اگلے جنم مجھے موہے کھسرا نہ کیجیو



ماموں کی شادی تھی۔ ہم لوگ کراچی سے شادی میں شرکت کے لیے آئے۔ یہ میری چار پانچ سالہ زندگی کی پہلی شادی تھی۔ اس سے پہلے میں نے شادیاں بس فلموں میں دیکھی تھیں۔ وہ بھی ہندوستانی فلموں میں کہ جس میں لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو مالا پہنا کے شادی کے بندھن میں بندھ جاتے۔ پنجاب کی شادیاں جیسے ہوتی ہیں۔ ہمارے گھر بھی وہی ماحول تھا۔ نانی اماں بہت خوش تھیں۔ کہ بیٹوں میں سے ان کے پہلے بیٹے کی شادی تھی۔ انہوں نے سارے چاؤ پورے کیے۔

مہندی پہ ڈھول تاشے کے ساتھ مہندی لے کر دلہن کے گھر گئے۔ بارات پہ فوجی بینڈ بلوایا گیا۔ اور گھوڑی بھی کہ بیٹے کو گھوڑی بٹھانا ہے۔ مجھے کچھ پتہ نہیں کہ میرے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ شور اور بہت سارے لوگوں کو دیکھ کر میں پریشان ہو جایا کرتی تھی۔ اوپر سے میرے چھوٹے بھائی کو شہ بالا بنا کے دلہے کے ساتھ بٹھایا ہوا تھا۔

مجھے تو یہ بھی غصہ کہ اسے کیوں اتنی اہمیت مل رہی ہے۔ اور دوسرا اس کے گلے میں پڑے ہار پہ نوٹ پروئے دیکھ کے مجھے حیرت تھی کہ یہ اتنے سارے پیسے ایسے گول گول ہو کے ہار کیسے بن گئے۔ اتنی دیر میں شور اٹھا۔ کھسرے آ گئے۔ جگہ بناؤ۔ ایک دم سے ڈیک پہ گانا لگا۔ اور ایک کھسرا ٹپ سے صحن کے درمیان آ پہنچا۔ میں نے اس سے پہلے کبھی ٹرانس نہیں دیکھے تھے۔ ایک تو شور، پھر تیز میوزک اور اچانک سے کسی مرد کو عورت کے حلیے میں دیکھ کے میں نے چیخنا شروع کر دیا۔

میں اتنی زور زور سے رونا شروع ہو گئی۔ کہ سب ڈر گئے۔ امی فوراً میرے پاس آئیں۔ ماموں نے مجھے سمجھایا۔ نانی اماں میری منت کریں کہ بس تھوڑا سا ڈانس کریں گے۔ پھر چلے جائیں گے۔ مگر جب بھی وہ ناچنے لگیں۔ میں چیخنے لگ جاؤں۔ اس ٹرانس نے مجھے چھونے کی کوشش کی۔ تو میں مزید ڈر گئی۔ اس نے پھر کہا آئے ہائے بچی پتہ نہیں کیوں ڈر گئی ہے۔ سب کے سمجھانے بجھانے اور گود میں بٹھانے پہ میں نے رونا بند کیا۔ تو ان کا ناچ گانا شروع ہوا۔

ناچتے میں کوئی انہیں کہیں سے چٹکی کاٹے۔ کوئی قہقہے لگائے۔ اور کوئی فرمائش کرے کہ ناچتے ناچتے اس کے ہاتھوں سے نوٹ لیے جائیں۔ میرے سر پہ نانی اماں نے نوٹ رکھا۔ تو میں نے ہاتھ پیچھے کر دیے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے۔ میں جب بھی کسی ٹرانس کو ناچتے دیکھتی ہوں۔ ان کے ساتھ معاشرے کا ہونے والا سلوک دیکھتی ہوں۔ تو خود پہ شرم آتی ہے۔ پدر سری معاشرہ جس میں ہم عورتیں اپنے حقوق کے لیے جنگ کرتے ہوئے پتہ نہیں کیا کچھ سنتی ہیں۔ اس معاشرے میں ایک ایسی صنف جس کو انسان تو دور ابھی تک آپ کے ملک میں برابر کے شہری جیسے حقوق نہیں مل سکے۔ ان کی پریشانیوں و مشکلات کی داستان کتنی طویل ہو گی۔ سننا بھی کون چاہتا ہے۔

میرا پہلا پریگننسی ٹیسٹ پازیٹو آیا۔ تو میرے دل میں دو وہم ہر وقت رہتے۔ ایک تو یہ کہ میرا ابارشن نہ ہو جائے۔ اور دوسرا یہ کہ کہیں میرے گھر بیٹے یا بیٹی کے علاوہ کوئی تیری جنس نہ پیدا ہو جائے۔ بات تو شرمناک ہے۔ مگر سچ ہے۔ میں اس دور میں اس قابل نہ تھی کہ سماج سے لڑ کے ایک ٹرانس کی پرورش کر پاتی۔ میں خیالوں میں سوچتی کہ اگر ایسا ہوا تو کیا ہو گا۔ کیا میرے سسرال والے مجھے قبول کریں گے۔ کیا میرا خاوند میرا ساتھ دے گا۔ اور آخر پہ بس ایک جھرجھری سی میرے ساتھ رہ جاتی۔ یہ باتیں کوئی نہیں جانتا۔ میں آج پہلی بار لکھ رہی ہوں۔ کیونکہ تھی تو میں بھی اسی معاشرے کی فرد۔ تو میں اپنے محدود ایکسپوزر میں میری سوچ بڑھ بھی کیسے جاتی۔ میں شرمندہ ہوں اپنی ایسی سوچ پہ۔

آج پشاور میں ایک اور خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا۔ دو ہزار پندرہ سے لے کر دو ہزار اٹھارہ تک چھپن ٹرانس کو صرف پشاور میں قتل کیا گیا۔ آج دو ہزار بیس میں اس تعداد میں مزید اضافہ کر لیجئیے۔ یہ صنف پیدا ہونے کے بعد سے مرنے تک سماج کے جبر کا شکار رہتی ہے۔ والدین جنہوں نے اس اولاد کو پیدا کیا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے وہ اسے دھتکارتے ہیں۔ پھر معاشرہ ان کو کھسرہ، ہیجڑہ یا مخنث کہہ کے ان کی زندگی حرام کر دیتا ہے۔

جنس کی بنیاد پہ تعلیم، روزگار و صحت کے وسائل کو تقسیم کرنا انتہائی جاہلانہ قدم ہے۔ کیوں آپ لوگ ان کو نارمل انسانوں کی طرح ٹریٹ نہیں کرتے۔ تا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کریں۔ یا کوئی ہنر سیکھ کے معاشرے میں مفید شہری ہونے کا کردار ادا کریں۔ نہ ان کے لیے تعلیم کے مواقع ہوتے ہیں۔ نہ ہی روزگار کے۔ نہ ہی کوئی ایسے ادارے ہیں جہاں ان کو ہنر مند بنا کے کسی روزگار پہ لگا دیا جائے۔ جائیداد میں سے ان کو حصہ نہیں دیا جاتا۔ اگر ان کو مواقع ملیں تو یہ بھی ضرور اپنا نام و مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کی مثال میں ہمارے سامنے نیوز کاسٹر معاوریہ اور ماڈل کامی سڈ ہیں۔

میری فرینڈ لسٹ میں دو ٹرانس ہیں۔ جولی اور فیضی۔ جولی کے متعلق مجھے بہت زیادہ علم نہیں۔ لیکن ان کے باشعور ہونے کا پتہ ان کی بول چال اور وڈیوز سے چل جاتا ہے۔ فیضی ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہیں۔ انتہائی باشعور اور ذہین۔ اردو لٹریچر میں ایم فل ہیں۔ ان کا نالج اور ادب پہ عبور قابل تحسین ہے۔ لیکن نوکری کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگار ہیں۔ کیا ٹرانس لیکچرار سے پڑھنے سے آپ کو کوئی خطرہ ہے۔ کہ آپ ان لوگوں کے لیے کسی بھی شعبہ جات میں کوئی کوٹہ نہیں رکھتے۔ ان کو کوئی موقع نہیں دیتے۔ جو پڑھ لکھ کے معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ ان کو دھتکار دیا جاتا ہے۔

ایک بچہ اگر ٹرانس پیدا ہو گیا ہے تو کیا یہ لازم ہے کہ وہ معاشرے میں دھتکارا ہوا رہے۔ وہ فنکشن میں ناچ گا کے اپنا پیٹ پالنے پہ مجبور ہو۔ اس کے نصیب میں معمولی اجرت پہ سیکس ورکر بننا لکھ دیا جائے۔ ایک ٹرانس سیکس ورکر ایک فیمیل سیکس ورکر کے مقابلے میں برہمن کے مقابلے میں شودر جیسا مقام رکھتا ہے۔ ٹریفک سگنلز، مارکیٹس اور گھر گھر جا کے بھیک مانگنے کی بجائے ان کے لیے ایسے مواقع نکالے جائیں۔ کہ یہ لوگ بھی عزت سے دو وقت کی روٹی کما سکیں۔

میری گزارش ہے کہ فیضی اور تمام ٹرانس کو باعزت طریقے سے نوکریاں دی جائیں۔ ان کو معاشرے میں عزت سے بلایا جائے۔ بطور جنس نہیں بطور انسان ان کی عزت کی جائے۔ اپنے بڑوں سے سنتے آئے ہیں کہ کھسروں کی بددعا سے بچنا چاہیے۔ ان کی دل آزاری نہ کی جائے۔ یہ اللہ کے بڑے پیارے ہوتے ہیں۔ اللہ ان کی دعا اور بددعا بہت جلدی سنتا ہے۔ مگر جب ہم کسی بھی ہیجڑے کی جان بس اس بنا پہ لے لیتے ہیں کہ اس نے ہمارے ساتھ تعلق کیوں نہیں بنایا۔

تو کیا آپ کو خدا کی ناراضی کا خوف نہیں لاحق ہوتا۔ کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا کہ ان کی بددعا اگر آپ کو لگ گئی تو آپ کیا کریں گے۔ وہ اپنی مرضی سے دنیا میں نہیں آتے۔ اور اگر آپ کا اس بات پہ یقین ہے کہ اللہ کی مرضی کے بنا پتہ بھی نہیں ہلتا۔ تو پھر یہ بھی یقین کریں کہ یہ ٹرانس بھی اللہ ہی کی مرضی سے دنیا میں آئے ہیں۔ ان کی دل آزاری مت کریں۔ بطور انسان انہیں تسلیم کریں۔ ورنہ یہ لوگ اللہ سے شکایت کرتے ہوئے کہیں گے کہ،

”ربا اگلے جنم موہے کھسرہ نہ کیجیو“ ۔

Facebook Comments HS