حفیظ اللہ حسنی: چار برس قبل بلوچستان میں لاپتہ ہونے والے شخص کی لاش برآمد


صوبہ بلوچستان میں ضلع چاغی کے صدر مقام دالبندین سے ایک تین سال پرانی لاش ملی ہوئی ہے جس کی شناخت چار سال قبل لاپتہ ہونے والے کاشتکار حفیظ اللہ محمد حسنی کے نام سے ہوئی ہے۔

حفیظ اللہ محمد حسنی کے بھائی نعمت اللہ کے مطابق ان کے بھائی 30 اگست 2016 سے لاپتہ تھے۔

نعمت اللہ کے دعوے کے مطابق انھیں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار اُن کے گھر سے لے گئے تھے اور بعد میں اُن کی رہائی کے عوض 68 لاکھ روپے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

حفیظ اللہ کے خاندان کے مطابق رقم کی ادائیگی کے باوجود انھیں رہا نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے مطابق سنہ 2019 میں مذکورہ میجر پر یہ جرم ثابت ہونے پر ان کا کورٹ مارشل کر کے انھیں جیل بھیجا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’افسر کو سزا ہوئی تو بیٹے کی واپسی کا یقین تھا، پر ایسا نہ ہو سکا‘

‘کچھ لاتیں اور گھونسے مارے اور کہا غلط فہمی پر اٹھایا تھا’

’ایجنسیوں کا نام کیوں لیا؟ ایف آئی آر درج نہیں ہوگی‘

دالبندین کے تحصیلدار سعید زہری نے جمعرات کو لاش کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں مقامی لوگوں کی جانب سے چوٹو کے علاقے میں ایک شخص کی لاش کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

چوٹو دالبندین شہر کے جنوب مشرق میں اندازاً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑی علاقہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لاش عملی طور پر ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا جس کے ساتھ کپڑوں کے ٹکڑوں کے علاوہ جوتے بھی پڑے تھے، میت اور دیگر اشیا کو بعدازاں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر دالبندین کے ڈاکٹر اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لاش اندازاً تین سال پرانی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس شخص کی ہلاکت گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے، اور انھیں تین گولیاں سینے میں ماری گئی تھیں جبکہ ایک گولی کا نشان ٹانگ پر ہے۔

ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ لاش کے ساتھ ایک گولی بھی پیوست تھی۔

حفیظ اللہ محمد حسنی کون تھے؟

حفیظ اللہ محمد حسنی کا تعلق بلوچستان کے ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والے سرحدی ضلع چاغی سے تھا۔

وہ چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین میں کلی قاسم کے رہائشی تھے اور پیشے کے اعتبار سے کاشتکار تھے۔

ان کے چھوٹے بھائی نعمت اللہ کے مطابق تین بھائیوں میں حفیظ اللہ سب سے بڑے تھے اور انھوں نے دالبندین کے قریب چھتر کے علاقے میں ایک ٹیوب ویل کو سنبھالا ہوا تھا اور وہاں زمینوں پر کاشتکاری کرتے تھے۔

جبری گمشدگی، حفیظ اللہ حسنی

ضلعی ہسپتال کے ڈاکٹر کے مطابق ان کی ہلاکت گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے، اور انھیں تین گولیاں سینے میں ماری گئی تھیں جبکہ ایک گولی کا نشان ٹانگ پر ہے

دو ڈھائی سال کے انتظار کے بعد حفیظ اللہ کی خواتین رشتہ داروں نے کوئٹہ میں ان کی بازیابی کے لیے کچھ دن علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں بھی حصہ لیا تھا۔ یہ کیمپ طویل عرصے سے بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے قائم ہے۔

اس احتجاج میں حفیظ اللہ کی چھوٹی بیٹی بھی اپنی والدہ اور دادی کے ساتھ والد کی تصویر تھامے نظر آتیں تھیں۔

حفیظ اللہ کو رشتہ داروں نے کیسے شناخت کیا؟

حفیظ اللہ کے چھوٹے بھائی نعمت اللہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے لاش کی باقیات سمیت تین چیزوں سے اسے شناخت کیا۔

انھوں نے بتایا کہ حفیظ اللہ کے دانتوں میں جو نشانی تھی وہی اس لاش کی دانتوں میں بھی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حفیظ اللہ کوئٹہ میں جس درزی سے اپنے کپڑے سلواتے تھے، اس لاش کے ساتھ پڑے کپڑوں کے ٹکڑوں پر اسی درزی کی دکان کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔

نعمت اللہ نے بتایا کہ تیسری نشانی جوتوں کی تھی۔ ’گمشدگی کے وقت حفیظ اللہ کے زیر استعمال جو جوتے تھے، اسی طرح کے جوتے اس لاش کے ساتھ ملے۔‘

گذشتہ ماہ حفیظ اللہ محمد حسنی کی جبری گمشدگی کو چار سال مکمل ہونے پر بی بی سی نے حفیظ اللہ کی والدہ سے گفتگو کی تھی۔

انھوں نے بتایا تھا کہ ’جب حفیظ اللہ کی جبری گمشدگی کے حوالے سے سیکورٹی فورسز کے ایک میجر کو سزا ہوئی تو انھیں یہ یقین ہو گیا تھا کہ اب ان کی بازیابی یقینی ہو گی لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود وہ بازیاب نہیں ہوئے۔‘

انھوں نے یہ بتایا تھا کہ ’وہ اب اپنی زندگی کے بقیہ دن اس انتظار میں گزار رہی ہیں کہ کب ان کا بیٹا آئے گا اور اس کے لیے ہر روز ان کی نظریں گھر کے دروازے پر لگی رہتی ہیں۔‘

جبری گمشدگی، حفیظ اللہ حسنی

گذشتہ دنوں حفیظ اللہ کے چھوٹے بھائی نعمت اللہ نے ان کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کی تھی

حفیظ اللہ کی گمشدگی کیسے ہوئی؟

حفیظ اللہ کے چھوٹے بھائی نعمت اللہ نے کوئٹہ میں ان کی گمشدگی کو چار سال کا عرصہ مکمل ہونے پر 20 اگست کو جو پریس کانفرنس کی تھی اس میں ان کا کہنا تھا کہ اُن کے بھائی کو مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کے ایک میجر 30 اگست 2016 کو ان کے گھر کلی قاسم خان سے لے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ خاندان کے لوگوں کا خیال تھا کہ شاید ان کے بھائی کو کسی تفتیش کے لیے لے جایا گیا ہے اور تفتیش کا عمل مکمل ہونے کے بعد ان کو چھوڑ دیا جائے گا لیکن طویل عرصے تک ان کا کوئی اتا پتا نہیں مل سکا۔

انھوں نے بتایا کہ جب ان کا بھائی طویل عرصے بعد بھی گھر نہیں آیا اور نہ انھیں یہ بتایا گیا کہ وہ کہاں ہیں تو خاندان کی تشویش میں اضافہ ہوا جس کے بعد انھوں نے اس میجر سے رابطہ کیا۔

حفیظ اللہ کے بقول میجر نے ان کی بازیابی کے لیے بھاری رقم کا مطالبہ کیا۔

نعمت اللہ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے اپنی بعض جائیدادیں اونے پونے بیچنے کے علاوہ رشتہ داروں اور دیگر افراد سے قرضہ لے کر 68 لاکھ روپے اکٹھے کر کے اس میجر کو ادا کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کی ادائیگی کے بعد ان کو یہ یقین تھا کہ اب ان کے بھائی کو چھوڑ دیا جائے گا لیکن اس کے باوجود ان کی بازیابی عمل میں نہیں آئی، جس کے بعد انھوں نے دالبندین میں اس سیکورٹی فورس کے ہیڈ کوارٹر سے رابطہ کیا جس سے یہ افسر وابستہ تھے۔

نعمت اللہ کے مطابق اس کے بعد میجر کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا اور انھیں سزا ہوئی۔

پاکستانی فوج کا مؤقف

حفیظ اللہ کے خاندان کے اس الزام کے بعد مذکورہ میجر کا کورٹ مارشل ہوا تھا۔

فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے دوران انھیں اختیارات سے تجاوز کا مرتکب پاتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے اگست 2019 میں اس حوالے سے بیان میں کہا گیا تھا کہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی سزا کی توثیق کی ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’مسلح افواج کو اپنے اداراتی احتسابی نظام کا احساس ہے، اس لیے اس افسر کو ملازمت سے برطرف کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp