اس کا مطلب ہے کہ ہمارے جسم کے وزن کا تعلق ہمارے جسم سے نہیں بلکہ اس جگہ سے ہے جہاں ہم ہوتے ہیں۔ یعنی وزن خود سے کچھ بھی نہیں ہے یہ تو کشش ثقل ہے جو آپ کو مختلف قوتوں سے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ بلکہ اب تو کشش ثقل کو بھی ایک Illusion قرار دے دیا گیا ہے یہ شاید کشش ثقل بھی نہیں بلکہ آئن اسٹائن کی \’سپیس ٹائم فیبرک\’ یعنی زمان مکان کی چادر کا کمال ہے۔

سمت:
سمت بھی ایک ایسی ہی چیز ہے جو اپنا کوئی وجود نہیں رکھتی لیکن ہم نے اپنی آسانی اور روز مرہ کے کام انجام دینے کے لیے اسے مشرق مغرب شمال اور جنوب میں ہی نہیں بلکہ تین سو ساٹھ ڈگریوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔
ہمارے وقت کے پیمانے کا تعلق تو ہمارے سولر سسٹم کے ساتھ تھا لیکن ہماری سمت کا پیمانہ صرف زمین سے تعلق رکھتا ہے، چونکہ خلا میں کوئی قطبین نہیں ہوتی تو مشرق مغرب کا بھی کوئی وجود نہیں ہے، آپ خلا میں گھومتے ہوئے یہ نہیں بتا سکتے کہ آپکا \”اوپر\” کون سا ہے اور \”نیچے\” کون سا۔ وہاں دائیں بائیں یا مشرق مغرب کا تو تصور ہی محال ہے اور ہاں خلائی راکٹس اپنے سفر کے دوران مقناطیسی کمپاس سے رہنمائی نہیں لیتے بلکہ وہ دور دراز ستاروں کو دیکھ کر اپنی منزل کا تعین کرتے ہیں اور وہ منزل مشرق مغرب نہیں بلکہ ایک غیر متعین بے نامی سمت میں ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “وقت، وزن اور سمت: کیا واقعی انسان دھوکے میں ہے؟

  • 03/12/2016 at 11:03 pm
    Permalink

    یہ تحریر کے حساب سے تو عمدہ ہے لیکن اس میں جو آپ نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ارتقا محض خیالی ہے تو یہ خیال ہی خام خیالی ہے کیونکہ ارتقا کا نظریہ اپنے اندر حقیقت کو چهپائے ہوئے ہے لیکن اس سے قطعاً یہ مراد نہیں ہے کہ ارتقا محض خام خیالی ہے ارتقا درحقیقت کسی جانور کی اپنی نسل میں تبدیلی کا غماز بھی ہے لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ ہر جانور اپنی مرضی سے اپنی نسلوں میں تبدیلی کرتے رہے ہیں بلکہ اس امر کا فیصلہ ہستی باری تعالی ہی کرتی ہے- جب کوئی چیز ارتقائی مراحل سے گزرتی ہے تو اس کی ضروریات کا خیال بھی وہی ہستی باری تعالی ہی رکھتی ہے- یہ ایک سنجیدہ اور خالص تحقیقی موضوع ہے- جس پر ہر انسان کا تحریر لکهنا آسان نہیں ہے اس کے لئے جتنے غور کی ضرورت ہے اتنا نہ تو آپ نے غور کیا ہے اور نہ ہی اس بارے مطالعہ کرنے کو ضروری سمجها ہے بس اس امر کو یاد رکهیں کہ جس کے بارے میں ہمیں علم نہیں ہے ضروری نہیں کہ وہ چیز موجود نہ ہو لہذا وہ چیز تو موجود ہو سکتی ہے لیکن ہمیں اس چیز کا علم نہ ہو یہ ممکن ہو سکتا ہے

  • 04/12/2016 at 10:03 am
    Permalink

    پچھلا جو کمنٹس میں نے دیا ہے وہ دراصل اس مضمون “ڈارون کی ارتقا کی تھیوری غلط ہے”- کے بارے میں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *