انسانیت کی موت ہو چکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دور تھا جب سلطنت اسلامیہ کے حکمران کہا کرتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے کتا بھی مر گیا تو اس کا ذمہ دار حاکم ہے اور آج کی اسلامی جمہوری سلطنت میں کتا دور کی بات ہے انسانوں کا چیڑ پھاڑ کیا جا رہا ہے۔ انسانیت سسک رہی ہے۔ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والے خاموش ہیں۔ کبھی زینب کی روح تڑپتی ہے تو کبھی ملکی شاہراؤں پر ایک ماں کی عزت اس کی اولاد کے سامنے ہی تار تار کر دی جاتی ہے۔ یہ کیسی اسلامی جمہوریہ ہے جہاں نہ شیر خوار محفوظ ہیں اور نہ مائیں محفوظ ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر طرف درندے پھر رہے ہیں۔ اسلامی سلطنت کا ایسا عظیم دور تھا جب مکہ مدینہ سے کوفہ تک جوان عورت بے خوف و خطر سفر کرتی تھی اور آج مملکت خداداد میں راہ جاتی ایک ماں اپنے بچوں کے سامنے عزت لوٹا بیٹھتی ہے اور پھر بھی ہم ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ آج شاید زمین و آسمان بھی شرمندہ ہوں گے مگر حضرت انسان کو پتہ ہی نہیں کہ شرمندگی ہے کیا؟ اگر پاکستان میں پچھلے تین چار سالوں میں دیکھا جائے تو ہر روز میڈیا پر اس طرح کے واقعات سننے کو ملے ہیں اور پتہ نہیں اس سے کہیں زیادہ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو میڈیا کو پتہ نہیں چلتا۔

کبھی مختاراں مائی ظلم و بربریت کا نشانہ بنتی ہے تو کبھی آمنہ انصاف نہ ملنے پر پولیس اسٹیشن کے سامنے خود سوزی کر لیتی ہے۔ کبھی زینب کی آہ و زاری کانوں میں پڑتی ہے تو کبھی زین کو زیادتی کے بعد گولی مار دی جاتی ہے۔ اس طرح کے کتنے ہی واقعات ہیں جو روزانہ رونما ہوتے ہیں تو کیا مائیں بچے پیدا کرنا چھوڑ دیں؟ او ہو یاد آیا اب تو ماں ہی محفوظ نہیں ہے تو وہ بچہ کیا پیدا کریں گی؟ اب مائیں بچے پیدا نہیں کریں گی کیونکہ وہ روز اولاد کے سامنے عزتیں تار تار نہیں کرا سکتیں۔

آہ حضرت انسان اپنے معیار سے گر گیا اب شاید اشرف المخلوقات نہیں رہا۔ ہم نے کبھی ان واقعات کی وجوہات کے بارے میں نہیں سوچا۔ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ صبح شام زیادتی کیس بڑھتے جا رہے ہیں؟ اس کی وجہ قانون کی کمزوری ہے۔ انصاف کا نظام مشکل اور طویل ہونے کی وجہ سے مسائل ہیں اور سزائیں نہ ملنے کی وجہ سے مجرموں کے حوصلے بلند ہیں۔ زیادتی کیس میں ملوث افراد کو صرف چند سال قید کی سزا دی جاتی ہے اور وہ کچھ ہی عرصے میں اپیل دائر کر کے ضمانتوں پر رہا ہو جاتے ہیں اور متاثرین سسکتے رہ جاتے ہیں روحیں تڑپتی رہ جاتی ہیں اور درندے آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں۔

جب تک ہمارے معاشرے میں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی اس وقت تک ایسا ہوتا رہے گا۔ اس سلسلے میں پولیس فورس، اعلیٰ عدلیہ اور حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کو اس معاملے میں سخت قانون سازی کرنا ہو گی اور عمران خان کو اپنا ریاست مدینہ کا خواب پورا کرنا ہوگا اور اعلیٰ عدلیہ کو ان کیسز میں سخت رویہ اپنانا ہوگا اور سخت اور مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ پولیس کو قانون کی عملداری قائم کرنا پڑے گی۔ جب تک ہماری سزائیں سخت اور سر عام نہیں ہوں گی تب تک یہ مسئلہ ختم نہیں ہو سکتا۔

کچھ لوگ سخت سزا اور سرعام سزا کے خلاف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ انسان کی تذلیل ہے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو 7 سال کی بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیتے ہیں جو زیادتی کے بعد بچے کو گولی مار دیتے ہیں جو ماں کو شاہراہ پر برہنہ کر دیتے ہیں تو وہ کس طرح کے انسان ہیں اور ان میں کون سی انسانیت باقی ہے؟ جناب یہ تو انسانیت کے قابل ہیں اور نہ رحم کے قابل ہیں یہ تو سنگساری کے قابل ہیں۔ اس معاملے میں حکومت کو جلد قانون سازی کر کے کڑی سے کڑی سزائیں دینا ہوں گی تاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس لعنت سے چھٹکارا پایا جا سکے۔

اس وقت امیدوں کا مرکز وزیراعظم پاکستان ہیں جو اپنا مدینہ کا خواب پورا کرنے کے لئے بہترین قانون سازی کر کے مملکت خداداد کو زیادتی کیسز سے محفوظ بنا سکتے ہیں اور اس میں علماء کرام کو بھی کلیدی کردار ادا کرنا ہے اور اپنا خطبات میں امت کو سیدھے رستے کی تعلیمات سے آگاہ کرنا ہے تاکہ ہم صحیح معنوں میں ریاست مدینہ قائم کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •