کشمیر میں سب کچھ ہے پیارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہساروں، آبشاروں، مرغزاروں، پہاڑوں، بیابانوں، کھلے میدانوں، دلفریب نظاروں کے علاوہ یہاں خراب حالات اور افراتفری ہے۔ یہاں سیاست دان زیادہ ہیں یا بہاری، وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سیاست دانوں اور بہاریوں میں ایک مطابقت ہے کہ دونوں استحصال کرتے ہیں، سیاست دان عوام کا اور بہاری یہاں کے مزدور طبقے کا۔ جس طرح کام کے لحاظ سے بہاریوں کی سو قسمیں ہیں اسی طرح یہاں کے سیاست دان بھی کئی اقسام کے ہیں :۔

1۔ سیاست دان جو صرف سیاست ہی کرتے ہیں، اس کے علاوہ ان کو کچھ کرنا بھی نہیں آتا۔

2۔ سیاست دان جو صرف اپنا اور اپنی پارٹی کی بھلائی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان کی سوچ فائدے اور منافع سے آگے نہیں جاتی۔

3۔ سیاست دان جو سیاست میں آ تو گئے ہیں لیکن جیت کے گھوڑے پر کبھی نہیں چڑھے۔ یہ اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کب ان کے نصیب جاگے گے۔

4۔ سیاست دان جو عوام کے لیے بھی سوچتے ہیں۔ ان کی سوچ، سوچنے سے آگے نہیں بڑھتی۔

5۔ سیاست دان جو عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن کر نہیں پاتے۔ یہ یا تو گھر میں نظر بند رہتے ہیں یا ان کا ٹھکانہ جیل ہے۔

6۔ سیاست دان جو صرف وعدے کرنے کے گر سے واقف ہیں۔ وعدے وفا کرنا انہوں نے سیکھا ہی نہیں۔ یہ تقریر کرنے کے ماہر ہیں کام سے یہ نا واقف ہی رہتے ہیں۔

7۔ سیاست دان جو صرف اور صرف کرسیوں کے لیے جیتے مرتے ہیں عوام کے لیے نہیں۔ یہ نہ عوام کا بھلا چاہتے ہیں نہ برا۔

8۔ سیاست دان جو پارٹیاں ہی بدلتے رہتے ہیں۔ جو نئی پارٹی بنی اس میں شامل ہوئیں۔ ان کا ایک ہی وتیرہ ہے جہاں آگ دیکھی وہاں اپنی ہانڈی رکھ دی۔

سیاست دانوں کے بعد کشمیر میں بے روزگاروں کا نمبر آتا ہے۔ یہاں بے روزگاروں کی لاتعداد قسمیں ہیں۔ ان کی گنتی کرنا محال ہی نہیں ناممکن ہے۔ بے روز گاروں کی صف اول میں ”پی ایچ ڈی“ بے روزگار آتے ہیں۔ ان کے خواب بڑے اور ارادے بلند ہوتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خوابوں کا محل زمین بوس ہوتا ہے۔ پہلے پہل یہ پروفیسر اور لیکچرار بننے کے سپنے دیکھتے ہیں، بعد میں یہ چپراسی، کلرک، باغبانی، جنگلات کسی بھی محکمے میں نوکری تلاش کرنے لگتے ہیں۔

آخر کار ذہنی تناؤ کے شکار ہوکر یہ حضرات ڈرائیوری کا پیشہ اختیار کرتے ہیں یا دکانداری کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ان کو شادی کے بندھن میں بندھنے میں بھی دشواری کا سامنا رہتا ہے۔ ان کم نصیبوں کو غم عشق کے ساتھ ساتھ فکر روزگار کی تڑپ نے بھی بے قرار کر رکھا ہوتا ہے۔ آخر کار ان کو نہ نوکری کا دیدار ہوتا ہے نہ محبوب سے وصال۔ ان میں سے کسی کسی کے نصیب جاگتے ہیں اور اللہ اللہ کرکے بیاہ ہوتا ہے ورنہ ان کے پاس صبر اور پریشانی کے سوا کچھ نہیں۔

پہلے پہل ان کو بڑی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کو قوم کا مستقبل، اسکالر اور ڈاکٹر صاحب کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ بعد میں ان کو ناکام انسان اور نکمے جسیے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ پہلے ان کی جس محلے میں بڑی عزت ہوا کرتی تھی اب وہاں یہ سر جھکا کر پریشان اور پشمان ہوکر گزرتے ہیں۔ ان کی شہرت پہلے پہل پورے گاؤں اور علاقے میں ہوتی تھی اب یہ ’کم‘ اور ’غم‘ پہ قناعت کرتے ہیں۔ ان کو ایک ہی کام آتا ہے کوشش۔ یہ کوشش کرتے کرتے تھک ہار کر ہارے ہوئے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پہلے پہل ان کے پاس لوگ مشورے لینے آتے تھے اب ہر کوئی مشورے دے کر جاتا ہے۔

بے روزگاروں کی دوسری قسم ”گریجوٹ بے روزگار“ کہلاتے ہیں۔ یہ گریجویش کرنے کے بعد یا تو کوئی کاروبار کرنے کی سعی کرتے ہیں یا سرکاری نوکری کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔ یہ ہر نوکری حاصل کرنے کے لیے تگ ودو کرتے ہیں حتی کہ پولیس اور آرمی میں بھی بھرتی ہونے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد اچھی خاصی ہے اور ہر آنے والے سال کے ساتھ اس تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کے لب پہ ہمیشہ یہی شکوہ رہتا ہے کہ ان کے پاس سرکاری نوکری نہیں۔ ان کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ جس کے پاس سرکاری نوکری نہیں اس کی معاشرے میں عزت نہیں۔ اس کو نہ خوبصورت بیوی ملتی ہے نہ ادھار۔ یہ ہر وقت کوشش کرتے ہے کہ سرکاری نوکر ہو جائے لیکن سرکاری نوکر وہی ہوتے ہیں جن کے نصیب ہاتھی پہ سوار ہوں۔

بے روزگاروں کے بعد ہمارے یہاں سب سے زیادہ تعداد میں شعراء، افسانہ نگار اور ناقدین ہیں۔ یہ ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے یہ نام نامی ہوں۔ مشہور و معروف اور نام آور ہونے کے لیے یہ انجمنیں تشکیل دیتے ہیں اور کانفرنسیں کراتے ہیں۔ جس میں ان کے منتخب اور قریبی دوست شامل ہوتے ہیں۔ ادبی تنظیم تشکیل دینے کے بعد یہ اس کے اصول اور قوانیں مرتب کرتے ہیں۔ ان کے منظم ہونے سے ادب کو بھلے ہی کوئی فائدہ نہ ہو ان کو یقیناً فائدہ ہوتا ہے۔ ایک دوسروں کی شان میں قصیدہ پڑھنے کے علاوہ ادبی تنظیم میں ہر بات کو گستاخی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ اصول ہوتا ہے کہ ”تم میرا ساتھ دو میں تیرا ساتھ دوں، تیری مشہوری ہوگی میرا بھی نام ہوگا“ ۔ ان کی تنظیم کے قوانیں کچھ اس طرح ہوتے ہیں :۔

1۔ تنظیم کے تمام ممبران کا فرض ہے کہ وہ اس تنظیم سے وابستہ شاعر، افسانہ نگار اور ناقد کی تعریف کریں۔ ان کی تخلیقات کے سوا کسی اور کی تخلیق کی تعریف کرنا گناہ عظیم ہے۔

2۔ کسی بھی ادبی نششت میں صرف اور صرف دوستوں کو ہی مدعو کیا جائے گا۔ پہلے دوستانہ مراسم کو رکھا جائے بعد میں ادب اور اس سے جڑی دیگر سرگرمیوں کو۔

3۔ یہاں اس تنظیم کا ہر فرد معتبر ہے سوائے ان کے جو اس تنظیم کا حصہ نہیں۔

4۔ ایک دوسرے کی تخلیقات کی اتنی تعریفیں کرو کہ دوسرا ماننے پر مجبور ہو جائے کہ ارود میں شیکسپیر، جانسن، ملٹن اور ایلن پو کے مدمقابل اگر کوئی ادیب ہے تو بس اسی تنظیم کا فرد مجاہد ہے۔

جو ان قوانیں کی پاسداری کرتا ہے وہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہمارے یہاں نمایاں ادیبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ حضرات سوشل میڈیا پر مختلف گروپس بناتے ہیں جس میں یہ تنظیم سے جڑے ادیبوں کی تخلیقات مع تعریفوں کے لگا دیتے ہیں۔

ہمارے کشمیر میں اسکول، کالج اور اسپتالوں کی تعداد مقرر نہیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ اسکول تعلیم کی روشنی پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔ انہوں نے عزم کیا ہے کہ کشمیر میں کوئی بھی ناخواندہ نہیں رہے گا۔ ہمارے معاشرے میں امیر اور غریب کے فرق کو واضح کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کس کے بچے کہاں تعلیم پا رہے ہیں۔ اگر سرکاری اسکول میں بچے پڑھ رہے ہیں تو یقیناً معاشی اور اقتصادی حالات خستہ ہے۔ یہاں جن بچوں کے والدین ناخواندہ ہیں، صرف وہی سرکاری اسکولوں میں تعلیم پارہے ہیں۔

ان کے بچے اس لیے سرکاری اسکول میں درج ہوتے ہیں تاکہ ان کو وہاں مفت میں وردی اور کتابیں میسر ہوں۔ یہاں امیر کی ایک پیچان یہ بھی ہے کہ ان کا بچہ کس پرائیویٹ اسکول میں درج ہے۔ اس وادی کا منافع بخش کاروبار کسی پرائیویٹ اسکول کی بنیاد رکھنا ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھانے والے محنتی ہوتے ہیں اور اس محنت کے بدلے ان کو ہر ماہ تین ہزار کے حساب سے مبلغہ رقم تنخواہ دی جاتی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تعینات اساتذہ السی ہوتے ہیں جو اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب ماہ ختم ہو اور ان کے اکاونٹ میں تنخواہ آئے۔

یہاں سب سے بڑا منافع بخش کاروبار دواؤں کا ہے۔ یہاں اصلی، نقلی، جعلی غرض ہر دوائی کا چلن ہے۔ یہاں کے اسپتالوں کی حالت بیان سے باہر ہے۔ ضلع کو ڈپٹی کلٹر اور اسپتال کو ڈاکٹر سنبھالتا ہے۔ اسپتال میں صرف اور صرف ڈاکٹر کی چلتی ہے اور ڈاکٹر صاحب دوا فروش کے اشاروں پہ چلتا ہے۔ ڈاکٹر کا قلم دوا فروش کی مرضی اور ڈاکٹر کی جیب کے عین مطابق چلتا ہے۔ یہاں صرف دوائیاں ہی نقلی نہیں بعض دفعہ ڈاکٹر بھی نقلی نکل آتے ہیں۔

ڈاکٹری کے مقدس پیشے کو بازاری بنانے میں کچھ ضمیر فروش ڈاکٹروں اور کفن فروش دوا فروشوں کا ہاتھ ہے۔ یہاں کا ڈاکٹر نرالا ہے۔ جو اسپتال میں کم اور اپنے پرائیویٹ کلینک میں آنے کے دعوت نامے زیادہ دن بھر بانٹتا رہتا ہے۔ ان کے رویے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ اسپتال میں یہ گرم دم گفتگو اور پرائیویٹ کلینک میں نرم، ملنسار اور شفیق نظر آتے ہیں۔ یہاں کا ڈاکٹر مسیحابھی ہے اور مللک الموت کا وہ سپاہی بھی جس نے اپنا ضمیر بیچ کر گاڑی، بنگلہ اور دولت کمائی اور عزت گنوائی۔

کشمیر میں دیگر ممالک کی طرح چور اچھکے، رشوت خور و بے ایمان، ضمیر فروش اور بددیانت وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ایسا نہیں یہاں صرف ان کی کھیپ تیار ہے بلکہ ایماندار، باضمیر، دیاتندار لوگوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہیں۔ پوری دنیا میں جھوٹ کی عمارتیں بلند و بالا ہیں۔ یہاں بھی جھوٹ سے بنی دس دس منزلہ عمارات کھڑی ہیں۔ ہر دفتر اور ہر محکمے میں جھوٹ کا چلن ہے۔ اس کے بغیر چارہ نہیں اور نہ ہی کوئی کام مکمل ہوتا ہے۔

یہاں جو سچ بولتا ہے اس کو طعنے دے دے کر جھوٹ کا لباس پہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہاں جھوٹ کی سیدھی راہ پہ چلنے والے ہشاش بشاش ہیں۔ رشوت کو یہاں ”چائے“ بولتے ہیں۔ اس کا لینا اور دینا حلال سمجھا جاتا ہے۔ جو نہیں لیتا اس کو اس اصول پہ چلنے کے لیے افسر سے دباؤ آتا ہے کہ بھائی ”لو اور لینے دو“ کا اصول اپناؤ تم بھی خوش، ہم بھی خوش، ہم سب خوش۔

یہاں زخموں سے چور لوگ بھی ہیں اور دھماکوں، گولیوں کی گن گرج بھی، یہاں نیم بیوہ عورتیں ہیں اور نیم یتیم بچے بھی، یہاں آئے روز کی ہڑتالیں اور جھڑپیں ہیں، خوف اور ذہینی تناؤ بھی۔ صحت افزا مقام ہونے کے باوجود یہاں ایک چیز ناپید ہے وہ ہے ذہینی سکون۔ جس کی تلاش میں یہاں کے لوگ دیگر ملکوں میں بسے ہوئے ہیں۔ یہاں گرنیڈ روز پھٹتے ہیں، گولیاں روز چلتی ہیں، پیلٹ سے زخمیوں کی تعداد کا شمار نہیں۔ جلتے گھر، کٹے سر اور غارت گر یہاں سب ہیں۔

یہ مسئلہ تحقیق طلب ہے کہ یہاں گمنام قبریں زیادہ ہیں یا گمشدہ افراد۔ یہاں ایسے گھر ہیں جو بنا چراغ کے ہیں، مائیں ہیں جن کی گود اجڑی ہے، دلہنیں ہیں جو اغوا شدہ دلہے کے انتظار میں بوڑھی ہو گئی ہیں غرص یہاں اوپر والے کے کرم سے زیادہ زمین والوں کے ڈھائے ستم ہیں۔ یہاں اپنوں کے لوٹ آنے کا انتظار اور جو پاس ہے ان کے لیے دل بے قرار ہے۔ یہاں اگلے لمحے حالات کیا کروٹ لیں اسی کشمکش اور تناؤ میں لوگ مر مر کر جی رہے ہیں۔

یہاں کے جوان سحرا کم باندھتے ہیں اور ان کے جنازے زیادہ اٹھتے ہیں۔ یہاں ماں باپ کے لیے سنگین سزائیں ہیں جس ماں باپ کو جوان بیٹے کے جنازے کو کاندھا دینا پڑتا ہے وہ زندہ درگور ہوجاتا ہے۔ یہاں ماں نے جو بچپن میں بددعا غصے میں اور بچے کی شرارت سے تنگ آکر دی تھی وہ جوانی میں پوری ہوتی ہے اور واقعی وہ بچہ بڑا ہوکر جواں مرگ ہوجاتا ہے۔ یہ دنیا کی واحد خوبصورت جگہ ہے جہاں اسی سال کا بوڑھا بیس سال کے جوان کو سپرد خاک کرتا ہے۔ یہاں ہر وہ آواز دبائی جاتی ہے جس سے سچائی کی بو آتے ہو۔ یہاں اذیتیں، کلفتیں، صعوبتیں، رنجوریاں، مجبوریاں، اور طرح طرح کے درد و کرب سے بھرے عذاب ہیں۔ اتنی سختیوں، پریشانیوں کے بعد بھی اگر لوگوں کے چہرے پہ مسکان ہے تو یہ کسی کرشمے سے کم نہیں۔ اپنے کشمیر میں سب کچھ ہے۔

کشمیر کے دن رات نیارے
باغ آسمان پھول ستارے
اپنے کشمیر میں سب کچھ ہے پیارے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •