ڈیجیٹل میڈیا کے آنے سے کیا روایتی ذرائع ابلاغ مستقبل قریب میں معدوم ہوگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر رقم کرنے کی ابتدا میں ڈیجیٹل اور روایتی ذرائع ابلاغ کی تعریف ضروری سمجھتا ہوں۔

ڈیجیٹل میڈیا: سے ابلاغ کے وہ سارے جملہ ذرائع ہیں جو انٹرنیٹ پر ویب سائیٹ، فیس بک، ٹویٹر وغیرہ سے لاکھوں انٹرنیٹ صارفین دیکھتے، سنتے اور پڑھ سکتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر وہ خبری و اشتہاری مواد جن کا برقی وجود ہو اور فزیکل ہیئت نہ ہو۔

روایتی میڈیا: جن میں اخبار، ٹی۔ وی، اور ریڈیو یا ٹیلکس اخبار ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتے ہیں کہ ٹی۔ وی، ریڈیو وغیرہ میں بھی برقی مواد ہے یعنی کہے تو بصری و صوتی، تو پھر برقی اور روایتی میڈیا میں فرق کیسے۔ اس میڈیم کے سارے وسائل ایک اسٹیشن اپنے مقررہ وقت پر نشر کرتا ہے جو ارضی برقی و مقناطیسی لہروں یا مائکرو ویو کی فارم میں ہوا کے دوش پر آپ کے ٹی۔ وی روم تک پہنچتی ہے۔ وقت مقرر پر نہ دیکھنے یا سننے پر آپ دوبارہ اپنے من پسند خبرنامہ یا شو، ڈرامہ دیکھ نہیں سکتے۔

اب ہم اپنے اصل موضوع سخن پر بحث کو دوام دیتے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کو اگر برقی میڈیا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اور اگر ہم بہ نظر عمیق دیکھے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں خاص کر اسمارٹ فون اور 3 / 4 جی انٹرنیٹ آنے سے برقی ابلاغ نے روایتی میڈیا کو پیچھے چھوڑا ہے۔

اس کی سب سے بڑی خوبی وقت کی آزادی ہے۔ آپ اپنے فرصت کے وقت جب، جہاں اور جیسے چاہے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ پچھلے مہینے یا سال کے پوڈ کاسٹ دیکھنا چاہتے ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ اپنی پسند کا پروگرام دیکھتے ہوئے آپ کو نسبتاً کم اشتہاری مواد دیکھنا ہوتا ہے اگر من نہ کرے تو فاسٹ فارورڈ کر کے پوڈ کاسٹ دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کم خرچ بھی ہے۔ بیشتر موبائل ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے انٹرنیٹ پیکجز کا خرچہ بہت کم ہے۔ کم قیمت میں آپ پیکیج سبسکرائب کر کے نیٹ فلیس پر ہفتہ بھر ڈھیر سارے فلمیں دیکھ کر محظوظ ہو سکتے ہے۔

اس کے علاوہ دنیا بھر کے مشہور ٹی۔ وی اور اخبار ڈیجیٹل فارم میں چند کلکس کے فاصلے کے دوری پر ہیں۔ سی۔ این۔ این، نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، بی۔ بی۔ سی سمیت دیگر عالمی شہرت کے حامل خبر رساں ادارے دنیا کے کونے کونے کی پل پل کی خبریں اپلوڈ کرتے ہیں۔ ان اخبارات کو پیسے دے کر آپ پڑھ سکتے ہیں جو ہارڈ کاپی سے قدرے ارزاں ہیں۔ اور 24 / 7 نئی نئی خبریں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اور صحافت میں مقولہ ہے کہ خبر تازہ ہے تو خبر ہے۔ یعنی خبر کی عمر بہت کم یا تو اس انٹرنیٹ کے زمانے میں کم ہو گئی ہے۔

برقی میڈیا کی ایک خاص بات گیٹ کیپنگ کا اطلاق نہ ہونا ہے۔ جبکہ گیٹ کیپنگ روایتی ابلاغ کی روح رواں ہے۔ گیٹ کیپنگ میڈیا کمیونیکیشن کی ایک تھیوری ہے جن کا سلیس زبان میں یہ مطلب ہے کہ کوئی بھی خبر رپورٹر سے اسائنمنٹ ایڈیٹر پھر فل ایڈیٹر سے ہوتے ہوئے چیک ہوتا ہے اور خبر کی اشاعت یا آن ایرنگ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ تو ڈیجیٹل ابلاغ میں تو یہ پابندی ہے ہی نہیں۔

کوئی بھی سیاست دان، اداکار یا اداکارہ اپنے مداحوں سے ڈیجیٹل فلیٹ فارمز پر رابطے میں رہتا ہے۔ پرانے زمانے میں ان لوگوں کو اخبار اور ٹی۔ وی کے ناز و نخرے برداشت کرنے پڑھتے تھے۔ اور یوں وقت اور جگہ کی کمی کے جھنجٹ سے آزاد ہے۔ اور ٹو۔ وے۔ کمیونیکیشن کا ایک زبردست مثال بھی ہے۔

سکے کی دوسری رخ کو اگر دیکھا جائے تو ڈیجیٹل میڈیا کے منفی یا کمزور پہلوؤں بھی آشکار ہوتا دکھائی دیتے ہیں۔ سب سے بڑا نقص ”فیک نیوز“ یا ڈیجیٹل میڈیا پر جھوٹی خبروں کی بہتات ہے۔ گیٹ کیپنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہر قسم کی جھوٹی خبریں سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر انگڑائیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں خواندگی کا شرح بہت کم ہے لوگ جھوٹی اور سچی خبر کی پہچان نہیں کر سکتے۔ اور میرے خیال میں مسئلہ صرف تعلیم کا بھی نہیں کیونکہ 2016 میں امریکہ کی صدارتی انتخابات میں سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور دوسرے نیوز سائٹس پر جھوٹی خبریں پھیلا کر ڈونلڈ ٹرمپ کے جیت کو یقینی بنایا گیا۔

آج کل کورونا کے بارے میں جھوٹی خبروں نے دنیا میں ایک خوف پھیلایا ہے۔ کہیں جھوٹی ویکسین کی خبریں تو کہیں الزام تراشیاں۔

فیس بک نے جھوٹی خبروں کے سدباب کے لیے ایک خودکار سسٹم متعارف کروایا ہے جو کہ کسی بھی جھوٹی خبر کو فوراً فیس بک سے خذف کرتا ہے۔ فیس بک کے ایک جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ سسٹم 98 فی صد صحیح کام کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔

جھوٹ پھیلانا تو میڈیم کا قصور نہیں بلکہ ان لوگوں کا ہے جو اپنے مفاد کے لیے اس میڈیم کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اور یوں تو غلط خبریں روایتی میڈیا میں بھی آئے روز دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قصور وار میڈیم نہیں ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا پر تو بات ہوئی اب روایتی میڈیا پر بھی بات ہونا چاہیے۔ روایتی میڈیا سست رو ابلاغ کا ذرائع ہے اگر کوئی حادثہ ہو یا اور بڑی خبر تو اگلے روز کے اخبار کے لیے انتظار کرنا پڑھے گا اور فالو۔ اپ تو اس سے بھی اگلے روز آئے گا۔ اگر ٹی۔ وی ہو تو جائے وقوعہ کی عکس اور صوتی مواد کا ہونا براڈ کاسٹ کے لیے ضروری ہے جبکہ ڈیجیٹل میڈیا کے رپورٹرز کے لیے ایک اسمارٹ فون کافی ہے۔ اب تو بحر حال ٹی۔ وی چینلز کے رپورٹرز بھی اسمارٹ سے ریکارڈنگ اور ایڈیٹنگ کر کے مین اسٹیشن بھیجتے ہیں جس سے وقت کی کافی بچت ہوتی ہے۔ لیکن بات پھر بھی وقت پر دیکھنے کی پابندی اور سست رفتاری اس میڈیا کی بڑی منفی پوائنٹ ہے۔

دنیا آج کے زمانے میں ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے فاصلے سمٹ گئے ہیں تو ایسے میں ڈیجیٹل میڈیا آنے والے وقت خبروں اور انٹرٹینمنٹ کا بڑا ذریعہ ہوگا۔ اور روایتی میڈیا کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اکرام موسی زئی کی دیگر تحریریں