منی بال سٹریٹیجی اور حکومت کی آپشنز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فی الوقت حکومت وقت انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ اس کی غلط پالیسیاں پہلے ہی تنقید کی زد میں تھیں، معاشی صورتحال ابتر سے ابتر ہوتی چلی جارہی تھی کہ کرونا کی وبا نے تباہی مچا دی۔ معیشت پہلے ہی انگریزی محاورے کے مطابق ”راک باٹم“ پر تھی کہ لوگوں کا رہا سہا روزگار بھی جاتا رہا اور معاشی صورتحال ناقابل بیان تباہی سے دوچار ہو گئی۔ اب حکومتی وزراء کے درمیان بڑھتے اختلافات کی خبریں زبان زد عام ہوتی چلی جا رہی ہیں۔

غلطی کو تسلیم کرنا اس کے حل کی جانب پہلا قدم ہوتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ وزیر اعظم اپنی اس غلطی کو تسلیم کر لیں کہ حکومت بنانے کے چکر میں انھوں نے تمام تر توجہ ”الیکٹیبلز“ کے حصول پر مرکوز رکھی اور بہت سارے قابل لوگوں کو اس سارے معاملے میں حکومت یا کیبینٹ میں محض اس لیے کوئی جگہ نہیں دی گئی کیونکہ وہ اتنے ”یوزفل“ نہیں تھے، اب اس سارے ”کمپرومائز“ کی جو قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے اس سے نہ صرف یہ کہ پارٹی کی عزت تخت وتاراج ہو رہی ہے بلکہ اقتدار بھی رینگتا ہوا خطرے کی سرخ لکیر کے آس پاس جا پہنچا ہے۔

یہ بات تو اب طے ہے کہ وزراء کے انتخاب میں شدید نوعیت کی کوتاہ فہمی ہوئی ہے۔ ان تمام تر معاملات جن کے گرداب میں آج موجودہ حکومت گردن گردن پھنس چکی ہے، ان سے نکلنے کے لیے روایتی طور طریقے کام نہیں آئیں گے۔ اگر بات روایتی طریقوں سے بن سکتی ہوتی تو ان کے بہت سارے پیش رو اس معاملے کو انہی طریقوں سے سلجھا چکے ہوتے اور آج اقتدار آپ کے ہاتھ نہ ہوتا۔ مشکلات کے اس گرداب سے نکلنے کے لیے جو آپ نے خود اپنے گلے سے لٹکایا ہے، میں وزیر اعظم کی توجہ منی بال سٹریٹجی کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

میرے اس مشورے کے پیچھے سوائے اس سوچ کے کہ عوام کی مشکلات اور مصائب دور ہوں اور کوئی سوچ یا خیال وابستہ نہیں۔ منی بال سٹریٹجی کی رو سے آپ اپنے تمام وزراء کی کارکردگی کا ڈیٹا مرتب کریں۔ اس ڈیٹا کی مدد سے تعین کریں کہ کس کس وزارت میں فوری اور کس کس وزارت میں کچھ تاخیر کے ساتھ تبدیلی کی ضرورت ہے، عوام کی مشکلات بارے عوام کی اپنی رائے کا ڈیٹا مرتب کریں اور لسٹ ڈاؤن کریں کہ عوام کی سب سے پہلی اورفوری ڈیمانڈ کیا ہے۔

دوسری، تیسری، چوتھی اور پانچویں ڈیمانڈ کو بھی مدنظر رکھیں اور اس کے حل کے لیے پلاننگ کریں۔ لیکن ان سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ آپ کی پارٹی میں وہ لوگ جن کا پرفائل شاید اتنا وزنی نہ ہو، ایسے لوگ جو فی ا لوقت اتنے ”الیکٹیبل“ نہ ہوں، مگر اپنے شعبے کی مہارت میں لاثانی ہوں ان کا انتخاب کیجیے۔ یقیناً اگر آپ اپنی پارٹی میں جھانک کر اپنی نگاہوں سے دیکھیں گے تو آپ کو ایسے بہت سارے نام نظر آئیں گے جوعرصۂدراز سے پارٹی کے ہر نشیب و فراز میں آپ کے ساتھ رہے، قربانیاں دیں، مشکل وقت میں ساتھ نہ چھوڑا، اور جب ٹکٹ بانٹے گئے تو وہ ”الیکٹیبلز“ لے گئے۔

آپ اپنے لاتعداد وزراء اور مشیروں کی فوج ظفر موج کو ان کامیاب، مگر خاموش اور کام کرنے رالے لوگوں کے ساتھ تبدیل کر لیں اور پھر رزلٹ دیکھیں۔ آپ خو دبھی حیران رہ جائیں گے کہ یہ چنگاری بھی آپ کے خاکستر میں تھی۔ ۔ ۔ ان بہت سارے لوگوں کے نام بتانے کی میں نہیں سمجھتا مجھے ضرورت ہے، آپ مجھ سے بہت بہتر جانتے ہیں، مگر اگر آپ چاہیں تو یہ خیر اندیشی کی جا بھی سکتی ہے۔ اقتدار کا ہما زیادہ دیر تک ایک جگہ قیام نہیں کرتا، اگر یقین نہ آئے تو چندر گپت موریا سے مغلوں تک اور مغلوں سے انگریزوں تک اور انگریزوں سے قیام پاکستان تک اور قیام پاکستان سے آج تک کی تاریخ کا مطالعہ فرما لیں۔

سب سے پہلے ملک کو مشکلات کے گرداب سے نکالنے کے لیے اگر کوئی پلان تھا تو اسے کورونائی صورتحال کے مد نظر ”ریوائز“ کریں، اور اگر نہیں تھا تو اب مرتب کر لیں۔ قیادت کے لئے پارٹی کا وژن اور مشن پیش کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن کیا تنظیم کے دوسرے ممبران ان اقدار کو زندہ رکھتے ہیں؟ کبھی کبھی یہ بتانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہر شخص ایک جیسی سوچ اور عملی مزاج کا حامل نہیں ہوتا ہے۔ وزراء کے اس ریوڑ سے ان لوگوں کو علیحدہ کر لیجیے جو آج آپ پر ایک ”لائیبیلٹی“ بن چکے ہیں اوراپنی دکان پارٹی کے نام سے چمکانے کے بعد اب پارٹی کے اپنے نام کو داغدار کرنے میں مشغول ہیں۔

پھر ایسے تمام تر وزراء اور مشیروں کی جگہ کم بڑے ناموں والے اہل لوگوں کی ٹیم نامزد کر کے ان کی ایسی سپورٹ کریں جیسی آپ نے وزیر اعلی پنجاب کی کی ہے۔ ان تمام لوگوں کو قلیل المدت ٹارگٹ دے دیں۔ فی زمانہ کسی بھی ”ایکٹیوٹی“ کی ”مانیٹرنگ اور سپروژن“ کوئی بڑا مسئلہ نہیں، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ صحیح ٹیم کا انتخاب کیا جائے جو ملک کو مشکلات کے اس گرداب سے نکال نہ بھی پائے تو بھی کم از کم عوام کو اس بات کا یقین ہو کہ وہ کوشش کر رہے ہیں۔ موجودہ حکو متی ٹیم پر لوگوں کا یہ اعتبار کبھی بن ہی نہ پایا تھا۔ اس یقین کے ساتھ کہ جب امانت امانت دار تک پہنچ جاتی ہے تو حقیقی تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے، ہم وزیر اعظم سے استدعا کریں گے کہ وہ اس مشکل لیکن ناگریز کام کا آغاز کریں ورنہ ”راٹینگ آف دی وال“ تو سامنے لکھی نظر آ ہی رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •