کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھتا ہے…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری اماں بڑی فکر مند تھیں کہ ہمارا کیا بنے گا؟ ہم، جس نے جب سے ہوش سنبھالا تو خود کو ’چھٹے‘ کام کرنے والا ’چھوٹا‘ پایا، منے سے تھے تو کبھی بڑی چچی کی چونی لیے خلیل چچا کی دکان سے پان لانے بھاگے جا رہے ہیں تو کبھی ابا کی چلم لیے باورچی خانے کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ جب ذرا سے اور بڑے ہوئے، یعنی جب اس قابل ہو گئے کہ کتا ہمیں زنجیر سمیت کہیں بھگاکر نہ لے جاسکا تو خان صاحب کی بیگم کا کتا ٹہلانے لے جانے لگے، کیوں کہ خان آنٹی کے خیال میں اگر خان صاحب خود ’کتے‘ کو ٹہلانے لے جاتے تو لوگوں کو پتا ہی نہ چلتا کہ کون کسے ٹہلا رہا ہے؟

اور اگر کبھی ٹائیگر نے موج میں آ کر ان کی گردن دبوچ لی تو وہ دوسری سانس لیے بغیر سیدھے اللہ میاں کے ہاں ٹہل جائیں گے۔ خان آنٹی کا تو یہ بھی خیال تھا کہ دونوں کو ’باندھ‘ کر رکھنے میں ہی عافیت ہے، مگر ان کے بچوں کا اصرار تھا کہ حالات حاضرہ سے باخبر رکھنے اور ٹائیگر کی آنکھیں ’کھلی‘ رکھنے کے لیے کم ازکم اسے تو تازہ ہوا ضرور کھلانا چاہیے۔ اور ہم نے بھی اکثر یہ نوٹ کیا کہ وکیل آنٹی کی ’مارگریٹ‘ کو دیکھ کر ٹائیگر کی آنکھیں چوپٹ کھلی رہ گئیں اور وہ خاصی بڑی بڑی دکھائی دینے لگیں اور پھر وکیل آنٹی کی ’ہش ہش‘ بھی کوئی کام نہ دکھا سکی اور اس نے منی سی مارگریٹ کو دوڑا دوڑا کر ہلکان کر دیا۔

وہ تو اس کی جان جب چھوٹی، جب رضا انکل نے ایک عدد ’بلیکی‘ ”Blacky“ پال لی۔ اس کی چمکیلی، کالی رنگت اور کٹارے دار آنکھیں (جن میں ہمیں اکثر کاجل سا لگا ہوا محسوس ہوا) پتلی کمر اور چھوٹی سی دم نے مارگریٹ کی چھٹی کرا دی۔ دراصل ’بلیکی‘ کو دیکھنے کے بعد ہی ٹائیگر کو پتا چلا کہ ’بلیک از بیوٹی فل‘ کا زور دار نعرہ انگریز نے کیوں لگایا تھا۔ اور یوں وہ بلونڈ مارگریٹ اپنی چھوٹی ٹانگوں اور لمبی دم سمیت ٹائیگر کی ’لسٹ‘ سے خارج ہو گئی، ورنہ اکثر تو یہ حال ہوتا کہ مارگریٹ آگے آگے، پیچھے پیچھے ٹائیگر اور اس کے پیچھے گھسٹتے ہوئے ہم۔ شاید اسی لیے ہمارے تلوے بالکل فلیٹ ہو گئے اور ان کا قدرتی خم کہیں غائب ہو گیا۔

کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوا کہ بلی کی قبر تیار کرنے کے لیے کوئی گورکن نہیں ملا تو ہمیں پکڑ لیا گیا۔ اور تو اور شروع شروع میں جب بھی چھوٹی چچی کو املی درکار ہوئی تو ہمیں دوڑا دیا، لیکن آہستہ آہستہ جب ان کی سمجھ میں املی کا مطلب آنے لگا تو انہوں نے ہمیں زور سے آواز دینا بند کر دیا (جس کا ہمیں ایک عرصے تک بڑا افسوس رہا) بلکہ وہ ہلکا سا مسکراکر شرمیلی نظروں سے چچا کو اشارہ کر دیتیں اور وہ سائیکل اٹھاکر تابعداری سے سرجھکائے دکان چلے جاتے اور ہم تلملا کر رہ جاتے اور پھر چھوٹے چچا بھی بڑے شوق سے املی کھانے لگے۔ پھر یہ ہوا کہ ہم ذرا سے اور بڑے ہو گئے تو ذرا معقولیت کے دائرے میں آ گئے اور برتن دھونے، مصالحہ پیسنے اور باورچی خانہ صاف کرنے اور کبھی کبھار روٹیاں پکانے کا کام بھی مل گیا۔

اور پھر ہم بالکل بڑے ہو گئے بلکہ شاید کچھ زیادہ ہی بڑے ہو گئے۔ اس کا احساس سب کو یوں ہوا کہ جب آنن (انور بھائی جان) ڈھول بتاشے بجاتے آئے اور ننھی کو اٹھا کر، ہمارا مطلب ہے بیاہ کر لے گئے۔ ’ننھی‘ کو اگر قد کاٹھ اور ان کی شکل پر چھائی ہوئی ’پیدائشی بزرگی‘ کے حوالے سے دیکھا جائے تو وہ ہماری بڑی بہن لگتی ہیں، ورنہ دراصل وہ ہماری چھوٹی بہن ہیں۔ یا اگر اس کی مزید وضاحت چاہیں تو یوں سمجھ لیں کہ ان کے مقابلے میں ہم انتہائی عمر چور ہیں (جس کا اعتراف ہم نے بار بار کیا ہے، مگر کبھی اپنی اصلی عمر نہیں بتائی)۔ ہاں تو ننھی بیگم کے جاتے ہی ہماری اماں کے سر پر پھر سے پریشانی کا بھوت سوار ہو گیا، بلکہ بھنگڑا ڈالنے لگا۔ اماں بیٹھے بیٹھے ہول سی جاتیں۔

”ہائے! اس کا کیا بنے گا؟ شکل صورت تو خیر اللہ کی بنائی ہوئی ہے۔ غور سے دیکھو تو انسان کا بچہ ہی دکھائی دے ہے، اللہ جانے کس موڈ میں بنایا تھا کہ کوئی بھی تو ڈھنگ کا رشتہ نہیں جڑتا۔ کام دھام میں بھی تو الا ماشاء اللہ ہیں، روٹیاں تک تو ڈالنی نہیں آتیں۔ ابھی پرسوں ہی کی تو بات ہے، ایک فٹ دور سے انگلی پر پیڑا گھمایا اور دھاڑ سے مار دیا توے پر۔ “

ہم نے دبا دبا سا احتجاج کیا، ”ہم تو ’تھروبال‘ “ Throw ball ”کی پریکٹس کر رہے تھے تو اماں چمٹا اٹھا کر دوڑیں کہ ’آؤ ذرا ہم بھی نشانہ لگائیں تمہارا۔ “

جب ساری دنیا کی خاک چھاننے کے بعد کہیں رشتہ نہیں جڑتا تھا، تو ’بھان متی‘ ہمارے ہاں ضرور آن ٹپکتی تھیں اور کوئی نہ کوئی اینٹ یا روڑا ان کے ہاتھ میں ضرور ہوتا تھا، جس سے ہماری قسمت ’پھوڑنے‘ کے لیے تیار رہتی تھیں۔ اور اماں کو تو ہم میں اتنے کیڑے نظر آتے تھے کہ اگر نیولے کی شکل کا بھی ’بر‘ ہے تو انہیں اس پر پیار آ جاتا اور وہ آنکھیں بند کر کے اس کا منہ چومنے کو تیار رہتیں، اس امید پر کہ شاید ہم اسے پسند آ جائیں اور وہ جی کڑا کر کے، کم ازکم ایک ہی دفعہ ہمیں قبول کر لے۔

ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم کوئی بارہ تیرہ سال کے ہوں گے تو ہمیں بچہ سمجھ کر بڑی لڑکیوں نے مردان خانے میں دولہا کا جوتا چھپانے بھیج دیا تھا تو وہاں ہمیں ایک انکل دکھائی دیے، جن کی کمر زمین کو چھونے کی تیاری کر رہی تھی اور جو اکڑوں بیٹھے، اٹنگا کرتا پہنے اپنے بالوں پر خضاب لگا رہے تھے۔ ہم نے کمال معصومیت سے پلکیں جھپکاتے ہوئے کہا، ”انکل! یہ جوتا چھپا دیجیے“ تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سر سے پاؤں تک ہمیں گھورا اور ڈپٹ کر کہا، ”رکھ دیجیے ابھی چھپاتے ہیں۔

” اور پھر دوسری صبح ان ’انکل‘ کا رشتہ ہمارے لیے آ گیا۔ اس وقت تو ہمیں یہ بھی عقل نہیں تھی کہ ایسے موقعوں پر کیا کیا جاتا ہے، پچھاڑیں کھائیں؟ خوشی سے بغلیں بجائیں؟ یا ان انکل کی گردن میں جھول جائیں؟ نئے نئے کپڑوں اور جھلملاتے زیور کا شوق ہمیں للچا بھی رہا تھا، مگر شکر ہے کہ اماں کی تانک جھانک بروقت کام آ گئی، کیوں کہ انہوں نے بھی انکل کو خضاب لگاتے دیکھ لیا تھا، بلکہ ان کی جہاندیدہ نظروں نے فوراً تاڑ لیا کہ ان کے آگے کے دو دانت بھی مصنوعی ہیں۔ اور یوں ہم بچ گئے۔ سنا ہے، وہ انکل جنت بی بی سے شادی کر کے۔ کی ہوا کھانے لگے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5 6 7