موٹروے : درندوں نے انسانیت لوٹ لی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موٹر وے واقع پر کس کو قصور وار ٹھہرایا جائے۔ اس پولیس کو جس کا سربراہ یہ کہہ رہا ہے کہ خاتون کو رات بارہ بجے موٹر وے پر اکیلے نہیں آنا چاہیے تھا یا عورت کو جو رات بارہ بجے گاڑی کا پیٹرول چیک کیے بغیر بچوں کو لے کر براستہ موٹروے لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھی؟

فرض کیا وہ بچوں کے ساتھ اپنی فیملی کے کسی مرد کے ساتھ ہوتی تو کیا خاتون وحشیانہ سلوک سے بچ جاتی۔ نہیں وہاں لاشوں کا ڈھیر بھی پولیس کو سنبھالنا پڑ جاتا۔ غلیظ نیت کو کیا پتا تھا کہ گاڑی کے اندر کون اور کتنے لوگ ہیں وہ تو بس اس غلاظت میں رنگے ہوئے تھے جو ہم سب کی اجتماعی زندگی میں رواں دواں ہے۔

خاتون اس حیوانی منطقے کو بھی انسانی بستی سمجھ بیٹھی۔ پیٹرول بھی چیک نہیں کیا۔ لگتا ہے پڑھی لکھی تھی۔ لیکن کون سا نصاب؟ ایک مسئلہ اور بھی ہے پاکستان میں تھی اور تھی بھی بچاری پاکستانی، جہاں مرد کو عورت کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ بھئی محافظ مرد نہیں انسان انسان کا ہوتا ہے۔ اب انسان کہاں سے لائیں ان کی کاشت پر تو یہاں پابندی ہے۔ یہاں رشتوں اور جنسی اصناف میں بٹے معاشرے میں سب ملتا ہے مگر انسان نہیں۔

ہمارے ہاں عورت کو مردوں کی ذہنی حالت کا پورا شعور کبھی نہیں ہوتا۔ بچپن میں دماغ کو سیل بند کر دیا جاتا ہے۔ زندگی سے نبرد آزما ہونے کی جرات فراہم نہیں کی جاتی۔ فیصلے کرنے نہیں سکھائے جاتے۔ بس شادی کے بعد مرد کو کس طرح راضی رکھنا ہے یہ درس گھروں میں دیا جاتا ہے۔ اور سکول کالج اور یونی ورسٹیوں کے نصاب میں اخلاقیات کے نام پر وہ باتیں بتائی جاتی ہیں جو متروک ہو چکی ہیں۔ بس پرچار ہے۔ انسانیت تربیت سے تشکیل پاتی ہے۔

تعلم ادھورے نصاب پر مبنی ہے جو فراست نہیں یاد داشتوں تک محدود ہے۔ تربیت کون کرے۔ کرنے والے خود سر تا پا غلاظتوں کا ڈھیر ہیں۔ جن کے پاس پیسہ ہے، وہ پیسے سے جسم خرید لیتے ہیں اور جن کے پاس ڈنڈا یا بندوق ہے وہ موٹروے پر درندگی کی نئی تاریخی رقم کر دیتے ہیں۔ رال ٹپکانے والے، معاملے کو حل کرنے کی بجائے خبر سے پیسے بناتے ہیں۔ سرکار کیا کرے۔ اسی کے تائے چاچے بعد میں کہیں سے بر آمد ہوتے ہیں اور کیس کی کمزور تفتیش کے بعد ملزمان۔ پھر۔ آزاد۔

یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو سامنے آ گیا۔ ورنہ ہم روز زندگی کے دامن کو اپنی داخلی غلاظتوں سے گندا کر رہے ہیں۔ کچھ منظر سامنے آ جاتے ہیں اور کچھ چھپے رہتے ہیں۔ جو چھپے رہتے ہیں اس معاشرے میں انھی کی بچت ہے۔ ورنہ پولیس کے پڑھے لکھے افسر کا بیان اور پولیس کا رویہ درندوں کے عمل سے زیادہ زخموں پر نمک پاشی کر رہا ہے۔ اور کچھ نہیں کرنا آتا تو بیان تو ڈھنگ کا دو کہ جن کا ماتم ہے ان کو کوئی حرف تسلی ملے۔

حکومت نے سرعام پھانسی دینے کے معاملے کو پارلیمان کے ذریعے قانون بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ محض اپنی بقا کے لیے۔ سوال یہ ہے کہ جن سے لے کر کھاتے ہو کیا وہ ایسا کرنے دیں گے؟ اس مقام فکر پر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں چیخیں گی۔ پہلے عالمی ٹھیکے داروں سے عالمی انسانی حقوق کا تعین تو کروا لو۔ ہر دفعہ یو ٹرن جلدی نہیں ملتا۔ پہلے اس معاملے کو موجودہ حکومتی مشینری سے جلدی حل کر کے دکھاؤ۔ عوام کو یقین تو ہو کہ تم تبدیلی کے لفظ کو ادا کرنے کے اہل تھے، عوام کو کہیں مدینے کی کوئی جھلک تو نظر آئے، جس کا خواب تم نے لوگوں کی آنکھوں میں سجا رکھ ہے ورنہ لے جاؤ اپنے خواب۔ لوگ اب مذاق اڑاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •