مشرق وسطیٰ کے باشندے کشمیر کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیام پاکستان کے وقت سے ہی کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک خصوصاً فلسطین اور مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک سے یکجہتی اور اسرائیل سے متعلق پاکستان کی پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پاکستان کے پاسپورٹ پر اسرائیل پر سفر کرنے کی ممانعت آج بھی ثبت ہے۔ عرب اسرائیلی جنگوں کے دوران پاک فضائیہ کے ہوا بازوں کے معرکے تاریخ کا حصہ ہیں۔ حکومتی پالیسیوں کے علاوہ بھی عام پاکستانی فلسطین کی حمایت اور ان کی جدوجہد سے ایک جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔

لیکن کہنا پڑے گا کہ عرب ممالک کا بھارت اور خصوصاً کشمیر سے متعلق رویہ افسوسناک ہے۔ نریندر مودی کے گزشتہ سال 5 اگست کے غیر منصفانہ اور غیر قانونی اقدام کی مشرق وسطیٰ کے ممالک سے مذمت تو دور کی بات بلکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعزازات سے نوازا گیا۔ پاکستان کی خواہش کے باوجود آج تک جموں وکشمیر کے مسئلے اور حالیہ انتہائی تشویش ناک صورتحال پر اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس نہ ممکن ہوسکا۔

ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ نہ صرف جغرافیائی بلکہ تاریخی اور ثقافتی طور بھی پاکستان اور ایران انتہائی قریب ہیں۔ یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں کہ فارسی پاکستان کے پڑھے لکھے لوگوں میں مقبول زبان ہوا کرتی تھی۔ نہ جانے کس کے مشورہ پر جنرل ضیاء الحق انقلاب کے دوران شاہ ایران سے یکجہتی کے اظہار کے لئے ایران دورہ پر گئے تھے۔ نتیجتاً وہ دن اور آج کا دن پاکستان اور انقلاب کے بعد کی ایرانی حکومتوں کے تعلقات استوار نہ ہو سکے۔ یہ بھی ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان اور ایران کے مابین عوامی روابط فرقہ واریت کی نذر ہو گے۔ مارچ 2016 میں ایرانی صدر جناب حسن روحانی کا دورۂ ایک اہم موقع تھا۔ لیکن نجانے کیوں کلبھوشن یادیو کو اسی وقت منظر عام پہ لایا گیا؟ لیکن یہ تحریر حکومتی پالیسیوں کے متعلق نہیں ہے۔

چند سال پہلے راقم الحروف یعنی میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں نیو ساؤتھ ویلز کے محکمہ صحت کے ایک ڈیپارٹمنٹ کے لئے کام کرتا تھا۔ ہمارے دفاتر شمالی سڈنی کے خوبصورت علاقے میں واقع تھے۔ جمعۃ المبارک کی نماز کے لئے میں اپنے دفتر سے کوئی تین چار کلو میٹر دور ایک مسجد جایا کرتا تھا ’جس کے امام صاحب ایک لبنانی آسٹریلن تھے۔ امام صاحب کا خطبہ اور بعد از نماز دعا دونوں انگریزی میں ہوتے تھے۔ پہلے ہی ہفتے میں نے نوٹ کیا کہ امام صاحب دعا کے آخر میں فلسطین‘ کشمیر ’عراق‘ لیبیا ’شام اور۔ ۔ ۔ بنگلہ دیش کے مسلمانوں کی مشکلات کے لئے دعا کرتے تھے۔

دو تین ہفتے یہ دعا سننے کے بعد چوتھے جمعہ بعد از دعا میں امام صاحب کے پاس گیا۔ وہ نہایت خندہ پیشانی سے ملے۔ میں نے مودبانہ استفسار کیا کہ وہ اپنی دعا میں بنگلہ دیش کے مسلمانوں کی مشکلات کے لئے دعا کرتے ہیں تو ان کے خیال میں بنگلہ دیش میں کیا مسئلہ ہے؟ جس پہ انہوں نے حیرت سے پوچھا۔

”Is there nothing wrong in Bangladesh?“

ان سے گفتگو سے آشکار ہوا کہ وہ سالہا سال یہ دعا کرتے چلے آرہے تھے مزید یہ کہ انہیں پاکستان یا مسئلہ جموں وکشمیر کے بارے میں بھی کوئی خاص معلومات نہیں تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عرب ممالک کے عام شہریوں کی کشمیر ’بھارت اور پاکستان کے متعلق آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ مجھے مشرق وسطیٰ کے تقریباً سب ہی ممالک کے شہریوں کے ساتھ میل ملاقات اور بات چیت کے مواقع حاصل رہے ہیں۔ عرب ممالک کے اچھے خاصے پڑھے لکھے اور فعال طبقات سے تعلق رکھنے والے بھی برصغیر کے بارے میں عجیب سے خیالات رکھتے ہیں۔

اردن‘ شامی اور کچھ حد تک لبنانی پاکستان سے ہمدردانہ رویے تو رکھتے ہیں لیکن عمومی طور پر مسئلہ کشمیر سے متعلق ان کی آگاہی واجبی سی ہے۔ صرف فلسطینی کشمیری اور پاکستانی موقف کی کھلے عام تائید کرتے ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں ہم پاکستانیوں نے قطر کی ہجو میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں میں نے قطری لوگوں کو پاکستان کا حامی پایا۔

اس کے برعکس سعودی یا اماراتی شہری مسئلہ جموں وکشمیر سے آگاہی کو چھوڑئیے زیادہ تر تو کشمیر کے محل وقوع سے ناواقفیت رکھتے ہیں۔ ان کی معلومات امام صاحبان کی اجتماعی دعاؤں تک محدود ہیں۔ چند برس پہلے کچھ سعودی اور اماراتی شہریوں سے گفتگو کے دوران میں انتہائی حیران ہوا کہ وہ اب بھی برصغیر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو ہندی مسلمان سمجھتے اور کہتے بھی ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے مشرق وسطیٰ کے ممالک ساتھ عوامی سطح کے رابطوں کی کوئی مربوط اور سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی۔ خلیجی ممالک کے شہری پاکستان کو ان ممالک میں کام کرنے والے محنت کشوں کے حوالے سے ہی جانتے ہیں اور ظاہر ہے محنت کش اپنا یا اپنے ملک کا امیج بہتر کرنے کے لئے نہیں بلکہ کام کی تلاش اور پیسے کمانے ان ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ ہو سکتا کشمیری بھائیوں کو میری بات پسند نہ آئے لیکن انہیں بھی سوچنا پڑے گا کہ انہوں نے خودعوامی روابط کے لئے کیا اقدامات کیے ہیں؟

80ء کی دہائی تک عرب ممالک اور ایران سے کیڈٹ پاکستان فوجی تربیت کے لئے آیا کرتے تھے۔ میں خود 1980 ء کے اوائل میں پاک فضائیہ کی اکیڈیمی میں زیر تربیت تھا تو ہمارے ساتھ لبیبا ’عراق اور متحدہ عرب امارات کے کیڈٹ ہوا کرتے تھے۔ اسی طرح بہت سے غیر ملکی طالب علم پاکستانی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے آیا کرتے تھے۔ اب وہ سب موقوف ہوچکا۔ ثقافتی سطح پر بھی پاکستان اور عرب ممالک کے مابین کوئی روابط کم از کم میری معلومات میں نہیں ہیں۔

کرکٹ کے علاوہ ملک سے دیگر کھیل تقریباً ختم ہوچکے ہیں۔ زرقا، یہ امن، یا ارمان جیسی فلمیں ہم پروڈیوس کرنا بھول چکے ہیں۔ ٹیلی ویژن ڈرامہ پاکستان کی منفرد صلاحیت رہی ہے اسے عربی زبان میں ڈب کرکے پیش کرنے کی کوشش کی جاسکتی تھی لیکن آج ہمارا ٹیلی ڈرامہ بھی کچھ عجیب و غریب سمت اختیار کر چکا ہے۔ تو پھر عوامی روابط ہوں تو کیسے ہوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •