نوشابہ کی ڈائری 19: ”یہ بچے ایم کیو ایم میں سیاست کے لیے نہیں لڑنے مرنے آئے ہیں“۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

23 دسمبر 1994

موت کو پہلی بار اتنے قریب سے دیکھا جب اپنا گھر ”موت کا گھر“ بن گیا۔ وہ خوف ناک رات ہمارے گھر کی خوشیاں کھا گئی اور امی جان کی زندگی نگل گئی۔ ہم سب کے دل زخمی ہیں مگر ذیشان پر تو قیامت گزر گئی ہے۔ انھوں نے میت کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا تھا، ”میری ماں مری نہیں قتل ہوئی ہوئے، خدا کی قسم میں انتقام لوں گا۔“ میں ان کا یہ جملہ سن کر سہم گئی تھی۔ امی جان کا صدمہ کیا کم تھا کہ یہ خدشہ مجھے اندر ہی اندر کھانے لگا کہ ذیشان کی جذباتیت اور ماں سے محبت انھیں نہ جانے اب کس طرف لے جائے، اور یہی ہوا۔

کہتے ہیں ہمیشہ اچھا سوچنا چاہیے، برا سوچو تو برا ہوجاتا ہے، ان حالات میں انسان برے کے علاوہ کیا سوچ سکتا ہے۔ اس رات پیروں کی دھمک اور کمرے کا دروازہ دھڑ سے کھلنے کی آواز سے میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔ اندھیرے میں ہر طرف سائے تھے، بندوقیں تانے، میرے پہلو میں سوئے ذیشان کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور دیوار سے لگادیا گیا۔ سارنگ شور سے اٹھ گیا اور رونے لگا تھا۔ میں نے بدحواسی میں ڈھونڈ کر دوپٹہ اوڑھا۔

اس وقت تک لائٹ جلائی جا چکی تھی، جس میں چہروں پر درشتی لیے تنے کھڑے وردی پوش پورے گھر میں پھیلے نظر آئے۔ تب ہوش آیا کہ ہمارے گھر چھاپا پڑا ہے۔ وہ دیوار کود کر آئے تھے۔ پولیس کی ایک بے ڈول وجود والی ’لیڈی سرچر‘ بھی ساتھ تھی، ”چلو، گھر کی تلاشی دو، یہ الماری کھولو“ حکم ملتے ہی میں نے الماری کے پٹ کھول دیے تھے۔ ”ہم نے آخر کیا کیا۔“ ذیشان کا سوال ایک تھپڑ نے ہونٹوں ہی پر کچل ڈالا۔ پتا نہیں ان کے ہونٹوں سے خون پہلے نکلا تھا یا آنکھوں سے آنسو۔

”تو ندیم چیتا ہے؟“ ذیشان کو گریبان سے جھنجھوڑ کر پوچھا گیا۔ ”نہیں، میں ذیشان ہوں“ آواز کی کپکپاہٹ میرا دل چیر گئی، میں نے کس مشکل سے سسکی کو سینے میں روکا۔ ”جھوٹ بولتا ہے۔“ اس گھر میں پہلی بار ایک گندی گالی گونجی۔ ”میں ندیم چیتا نہیں ذیشان ہوں ں ں ں ں ں۔ شناختی کارڈ دیکھ لو!“ ذیشان چیخے تو ایک اور تھپڑ ان کا چہرہ لال کر گیا۔ بے بسی کیا ہوتی ہے، میں نے اس دن ذیشان کی آنکھوں میں دیکھا۔ سارے گھر سے الماریاں کھلنے بند ہونے، سامان کی اٹھا پٹخ اور بھاری بوٹوں کی دھم دھم کی آوازیں آ رہی تھیں۔

”ماریں مت خدا کے لیے۔ میں ان کے کاغذات دکھاتی ہوں“ میں نے الماری کی دراز میں رکھا ذیشان کا شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، ڈگریاں۔ ان کے نام کا جو ثبوت ملا، ذیشان پر تھپڑ برساتے ہاتھوں میں تھما دیا۔ ”صاب کو دکھاؤ“ شناختی کارڈ الٹا پکڑ کر پڑھنے کی کوشش کرنے کے بعد دیگر دستاویزات کے ساتھ صحن میں کھڑے ”صاحب“ کو بھیج دیا گیا، جو پیٹھ پر ہاتھ باندھے تمام کارروائی کا جائزہ لے رہے تھے۔ انھوں نے ٹیوب لائٹ کے نیچے جاکر بڑے غور سے کاغذات اور شناختی کارڈ کی عبارات پڑھیں، پھر ہمارے کمرے کی طرف رخ کر کے اپنے ساتھی کو اشارے سے بلایا۔

کچھ لمحوں بعد ”اوئے چلو“ کی آواز کے ساتھ وہ سب ایک ایک کر کے گھر سے باہر نکل گئے۔ میں اور ذیشان دوڑتے ہوئے ساتھ والے کمرے میں پہنچے، ابو جان بکھرے سامان کے پاس سر جھکائے بیٹھے امی جان کا ہاتھ تھامے دھیرے دھیرے سہلا رہے تھے۔ امی جان نیم بے ہوشی کی سی کیفیت میں دیوار سے سر ٹکائے بیٹھی تھیں۔ ذیشان ان کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر ”امی جان ہوش میں آئیے“ کہتے ہوئے ان کے گال تھپتھپانے لگے۔ میں بھاگ کر پانی لائی اور گلاس ان کے ہونٹوں سے لگادیا۔ انھوں نے آنکھیں پوری کھولیں، ذیشان کی طرف دیکھا، ان کے ہونٹوں پر لگے خون اور پھٹے گریبان کو دیکھ کر ”ہائے میرا بچہ“ کہہ کر چلائیں اور بے ہوش ہو گئیں۔ پھر ہوش میں نہ آئیں۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ہائی بلڈپریشر کی اس مریضہ کی موت دماغ کی رگ پھٹ جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

وہ دن ہے اور آج کا دن، ہمارے گھر میں اداسی اور ویرانی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ذرا سی آہٹ سے دل دہل جاتا ہے، اپنی بے عزتی اور بے چارگی کا احساس مارے ڈالتا ہے۔ ماں کی موت کے بعد سے ذیشان کے ہونٹوں کو چپ لگ گئی تھی، سارنگ کی معصوم حرکتیں بھی ان کے لبوں پر مسکراہٹ لانے سے قاصر رہتیں۔ امی جان کا ذکر چھڑتا تو مٹھیاں بھینچ کر ایک ہی بات کہتے، ”چھوڑوں گا تو نہیں۔“ پہلے تو رات دیر سے آتے تھے، پھر سارا سارا دن اور پوری پوری رات غائب رہنے لگے۔

ایک رات ان کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر میں پیار سے ان کی کمر سہلانے لگی، اچانک میرا ہاتھ کسی فولادی چیز سے مس ہوا، میں نے جھٹ ان کی قمیص اٹھا دی، جینز سے جھانکتا ٹی ٹی کا دستہ سب کچھ کہہ گیا۔ ”نہیں ذیشان، خدا کے لیے نہیں“ میں نے ان کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔ ”میری ماں کا قتل ہوا ہے، مجھے میرے بچے میری بیوی کے سامنے ذلیل کیا گیا۔ میں روز مرتا ہوں نوشی روز، میں زندہ نہیں ہوں، میری آگ اب خون سے ہی بجھے گی۔“ میں روتی رہ گئی وہ میرا ہاتھ جھٹک کر گھر سے نکل گئے۔

بہت بعد میں پتا چلا کہ ندیم چیتے اور ہمارے گھر کا نمبر ملتے جلتے تھے، اور چھاپا مارنے والوں کی غلطی ہمارا گھر اجاڑ گئی۔ ندیم چیتا میرے لیے ان جانا نام نہیں۔ وہ اسی محلے کا ہے، ڈرانے کی صفات پر مبنی ناموں والے کارکنوں کی اکثریت کے ’حقیقی‘ میں جانے کے بعد ایم کیو ایم میں ایسے ناموں کی نئی فصل اگ آئی ہے، ندیم بھی ان میں سے ایک ہے۔ ذیشان نے بتایا کہ ندیم ایک سیدھا سادہ عام سا لڑکا تھا، سیاست سے دور کرکٹ میں مگن۔

بانوے کا آپریشن شروع ہوا، تو اس نے لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھا تھا۔ ”یاد ہے ایک دن ابو کے پیر میں چوٹ لگ گئی تھی تو ایک لڑکا ان کا ہاتھ پکڑ کر گھر تک لایا تھا“ مجھے یاد آ گیا، اٹھارہ انیس سال کا گورا، کلین شیو معصوم سا شرمیلا لڑکا۔ آپریشن کے دوران اندھادھند گرفتاریوں میں پولیس والے اس بھی پکڑ کر لے گئے تھے۔ تھانے میں نہ جانے اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ آنے کے بعد وہ خاموش اور بدلے کی آگ سے بھرا ہوا تھا۔

پھر کسی پولیس والے کا قتل ہو یا ’حقیقی‘ کے کارکن کا، گاڑی جلے یا پتھراؤ ہو، علاقے میں ندیم چیتے کا نام ہر ایسے واقعے سے جڑا ہوتا، زبانوں سے تھانوں میں کٹتے پرچوں تک ہر جگہ اس کا نام تھا۔ نوشاد چچا نے کہا تھا، ”یہ نئے لڑکے نئے حالات کی پیداوار ہیں، ان کا خلوص اور جذبے کورے ہیں، ردعمل کا شکار یہ بچے ایم کیو ایم میں سیاست کے لیے نہیں لڑنے مرنے آئے ہیں، انھوں نے پرچم نہیں بندوق اٹھائی ہے۔ لندن میں بیٹھے قائد کو نئے مہرے اور نئی کھیپ مل گئی ہے۔“

اگر میرے گھر سے میت نہ بھی اٹھتی، تب بھی اس سال رونے کو بہت کچھ تھا۔ شہر میں ہر روز لوگ مارے جا رہے ہیں۔ کون مار رہا ہے، کیوں مار رہا ہے؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ چھوٹے ماموں کے بیٹے جبران کا جسم گولیوں سے چھلنی ہوا، تو یہی کہا گیا کہ ’سپاہ صحابہ‘ سے وابستگی کے باعث اس کی جان گئی، زہرہ باجی کے شوہر سبط حسن کے بدن میں گولیاں اتاری گئیں تو قتل کا سبب ان کا شیعہ ہونا قرار پایا، پچھلی گلی کا مقتول سرفراز ’الطاف گروپ‘ کا کارکن تھا، ابو کے دوست رحیم صاحب کا بیٹا نوید ایم کیو ایم ’حقیقی‘ کا ہونے کی بنا پر قتل ہوا۔ لیکن ہمارے محلے کے نصیر بلگرامی، نوشاد چچا کے دوست فیروز، بڑی خالہ کے پڑوسی لڑکے شہزاد کا تعلق تو کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے نہیں تھا، انھیں کس جرم کی سزا دی گئی؟

کوئی کہتا ہے کراچی کو ملک سے الگ کرنے کی سازش ہو رہی ہے، اس کے لیے حالات بنائے جا رہے ہیں۔ کوئی اس سب کو مہاجروں کو مٹانے کا منصوبہ قرار دیتا ہے۔ ایک محفل میں یہ بھی سننے کو ملا کہ نوجوانوں کو تاک تاک کر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں میں نوجوانوں کی تعداد گھٹائی جائے اور ہماری بڑھتی ہوئی آبادی کم ہو جائے۔ کوئی منصوبہ ہو یا سازش شہر کا ہر دن خون سے رنگا جا رہا اور آگ سے دہک رہا ہے۔ میں جبران کی میت پر رو کر واپس آئی، تو اطلاع ملی کہ آج زہرہ باجی کی مانگ اجڑ گئی ہے۔ ان کے شوہر کا جنازہ اٹھنے کے اگلے دن دو اور جاننے والوں کے خون میں نہائے جسم ’ایدھی‘ کی بین کرتی آنے والی ایمبولینسیں ان کے دروازوں پر اگل کر چلی گئیں۔

اس شہر میں کوئی دریا نہیں بہتا، لیکن برسوں سے خون روزانہ بہتا ہے۔ خوں ریزی کی کا سلسلہ شاید بلدیہ ٹاؤن میں رینجرز کے کیپٹن اور اہل کاروں کے قتل سے شروع ہوا تھا۔ اس قتل کا الزام ’فاروق دادا‘ پر لگا، اس وقت یہ ہم سب کے لیے ایک نیا نام تھا، لیکن اب اس نام کے دور دور تک ڈنکے بج رہے ہیں۔ کہتے ہیں بلدیہ ٹاؤن میں مہاجر پنجابی تنازعے میں رینجرز کے افسر اور اہل کار جانب دارانہ کردار ادا کر رہے تھے، یہ کارروائی اس کا ردعمل ہے۔

ایم کیو ایم نے اس معاملے کو جرائم پیشہ عناصر کا ٹکراؤ قرار دیا تھا، لیکن فاروق دادا کا نام ایم کیو ایم سے جڑ چکا ہے۔ حکومت فہیم کمانڈو اور فاروق دادا جیسے لوگوں کو دہشت گرد کہتی ہے، لیکن بہت سے لوگ ان جنگجوؤں کا تذکرہ ہیرو کی طرح کرتے ہیں۔ ”فاروق دادا نے تو ان کی۔ ۔ ۔“ گلی سے گزر رہی تھی، تو کچھ لوگ کھڑے باتیں کر رہے تھے، چہروں پر عجیب سی طمانیت اور خوشی کا احساس لیے ”ان کی“ کے بعد کہنا انھیں کچھ اور تھا، مگر مجھے دیکھ کر اس کی جگہ ”ایسی کی تیسی“ کے مہذب الفاظ نے لے لی۔

ایک طرف یہ ”ہیرو“ ہیں، دوسری طرف سرکاری اہل کار، ایک طرف الطاف گروپ ہے، دوسری طرف حقیقی گروپ، ایک طرف سپاہ صحابہ کے ”سپاہی“ ہیں دوسری طرف شیعہ لڑاکے۔ ہر ایک دوسرے فریق کی جان لینے پر تلا ہے، اور شہر میں قتل کا اذن عام ہے، جو جسے چاہے مار دے۔ کچھ روز پہلے ”تکبیر“ کے مدیر صلاح الدین قتل ہوئے، ان سے پہلے ایم کیو ایم ’حقیقی‘ کے راہ نما منصور چاچا اور انسپیکٹر بہادر علی کو مار ڈالا گیا۔ پولیس، رینجرز، فوج کے اہل کاروں پر حملے معمول بن گئے ہیں، جنازے اور ایمبولینسیں بھی محفوظ نہیں۔

منصور چاچا کے جنازے پر فائرنگ کی گئی، کورنگی میں ایک ایمبولینس پر گولیاں برسائی گئیں۔ الطاف گروپ کے کارکن مارے جاتے ہیں، پھر لندن سے ’یوم سوگ‘ منانے کی کال آتی ہے، اس یوم سوگ میں مزید لوگ جان سے جاتے ہیں، گاڑیاں نذرآتش ہوتی ہیں، عمارتیں جلتی ہیں، مہاجر بستیوں میں چھوٹے چھوٹے کھوکھوں تک پر تالا پڑا ہوتا ہے، لوگ ضرورت کی اشیا لینے قریب کی غیر مہاجر آبادیوں کا رخ کرتے ہیں جہاں زندگی اپنی پوری رفتار سے جاری رہتی ہے۔

’یوم سوگ‘ پورے شہر میں زندگی کا پہیا جام کر دیتے ہیں اور محاصرے وقفے وقفے سے مختلف بستیوں پر مسلط ہو کر وہاں کی بچی کھچی رونق بھی لوٹ لیتے ہیں۔ محاصروں کے دوران پولیس اور رینجرز کے اہل کار گھر گھر تلاشی لیتے ہیں، مردوں کو کسی کھلی جگہ بھیڑ بکریوں کی طرح جمع کر کے بٹھا دیا جاتا ہے، ان بیٹھے ہوئے لوگوں کو ہاتھ گردن پر باندھنے کا حکم دیا جاتا ہے، آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے، پٹی دست یاب نہ ہو تو لوگوں کی قمیصیں اوپر کر کے ان کے منہ پر چڑھا دی جاتی ہیں، مشتبہ قرار دیے جانے والوں کو حراست میں لے لیا جاتا ہے، سرکاری اہل کاروں کے لیے یہ سب نفع بخش کاروبار ہے، زیرحراست افراد اکثر جان کی امان نقدی دے کر پاتے ہیں، تلاشی کے دوران گھروں میں لوٹ مار کی شکایات بھی سننے میں آ رہی ہیں۔ نوشاد چچا کہتے ہیں، ”یہ سب ایم کیو ایم کو نئی طاقت دے رہا ہے، لوگوں کے مجروح جذبات اور احساسات اور نوجوانوں کی کھیپ کی کھیپ کی صورت میں۔“ نفرت جنم لے رہی ہے، بڑھ رہی ہے، حکومت سے، اداروں سے، ریاست سے۔

اکثر اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی ان دنوں یک طرفہ طور پر ایم کیو ایم کے بیانات اور الزامات کی جگالی کرتے رہتے ہیں، لیکن نوشاد چچا اوروں سے مختلف ہیں، وہ کہتے ہیں ”ایم کیو ایم اپنی مظلومیت کے پرچار اور مہاجروں کی سوچ کو خاص سمت دینے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ مہاجروں کی نسل کشی کا الزام لگایا اور کراچی کے حالات کو بوسنیا کی صورت حال سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ جو کچھ بوسنیا میں ہو رہا ہے اس کے مقابلے میں تو کراچی اب بھی جنت ہے۔ اور یہ ناہید بٹ کا معاملہ بھی بڑا پراسرار ہے۔“

مجھے تو ناہید بٹ کا نام سنتے ہی حیرت ہوئی تھی۔ ”بٹ“ خاندان کی اس خاتون کا ایم کیو ایم سے کیا واسطہ؟ ایم کیو ایم کی سینیٹر نسرین جلیل نے پریس کانفرنس کر کے الزام لگایا، ”سرکاری اہل کاروں نے ایم کیو ایم کے ایک کارکن تقی کے گھر واقع بفر زون میں چھاپا مارا اور خواتین سے بدتمیزی کی۔“ اس پریس کانفرنس میں موجود ناہید بٹ اور ان کی والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ ناہید بٹ کو لیڈی سرچر باتھ روم میں لے گئیں، اس کا لباس اتروا دیا اور ایک سرکاری افسر نے باتھ روم کی کنڈی لگانے سے لیڈی سرچر کو روک دیا۔

ایم کیو ایم ناہید کو اپنے کارکن تقی بٹ کی بہن بتاتی ہے، لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ ناہید، تقی کی بہن نہیں دوست ہے۔ اس گھر پر چھاپا فہیم کمانڈو کی تلاش میں مارا گیا تھا۔ فہیم کمانڈو، آفاق احمد اور عامر خان کی جگہ لینے والے ایم کیو ایم کے ”جرنیلوں“ میں شامل ہے، ان نئے ”جرنیلوں“ کے نام ان دونوں سے کہیں زیادہ دہشت انگیز ہیں۔ یہ سوچ کر خوف اور بڑھ گیا ہے کہ کیا محاصروں اور چھاپوں کے دوران عورتوں کی عزت بھی محفوظ نہیں، اور اگر یہ ایم کیو ایم کا پروپیگنڈا ہے۔ تو جانے کل کس عورت یا لڑکی کا نام اپنی سیاست کے لیے استعمال کر لیا جائے۔

شہر میں قتل و غارت گری اور حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے اور حکومت اور الطاف گروپ کے درمیان مذاکرات کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ حکم راں ضد پکڑ لیتے ہیں کہ الطاف حسین سے بات نہیں ہوگی، باقی کی ایم کیو ایم مذاکرات کر لے۔ ادھر ایم کیو ایم کے راہ نما کہتے ہیں کہ قائد تحریک کی مرضی اور اجازت کے بغیر مذاکرات نہیں کر سکتے۔ حکومت یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایم کیو ایم کا الطاف حسین کے بغیر کوئی تصور نہیں نہ جانے کیوں ایسی باتیں کرتی ہے، ایسے مذاکرات ہوئے بھی تو شہر کی دیواروں پر ”امن ہو یا جنگ، الطاف حسین کے سنگ“ کے نعرے لکھنے والے انھیں قبول ہی نہیں کریں گے۔ اگرچہ الطاف حسین نے اپنے پیروکاروں سے اپیل کردی ہے کہ انھیں ”پیر صاحب“ کے بجائے پہلے کی طرح الطاف بھائی کہا جائے، لیکن یہ صرف کہنے سننے تک ہے، ان کے پیروکار اندھے عقیدت مند کی طرح ان کی پیروی کرتے ہیں۔

نعرے سے یاد آیا الطاف حسین نے ”سندھ میں ہوگا کیسے گزارہ، آدھا ہمارا آدھا تمھارا“ کا نعرہ لگا کر کشیدگی کو اور بڑھا دیا ہے۔ ’مہاجر رابطہ کونسل‘ کے کنونشن میں سندھ کے شہری علاقوں پر مشتمل صوبے کا مطالبہ کیا گیا اور اس مجوزہ صوبے کا نقشہ بھی پیش کیا گیا۔

یہ سب ایم کیو ایم حقیقی کی طرف سے ”جنوبی سندھ صوبہ“ کا مطالبہ سامنے آنے اور دیواروں پر ”حالات کی مجبوری ہے، صوبہ بہت ضروری ہے“ کی چاکنگ کے بعد ہوا ہے۔ بھائی جان کہہ رہے تھے، ”لسانی اور نسلی بنیاد پر ضلع ملیر بنا کر پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم کی راہ ہموار کردی ہے۔“ بھائی جان نے بتایا، ”یہ ضلع باقی کے پورے کراچی سے دو گنا بڑا ہے۔ کراچی کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک بے ہنگم اور بے تکے طریقے سے کاٹتے ہوئے یہ ضلع بنایا گیا ہے۔ سپر ہائی وے سے لانڈھی کورنگی تک پھیلے گوٹھوں کو جوڑ کر یہ سندھیوں اور بلوچوں کا ضلع تشکیل دیا گیا ہے۔ نقشہ دیکھو تو لگتا ہے ضلع ملیر کراچی میں نہیں، کراچی ضلع ملیر میں ہے۔ “ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس ضلعے کی صورت میں تعصب کی ایک اور لکیر کھینچ دی ہے۔ نوشاد چچا کہنے لگے، ”اگر بڑی نیک نیتی سے پس ماندہ علاقوں کو ترقی دینے کے لیے یہ ضلع بنایا گیا ہے تو ایسا صرف کراچی میں کیوں کیا گیا؟ اندرون سندھ حیدرآباد، سکھر، میرپور خاص، نواب شاہ، لاڑکانہ، خیرپور ہر جگہ شہری اور دیہی ضلعے الگ الگ بنا دیے جائیں تاکہ وہاں کے یہی علاقے بھی ترقی کریں۔ “ ابھی تو یہ سلسلہ شروع ہوا ہے دیکھیں کہاں تک جاتا ہے۔

حالات ایسے ہیں کہ گھر سے نکلتے ہوئے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے۔ اس دن اتنی پریشانی ہوئی کہ توبہ کرلی آئندہ نہایت ضروری کام ہی سے کہیں جاؤں گی۔ ذیشان کی بیمار خالہ کو دیکھنے رکشے پر جا رہی تھی۔ تین ہٹی کے پل کے قریب پہنچی ہی تھی کہ ہنگامہ شروع ہو گیا، پتھراؤ، فائرنگ، آنسو گیس کی شیلنگ۔ ایک بڑا سا پتھر رکشے میں آ کر گرا، میں اور سارنگ بال بال بچ گئے، میں نے جھک کر سارنگ کو سینے سے بھینچا اور بازوؤں میں چھپایا ہوا تھا۔

آنسو گیس سے آنکھیں جلنے لگیں، رکشے والے نے بڑی مشکل سے رکشا موڑ کر ایک محفوظ مقام تک پہنچایا۔ اگلے دن کے اخبار میں تھا کہ ایم کیو ایم کی جیل بھرو تحریک کے سلسلے میں اس کے راہ نما گرفتاری دینے آرہے تھے، ان کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں لوگ تھے، پولیس نے انھیں روکنے کے لیے ناکابندی کر رکھی تھی، جب یہ جلوس تین ہٹی پہنچا تو پولیس سے تصادم ہو گیا۔ ایسے تصادم تو روز ہی ہوتے ہیں، یہ تو پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن اب تو شہری ایسی دو بہ دو ”جنگیں“ بھی ہوتی دیکھتے ہیں جن میں ایک طرف ایم کیو ایم کے مسلح کارکن اور دوسری طرف پولیس اور رینجرز کے اہل کار ہوتے ہیں۔
ایسے حالات میں تو فوج آیا کرتی ہے، لیکن یہاں سندھ سے فوج واپس جا رہی ہے۔ نوشاد چچا کہہ رہے تھے کہ لگتا ہے اب جو ہوگا وہ بہت خوف ناک ہوگا، فوج نے اپنا دامن بچا لیا ہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےنوشابہ کی ڈائری 18: کراچی میں کئی خودمختار علاقے وجود میں آچکے ہیںنوشابہ کی ڈائری: کھجی گراؤنڈ فتح ہو گیا․․․ ایم کیو ایم جنگ ہار رہی ہے
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •